وجود

... loading ...

وجود

ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے خواب دیکھنے والوں کومایوسی

منگل 17 اپریل 2018 ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے خواب دیکھنے والوں کومایوسی

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آئین کی دفعہ 62 (ون ایف) میں نااہلی کی مدت تاحیات قرار دیے جانے سے بہت سے وسوسوں اور خدشات کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔ اس فیصلے کے بعد سے وفاقی دارلحکومت کی سیاسی سرگرمیاں بھی ایک متعین رُخ کی جانب مُڑتی نظر آنے لگی ہیں ۔ عام انتخابات سے پہلے ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے خواب دیکھنے والے گروپ کو مایوسی کا سامنا ہے انتخابات کے انعقاد کے تمام تر امکانات بہت حد تک واضح ہو چُکے ہیں ۔ نگران سیٹ اَپ کے لیے رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ الیکن کمیشن کی جانب سے نئی ترقیاتی اسکیموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ صورتحال میں ایک نئی پیش رفت یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومتوں کی جگہ جیسے ہی نگران سیٹ اِپ لے گا اُس کے ساتھ ہی تمام بلدیاتی ادارے بھی معطل یا تحلیل کیے جا سکتے ہیں ۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ نگران سیٹ اَپ کے دوران وفاق صوبوں میں نئے گورنروں کی تقرری کا جائزہ بھی لے۔ بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ بچھار ہوگا ۔ اس سلسلہ میں پنجاب کی بیوروکریسی کے متائثر ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

حُکمران جماعت کی پناہ میں موجود بڑی تعداد میں ارکان ِپارلمنٹ کی نئی منزل کی جانب سے اُڑان کا سلسلہ جاری ہے۔مسلم لیگ کی ماروی میمن کی جانب سے ایک نئے ٹویٹ نے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے۔ سابق صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم کے صاحبزادے اور شریف برادران کے ساتھ متعد د بار مروت کا مظاہرہ کرنے والے مسلم لیگ ( ضیاء ) کے سربراہ اعجاز الحق کی تشویش بھی واضح ہو چُکی ہے۔وہ جہاں ایک طرف بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں وہاں انتطامی بنیادوں پر پنجاب کی تقسیم کو بھی ملکی مفاد میں قرار دیتے ہیں ۔ انہیں یہ شکایات بھی ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں مسلم لیگی ارکان پارٹی چھوڑ رہے ہیں ان کی جانب سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ راجن پور اور ڈیرہ غازی خان سے بھی بعض حکومتی نمائندے اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کر سکتے ہیں۔ وہ مستقبل میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کے امکانات کو بھی رد نہیں کرتے ۔

چیئر مین سینٹ کے خلاف موجودہ حکومت خاص کر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنے جس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اُس کی وجہ سے ایک نئے سیاسی اتحاد کے قیام کو ممکن قراردیا جا رہا ہے۔ حکومت کے اس طرز عمل نے بلوچستان کے آزاد اتحاد کو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے قریب کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے بنی گالہ میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور عمران خان کی ملاقات کو بھی خاصا اہم سمجھا جا رہا ہے۔جنوبی پنجاب محاذ کی قیادت اور پی ٹی آئی کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے بھی نتیجہ خیز ثابت ہور ہے ہیں ۔ مبصرین کا خیال ہے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے اور بہاولپور صوبے کی بحالی کی تحریک پنجاب کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کی بنیاد بننے جا رہی ہے۔ اس مرتبہ لاہور میں اورنج ٹرین اور میٹرو کے منصوبے کو جنوبی پنجاب کی محرومی سے منسلک کرکے انتخابی ایشو بنایا جا ئے گا ۔

پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں کو غیر مشروط اور پارٹی کی شرائط پر شامل ہونا پڑر ہا ہے ۔ یہ جماعت آنے والے انتخابات میں ایک بڑی اور فیورٹ جماعت کے طور پر سامنے آنے کے امکانات ہیں اس لیے سیاسی سرگرمیوں، تبصروں اور تجزیوں میں بھی اسی جماعت کو فوقیت حاصل ہے۔ ملک بھر خاص طور پر پنجاب بھر سے بہت سے نئے لوگوں کی جانب سے اس جماعت میں شامل ہونے کا جو سلسلہ جاری ہے اُس کی وجہ سے اُن لوگوں میں خاص طو ر پر تشویش پائی جاتی ہے جو گذشتہ بیس سال کی سیاسی جدوجہد میں عمران خان کے ساتھ ہیں ۔ اس صورتحال کا عملی مظاہرہ گذشتہ روز اُس وقت پیش آیا جب پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر اور رُکن قومی اسمبلی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی کی دو نشستو ں این اے52 اور این اے 53 سے چوہدری نثار علی خان کے مقابلے میں از خود الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں چوہدری غلام سرور خان نے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر مسلم لیگ ن کے اُمید وار چوہدر ی نثار علی خان کا مقابلہ کیا تھا اور انہیں ایک نشست پر شکست دے کر ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ ایک سابقہ تجزیہ میں اس امر کا ذکر کیا جا چُکا ہے چوہدری نثار علی خان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے پی ٹی آئی راولپنڈی ڈویژن کو شدید نوعیت کے تحفظات ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امُید واروں سے درخواستیں طلب کر رکھی ہیں ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں ۔ دلچسپ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب اسلام آباد کی ایک نشست پر عمران خان کے ہمدم دیرینہ سیف اللہ خان نیازی نے بھی ٹکٹ کے لیے اسد عمر کے مقابلے میں درخواست جمع کروائی ۔ سیف اللہ خان نیازی کو اپنی بیس سالہ سیاسی جدوجہد کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی بھر پور حمایت حاصل ہے جبکہ اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی ہونے کی حیثیت سے حلقے میں اسد عمر کی حاضری اور کارکنوں سے رابطے تسلی بخش نہیں رہے اس لیے کارکنوں کی زیادہ حمایت سیف اللہ خان نیازی کے ساتھ نظر آتی ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹوں کا اعلان کرنے سے پہلے عمران خان ذاتی طور پر موجودہ ارکان پارلمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ اس حوالے سے مانیٹرنگ میں پارلیمانی کارکردگی ، دھرنے اور دیگر احتجاجی تحریکوں میں کردار کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس معاملے پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ کن کن ارکان پارلمنٹ کے حکومت سے بیک ڈور رابطے رہے ہیں ۔ خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف سیاسی وکٹیں حاصل کرنے میں خاصی کامیاب رہی ہے۔لکی مروت کے علاقے کے ایک بڑے سیاسی دھڑے ’’سیف اللہ خاندا ن ‘‘ سے معاملات طے کرنے میں کامیابی نے لکی مروت ، بنوں ، اور کرک کے علاقے میں پی ٹی آئی کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے ۔ خیبر پختونخواہ کی مخصوص نشست پر کامیاب ہونے والی ایم پی اے دینا ناز نے گذشتہ روز آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے ۔ اس تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کا کہنا ہے کہ ’’ جس میرٹ کو بنیاد بناکر سابقہ الیکشن کے بعد صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لیے ٹکٹ جاری کیے گئے تھے اُس سے اسی قسم کے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے‘‘۔۔ عمران خان کی جدوجہد کی اولین ساتھی خواتین کا یہ مطالبہ خاصی حد تک بجا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر ٹکٹوں کی تقیم اور وومن ونگ کی از سر نو تشکیل عمران خان اپنی ذاتی نگرانی میں کروائیں ۔ تاکہ پارٹی کو آئندو ووٹوں کی خریدو فروخت اور وفاداریاں تبدیل کرنے جیسے واقعات کا سامنا کرنا نہ پڑے ۔

سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے رواں ہفتے کے دوران اسلام آباد کی سیاسی سرگرمیوں میں بہت زیادہ تیزی آنے کے امکانات ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاون کاکیس نمٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حُکم اور لاہور میں عدالت عظمیٰ کے جج جناب جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعات بھی صورتحال پر اپنا اثر ڈالیں گے۔ اسی لیے آنے والے وقت میں مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کی مشکلات بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ حالات سے نمٹنے کے لیے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کسی نئی حکمت عملی کو اپناتے ہیں اپنے برادر بزرگ کی پالیسی کو جاری رکھیں گے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر