وجود

... loading ...

وجود

ایثار…سخاوت و فیاضی کا آخری درجہ

جمعه 27 اپریل 2018 ایثار…سخاوت و فیاضی کا آخری درجہ

’’ایثار‘‘ حقیقت میں سخاوت و فیاضی اور غم خواری و ہم دردی کا سب سے آخری درجہ ہے۔ اپنی ضرورت کو دباکر دوسرے کی ضرورت کو مقدم رکھنا ، خود بھوکا رہ کر دوسروں کو شکم سیر کرنا اور خود تکلیف و مشقت اُٹھا کر دوسروں کے لیے راحت و آرام کا سامان مہیا کرنا ’’ایثار‘‘ کہلاتا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں انصار کا سب سے بڑا اخلاقی وصف یہی تھا کہ جب اُن کے پاس مہاجر صحابہ مکہ مکرمہ چھوڑ کر بے سرو سامانی کے عالم میں آوارد ہوئے تو انصارِ مدینہ نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اُن کو گھر بار،کھیت باغ اور کام کاج میں اپنا شریک بنالیا۔ خود ہر طرح کی تکلیفیں اُٹھائیں مصیبتیں جھیلیں ، لین اُن کو راحت و آرام پہنچایا، خود بھوکے رہے اور اُن کو کھلایا، خود پیاسے رہے اور اُن کو پلایا، خود عاری بدن رہے اور اُن کو پہنایا۔ یہاں تک کہ جب حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن الربیع انصاری رضی اللہ عنہ (جو انصارِ مدینہ میں سب سے زیادہ مال دار اور فیاض طبع تھے) اُن سے اِن کابھائی چارہ کرا دیا۔ حضرت سعد بن الربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ : ’’میں اپنا نصف مال ومنال تمہیں بانٹ دیتا ہوں اور میری دو بیویاں ہیں،ان کو دیکھو جو پسند آئے اس کا نام بتائو میں طلاق دے دیتا ہوں،عدت گزارنے کے بعد تم اُس سے نکاح کر لینا۔‘‘لیکن حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کی غیرت نے گوارا نہ کیا،جواب دیا: ’’ اللہ تعالیٰ تمہارے مال و منال اور اہل و عیال میں برکت عطاء فرمائے، مجھے صرف بازار کا راستہ دکھا دو!۔‘‘

اسی طرح بنو نضیر کی زمین جب مسلمانوں کے ہاتھ آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انصاریوں کے علاوہ باقی ساری زمین مہاجرین مکہ کو دے دی تو انصارِ مدینہ نے خوشی خوشی آپؐ کے اِس فیصلہ کو تسلیم کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کو انصارِ مدینہ کی یہ اداء اِس قدر پسند آئی کہ اُن کی مدح و ستائش میں اللہ تعالیٰ نے آیات اُتار دیں۔ ارشاد ہے: ’’ترجمہ: (اوریہ مالِ فیٔ )اُن لوگوں کا حق ہے جوپہلے ہی سے اِس جگہ (یعنی مدینہ میں) ایمان کے ساتھ مقیم ہیں ، جوکوئی اِن کے پاس ہجرت کرکے آتا ہے یہ اُس سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ اُن (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے، یہ اپنے سینوں میں اُس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے ، اور اُن کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے اُن پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو، اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہوجائیں وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (الحشر: ۵۹/۹)

اسی طرح حضرت ابو جہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یرموک کی لڑائی میں میں اپنے چچا زاد بھائی کی تلاش میں نکلا کہ وہ لڑائی میں شریک تھے اور ایک مشکیزہ پانی کا میں نے اپنے ساتھ لیا کہ ممکن ہے وہ پیاسے ہوں تو پانی پلاؤں ، اتفاق سے وہ ایک جگہ اِس حالت میں پڑے ہوئے ملے کہ دَم توڑ رہے تھے اور جان کنی شروع تھی، میں نے پوچھا پانی کا گھونٹ دوں؟ اُنہوں نے اشارے سے ہاں کی ، اتنے میں دوسرے صاحب نے جو قریب ہی پڑے تھے اور وہ بھی مرنے کے قریب تھے آہ کی، میرے چچا زاد بھائی نے آواز سنی تو مجھے اُن کے پاس جانے کا اشارہ کیا، میں اُن کے پاس پانی لے کر گیاوہ ہشام بن ابی العاص رضی اللہ عنہ تھے، اُن کے پاس پہنچا ہی تھا کہ اُن کے قریب ایک تیسرے صاحب اسی حال میں پڑے دَم توڑ رہے تھے ، اُنہوں نے آہ کی، ہشامؓ نے مجھے اُن کے پاس جانے کا اشارہ کردیا، میں اُن کے پاس پانی لے کر پہنچا تو اُن کا دَم نکل چکا تھا، ہشامؓ کے پاس واپس آیا تو وہ بھی جاں بحق ہوچکے تھے، اُن کے پاس سے اپنے بھائی کے پاس لوٹا تو اتنے میں وہ بھی ختم ہوچکے تھے۔

اسی طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک صحابی کو کسی شخص نے بکرے کی سری ہدیہ کے طور پر دی، اُنہوں نے خیال فرمایا کہ میرے فلاں ساتھی زیادہ ضرورت مند ہیں،کنبہ والے ہیں اور اُن کے گھروالے زیادہ محتاج ہیںاس لیے اُن کے پاس بھیج دی،اُن کو ایک تیسرے صاحب کے متعلق یہی خیال پیدا ہوا؛اور اُ ن کے پاس بھیج دی،غرض اس طرح سات گھروں میںپھر کر وہ سری سب سے پہلے صحابی کے گھر لوٹ آئی۔

اسی طرح امام واقدی رحمۃ اللہ علیہ کابیان ہے کہ ایک مرتبہ مجھے بڑی مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ فاقوں تک نوبت پہنچی۔ گھر سے اطلاع آئی کہ عید کی آمدآمدہے اور گھر میں کچھ بھی نہیں۔ بڑے تو صبر کرلیں گے لیکن بچے مفلسی کی عید کیسے گزاریں گے؟۔یہ سن کر میں اپنے ایک تاجر دوست کے پاس قرض لینے گیا۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سمجھ گیااوربارہ سو درھم کی سربمہرتھیلی میرے ہاتھ تھمادی۔ میں گھر آیا۔ابھی بیٹھاہی تھاکہ میراایک ہاشمی دوست آیا۔اس کے گھر بھی افلاس وغربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔قرض رقم چاہتاتھا۔میں نے گھر جاکراہلیہ کوقصہ سنایا۔وہ کہنے لگیں: ’’کتنی رقم دینے کاارادہ ہے؟۔‘‘میں نے کہا: ’’تھیلی کی رقم نصف نصف تقسیم کرلیں گے۔اس طرح دونوں کا کام چل جائے گا‘‘ کہنے لگیں : ’’بڑی عجیب بات ہے۔ آپ ایک عام آدمی کے پاس گئے، اس نے آپ کو بارہ سو درھم دیئے اور آپ کے پاس رسول اللہ ا کے خاندان کاایک شخص اپنی حاجت لے کرآیاہے اور آپ اسے ایک عام آدمی کے عطیے کانصف دے رہے ہیں۔آپ اسے پوری تھیلی دے دیں‘‘۔چنانچہ میں نے وہ تھیلی کھولے بغیر سر بمہر اس کے حوالے کردی۔وہ تھیلی لے کر گھر پہنچا تومیراتاجر دوست اس کے پاس گیا۔کہا:’’عید کی آمدآمد ہے۔ گھرمیں کچھ نہیں،کچھ رقم قرض چاہئے۔‘‘ ہاشمی دوست نے وہی تھیلی سر بمہر اس کے حوالے کردی۔اپنی ہی تھیلی اسی طرح سربمہر دیکھ کراسے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ ماجرا کیا ہے؟۔وہ تھیلی ہاشمی دوست کے ہاں چھوڑکر میرے پاس آیا تو میں نے اسے پورا قصہ سنایا۔درحقیقت تاجر دوست کے پاس بھی اس تھیلی کے علاوہ کچھ نہیں تھا،و ہ سارامجھے دے گیاتھااور خودقرض لینے ہاشمی دوست کے پاس چلاگیا تھا۔ہاشمی دوست نے جب وہ حوالے کرنا چاہا تو رازکھل گیا۔

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ جنگل میں تشریف لے جارہے تھے، راستہ میں ایک باغ پر گزر ہوا، وہاں ایک حبشی غلام باغ میں کام کررہا تھا ، اس کی روٹی آئی اور اس کے ساتھ ہی ایک کتا بھی باغ میں چلا آیا ، اور اس غلام کے پاس آکر کھڑا ہوگیا ، اس غلام نے کام کرتے کرتے ایک روٹی اس کتے کے سامنے ڈال دی ، اس کتے اس کو کھالیا اور پھر کھڑا رہا اس نے دوسری اور پھرتیسری روٹی بھی ڈال دی ، کل تین ہی روٹیاں تھیں ،وہ تینوں کتے کو کھلادیں حضرت بن عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ غور سے کھڑے دیکھتے رہے ، جب وہ تینوں ختم ہوگئیں تو حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے پوچھا کہ ’’ تمہاری کتنی روٹیاں روزانہ آتی ہیں ؟ ‘‘ اس نے عرض کیا :’’ آپ نے تو ملاحظہ فرمالیا ، تین ہی آیا کرتی ہیں ‘‘ حضرت نے فرمایاکہ : ’’ پھر تینوں کا ایثار کیوں کردیا ؟ ‘‘غلام نے کہا : ’’ حضرت یہاں کتے رہتے نہیں ہیں ،غریب بھوکا کہیں دور سے مسافت طے کرکے آیا ہے ، اس لیے مجھے اچھا نہ لگا کہ اس کو ویسے ہی واپس کردوں ‘‘ حضرت نے فرمایا کہ : ’’ پھر تم آج کیا کھاؤ گے ؟ ‘‘غلام نے کہا : ’’ ایک دن فاقہ کرلوں گا ، یہ تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے ‘‘ حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنے دل میں سوچا کہ لوگ مجھے ملامت کرتے ہیں کہ تو بہت سخاوت کرتا ہے ، یہ غلام تو مجھ سے بہت زیادہ سخی

ہے ، یہ سوچ کر شہر میں واپس تشریف لے گئے اور اس باغ کو اور غلام کو اور جو کچھ سامان باغ میں تھا سب کو اس کے مالک سے خریدا اور خرید کر غلام کو آزاد کردیا اور وہ باغ اس غلام کی نذر کردیا ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر