... loading ...
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے گزشتہ روز بیرون ملک دولت جمع کرنے والوں کو اپنی دولت پاکستان واپس لانے کی ترغیب دینے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اعلان کے بعد سے پوری سرکاری مشینری یہ ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے کہ وزیر اعظم کی اعلان کردہ اس ٹیکس ایمنسٹی پر عملدرآمد کے نیتجے میںپاکستان کی تمام مالی مشکلات دور ہوجائیں گی اورپاکستان کو اپنے موجودہ مالی مسائل حل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے کوئی بیل آئوٹ پیکیج لینے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔جہاں تک وزیراعظم مشیر خزانہ اور دیگر سرکاری کارپردازوں کے ان دعووں کاتعلق ہے کہ اس پر عملدرآمد سے پاکستان کو فی الوقت درپیش مالی مشکلات سے نجات دلانا ممکن ہے تو اس کی اصلیت تو وقت آنے پر ہی ثابت ہوسکے گی ،صدر ممنون حسین نے اس اسکیم کوقانونی شکل دینے کے لیے گزشتہ روز فارن ایسٹ (ڈکلریشن اینڈ ری پیٹری ایشن )آرڈی ننس20018 ,، پروٹیکشن آف اکنامکس ریفارمز (امینڈمنٹ )آرڈی ننس ،2018 اور انکم ٹیکس(امینڈمنٹ) آرڈی ننس 2018 جاری کردیاہے۔لیکن ماہرین معاشیات اس اسکیم کو مسلسل ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں اور ان کا موقف یہ ہے کہ اس اسکیم کا مقصد حکومت کے منظور نظر ایک مخصوص طبقے کونوازنا ہے اورناجائز طریقے سے بیرون ملک منتقل کیے گئے کالے دھن کو سفید کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے، تاہم جہاں تک اس کی قانونی حیثیت کا تعلق ہے تو اس بارے میں دو رائے نہیں ہیں کہ بیرون ملک جمع کی گئی دولت کوایمنسٹی اسکیم کا سہارا لے کر دولت پاکستان واپس لانے والوںکے کوائف خفیہ رکھنے کافیصلہ پاکستان کے آئین میں دئے گئے معلومات کے بنیادی حق کے خلاف ہے اس طرح کسی بھی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیے جانے کی صورت میں حکومت مشکل میں پڑسکتی ہے۔
پاکستان کے1973 کے آئین کی دفعہ 19اے میں واضح طورپر ہر ایک کو معلومات حاصل کرنے کاحق دیاگیا ہے یعنی پاکستان کاکوئی بھی شہری کسی بھی معاملے میں حکومت سے معلومات طلب کرسکتاہے اور حکومت شہری کو معلومات فراہم کرنے کی پابند ہے۔پاکستان کے1973 کے آئین کی دفعہ 19اے میں شہریوں کو دئے گئے اس حق کے تحت کوئی بھی شہری کسی بھی معاملے کو خفیہ رکھنے کے حکومت کے فیصلے کوچیلنج کرسکتاہے ۔ٹیکس کی مشاورتی فرم ٹولہ ایسوسی ایٹس نے بھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے کہ آئین کے تحت کوئی بھی شخص اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے کے فیصلے کوچیلنج کرسکتاہے اور حکومت معلومات افشا کرنے کی پابند ہوگی اور ایسی صورت میں حکومت اپنی دولت واپس لانے والوں کو ان کے کوائف خفیہ رکھنے کی یقین دہانی کرانے کے وعدہ شکنی کی مرتکب ہوگی اور متاثرہ فرد اس حوالے سے حکومت کے اس عمل کو چیلنج کرکے ہرجانہ طلب کرسکتاہے۔
غیر ملکی اثاثوں سے متعلق آرڈی ننس کے تحت کسی بھی فرد کی جانب سے اپنے اثاثے ظاہر کرنے یا اس حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی فراہم کردہ معلومات کوخفیہ رکھا جائے گا خواہ ملک میں نافذ العمل قانون اس کے برعکس ہی کیوں نہ ہو۔
وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم صدر مملکت کی جانب سے جاری کیے گئے آرڈی ننس کے بعد سے نافذ العمل ہوگئی ہے اور اس اسکیم کے تحت کوئی بھی فرد رواں سال 30جون تک بیرون ملک موجود اپنی کوئی بھی دولت اور اثاثے ظاہر کرکے اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکتاہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنے آف شور دولت پاکستان لانے پر صرف 2فیصد ٹیکس دے کر قانونی بنانے اور بیرون ملک اثاثے ظاہر کرکے 5فیصد ٹیکس ادا کرکے اسے قانونی بناسکتاہے۔اس ایمنسٹی اسکیم کے تحت بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے پر 5فیصد ٹیکس ادا کرناہوگا جبکہ غیر ملکی اکائونٹس صرف 2 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کے ذریعے قانونی بنائے جاسکتے ہیں۔
ایک طرف وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، مشیر خزانہ اور دیگر ارباب حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ بیرون ملک سے دولت واپس لانے والوں سے کوئی باز پرس نہیں کی جائے گی لیکن اس کے برعکس سپریم کورٹ کے ماہر وکلا کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننسوں کے باوجود حکومت کسی بھی وقت ایمنسٹی اسکیم کے تحت فائدہ اٹھانے والے کسی بھی فرد کے مقد مات غیر ملکی اثاثوں کے اعلان اور انھیں واپس لانے سے متعلق آرڈی ننس 2018 کی دفعہ 4بی کے تحت یہ دولت یا اثاثے مجرمانہ طریقے سے بنانے کے الزام میں کھول سکتی ہے اور ان اثاثوں کے حوالے سے متعلقہ فرد سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب ٹیکسوں کی مشاورتی فرم کاکہنا ہے کہ غیرملکی اثاثوں سے متعلق آرڈی ننس اور ملکی اثاثوں سے متعلق آرڈی ننس وقتاً نافذالعمل رہنے والے قانون سے بالاتر ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ منشیات یا کسی اور غیر قانونی طریقے سے جمع کی گئی دولت کوبھی متعلقہ قوانین سے استثنیٰ حاصل ہوگاجس کے نتیجے میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔
ٹولہ ایسوسی ایٹس کاکہناہے کہ وزیر اعظم نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ واضح کیاتھا کہ یہ ایمنسٹی اسکیم ایک مرتبہ کی ایمنسٹی یا استثنیٰ ہے۔جس میں کسی فرد کی جانب سے دولت ظاہر نہ کرنے والوں یا جس کی دولت کاپتہ چلایاجائے پر کسی طرح کے جرمانے کی کوئی شق نہیں رکھی گئی ہے،ٹیکس مشاورتی اداروں کاکہناہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں ہونے والی حالیہ کمی اور اعلان کردہ ملکی دولت پر3فیصد اور منقولہ اور غیر منقولہ املاک پر 5فیصد ٹیکس کی شرح بہت کم ہے۔ اس طرح غیر ملکی اثاثے رکھنے والے لوگ پاکستانی روپے کی قدر کی شرح کے مطابق اپنے اثاثوں کی قیمت بتائیں گے اور اس طرح آسانی کے ساتھ اپنے اثاثوںکی ری ویلیوایشن کرالیں گے۔
ٹولہ ایسوسی ایٹس کاکہناہے کہ حکومت دسمبر2017سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں10فیصد تک کی کمی کرچکی ہے۔اس کے ساتھ ہی قانون میں ایک سقم یہ بھی موجود ہے جس کے تحت ڈالر کوبیرون ملک لے جانا آسان ہے۔ روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی کے ساتھ حکومت نے ڈالر کے بیرون ملک بھیجنے پرکوئی پابندی نہیں لگائی اور غیرملکی سرمایہ کاری کے نام پر ڈالر کی بیرون ملک منتقلی کاسلسلہ بلاروک ٹوک جاری ہے۔ٹولہ ایسوسی ایٹس کاکہناہے کہ حکومت کو انفرادی طورپر سرمایہ کاری کی شرح 5لاکھ ڈالر کی حد مقرر کرنی چاہئے۔
حکومت نے لوگوں سے کہاہے کہ وہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں حکومت اس اسکیم کو انقلابی اقتصادی پیکیج کانام دے رہی ہے ،حکومت کاموقف ہے کہ اس اسکیم کا مقصد ٹیکسوں کا دائرہ وسیع تر کرنااور بیرون ملک موجود دولت کووطن واپس لانے کی ترغیب دینا ہے۔ٹیکسوں کے مشاورتی اداروں اورماہرین کاکہناہے کہ حکومت نے اس اسکیم کے تحت کم از کم 200ارب ڈالر پاکستان لائے جانے کی توقع باندھ رکھی ہے لیکن اس اسکیم کے تحت 2ارب ڈالر سے زیادہ وطن واپس آنے کی توقع کم ہے۔
ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...
فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...
غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...
جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...
تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...
ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...
بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...
عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...
تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...
پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...
نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...
متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...