... loading ...
1944ء کے اوائل کا واقعہ ہے کہ این زیو (اٹلی)کے گرم اور پرخطر ساحل پر چھ سو سے زائد امریکیوں کی جانیں سخت خطرے میں پڑ گئی تھیں۔ وہ بری طرح پھنس کر رہ گئے تھے اور ان کی رستگاری کی کوئی صورت نظر نہ آرہی تھی۔ چنانچہ میجر جنرل ہرمن کو ان کی جانیں بچانے کے لیے جوا کھیلنا پڑا۔ واقعات یوں پیش آئے کہ بارش کی ایک رات میں این زیوکے کیچڑ، پانی اور دلدل سے بھرے ہوئے ساحل پر امریکی اور برطانوی سپاہ پھنسی ہوئی تھی۔ لہٰذا ضرورت تھی کہ جرمنوں کے پھندے سے کسی طرح اسے نکالاجائے۔ جرمن فوجیں انتظار ہی کر رہی تھیں کہ اتحادی آگے بڑھیں تو انہیں کچل کر رکھ دیا جائے۔ اس ضمن میں جنرل ہرمن کو ایک اہم اور نازک فیصلہ کرنا تھا۔ ایسی نازک پوزیشن سے نبردآزما ہونے کے لیے ایک خصوصی سپاہ کے حملہ کی ضرورت تھی، لہٰذا کمانڈر جنرل لوکا س کے حکم سے ایک ایسا دستہ تیار کیا گیا جسے محصور اتحادیوں کے لیے راستہ بنانا تھا۔ ٹینک اور توپیں بھی اس کے ساتھ کر دیں گئیں۔ مگر یہ کام کافی سخت تھا کیونکہ آگے کے علاقے پر پہلے ہی سے جرمن سپاہ قابض تھی۔ اتفاق سے جرمنوں نے بھی حملے کے لیے اسی بارش کی رات کا انتخاب کیا جب اتحادی دھاوا بولنے کا ارادہ کر رہے تھے۔ لہٰذا دونوں طرف سے حملہ آور فوجیں سمٹنے لگیں۔ آخر رات کو تین بجے کے قریب کیچڑ اور پانی سے تربتر اتحادی سپاہ جنرل ہرمن کی کمان میں اکٹھی ہوئی۔ جرمن ہرمن جیپ میں بھی بارش سے شرابور ہو رہا تھااور اپنی کھلی گاڑی سے ریڈیو کے ذریعے اپنی فوج کو احکام صادر کر رہا تھا۔ جنگ جاری تھی کہ جنرل ہرمن کو ریڈیواطلاع ملی کہ ساحل کی دوسری سمت سے یعنی اتحادیوں کے عقب میں جرمنوں نے حملہ کر دیا ہے۔ وہاں مدد کی ضرورت ہے۔
سوال یہ تھاکہ ایسی حالت میں کیاکیا جائے۔ وقت بالکل نہ تھا اور جرمن عقب سے حملے کی ابتدا کر چکے تھے۔ فوراً کسی فیصلے پر پہنچنا بہت ضروری تھا۔ جنرل لوکاس ریڈیو پر تقاضے پر تقاضا کررہا تھا کہ جنرل ہرمن جلد مدد کے لیے اپنی فوج روانہ کرے۔ کیونکہ ممکن تھا کہ جرمنوں کایہ حملہ جلد شدت اختیار کرلے۔ جنرل ہرمن نے ریڈیو پر جواب دیا کہ میری فوج کو یہاں سے ہٹنا نہیں چاہیے مگر اس کا دماغ نشیب و فراز طے کررہاتھا۔ جنرل لوکاس کا اصرار برابر جاری تھا۔ آخر جنرل ہرمن نے ریڈیو پر صاف صاف کہہ دیا کہ میری فوج نے تمام رات بارش اور کیچڑ میں سفر کیا ہے اور تکان سے چور چور ہو رہی ہے۔ اب اگر وہ پھر ایک طویل فاصلہ طے کرتی ہے تو مارے تھکن کے لڑنے کے قابل نہیں رہے گی۔ صبح ہونے والی ہے پھر بھی بارش کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ دلیل جنرل لوکاس کی سمجھ میں بھی آگئی۔ اس نے اتفاق کرتے ہوئے ریڈیو پرکہہ دیا کہ اچھی بات ہے کہ اپنی فوج کو وہیں رہنے دیں۔ میں صبح تک جرمنوں کو روکے رکھنے کی کوشش کروں گا۔ اس طرح جنرل ہرمن نے جرمنوں پر حملہ کرنے کا جو پلان بنایا تھا وہ قائم رہا۔ پھر اس نے اپنے توپ خانہ کے کمانڈر کو طلب کیا۔ توپ خانہ ایسے مواقع پر بڑااہم پارٹ ادا کرتا ہے۔ اس نے دوبٹالین کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کے قبضہ میں جو علاقہ ہے اسے توپ خانہ کے ذریعے ہلا کر رکھ دیا جائے اور اس کے ساتھ امریکی فوج کو جس راہ سے حملہ کرنا ہے اسے بھی توپوں کی مدد سے دشمن سے صاف کرا لیا جائے۔
ان راستوں کے نقشے امریکیوں کے پاس موجود تھے لہٰذا جنرل ہرمن نے اپنی آرٹیلری کے کمانڈر سے تاکید کے ساتھ کہہ دیا کہ اگلے علاقہ پر توپوں سے اتنی شدید گولہ باری کی جائے کہ دشمن کا کوئی نفر زندہ نہ بچے۔ دائیں اور بائیں جرمنوں کی مضبوط دفاعی فوجیں پڑی تھیں۔ اگر توپ خانہ کی گولہ باری کارگر ثابت نہ ہوئی تو امریکی پیدل دستہ کا صفایا ہو جانے کا زبردست خطرہ تھا۔ صبح کے چار بجے ہوں گے۔امریکی دستے خاموشی سے پوزیشن پر جانے شروع ہو گئے۔ اچانک جنرل ہرمن کا ریڈیو پھر بولا۔ یہ کال امریکی پینتالیسویں پیدل فوج کے کرنل ناسک کی تھی۔ اس نے اصرار کیا کہ گولہ باری نہ کریں کیونکہ جس علاقہ پر آپ اپنی توپوں کا منہ کھولنے والے ہیں وہاں ایک امریکی دستہ پھنسا ہو اہے۔ عین وقت پر اس قسم کی غیر متوقع اطلاع سے بوڑھے جنرل ہرمن کو پہلے تو بڑا غصہ آیا لیکن اس کے بعد وہ بہت پریشان ہوا کہ اب کیا کرے۔ اس نے جنرل ناسک سے دریافت کیا ’’میں اگر گولہ باری کو ملتوی کرتا ہوں تو تمام ساحلی علاقوں اور ہماری فوجوں کو دشمن سے سخت خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اچھا یہ بتائو تم اس امریکی بٹالین کو وہاں سے جلدازجلد کتنی دیر میں نکال سکتے ہو؟‘‘اس نے جواب کے لیے پانچ منٹ مانگے۔ جنرل ہرمن کی نگاہ اپنی گھڑی پر تھی۔ اب وقت تھا کہ مجوزہ علاقے پر گولہ باری شروع کردی جاتی۔ وقت نکل گیا تو اس محاذ پر دشمن کا قبضہ ہو جائے گا جس سے تمام امریکن افواج کو سخت خطرہ لاحق ہو جانے والا تھا۔ جنرل ہرمن کو فی الفور کسی درست نتیجہ پر پہنچنا تھا مگر چھ سو پھنسے ہوئے امریکی فوجیوں کی جان کا سوال تھا۔ ہرمن ان کو کس طرح اپنی ہی توپوں سے ہلاک کر سکتا تھا۔ دوسری جانب انہیں بچانے کے لیے کئی ہزار فوجیوں کو بھی تو قربان نہیں کیا جا سکتا تھا۔
جنرل ہرمن انہی تکلیف دہ خیالات میں غلطاں و پیچاں تھا کہ ایک دفعہ پھر ریڈیو بولا اور کرنل ناسک کی آواز آئی۔ ’’ہمارا پھنسا ہوا دستہ بٹالین پر مشتمل نہیں بلکہ ایک دستہ ہے جس میں فقط چالیس سپاہی ہیں۔‘‘ کرنل ناسک نے بتایا کہ ان چالیس سپاہیوں سے وہ علاقہ خالی کرایا جا رہا ہے۔ لہٰذا جنرل ہرمن نے توپ خانہ کو فائرنگ کا حکم دے دیا اورایسا ہوا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔ ان چالیس سپاہیوں نے وہ علاقہ خالی ہی کیا تھا کہ وہاں جنرل ہرمن کی توپیں آگ کی بارش کرنے لگیں۔ اس علاقے پر قبضہ کرنے کو جرمن فوج دوڑ پڑی تھیں۔ وہ ہرمن کی شدید گولہ باری سے تباہ ہونے لگیں۔ رات کو جرمنوں نے عقب سے جو اس جزیرے پر حملہ کیا تھا وہ ابھی ان کی ایک زبردست چال تھی۔ اس کا راز یہ تھا کہ آگے کے علاقہ سے وہ امریکیوں کی توجہ ہٹا دینا چاہتے تھے اور یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ ان کا اصل حملہ عقب ہی سے ہے حالانکہ فوجی نقطہ نظر سے یہ حملہ صحیح نہ تھا۔ اسی وجہ سے آزمودہ کار بوڑھا جنرل ہرمن جرمنوں کی چال میں نہ ا?یا اور اس نے جرمنوں کے آگے بڑھنے کی کارروائی کو اگلے علاقہ پر شدید گولہ باری کر کے روک دیا۔ اب اس علاقہ میں چالیس امریکی سپاہی پھنسے رہ گئے تھے۔ اس کارروائی سے اس ساحل پر جرمنوں کی پیش قدمی رک گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...