وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 29 اپریل 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

صفدر علی انشا کے مجموعے’
’ آبیل…‘‘ کی رسمِ اجرا
معروف مزاح گو شاعر،صحافی اور اُستاد پروفیسر صفدر علی انشا کے پہلے مزاحیہ شعری مجموعے’’ آبیل …‘‘کی رسمِ اجرا ٗ پاکستان امریکن کلچرل سینٹر میں ہوئی جس کی صدارت پروفیسر منظر ایوبی نے کی، مہمانِ خصوصی جناب مسلم شمیم اورتقریب کے میزبان پروفیسر ہارون رشید تھے،اظہارِ خیال کرنے والوں میں ،ظہیر خان،ڈاکٹر نزہت عباسی اورجمال احمد جمال تھے،ارشد ندیم نے ابتدائی کلمات ادا کیے،پروفیسر ہارون رشید نے کہا کہ پی اے سی سی میں ادیبوں کے ساتھ شام منانے کا سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے،ہم نے مشتاق احمد یوسفی،ڈاکٹر جمیل جالبی،پروفیسرسحر انصاری،پروین شاکر،فاطمہ حسن ،انور شعور وغیرہ کے ساتھ یادگار شاموں کا انعقاد کیا ہے،آج صفدرعلی انشا کے ساتھ یہ شام اسی سلسلے کی کڑی ہے،صفدرعلی انشا فطری مزاح نگار ہیں،ان کی شاعری میں ابتذال اور پھکڑ پن نہیں، تہذیب ہے،آپ نے سیاسی ومعاشرتی مسائل پر ظریفانہ انداز میں نظر ڈالی ہے،معاشرے کی حقیقتوں کو بیان کیا ہے،قطعات،غزل،نظم اور واسوخت کی صنف میں مزاح کے جوہر دکھائے ہیں،کتاب کا سرورق بھی جاذب نظر ہے،جمال احمد جمال نے منظوم تاثرات کا اظہار کیا،ڈاکٹر نزہت عباسی نے کہا کہ صفدر علی خان ادبی مجلہ انشانکالتے نکالتے خود بھی انشا ہوگئے ہیں،انشا اللہ خان انشا اور ابنِ انشا کے بعد صفدر علی نے انشا کی ہیٹ ٹرک مکمل کرلی ہے،کتاب کا نام اور سرورق دونوں معنی خیز ہے،آپ نے اپنی شگفتہ شاعری کے ذریعہ معاشرے کے بدعنوان عناصر کو للکارا ہے،اُردو ادبیات کے اُستاد ہونے کی حیثیت سے وہ زبان و بیان کی باریکیوں سے واقف ہیں، ان کا مجموعہ ذاتی زندگی سے لے کر ہماری اجتماعی زندگی کے کئی پہلووں کا منظرنامہ ہے،ظہیر خان نے کہا کہ سنجیدہ بات کو مزاح کا رنگ دینا آسان کام نہیں ۔وہ بھی اس طرح کہ پڑھنے والے کو ناگوار نہ گزرے،صفدر علی بھی سخت سے سخت بات کو مزاح کے دلنشین پیرائے میں کامیابی سے پیش کرتے ہیںجو کہتے ہیں سچ کہتے ہیں،سچ کے سوا کچھ نہیں کہتے،صفدر علی انشا نے اپنے مزاحیہ کلام سے حاظرین کو تادیر محظوظ کیا۔

کچھ وفاقی قسم کے اب خواب آتے ہیں نظر
اب سکونت کے لیے دارالحکومت چاہیے
ایک دن میں بھی بنوں گا صدر بس لب پر مرے
تین سو پینسٹھ دنوں تک مُسکراہٹ چاہیے

مہمانِ خصوصی جناب مسلم شمیم نے کہا کہ صفدر علی انشا کی شاعری عصری صورتِ حال کا آئینہ ہے،آج کا زمانہ بولتا ہے،ادب کے سماجی کردار کو بڑی خوبی سے بیان کیا ہے،شعری محاسن بدرجہ اتم موجود ہیں۔ معاشرے کی تفہیم اور اس کے لیے مواد فراہم کرتا ہے،اس میں مزاح کے ساتھ دانشمندانہ فکر موجود ہے۔ صدرِ محفل پروفیسر منظر ایوبی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اُردو شاعری میں مزاحیہ شاعری کا سلسلہ اکبر الہ آبادی سے شروع ہوتا ہے جو سرسید تحریک کا ردعمل تھا ،وہ سرسید کے مخالف نہیں تھے، انہیں اس بات کا غم تھا کہ مسلمانوں کی تہذیب واقدار کا خاتمہ ہورہا ہے،سید جعفری،ضمیر جعفری،دلاور فگار، ضیا الحق قاسمی،انور مسعود،خالد عرفان نے مزاح نگاری کی صنف میں بڑے کمال دکھائے ۔مزاح نگار اشارے کنائے سے معاشرتی برائیوں پر لکھتا ہے۔ صفدرر علی انشا کی شاعری میں طنزِ ملیح اورطنزِ لطیف ہے،طنزِ کثیف نہیں ہے،مزاح نگار خود روتا ہے مگر دوسروں کو ہنساتا ہے،اصلاح معاشرہ کا کام کرتا ہے،آخر میں نجم الدین شیخ نے پی اے سی سی کی جانب سے صفدر علی انشا کو یادگاری شیلڈ اور مہمانوں کو گلدستے پیش کیے۔

٭پشتوزبان کے عظیم شاعر
اجمل خٹک کی یاد میں مذاکرہ و محفل
اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیراہتمام پشتوزبان کے عظیم شاعر اجمل خٹک کی یاد میں مذاکرہ و محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت اُردو زبان کے نامور ادیب دانشور مسلم شمیم نے کی، مہمانان خصوصی حمید خٹک ،کینڈا سے آئے شاعرہ پروین سلطانہ صبا، سرور شمال ، شگفتہ شفیق،سعودی عرب سے آئے ہوئے باقر عباس فائز تھے ۔صدارتی خطاب میں کہا کہ اجمل خٹک ان اکابرین ادب سے ہیں جو دلوںمیں یاد بن کر رہتے ہیں دماغوں میں خیال بن کر رہتے ہیں کتابوںمیں زندہ رہتے ہیں۔ پشتو زبان میںغزل کی مقبولیت کا راز اس کی ایمائیت اور اشاریت ہے یعنی شاعر مضمون کی چند کڑیاں حذف کردیتا ہے اور جب پڑھنے والا یہ کڑیا ں جوڑ کر مطلب فہمی کے عمل سے گزرتا ہے تو اسے ایک نفسیاتی سکون اور فاتحانہ مسرت محسوس ہوتی ہے۔ آپ کی شاعر میں جہاںبزم کافاؤنوش ہے وہاں رزم کی ہنگامہ آرائی بھی ہے معاشرت کی عکاسی بھی ہے اور چشم دید منظر کشی بھی ہے۔یہ ہی رنگارنگی ہے اور یہ ہی تنوع ہے جس نے اجمل خٹک کو غزل کا بابائے پوئیٹری بنادیا ہے۔ پشتو زبان کے معروف دانشورر حمید اللہ خٹک نے کہا کہ بابائے پشتو پوئٹری اجمل خٹک کی زندگی کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ پشتوں زبان کے ایک نامور انقلابی شاعر اور ادیب تھے انہو ں نے تیرہ کتابیں لکھی ہیں جن میں اُردو کی کتابیںبھی شامل ہیں۔ ان کا پہلا شاعری مجموعہ ’’دی غیرت چغہ‘‘ (غیرت کی چیخ ) کتاب کی شکل یں ۱۹۵۸ء میں شائع ہوئی بعد میں اس کتاب پر پاکستان اور افغانستان پر پابندی بھی لگائی گئی تھی۔اجمل خٹک نے صحافت کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا وہ پشتو اور اُردو زبانوں کے کئی اخبارات اور رسائل کے مدیر رہے جن میںانجام، شہباز، عادل، رہبراور بگرام قابل ذکر ہیں ۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہاکہ اجمل خٹک پشتوادب شاعری کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ہے۔ پشتو غزل نے صدیوں پہلے اپنے سفر کے اوّلین موڑ پر یہ روایت توڑ ڈالی تھی آج سے تقریبا ً ۴ سوسال پہلے کے شاعر شمشیر زن خوشحال خان خٹک کے قلم نے غزل کے میدان میں تلوار زنی کے جوہر دکھائے تھے اجمل خٹک بیسویں صدی کی پشتو غزل کے سرخیل ہیں آپ کا شعر قدیم وجدید رنگ اور طرز کا ایک حسین امتزاج بھی ہے اجمل خٹک کے یہاںجدت اور روایت ساتھ ساتھ چلتے نظرآتے ہیں غزل کے قدیم روایتی موضوعات اپنی تمام ترشعری رعایتوںاور تلازمات کے حسن اور مغویت کے ساتھ ایک نیا رنگ اور آہنگ لیے اجمل کی غزل میں بالکل ایک نئی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ دنیا میں ایسا کوئی ترازو نہیں بنا تھا جو اس با ضمیر شاعر کو تول سکتا وہ ان خا ص لوگوں میںتھے جو اس جمہوری اقدار کے لیے جیتے مرتے تھے۔آپ کئی کتابوںکے مصنف تھے جن میں گل پرھر (ننگ و افغان)( نثر ) ۹۹۰اء قصہ زمادا دبی جوند دازا پاگل ؤم (نثر) ۲۰۰۵ء آپ کو کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا جس میںبڑا ایوارڈ اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے کمال فن ایوارڈ سے بھی ان کو نوازگیا۔ آپ کو بابائے پشتو پوئٹری بھی کہاجاتا ہے۔مذاکرے کے بعدہونے والے مشاعرے میں مسلم شمیم ، محب محبوب ، سرور شمال ، حمید خٹک ایڈوکیٹ، شگفتہ شفیق ، گلشن سندھو، نصیر سومرو ، اظہر بانبھن ، سجاد میرانی، عبدالمجید محور، عرفان علی عابدی، رسول بخش چنا، الطاف احمد، نشاط غوری، غازی بھوپالی، فہمید مقبول، زرا صنم ، فرح دیبا، عظمی جون، زرجان مراخیل، سیف الرحمٰن سیفی ، سید علی اوسط جعفری، صدیق راز ایڈوکیٹ ، سید مخدوم علی ریاض، آزا د حسین آزاد، سید صغیر احمد جعفری، پروین سلطانہ صبا، باقر عباس فائیز، سیدہ زرین سعود، اقبال سہیوانی، دلشاد احمد دہلوی، کھتری عصمت علی پٹیل، راشد چاند،نے اپنا کلام سُنا کر اجمل خٹک کی عظمت کوخراج تحسین پیش کیا۔ اس تقریب کی نظامت قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے کی اور آخر میں اکادمی ادبیا ت پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر