... loading ...
مسلم لیگ نون نے ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بظاہر یہ رابطے تحریک انصاف کی حکومت کو مشکلات سے دوچار کرنے کے نام پر کیے جارہے ہیں۔ مگر انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق اس کا مقصد دونوں جماعتوں کا اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑنے کا فیصلہ ہے۔ اس ضمن میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی مجبوریوں کا لحاظ کرتے ہوئے آگے بڑھنے اور خاموش اقدامات پر رضامند دکھائی دیتی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ نون پر واضح کردیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اسٹیبلشمنٹ یا عدلیہ مخالف بیانئے کی جنگ میں خو دکو نہیں جھونکنا چاہتی۔ جس کا سبب پارٹی قیادت کے خلاف مختلف مقدمات کی تحقیقات ہیں۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ نون کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلم لیگ نون کے تاحیات قائد نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی وفات کے بعد آصف زرداری اپنے صاحبزادے کے ساتھ اُن سے تعزیت کے لیے جاتی امراء تشریف لے گئے تھے۔ مسلم لیگ نون کے ایک انتہائی اہم ذریعے نے اس نمائندے سے بات کرتے ہوئے نام کی رازداری کی شرط پر بتایا کہ یہ ملاقات ایک قدرتی موقع تھا جس میں جانبین نے ایک دوسرے کی غلط فہمیوں کودور کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مجبوریوں پر کھل کر بات بھی کی تھی۔پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اس سے قبل نوازشریف پر زندگی بھر بھروسا نہ کرنے کا سیاسی بیان دے چکے تھے۔ مگر کلثوم نواز کی وفات پر تعزیت ایک ایسا موقع تھا جس میں دونوں کھل کربات کرسکتے تھے۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق نوازشریف نے اس موقع پر اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران میں آصف علی زرداری کو ہونے والی شکایتوں کی وضاحت کی۔ اور اسٹیبلشمنٹ کے پیپلزپارٹی کے خلاف دباؤ کے متعلق آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری اس موقع پر نہایت کنفیوژن کا شکار ہے۔ وہ نوازشریف کے ساتھ کسی بھی طرح کی قربت کا مطلب خود کو مقدمات کے نرغے میں دینا اور اپنے خلاف مختلف بدعنوانیوں کی تحقیقات میں خود کو اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ایک لقمہ تر کے طور پر پیش کرنا سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف اُنہیں یہ بھی یقین نہیں کہ اگر وہ نوازشریف سے دور رہیں تو مستقبل میں اُن کے ساتھ کوئی رعایت برتے جائے گی۔ یوں وہ اپنے ہر آپشن میں خود کو مصیبت میں محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے وہ کسی بھی سیاسی راستے کو بند یا سسٹم کو دباؤ میں رکھنے والے کسی بھی ہتھیار کو ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ چنانچہ ایک محفوظ راستے کے طور پر آصف علی زرداری یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اسٹیبلشمنٹ کے بجائے تحریک انصاف کی حکومت کو ہدف بنائے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی اس مجبوری کو مسلم لیگ نون کی اعلیٰ قیادت نے محسوس کرلیا ہے۔ اور وہ خود بھی مقدمات کے دباؤ میں کسی انقلابی راستے کے بجائے سیاسی چہرے والی جدوجہد کے ذریعے سسٹم کو مشکل میں ڈال کر اپنے لیے راستے نکالنا چاہتی ہے۔ اسی پس منظر میں دونوں جماعتوں کے قائدین نے اپنی خصوصی ملاقات میں رابطوں پر اتفاق کرلیا تھا۔ جس کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے مسلم لیگ نون نے راجہ ظفر الحق کی قیادت میں ایک وفد پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری سے اہم ملاقات کے لیے بھیجا، باخبر ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں راجہ ظفرالحق نے نوازشریف کا ایک اہم پیغام پہنچایا۔ اگر چہ اس ملاقات میں پارلیمنٹ میں ایک فعال کردار اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے دونوں جماعتوں کے مشترکہ کردار پر بات بھی کی گئی ہے۔ مگر اہمیت اُس پیغام کی ہے جو نوازشریف کی جانب سے آصف علی زرداری کو پہنچایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی کردار کی فعالیت کے حوالے سے نوازشریف اپنے بھائی شہباز شریف کو زیادہ سے زیادہ متحرک کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ اس ضمن میں آج شہبازشریف اسلام آباد پہنچ کر ان رابطوں کو مزید تقویت دیں گے۔
فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...
خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...
سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...
ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...
دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...
شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...
امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...
پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...
8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...
اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...
دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...