وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں گھوسٹ اساتذہ کی پشت پناہی کون کررہاہے؟

جمعه 11 مئی 2018 سندھ میں گھوسٹ اساتذہ کی پشت پناہی کون کررہاہے؟

سندھ میں اسکولوں کی تعلیم اور خواندگی سے متعلق محکمے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ سے ظاہرہوتا ہے،کہ محکمہ تعلیم سندھ میں اصلاحات ،اساتذہ کی غیر حاضری کاسلسلہ ختم کرنے، تمام اساتذہ کو اسکول کے اوقات میں کلاسوں میں جاکر تدریس کی ذمہ داری پوری کرنے پر مجبور کرنے کے حوالے سے قطعی ناکام ہوچکی ہے اور حکومت کی جانب سے اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے بایو میٹرک سسٹم رائج کرنے اور بعض دیگر اقدامات کے باوجود سندھ کے بیشتر اسکولوں میں اساتذہ اپنی ذمہ داریاں احسن طورپر پوری نہیں کررہے بعض اسکولوں میں تو اساتذہ وقت پر اسکول میں حاضری کوہی کسر شان تصور کرتے ہیں اوراسکول میں ڈیوٹی پر حاضری کے بغیر نہ صرف یہ کہ اپنی تنخواہیں باقاعدگی سے وصول کررہے ہیں بلکہ دیگر مراعات بھی سے بھی مستفید ہورہے ہیں۔

اسکولوں کی تعلیم اور خواندگی سے متعلق محکمے کی جانب سے ماہ مارچ کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ میں سرکاری سکولوں میں ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے یاپوری ڈیوٹی نہ دینے والے اساتذہ کی ایک لمبی فہرست شامل ہے ۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اساتذہ کو ان کے غیرذمہ دارانہ رویئے پر متنبہ کیاگیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنا ،ڈیوٹی پر آکرحاضری لگا کر غائب ہوجاناسندھ کے محکمہ تعلیم کاایک دیرینہ مسئلہ ہے۔اس حوالے سے محکمہ تعلیم نے غیر حاضر رہ کر تنخوہیں وصول کرنے والے اساتذہ کو شرم دلانے کے لیے مختلف حربے آزمائے اور ان کی حاضری کویقینی بنانے کے لیے بایو میٹرک سسٹم بھی رائج کیا لیکن ڈیوٹی دئے بغیر تنخواہ وصول کرنے والے اساتذہ کی تعداد اور رویئے میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آسکا ہے، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ ڈیوٹی دئے بغیر تنخواہ وصول کرنے والے اساتذہ خود کو محکمہ تعلیم کے افسران بالا سے زیادہ بااثر تصور کرتے ہیں بلکہ یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وہ ایسا تصور ہی نہیں کرتے بلکہ درحقیقت ایسا ہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم ان کے سامنے بے بس ہے اوران کی مسلسل غیر حاضری کے باوجود نہ صرف یہ کہ ان کی تنخواہیں اورمراعات روکنے کی جرات نہیں کرتا بلکہ ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں ملازمت سے برطرف کرکے ان کی جگہ فرض شناس اساتذہ کے تقرر کی بھی ہمت نہیں رکھتا۔ اس صورت حال سے ظاہرہوتاہے کہ جب تک غیر حاضر رہ کرتنخواہیں اورمراعات حاصل کرنے والے بددیانت اساتذہ کی سیاسی سرپرستی کاسلسلہ ختم نہیں کیاجائے گا اور درست انداز میں ڈیوٹی نہ دینے والے اساتذہ کے خلاف ملازمت سے برطرفی سمیت سخت تادیبی کارروائیاں نہیں کی جاتیں صورتحال میں کسی طرح کی بہتری پیداہونے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔یہ صورت حال صوبے کوکرپشن سے پاک کرنے کے عزم کااظہار کرنے والے وزیر اعلیٰ سید مراد رعلی شاہ کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے،اس کام کے لیے وزیر اعلیٰ کو پہلے اس بات کاتعین کرنا ہوگا کہ گھوسٹ یعنی ڈیوٹی دئے بغیر تنخواہ وصول کرنے والے اساتذہ کی پشت پناہی کون اورکس طاقت کے سہارے کررہاہے۔ صوبے میں تعلیم کامعیار بہتر بنانے اورعالمی بینک سے کیے ہوئے وعدے کے مطابق سندھ میں تعلیم عام کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے اساتذہ کی حیثیت سے بھرتی کراکر اپنی اوطاقوں پر کام لینے والے اپنے بااثر وڈیروں اورسیاستدانوں کونکیل ڈالنے کی کوشش کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اس اعتبار سے ان کو یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ جب اساتذہ کلاسوں سے غائب ہوں گے تو پھر اسکولوں میں بچوں کی تعداد کس طرح بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس طرح تو جو والدین اپنے بچوں کواسکول بھیجتے ہیں وہ بھی ان کو گھرپر ہی بٹھانے کو ترجیح دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں، اور جب اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا تو اسکولوں کی تعمیر نو اور انفرااسٹرکچر میں بہتری لانے کی کوششیں کس طرح کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فروری میں عالمی بینک کے وفد کوبتایا تھا کہ سندھ میں 4ہزار اسکولوں کی تعمیر نو اور بحالی کاپروگرام بنایاگیا ہے تاکہ اسکول نہ جانے والے کم وبیش 60لاکھ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیاجاسکے ،وزیراعلیٰ نے عالمی بینک کے نمائندوں کوبتایاتھا کہ اسکولوں کی تعمیر نو اور بحالی کے اس پروگرام پر کم وبیش 20کروڑ20لاکھ روپے خرچ کاتخمینہ لگایاگیاہے ،لیکن وزیر اعلیٰ خود بھی یہ بات اچھی طرح محسوس کرسکتے ہیں کہ قابل اور فرض شناس اساتذہ کے بغیر اس کثیر رقم کے خرچ کے باوجود نہ تو معیار تعلیم میں کوئی بہتری پیدا ہوسکتی ہے اور نہ ہی لوگوں کواپنے بچوں کواسکولوں میں داخل کرانے کی ترغیب دی جاسکتی ہے ۔

یہ ایک امر واقعہ ہے کہ کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ کو بہترین تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے اور اس مقصد کے لیے وزرااور ارکان اسمبلی کے کوٹے پر اساتذہ کی بھرتی کا موجودہ طریقہ کار ترک کرکے خالصتاً میرٹ پر اساتذہ کی تقرری کویقینی بنایاجائے اور اساتذہ کی تقرری کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے اساتذہ کی بھرتی کے امتحانات کیمبرج طرز سے کسی برٹش کونسل جیسے بالکل غیر جانبدار ادارے کے ذریعے لینے کااہتمام کیاجائے۔دوران تعلیم طلبہ اور اساتذہ کو تمام تر ضروری سہولتوں کی فراہمی کویقینی بنایاجائے۔ اورمعیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی بھرتی کے بعد ان کی مناسب تربیت کاانتظام کیاجائے۔ اساتذہ کو ان کے سبجکٹ کے بارے میں پوری معلومات فراہم کی جائیں اور ہر مضمون کی تدریس کی ذمہ داری اس کے ماہر اساتذہ ہی کو سونپی جائے ،دوران ملازمت اچھی کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو انعامات اورایوارڈز سے نوازا جائے اور ڈیوٹی سے اغماض برتنے والے اساتذہ کوزیادہ سے زیادہ تین دفعہ کے انتباہات کے بعد ملازمت سے نہ صرف فارغ کردیاجائے بلکہ اساتذہ کی حیثیت سے اس کی تقرری پر ہمیشہ کے لیے پابندی عاید کردی جائے۔

یہ بات یقینا خوش آئند ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سندھ میں معیار تعلیم بہتر بنانے اور صوبے کے تمام بچوں خاص طورپر لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے خواہاں ہیں،یہ بجا طو ر پر ایک ترقی پسندانہ اورمثبت سوچ ہے لیکن اس سوچ کوعملی جامہ پہنانے کے لیے مستقل محنت اور توجہ کے ساتھ ہی محکمہ تعلیم کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنے اور اس کرپشن سے بری طرح آلودہ محکمے کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات کرناہوں گے اس مقصد کے حصول کے لیے وزیر اعلیٰ کو نہ صرف خود اپنے بہت سے دوستوں بلکہ اپنے بعض طاقتور سرپرستوں کی ناراضگی بھی مول لینا پڑ سکتی ہے،لیکن اگر وزیر اعلیٰ واقعی آنے والی نسلوں کامستقبل بہتر بنانے اور سندھ کو ایک تعلیم یافتہ روشن خیال صوبے میں تبدیل کرناچاہتے ہیں تو انھیں جرات اورہمت سے کام لیتے ہوئے سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنا ہی ہوں گے بصورت دیگر اپنے دیگر پیشرووں کی طرح وہ بھی زبانی جمع خرچ کرکے گھر چلے جائیں گے اورصوبے میں تعلیم کی بہتری کے لیے عالمی بینک سے لیے گئے قرض کی رقم بمع سود بہرطوراس صوبے کے غریب عوام کوہی ادا کرنا ہوگی۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر