وجود

... loading ...

وجود

آصف ثاقب

اتوار 22 اپریل 2018 آصف ثاقب

آصف ثاقب

بات یہ بھی ہے ایک باتوں میں
لوگ اعلیٰ ہیں نیچ ذاتوں میں
کوئی مجھ سا غریب کیا ہو گا
میں اکیلا ہوں کائناتوں میں
میں اکیلا بہت اکیلا ہوں
اب تو دینا ہے ہاتھ ہاتھوں میں
روشنائی بنائی لکھنے کو
چاند گھولا ہے کالی راتوں میں
جانے کس کس کی ڈولیاں آئیں
سب ستارے گئے براتوں میں
کیسے لکھوں میں سرخ تحریریں
خون کالا پڑا دواتوں میں
جھوٹ اس میں نہیں کوئی ثاقب
پیار سچا ملا دیہاتوں میں

آصف رضارضوی

اظہار میں پہلی سی وہ نفرت تو نہیں ہے
یہ اور کوئی شے ہے، محبت تو نہیں ہے
بدلی ہوئی نظریں ہیں یہ کیوںا ہل وطن کی
قسمت میں کہیں دوسری ہجرت تو نہیں ہے
دم توڑتے لوگ اب بھی یہی سوچ رہے ہیں
اے ارضِ وطن خوں کی ضرورت تو نہیں ہے
دیتا ہے یہی درس ہمیں قِصّۂ ماضی
حق مانگنا غاصب سے بغاوت تو نہیں ہے
آنکھوں میں سلگتی نظر آتی ہے کدورت
لوگوں میں وہ پہلی سی رفاقت تو نہیں ہے
دامن پہ جو اشکوں سے نمایاں ہوئی تحریر
یہ غم کا صحیفہ ہے، حکایت تو نہیں ہے
میں سوچتا ہوں رات کی تنہائی میں اکثر
مجھ سے کسی انساں کو شکایت تو نہیں ہے
آصف شفیع

لوگ وابستہ ہیں اس یارِ طرح دار کے ساتھ
اب بھی بیٹھے ہیں کئی سایۂ دیوار کے ساتھ
قیمتِ شوق بڑھی ایک ہی انکار کے ساتھ
واقعہ کچھ تو ہوا چشمِ خریدار کے ساتھ
ایسا لگتا ہے کسی دشت میں آنکلے ہیں
کتنی اُلفت تھی ہمیں صحن کے اشجار کے ساتھ
ہر کوئی جان بچانے کے لیے دوڑ پڑا
کون تھا آخرِ دم قافلہ سالار کے ساتھ
ظُلم سے ہاتھ اُٹھانا نہیں آتا ہے تو پھر
کچھ رعایت ہی کرو اپنے گرفتار کے ساتھ
حد سے بڑھ کر بھی تغافل نہیں اچھا ہوتا
کچھ تعلق بھی تو رکھتے ہیں پرستار کے ساتھ
میں ترے خواب سے آگے بھی نکل سکتا ہوں
دیکھ مجھ کو نہ ـــپرکھ وقت کی رفتار کے ساتھ
آزادحسین آزاد
پاؤں دیکھے گی نہ تاخیر کا دکھ سمجھے گی
کیسے منزل کسی رہ گیر کا دکھ سمجھے گی
کب سماعت پہ کوئی حرفِ صدا اُترے گا
کب وہ دستک مری زنجیر کا دکھ سمجھے گی
عکس کر دوں گا میں دیوار پر اپنا چہرہ
اور دنیا اسے تصویر کا دکھ سمجھے گی
ہنستے ہنستے ہی سنے گی وہ مری غزلوں کو
پھر مرے درد کو بھی میر کا دکھ سمجھے گی
کیسے اوراق بتائیں گے کہانی میری
ڈائری کیوں مری تحریر کا دکھ سمجھے گی
جو نئے خواب کی بانہوں میں ہے بے سدھ سوئی
جاگ جائے گی تو تعبیر کا دکھ سمجھے گی
میں وراثت میں ملا تاج محل ہوں اس کو
مجھ کو ہارے گی تو تسخیر کا دکھ سمجھے گی
مجھ کو بھولی ہے جو شہرت کو اثاثہ جانے
خود سے بچھڑے گی تو تشہیر کا دکھ سمجھے گی
سید علی رضوی
رات دن نام اُن کا رَٹنے دو
بن کے جوگی کہیں پہ کھپنے دو
منظر عام سے ذرا پہلے
منظرِ خاص تک پہنچنے دو
ٹھیک ہے چھوڑ کر چلے جانا
پر مرا عشق تو پنپنے دو
ہو رفاقت بنا محبت ہو
چار آنکھیں ہوئیں ہیں سپنے دو
دل مرے سیر کیوں نہیں ہوتا
اوہ ہو! آنکھ تو جھپکنے دو
خود ہی اک دن بنوں گا میں گلزار
عشق کی آگ ہے بھڑکنے دو


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

ثمربار یا بے ثمر دورہ وجود هفته 03 دسمبر 2022
ثمربار یا بے ثمر دورہ

حاجی کی ربڑی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
حاجی کی ربڑی

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی وجود جمعرات 01 دسمبر 2022
پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

اشتہار

تہذیبی جنگ
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا وجود اتوار 13 نومبر 2022
ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا

فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت وجود منگل 08 نومبر 2022
فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود هفته 03 دسمبر 2022
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی وجود هفته 26 نومبر 2022
بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس وجود پیر 21 نومبر 2022
پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس

بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے وجود اتوار 20 نومبر 2022
بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار