وجود

... loading ...

وجود

جرأت مندشاعرہ غزلؔ جعفری سے کرن صدیقی کا مکالمہ

اتوار 06 مئی 2018 جرأت مندشاعرہ غزلؔ جعفری سے کرن صدیقی کا مکالمہ

لوح و قلم کی اپنی تہذیب ہوا کرتی ہے۔ ہمارے ملک کے نامور شعرا اور شاعرات نے ہر دور میں قلم سے جہاد کیا، انقلابی نظمیں ،طرحی مشاعرے ہمارے ادب کا خاصہ رہے ۔ گزشتہ 30 برسوں سے ہمارے نئے لکھنے والوںنے اپنے مخصوص انداز کے باعث لوگوں میں شہرت پائی جن میں شعراا ور شاعرات کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن ہماری آج جس شاعرہ پر نظر گئی وہ اپنے لب و لہجے میں بے انتہا کشش رکھتی ہیں، ان کے لکھنے کا انداز منفرد ہے۔ ان کی نظمیں اور غزلیں اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ غزل جعفری شاعرِ پاکستان کیف بنارسی کی صاحب زادی ہیں جن کی نظم

’’لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان

وہ نظم تھی جس نے تحریکِ پاکستان میں ولولہ اوراسے وہ حوصلہ عطا کیا جس کے باعث پاکستان دنیا کے نقشے پر ہمیشہ قائم رہے گا۔ غزل جعفری چیئرپرسن ہیں کلچر اینڈ آرٹ فورم کی اوربانی ہیں اے جے پروڈکشن کی۔ غزل جعفری کی 4کتابیں آچکی ہیں جب کہ آج کل ان کی پانچویں کتاب ’’ میری آنکھوں نے کیا کیا دیکھا‘‘ زیرِ طبع ہے جس میں وہ مصروف ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان بسنت مشاعرہ کااہتمام کیا جو کافی کامیاب رہا جس کے لیے ہم غزل جعفری کو مبارک بادپیش کرتے ہیں۔ان کا صحافت سے بھی تعلق رہاہے وہ ایک مقامی روزنامہ میں ’’اندازِ بیاں‘‘ کے نام سے کالم لکھتی رہی ہیں۔ غزل جعفری سے ہم نے انٹرویوکیاہے جو نذرِ قارئین ہے:
السلام وعلیکم : غزل جعفری صاحبہ
وعلیکم السلام: خوش رہیے …آباد رہیے… آداب
س: غزل جعفری صاحبہ! آپ نے شاعری کا آغاز کب کیا؟

ج: شاعری میرے خون شامل تھی۔ یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ کب شروع کی۔ ہاں پہلا شعر آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی جب کہا۔ وہ اتنا بھرپور تھا کہ گھر والوں کو یقین ہوگاکہ یہ آگے چل کر خاندان کا نام ادب میںروشن کرے گی … وہ شعر تھا:

دیکھا ہے جب سے تم کو عجب حال ہے مرا
لگتا ہے جیسے تم ہی مرے ہم خیال ہو

اس شعرکی پسندیدگی کے بعدمیں نے اسی زمین میں غزل کہہ ڈالی جو داد کی مستحق رہی۔
س:اس کا مطلب ہے کہ شاعری کا ہنر آپ کو کیف بنارسی سے ورثہ میں ملا ؟
ج:شعر کہنا میری وراثت ہے۔میرے اجداد کی عطاہے ۔یہ ورثہ مجھے بالکل والد صاحب سے وراثت میں ملا مگر شاعری میں والد صاحب کی شاعری کی چھاپ نہیں ہے۔
س: شاعری کا اکثر موضوع کیا چیز رہی؟
ج: عورت جہاں کائنات کا حسن سمیٹے ہوئے ہے وہیں فساد اور فتنہ بھی ہے۔ اس لیے میری شاعری عورت کے گرد گھومتی ہے کیونکہ میں جانتی ہوں مرد دنیا کی کمزور ترین چیز ہے جسے مضبوط عورت بناتی ہے عورت جن مسائل سے دوچار ہے وہ تمام مسائل آپ کو میری کتاب میں ضرور نظر آئیں گے۔

س : آپ نے مشاعرے کب پڑھنے شروع کیے؟
ج: میں نے 1982ء سے مشاعرے کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس زمانے میں حقیقت تو یہ تھی کہ شوکت زیدی صاحب جو انکم ٹیکس کمشنر تھے ایلیٹس کالج کے بانی تھے۔ انہوں نے مشاعروں کو فروغ دیا۔ دوسری اہم بات اس زمانے میں ہرادارے کی ایک ادبی کمیٹی ہواکرتی تھی جس کے تحت مشاعروں کی فضابنی ہوتی تھی۔ اسی زمانے میں عالمی مشاعرے تیزی سے ہوا کرتے تھے بینکرز اکیویٹی کے تحت پاک لینڈ کے محسن طارق صاحب اسٹیل ملز کے مشاعرے الائیڈ بینک ، نیشنل بینک تقریباً ہر ادارہ ادبی نشست سجانے میں تیار رہتا تھا لیکن زیادہ مشاعروں کا انعقاد عالمی مشاعروں کی صورت میں ہوا جس میں ہندوستان سے آئے ہوئے شعرا اور شاعرات کا اہم کردار رہا پھر تو دنیا بھر سے شعرااور شاعرات کی آمد ورفت رہی مگر ہندوستان کے شعرا اور شاعرات نے خوب فائدہ اُٹھایا ۔ ایرو کلب ۔ نیشنل اسٹیڈیم اور بڑے بڑے صنعت کاروں کے گھروں پر یہ محفلِ مشاعرہ ہونے لگی جس میں شعرااور شاعرات کی مالی معاونت کی جاتی تھی اور تحفے تحائف بھی کھلے دل سے دیئے جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہر ایک ان مشاعروں میں شرکت کرنا چاہتاتھا۔آرٹس کونسل ،جیم خانہ اور کافی انڈسٹریز ان مشاعروں کو داد و تحسین پیش کرتے تھے ۔شعرا اور ادیبوں کے شان میں قصیدے اور اشعار نذر کرتے تھے، وہ بڑا سہانا اور یادگار دور تھا۔ ہم نے بھی کافی مشاعرے اس دوران پڑھے اور حنا تیموری، ریحانہ نواب اور تسنیم صدیقی ہماری دوست بن گئیں اور پھر جب 1991ء میں پہلا ایشیا خواتین مشاعرہ دبئی میں ہوا تو ہم نے یہ مشاعرہ پڑھا اور داد وصول کی۔ سلیم جعفری صاحب نے پہلا خواتین مشاعرہ ’’ غزل و غزال‘‘ کے نام سے دبئی میں کیا پاکستان اور ہندوستان کی کافی شاعرات نے شرکت جوکہ دبئی ، شارجہ،العین، دوحہ، ابوظہبی میں منعقد کیاگیا وہ ہم نے پڑھا، اس کے بعد کافی مشاعرے پڑھے مگر پھر بعد میں ادبی مشاعرہ کی فضانے کروٹ بدلی اور عالمی مشاعرہ میں گروہ بندیاں شروع ہوگئیں تو ہم نے مشاعرے میں کم شرکت کی اور لکھنے کے عمل کو تیز کردیا۔
س: آپ کا شعری مجموعہ کب آیا؟
ج: ہمارا پہلا شعری مجموعہ ’’میں غزل ہوں‘‘ 1995ء میں آیا جس میں تقریباً چاروں صوبوں سے شعرا نے مقرر کی حیثیت سے شرکت کی جو میرے لیے باعثِ فخر تھا۔ اس کتاب کے مہمان خصوصی فخر زماں صاحب تھے جو اکادمی ادبیات کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ثقافت تھے انہوں نے شرکت کی کیونکہ وہ خود ایک ادبی آدمی تھے۔ انہوں نے شعرا اورادیبوں اور فنکاروں کے لیے بے انتہا اچھے کام کیے جو قابلِ فخر تھے۔

س: آپ نے شاعری میں کس سے اصلاح لی؟
ج: ہاں زبردست سوال ہے۔ میرے استاد محترم محسن بھوپالی صاحب تھے۔ انہوںنے میرے لیے بے انتہا تو قعات رکھی تھیں۔ انہوں نے مجھے ہائیکو کی طرف اور نظمانے کی طرف راغب کیا جو ادب میں ایک نئی صنف تھی۔ جاپان قونصلیٹ میںاکثر مشاعرہ ہوا کرتا تھا۔ ہائیکو مشاعرہ لیکن بعد میں وہ صنف اتنی مقبول ہوگئی کہ آج کل ہر ایک ہائیکوپر طبع آزمائی کررہا ہے۔ یقیناً پاکستان اور جاپان کی محبت ایک مثالی محبت ہے۔ اس پرلکھنا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔
محسن بھوپالی صاحب نے ہمیشہ دستِ شفقت رکھا، ان کے جلدی دنیا سے چلے جانا تکلیف کا باعث ہے ۔خدا ان کی مغفرت فرمائے درجات بلند کریں۔آمین۔

دوسرا شعری مجموعہ ’’انتظارِ وفا‘‘ جو 2000ء میں آیا۔ اس شعری مجموعہ کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا سندھی ترجمہ ہمارے سندھی ادب کابڑانام تاج بلوچ صاحب نے کیا تھا جو میرے لیے باعثِ اعزاز تھا۔ میں ہمیشہ تاج بلوچ صاحب کی مشکور رہوں گی کہ انہوںنے میری شاعری کو سندھی ترجمے کے ساتھ پیش کیا۔

اس کے بعد کتابچے کی صورت میں ہائیکو شاعری ’’اُبھرتا سورج ‘‘کے نام سے آیا اور 2016ء میں میری کتاب ’’صنم سے خدا ہونے تک ‘‘آئی جس کو کافی پذیرائی ملی اور آج کل ’’میری آنکھوں نے کیا کیا دیکھا‘‘ پر کام کررہی ہوں۔ انشا اللہ جلد ہی آپ کو مل جائے گی۔

س: آج کل کے مشاعروں کے بارے میں کیا کہیں گی؟

ج: آج کل حالات اچھے ہوگئے ہیں۔ ایک بار پھر مشاعروں کی فضا بن رہی ہے مگر آج کل مشاعروں میں کلام سے زیادہ مقام پر جھگڑا ہے۔ میں اس بات کے قطعی خلاف ہوں۔ مقام صرف میرے خدا کا ہے۔ کلام اپنا ہونا چاہیے بس ہم لوگ جس دور سے پڑھ رہے ہیں کبھی اس بحث میں نہیں پڑے کہ پہلے کیوں پڑھوادیا بعد میں کیوں۔ خواتین ویسے بھی رات دیر تک نہیں بیٹھ سکتیں۔ اب تو حالات کافی بہتر ہیں پھر رات تک بیٹھنا مشاعرے میں خواتین کا صحیح نہیں اس لیے نظامت کرنے والے کی ذمے داری ہے کہ خواتین شاعرات کو سوائے ان کے جو کافی سینئر ہیں ان کی صدارت یا پہچان اعزازی تو نہیں اس لیے انہیں زیادہ تر زحمت دی جاتی ہے ورنہ تو مشاعرے کی فضا آج بھی 20 یا 25 سال پہلے والی نہیں ہے۔

س:کیا آپ مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکت کررہی ہیں؟

ج : بالکل، جہاں بلایا جائے ضرور جانا چاہیے اور پڑھنا بھی چاہیے اور اس لیے بھی جانا چاہیے کہ نئے لکھنے والے کیالکھ رہے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ نئے لکھنے والوں میں بہت سے نام ایسے ہیں جو داد کے مستحق ہیں اور اچھا لکھ رہے ہیں۔

س: ترنم میں بھی پڑھتی ہیں آپ، سنا ہے، پُراثر آواز ہے؟
ج: تحت اللفظ اور ترنم دونوں میں پڑھتی ہوں ۔ایک وقت تھا لوگ ہمیں ترنم میں پڑھنے پر ہندوستان کی شاعرہ سمجھتے تھے مگر مشاعرہ کا ترنم الگ ہوتا ہے اسے اپنی آواز میں اچھے سے پڑھ دیا جائے ۔انڈیا کے اکثر شعرااور شاعرات قوالوں کی شاگرد ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ترنم پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ہندوستان کی شاعرات ہندی میں آٹو گراف دیتے ہیںجو قابلِ فکر بات ہے ۔
شکریہ غزل جعفری صاحبہ…!


متعلقہ خبریں


حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان وجود - جمعه 19 جون 2026

پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط وجود - جمعه 19 جون 2026

امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ وجود - جمعه 19 جون 2026

جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال وجود - جمعه 19 جون 2026

شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش وجود - جمعه 19 جون 2026

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

مضامین
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

یادوں کی نیلامی وجود جمعه 19 جون 2026
یادوں کی نیلامی

نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر وجود جمعه 19 جون 2026
نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر

مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر