وجود

... loading ...

وجود

سانگھڑ کی شہہ رگ نارا کینال سوکھ رہی ہے،کپاس کی فصل خطرے سے دوچار

جمعه 04 مئی 2018 سانگھڑ کی شہہ رگ نارا کینال سوکھ رہی ہے،کپاس کی فصل خطرے سے دوچار

نارا کینال کو سندھ کے معدنیات سے مالامال ضلع سانگھڑ کی شہہ رگ تصور کیاجاتاہے ،اس پورے ضلع میں زراعت کے لیے آبیاری، اورلوگوں کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی کابڑا بلکہ واحد ذریعہ ناراکینال ہے،یہ کینال دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر کھدائی کے ذریعے سابقہ نارا ندی کی جگہ بنائی گئی تھی ۔ اس کینال کی تعمیر کے بعد سانگھڑ کا بظاہر صحرائی علاقہ لہلا اٹھاتھا اور اس ضلع کے عوام کے چہروں پر خوشی چھاگئی تھی لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق محکمہ انہار کے افسران کی غفلت اورکرپشن کی وجہ سے اب اس کینال میں پانی جمع کرنے کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے اب یہ کینال سوکھتی جارہی ہے جس کی وجہ سے بارشیں کم ہونے کی صورت میں اس ضلع کے عوام کوپانی کی شدید قلت کاسامنا کرنا پڑتاہے جبکہ اس وقت سب سے زیادہ افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ یہ کینال گزشتہ دو ماہ سے باکل سوکھ چکی ہے،جس کی وجہ سے سانگھڑ ضلع کے وسیع علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگ پانی کی بوند بوند کوترس گئے ہیں، اور جب انھیں پینے کوہی پانی دستیاب نہیں ہے تو فصلوں کی بوائی کے لیے کیسے سوچ سکتے ہیں۔

سانگھڑ کو سندھ میں کپاس پیدا کرنے والا ضلع تصور کیاجاتاہے اورکپاس کی پیداوار کے اعتبار سے اس ضلع کوپورے ملک پر سبقت حاصل ہے لیکن اس سال پانی کی شدید قلت کی وجہ سے کپاس کی فصل بھی تباہی سے دوچار ہے۔ ضلع سانگھڑ کے شہر کاہی کے پانی کی قلت سے دوچار پریشان حال کاشتکاروں نے گزشتہ روز پانی کی قلت کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائرجلاکر سڑکیں بند کردی تھیں ،ان کاکہناتھا کہ یہ کپاس کی بوائی کاموسم ہے لیکن یہاں لوگوںکوپینے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہے کپاس کی بوائی کیسے کی جاسکتی ہے اور اگر کپاس کاشت نہ کی گئی توعلاقے کے کاشتکار پورے سال گزربسر کس طرح کریں گے۔کاشتکاروں کاکہناہے کہ پانی کی یہ قلت محکمہ انہار کے افسران نے مبینہ طورپر رشوت وصول کرنے کے لیے مصنوعی طورپر پیدا کی ہے تاکہ کاشتکار اپنی فصلوں کی بوائی کے لیے پانی حاصل کرنے کے لیے ان کی جیب گرم کرنے پرمبجور ہوجائیں۔

نارا کینال کی یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ قابل توجہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی جو اب سندھ میں اپنی حکومت بچانے اور وفاق میں قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اپنی سابق کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کے لیے کوشاں ہے،گزشتہ ماہ ہی سانگھڑ کے عوام کو پینے کاصاف پانی فراہم کرنے کے ایک منصوبے کا اعلان کیاتھا ،اچھرو تھر کے دیہات کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے 56کیلو میٹر طویل بڑی پائپ لائن ڈالی گئی تھی اور اس کے ساتھ ہی تمام85 دیہات کوپانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 185کیلومیٹر طویل رابطہ لائنیں نصب کی گئی تھیں، اس کے بعد 31مارچ کو پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول زرداری نے بڑے طمطراق کے ساتھ سانگھڑ پہنچ کر اچھرو تھر یعنی سندھ کے سفید صحرا کے کم وبیش 85 دیہات کوناراکینا ل سے پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے ایک منصوبے کاافتتاح کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پیپلز پارٹی عوام کی مشکلات اورمسائل سے آگاہ ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاںہے،لیکن یہ دعویٰ کرتے ہوئے وہ اس حقیقت سے لاعلم تھے کہ وہ اچھرو تھر کے 85دیہات کو جس ناراکینال سے پانی کی فراہمی کے منصوبے کاافتتاح کررہے اس ناراکینال میں اب پانی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے اور اس واضح سبب پاکستان پیپلز پارٹی کے ارباب اختیار کی جانب سے سفارش پر محکمہ انہار میں بھرتی کیئے جانے والے وہ افسر ہیں جنھیں اپنے فرائض سے زیادہ مراعات حاصل کرنے اور اوپر کی آمدنی حاصل کرنے کی فکر رہتی ہے اورجو ناراکینال کی صفائی کے لیے ہر سال مختص کی جانے والی رقم مبینہ طورپر خورد برد کرتے رہے ہیں ۔ نارا کینال کے اس طرح سوکھ جانے کی وجہ سے سانگھڑ ضلع میں جن زمینوں پر سبزیاں اور دوسری فصلیں اگائی جاتی ہیں اب ریت کے ٹیلوں میں تبدیل ہورہی ہیں۔

سانگھڑ کاعلاقہ سندھ کاایساعلاقہ ہے جہاں زیر زمین پانی حاصل کرنا جوئے شیر لانے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں پانی کم وبیش500فٹ گہرائی پر ہی دستیاب ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے اس علاقے کے لوگ پانی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے باران رحمت پر اکتفا کرتے ہیں،علاقے کے لوگ بارش کاپانی تالابوں اور چھوٹے گڑھوں میں جمع کرلیتے ہیں جو پورے سال علاقے کے لوگوں اورمویشیوں کے کام آتاہے، یہی پانی اس ضلع کے لوگوں کے گھروں میں کھانا پکانے کے لیے بھی استعمال ہوتاہے ،لوگ یہی پانی پیتے ہیں اور اسی پانی کو آبپاشی کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ نارا کینال کی تعمیر کے بعد علاقے کے لوگوں کو پانی کے حصول اورپانی جمع کرنے کاایک اچھا ذریعہ میسر آگیاتھا جس میں بارش کے پانی کے علاوہ دریائے سندھ کاپانی بھی موجود ہوتاتھا لیکن کینال کی صفانی نہ ہونے کی وجہ سے اس میں جمع ہونے والی مٹی نے اس کی گہرائی کم اور پانی جمع کرنے کی صلاحیت سلب کرلی ہے جس کے نتیجے میں آج اس ضلع کے لوگ بوند بوند پانی کوترس رہے ہیں۔

ضلع سانگھڑ کے ایک پرانے رہائشی حاجی خان درس نے پانی کی قلت کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اچھرو تھر کے لوگوں کو نارا کینال سے پانی فراہم کرنے کے لیے پائپ لائنیں نصب کرکے بلاشبہ ایک اچھا کام کیا ہے لیکن صور ت حال یہ ہے کہ بلاول زرداری نے جس دن اس منصوبے کاافتتاح کیاتھا اس دن تو پائپ لائنوں میں پانی موجود تھا لیکن دوسرے ہی دن سے پائپ تو ہیں لیکن سوکھے ہوئے ان میں پانی ایک بوند بھی موجود نہیں ہے معلوم ہوتاہے کہ اس منصوبے کے افتتاح کے موقع متعلقہ ارباب اختیار نے کہیں اور سے پانی لاکر پائپ لائنوں کوبھر دیاتھا لیکن چونکہ نارا کینال میں پانی نہیں ہے اورمصنوعی طورپر پائپ لائنوں کوبھرنے کاکوئی مستقل انتظام نہیں کیاگیاہے اس لیے اب علاقے کے لوگ پانی کی شدید قلت کاشکار ہیں۔ ناراکینال میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ واٹرٹینکرز سے پانی خریدنے پرمجبور ہیں جو دور دراز علاقوں سے پانی یہاں پہنچاتے ہیں ،جبکہ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ نے علاقے کے لوگوں کی زندگی مزید اجیرن کردی ہے۔ضلع سانگھڑ کے ایک بڑے شہر کھپرو کے رہائشی لوگوں نے بتایا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے اب ہم ساراسارا دن پانی کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا تمام کام ٹھپ ہوچکاہے ،ٹینکر سے پانی خریدنا ہمارے بس سے باہر ہے کیونکہ یہ بہت ہی مہنگا ثابت ہوتاہے۔کاشتکاروں کاکہنا ہے کہ محکمہ آبپاشی نے 16اپریل کو پانی جاری کرنے کاوعدہ کیاتھا لیکن کھپرو ،ڈھلیار ،بھٹ، بھیٹی ،گرہور شریف، پتھورو اور دیگر علاقوں کے شہری پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔

اس حوالے سے جب تھر ڈویژن میر پورخاص میں موجود محکمہ آبپاشی سندھ کے ایگزیکٹو انجینئر اشفاق میمن سے رابطہ قائم کیاگیاتو انھوں نے سانگھڑ میں پانی کی عدم موجودگی کااعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ پانی کابحران موجود ہے لیکن یہ صورت حال صرف سانگھڑ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ صورت حال یہ ہے کہ دریائے سندھ سے بنائے گئے سسٹم ہی میں پانی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی(ارسا) نے پورے سندھ میں مختلف کینالز کاپانی بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ظاہرہے کہ جب دریائے سندھ سے پانی فراہم نہیں کیاجائے گا تو نارا کینال میں پانی کہاں سے آسکتاہے اسے توسوکھنا ہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ صرف ضلع سانگھڑ ہی نہیں بلکہ نارا اورروہڑی کینالز سے سیراب ہونے والے تمام اضلاع، شہر،قصبے اوردیہات پانی سے محروم ہیں ،تاہم انھوں نے کہا کہ

مئی کے پہلے ہفتے میں پانی مل جانے کی توقع ہے اس لیے امیدہے کہ اگلے چند روز میں پانی کی فراہمی بحال ہوجائے گی۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر