... loading ...
جنوبی پنجاب محاذ گزشتہ روز پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) میں ضم ہو گیا۔ اس حوالے سے دونوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا‘ جس کے نکات کے مطابق جنوبی پنجاب صوبے کا قیام تحریکِ انصاف کے ساتھ اتحاد کی بنیاد ہے۔ معاہدے میں اقتدار میں آنے کے بعد 100 دن میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کمیٹی بھی بنائی جائے گی۔ تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب محاذ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو یادداشت کا نام دیا گیا ہے۔ اس انضمام اور اس معاہدے کو ملکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جنوبی پنجاب محاذ اپنے طور پر تو سرگرم تھا ہی‘ لیکن اسے اپنی آواز قومی سطح پر اٹھانے اور ایک الگ صوبے کے حوالے سے اپنی بات منوانے کے لیے بہرحال ایک بڑے پلیٹ فارم کی ضرورت تھی‘ جو اسے تحریک انصاف کی صورت میں مل گیا ہے۔ اس انضمام کا دونوںپارٹیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ تحریک انصاف کو یہ فائدہ ملے گا کہ وہ جنوبی پنجاب کی بہت سی نشستیں اپنے اس نئے اتحادی کی مدد سے جینے کی کوشش کرے گی‘ کیونکہ اس محاذ کو ایک نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے موثر آواز تصور کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے لوگ اسے بخوشی ووٹ دینے پر رضامند ہو جائیں گے۔ جنوبی محاذکا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو جائے گا۔
جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ نیا نہیں لیکن حالیہ دنوں میں اس نے زور اس وقت پکڑا جب مسلم لیگ (ن) کے کچھ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی چند روز قبل پارٹی سے الگ ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنے اس اتحاد کو جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا نام دیا تھا۔ اب اس اتحاد نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ہے‘ جس کے بعد جنوبی پنجاب کو ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ تند و تیز دلائل کے ساتھ ایک مرتبہ پھر موضوعِ بحث بن چکا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کے حامی پنجاب میں ایک نیا صوبہ بنانا چاہتے ہیں۔ پنجاب کے جنوبی سترہ اضلاع پر مشتمل اس مجوزہ صوبے میں ممکنہ طور پر جھنگ سے لے کر رحیم یار خان تک اور بہاولنگر سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان تک کے علاقے شامل ہوں گے۔ 2014ء میں بھی پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے چند اراکین نے ایک الگ صوبے کا مطالبہ کیا تھا اور پیپلز پارٹی کے رہنماوئں نے اس کی حمایت کی تھی۔ اس دوران بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا۔ اس کے متوازی ایک بحث یہ جاری ہے کہ صرف پنجاب ہی کیوں‘ دوسرے صوبوں میں بھی نئے چھوٹے صوبے بننے چاہئیں۔ اس کے لیے دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ پاکستان کے ہم پلہ ممالک اور پاکستان کی آبادی کے نصف سے بھی کم والے ممالک مثلاً ترکی، افغانستان اور ایران ہمارے ملک کی نسبت زیادہ انتظامی اکائیاں رکھتے ہیں۔
اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ترکی میں 81، افغانستان میں 34 ، بھارت میں 28اور ایران میں 31 صوبے ہیں جبکہ پاکستان سے رقبے اور آبادی‘ دونوں اعتبار سے انتہائی چھوٹے ممالک‘ سری لنکا میں 9 اور نیپال میں 7 صوبے ہیں۔ علاوہ ازیں نئے صوبے بننے کا عمل ہر دور میں جاری رہا ہے، جیسے بھارت میں 2014ء میں مزید دو نئے صوبے بنے تھے۔ اس زمینی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ چھوٹے یونٹس کو انتظامی لحاظ سے کنٹرول کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اسی سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے اگر نئے صوبوں کے مطالبے کو سنجیدگی سے زیر غور لایا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں‘ بلکہ امید ہے کہ ایسا کرنے سے ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال بہتر ہو جائے گی؛ تاہم یہ تقسیم لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی ضروریات کے تحت ہونی چاہیے۔
سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...
سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...
متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...
بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...
ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...
چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...
کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...
جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...
جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...
آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...
امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...