... loading ...
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہم پریشانیوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کچھ پریشانیاں ظاہری ہیں اور کچھ پریشانیوں کی کوئی باقاعدہ شکل نہیں ہے۔ یہ پریشانیاں ، روز بروز بڑھتی ہوئی بیماریوں کا بہت بڑا سبب بن رہی ہیں۔ بظاہر ایساہی لگتا ہے کہ یہ بھی ہمارے دشمن کی سازش ہے۔ بظاہر جو پریشانیاں ہیں ان میں سب سے اوّل ہمارے ملک میں بجلی کی دستیابی کا کوئی پیمانہ متعین نہیں اور نا ہی کوئی پوچھنے والا ہے۔ کوئی مرتا ہے تو مرے اور جیتا ہے تو اپنے خرچے پر جئے۔ یہ ہمارا مزاج بنتا جا رہا ہے۔ کبھی ہم کسی کی بے رحمی اور نا انصافی کو بہت پیار محبت سے برداشت کر جاتے ہیں تو دوسری طرف ہم بہت معمو لی سی غلطی پر سامنے والے کی ’’ شان‘‘ میں زمین ا?سمان ایک کردیتے ہیں اور تو اور جان بھی لینے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔ ہیجان ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں ا?پ کو سمجھ ہی نہیں ا?تا کہ ا?پ کو کیا کرنا چاہئے یا پھر کسی نا کسی تخریبی عمل کی جانب طبیعت مائل ہوتی جاتی ہے۔ہیجان بہت ساری بیماریوں کا باعث بنتا جا رہا ہے جن میں بلند فشارِ خون اور ذیابیطس جیسے مہلک امراض بھی شامل ہیں۔ معاشرے میں موجود عدم توازن ہیجان کی سب سے بڑی وجہ ہے آج ہر کوئی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں مشغول ہے تو دوسری طرف سڑکوں پر دوڑتی ہوئی گاڑیاں بھی ایک دوسرے کو پیچھے کرنے میں تیز سے تیز دوڑ رہی ہیں۔ ہیجانی کیفیت کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ چاہنا جو ہمارے بس میں نہیں ہے۔ یقیناً پچھلے زمانوں میں بھی اس کیفیت کا وجودرہا ہوگا مگربہت ہی مخصوص حالات میں اس کیفیت سے دوچار ہونا پڑتا ہوگا اور عبادت کے ذرائع سے بہت آسانی سے چھٹکارا مل جاتا ہوگا۔
دورِجدید میں اس ہیجانی کیفیت کی نشونما اور پرورش موسیقی کی ایک خاص قسم نے کی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ موسیقی کی بھی بہت ساری قسمیں ہیں جن میں سے ایک قسم ایسی ہے جو ہمارے اندر ہیجانی کیفیت کواجاگر کرتی ہے۔ مغرب میں اس کیفیت سے نجات کے بے تحاشہ ذرائع موجود ہیں جیسے کہ اگر ہیجان انگیز موسیقی بجائی جا رہی ہے تو سننے والے کو اس پر ناچنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور وہ اس بات سے قطع نظر کہ وہ کہاں ہے اور کون ہے اپنی ہیجانی کیفیت کو ناچ ناچ کر ختم کر لیتا ہے یا پھر نشہ بھی اس سے نجات کا بہترین ذریعہ ہے دنیا و مافیا سے آزاد۔ لیکن مشرق میں اور خصوصی طور پر پاکستان میں ایسی موسیقی پر تو پابندی نہیں مگر اس کو ختم کرنے والے رقص پراخلاقی ، مذہبی اور معاشرتی پابندیا ں عائد ہیں اور ہم اس پابندیوں کو توڑ نے کا سوچ بھی نہیں سکتے ایک تو معاشرہ اجازت نہیں دیتا دوسرا ہمارے مذہب میں اس چیز کی ممانعت ہے۔ آپ جب سارا دن کی محنت مشقت کے بعد شام کو گھر لوٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جناب سارا دن سے بجلی غائب ہے ، بجلی نا ہونے کے باعث پانی بھی دستیاب نہیں ہے اس پر گھر والوں کے تھکن زدہ اور بے سکون چہرے ، ا?دمی کی طبیعت میں ہیجان پیدا کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں اور یہ وہ تمام عوامل ہیں جو ایک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ہمارے ملک میں بجلی نہیں ہے ، پانی نہیں ہے، گیس نہیں ہے اور باقی جو کچھ بھی دستیاب ہے عام آدمی کی پہنچ میں نہیں ہے۔
ہیجان سے نجات ملے تو ذہنی سکون ہو اور ذہنی سکون ہو تو معاشرے کے افراد کچھ تخلیقی یا تحقیقی کام سرانجام دے سکیں اور خودکشیوں کا رجحان کم ہوسکے کیونکہ ہیجان کی کتاب میں خود کشی کا خیال صفہ اوّل پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ ہماری نسل کو ہیجان تھوڑا تھوڑا کر کے دیا گیا تو ہم لوگ کسی حد تک اسکے عادی ہوچکے ہیں۔ نئی نسل کو پیدائش کے ساتھ ہی اس کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ اس کیفیت کی زد میں بڑے ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کیفیت کی مرہونِ منت ہماری نئی نسل انتہا ء درجے کی بے حسی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہے۔ انکے نزدیک انکے کاموں کی اہمیت ہے دوسرے کا کوئی کام کتنا ہی اہم کیوں نا ہو وہ کسی قسم کی اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں۔ نوجوان نسل کی اس ہیجانی کیفیت کو مذہب سے نفرت کیلئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل اپنے اوپر لگائی جانے والی کسی بھی قسم کی پابندی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ، بچپن سے ہی بچہ اپنے اوپر لگائی جانے والی روک سے بغاوت کرتا نظرآرہاہے۔ یہ بچے اپنے والدین کو بھی ہیجانی کیفیت سے دوچار کرتے چلے جاتے ہیں۔بچوں میں ہیجان کی ایک بہت خاص وجہ وہ کھیل ہیں جو وہ کمپیوٹر ، موبائل اور دیگر ایسی مشینوں پر کھیل رہے ہیں۔والدین اپنی جان چھڑانے کے بہانے یا پھر جدید دور سے ہم اہنگ کرنے کے لئے کمپیوٹر اور موبائل تک رسائی دیتے ہیں اور اپنے لئے ہیجان کے اسباب پیدا کرلیتے ہیں۔ ان کھیلوں سے پیدا ہونے والا ہیجان بچے اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں اور جہاں موقع ملتا ہے لڑائی جھگڑے کی صورت میں معاشرے میں نظر آتے ہیں۔ جیسے جیسے ہیجان بڑھ رہا ہے ایسے ایسے بے حسی میں بھی اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔
جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں تذکرہ کیا جا چکا ہے کہ عبادات روح سے خالی ہوتی جا رہی ہیں جسکی وجہ سے عبادات سے خضوع وخشو ع کی قلت ہو چکی ہے اور شاید کوئی اس قلت کو دور کرنے کیلئے عبادات میں روح پیدا کرنے کیلئے تیار ہی نظر نہیں آرہا۔ نا تو مذہبی پیشوا اور نا ہی سیاسی رہنما عوام کو اس ہیجان سے چھٹکارا دلانا چاہتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہیجان ختم کیسے ہوگا یا اس پر کیسے قابو پایا جائے؟ معجزے سے دھیان ہٹا کر اس بات کو خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے کہ اب یہ ہیجان معاشرے سے ختم ہو سکے گا، یہ شکلیں بدل بدل کر ہمارے سامنے یاآ گے پیچھے گھوم رہا ہے اور گھومتا رہے گا۔ زور ہمیں اس بات پر دینا ہے کہ کسی نا کسی طرح عبادت کریں، ایک دوسرے کو کسی بھی حد تک برداشت کریں ، ان باتوں پر دھیان دینا کم سے کم کردیں جو ہماری پہنچ میں نہیں ہیں، کینا بغض جیسی نفس کی بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں اور دوسروں کی بھی مدد کریں ، معاشی توازن کی بحالی کیلئے کام کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں ، عبادت گاہوں کو سیاسی اکھاڑے بنانے کی بجائے صحیح معنوں میں عبادت گاہوں کا درجہ دیا جائے جہاں عبادت بغیر کسی تقسیم کے کی جاسکے۔ تعلیمی ادارے اور اساتذہ اپنی خصوصی خدمات کی بدولت ا?نے والی نسلوں کو ہیجان سے دور رکھنے کیلئے عملی کردار اداکرسکتے ہیں۔ ہم اپنی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے کچھ ایسی تدبیریں کرنی ہونگی جن کی بدولت معاشرہ ہیجان جیسے موذی اور مہلک مرض سے نجات پاسکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...