... loading ...
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آئین کی دفعہ 62 (ون ایف) میں نااہلی کی مدت تاحیات قرار دیے جانے سے بہت سے وسوسوں اور خدشات کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔ اس فیصلے کے بعد سے وفاقی دارلحکومت کی سیاسی سرگرمیاں بھی ایک متعین رُخ کی جانب مُڑتی نظر آنے لگی ہیں ۔ عام انتخابات سے پہلے ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے خواب دیکھنے والے گروپ کو مایوسی کا سامنا ہے انتخابات کے انعقاد کے تمام تر امکانات بہت حد تک واضح ہو چُکے ہیں ۔ نگران سیٹ اَپ کے لیے رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ الیکن کمیشن کی جانب سے نئی ترقیاتی اسکیموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ صورتحال میں ایک نئی پیش رفت یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومتوں کی جگہ جیسے ہی نگران سیٹ اِپ لے گا اُس کے ساتھ ہی تمام بلدیاتی ادارے بھی معطل یا تحلیل کیے جا سکتے ہیں ۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ نگران سیٹ اَپ کے دوران وفاق صوبوں میں نئے گورنروں کی تقرری کا جائزہ بھی لے۔ بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ بچھار ہوگا ۔ اس سلسلہ میں پنجاب کی بیوروکریسی کے متائثر ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
حُکمران جماعت کی پناہ میں موجود بڑی تعداد میں ارکان ِپارلمنٹ کی نئی منزل کی جانب سے اُڑان کا سلسلہ جاری ہے۔مسلم لیگ کی ماروی میمن کی جانب سے ایک نئے ٹویٹ نے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے۔ سابق صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم کے صاحبزادے اور شریف برادران کے ساتھ متعد د بار مروت کا مظاہرہ کرنے والے مسلم لیگ ( ضیاء ) کے سربراہ اعجاز الحق کی تشویش بھی واضح ہو چُکی ہے۔وہ جہاں ایک طرف بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں وہاں انتطامی بنیادوں پر پنجاب کی تقسیم کو بھی ملکی مفاد میں قرار دیتے ہیں ۔ انہیں یہ شکایات بھی ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں مسلم لیگی ارکان پارٹی چھوڑ رہے ہیں ان کی جانب سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ راجن پور اور ڈیرہ غازی خان سے بھی بعض حکومتی نمائندے اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کر سکتے ہیں۔ وہ مستقبل میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کے امکانات کو بھی رد نہیں کرتے ۔
چیئر مین سینٹ کے خلاف موجودہ حکومت خاص کر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنے جس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اُس کی وجہ سے ایک نئے سیاسی اتحاد کے قیام کو ممکن قراردیا جا رہا ہے۔ حکومت کے اس طرز عمل نے بلوچستان کے آزاد اتحاد کو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے قریب کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے بنی گالہ میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور عمران خان کی ملاقات کو بھی خاصا اہم سمجھا جا رہا ہے۔جنوبی پنجاب محاذ کی قیادت اور پی ٹی آئی کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے بھی نتیجہ خیز ثابت ہور ہے ہیں ۔ مبصرین کا خیال ہے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے اور بہاولپور صوبے کی بحالی کی تحریک پنجاب کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کی بنیاد بننے جا رہی ہے۔ اس مرتبہ لاہور میں اورنج ٹرین اور میٹرو کے منصوبے کو جنوبی پنجاب کی محرومی سے منسلک کرکے انتخابی ایشو بنایا جا ئے گا ۔
پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں کو غیر مشروط اور پارٹی کی شرائط پر شامل ہونا پڑر ہا ہے ۔ یہ جماعت آنے والے انتخابات میں ایک بڑی اور فیورٹ جماعت کے طور پر سامنے آنے کے امکانات ہیں اس لیے سیاسی سرگرمیوں، تبصروں اور تجزیوں میں بھی اسی جماعت کو فوقیت حاصل ہے۔ ملک بھر خاص طور پر پنجاب بھر سے بہت سے نئے لوگوں کی جانب سے اس جماعت میں شامل ہونے کا جو سلسلہ جاری ہے اُس کی وجہ سے اُن لوگوں میں خاص طو ر پر تشویش پائی جاتی ہے جو گذشتہ بیس سال کی سیاسی جدوجہد میں عمران خان کے ساتھ ہیں ۔ اس صورتحال کا عملی مظاہرہ گذشتہ روز اُس وقت پیش آیا جب پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر اور رُکن قومی اسمبلی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی کی دو نشستو ں این اے52 اور این اے 53 سے چوہدری نثار علی خان کے مقابلے میں از خود الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں چوہدری غلام سرور خان نے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر مسلم لیگ ن کے اُمید وار چوہدر ی نثار علی خان کا مقابلہ کیا تھا اور انہیں ایک نشست پر شکست دے کر ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ ایک سابقہ تجزیہ میں اس امر کا ذکر کیا جا چُکا ہے چوہدری نثار علی خان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے پی ٹی آئی راولپنڈی ڈویژن کو شدید نوعیت کے تحفظات ہیں ۔
پاکستان تحریک انصاف نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امُید واروں سے درخواستیں طلب کر رکھی ہیں ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں ۔ دلچسپ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب اسلام آباد کی ایک نشست پر عمران خان کے ہمدم دیرینہ سیف اللہ خان نیازی نے بھی ٹکٹ کے لیے اسد عمر کے مقابلے میں درخواست جمع کروائی ۔ سیف اللہ خان نیازی کو اپنی بیس سالہ سیاسی جدوجہد کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی بھر پور حمایت حاصل ہے جبکہ اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی ہونے کی حیثیت سے حلقے میں اسد عمر کی حاضری اور کارکنوں سے رابطے تسلی بخش نہیں رہے اس لیے کارکنوں کی زیادہ حمایت سیف اللہ خان نیازی کے ساتھ نظر آتی ہے۔
بعض ذرائع کے مطابق آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹوں کا اعلان کرنے سے پہلے عمران خان ذاتی طور پر موجودہ ارکان پارلمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ اس حوالے سے مانیٹرنگ میں پارلیمانی کارکردگی ، دھرنے اور دیگر احتجاجی تحریکوں میں کردار کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس معاملے پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ کن کن ارکان پارلمنٹ کے حکومت سے بیک ڈور رابطے رہے ہیں ۔ خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف سیاسی وکٹیں حاصل کرنے میں خاصی کامیاب رہی ہے۔لکی مروت کے علاقے کے ایک بڑے سیاسی دھڑے ’’سیف اللہ خاندا ن ‘‘ سے معاملات طے کرنے میں کامیابی نے لکی مروت ، بنوں ، اور کرک کے علاقے میں پی ٹی آئی کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے ۔ خیبر پختونخواہ کی مخصوص نشست پر کامیاب ہونے والی ایم پی اے دینا ناز نے گذشتہ روز آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے ۔ اس تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کا کہنا ہے کہ ’’ جس میرٹ کو بنیاد بناکر سابقہ الیکشن کے بعد صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لیے ٹکٹ جاری کیے گئے تھے اُس سے اسی قسم کے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے‘‘۔۔ عمران خان کی جدوجہد کی اولین ساتھی خواتین کا یہ مطالبہ خاصی حد تک بجا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر ٹکٹوں کی تقیم اور وومن ونگ کی از سر نو تشکیل عمران خان اپنی ذاتی نگرانی میں کروائیں ۔ تاکہ پارٹی کو آئندو ووٹوں کی خریدو فروخت اور وفاداریاں تبدیل کرنے جیسے واقعات کا سامنا کرنا نہ پڑے ۔
سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے رواں ہفتے کے دوران اسلام آباد کی سیاسی سرگرمیوں میں بہت زیادہ تیزی آنے کے امکانات ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاون کاکیس نمٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حُکم اور لاہور میں عدالت عظمیٰ کے جج جناب جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعات بھی صورتحال پر اپنا اثر ڈالیں گے۔ اسی لیے آنے والے وقت میں مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کی مشکلات بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ حالات سے نمٹنے کے لیے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کسی نئی حکمت عملی کو اپناتے ہیں اپنے برادر بزرگ کی پالیسی کو جاری رکھیں گے۔
دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...
کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...
وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا سرکاری ملازمین 4 چھٹیوں سے مستفید ہوں گے، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہ...
اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیلئے مخلص ہے، شہبازشریف پاک امریکا تعلقات وقت کیساتھ مزید مضبوط اور گہرے ہوئے،صحافیوں سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیل...
حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی ہم جمہوریت، آزاد الیکشن کمیشن، لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں،پی ٹی آئی رہنماکی میڈیا سے گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی۔...
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...