وجود

... loading ...

وجود

موٹا پاکرنے والی عادات

هفته 14 اپریل 2018 موٹا پاکرنے والی عادات

موٹاپا انسانی جسم کی ایک طبی حالت ہے جس میں انسانی جسم پر چربی چڑھ جاتی ہے اور انسان کا وزن زیادہ ہوکر اس کی توند نکل آتی ہے۔ماہرین موٹاپے کو بیماریوں کی ماں قرار دیتے ہیں۔ذیل میں چند ایسی عادات کا ذکر ہے جنہیں اختیار کرنے سے ہم موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں،لہٰذا ان سے دور رہیے اور خود کو سدا سمارٹ رکھیں۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی کے محققوں نے تجربات سے دریافت کیا ہے کہ جو مردو زن پانچ گھنٹے سے کم سوئیں ان کے شکم پہ ڈھائی گنا زیادہ چربی چڑھ جاتی ہے۔جب کہ جو آٹھ گھنٹے سے زیادہ نیند لیں ان کے بدن پر بھی تقریباً اتنی ہی چربی چڑھتی ہے۔لہٰذا اگر آپ کو اپنا وزن کنٹرول کرنا ہے تو رات کو چھ سات گھنٹے ضرور سوئیں۔

لاکھوں پاکستانی ہر ہفتے کھاتے پیتے تقریباً ایک گیلن سوڈا واٹر چڑھا جاتے ہیں،جو انسانی صحت کے لیے خطر ناک ہے۔ماہرین کا کہنا ہے جو مرد یا عورت روزانہ ایک دو بوتلیں پئیں ان کے موٹے ہونے کا امکان 33فیصد بڑھ جاتا ہے۔محققین کے مطابق بوتلوں میں شامل مصنوعی شکر اور دیگر کیمیائی مادے بھوک کو بڑھاتے ہیں۔چنانچہ ان کے زیر ِ اثر زیادہ کھانا کھایا جاتا ہے۔

بازا ر میں کم چکنائی والی کئی غذائیں دستیاب ہیں مثلاً دودھ وغیرہ،لیکن اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ان کا کوئی فائدہ نہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں کچھ ہی کم حرارے موجود ہوتے ہیں، لیکن اس عمل کے دوران چکنائی کی جگہ کاربوہائیڈریٹ لے لیتا ہے۔نشاستہ ہمارے جسم میں پہنچتے ہی تیزی سے ہضم ہوتا ہے اور یوں شکر کی سطح بڑھا دیتا ہے۔جب شکر کی سطح کم ہو تو ہمیں فوراً بھوک لگ جاتی ہے۔اسی وجہ سے انسان موٹاپے کا شکار ہونے لگتا ہے۔

پاکستانیوں کی بڑی تعداد صبح،دوپہر یا رات کو ایک وقت کا کھانا نہیں کھاتی۔بہت سے مردو زن دبلا ہونے کی خاطر یہ عمل اپناتے ہیں ،مسئلہ یہ ہے کہ خصوصاً ناشتہ چھوڑنے والے خود کو موٹاپے کا شکار بنا لیتے ہیں،مثلاً امریکی کارنیوال یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک تجربے سے معلوم کیا کہ جو لوگ ناشتہ نہ کریںوہ جلد فربہ ہو جاتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ کھانا ترک کرنے سے ہمارا میٹا بولزم سست ہو کر بھوک بڑھا دیتا ہے۔چنانچہ انسان اگلے کھانے میں معمول سے زیادہ غذا کھاتا ہے۔جو موٹاپے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

تجربات سے انکشاف ہوا ہے کہ جو افراد ماہرین غذائیات کی ہدایات پر عمل نہ کریں تو وہ دبلے نہیں ہوتے،بلکہ ان پر مزید موٹاپا چڑھ جاتا ہے۔دوسری طرف ہدایات پر عمل کرنے والے نہ صرف سمارٹ ہونے لگتے ہیں ،بلکہ روز مرہ سرگرمیوں میں ان کی توانائی بڑھنے لگتی ہے۔چنانچہ آپ بھی اپنے ماہرِ غذائیات سے خوراک کے متعلق رائے ضرور لیں اور اس پر عمل کو بھی یقینی بنائیں۔

شاید آپ کو علم نہ ہو کھانے کے دوران ہمارا معدہ دماغ تک یہ پیغام پہنچانے میں پورے بیس منٹ لگاتا ہے کہ ہمارا معدہ بھر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلدی جلدی کھانے والے لوگ عموماً معمو ل سے زیادہ کھانا ہڑپ کر جاتے ہیں۔جبکہ آہستہ آہستہ کھانے والے نسبتاً کم کھاتے اور موٹاپے سے بچ جاتے ہیں۔

کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے گاہکوں کو کسی مخصوص دن کوئی خاص غذا مثلاً چپس،بسکٹ وغیرہ مفت فراہم کرتے ہیں۔چنانچہ لوگ مفت ملنے والی غذا کو کسی طور ضائع نہیں کرنا چاہتے اور دل لگا کر کھاتے ہیں۔اس صورت میں وہ اپنے کھانے میں کم از کم300حراروں کا اضافہ کر بیٹھتے ہیں۔بظاہر یہ معمولی لگتی ہے ،لیکن جب مفت غذا کھانا معمول بن جائے تو زائد کیلوریز ہی انسان کو فربہ کر دیتی ہیں۔

حد سے زیادہ ٹی وی دیکھنا بھی موٹاپے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ایک تحقیق کے مطابق جن افراد نے روزانہ ٹی وی دیکھنے کا دورانیہ نصف کیا انہوں نے اپنے جسم سے119کیلوریز جلائیں۔ گویا وہ ایک سال تک یہی اپنا معمول رکھیں تو اپنے وزن میں بارہ پونڈ تک کمی لا سکتے ہیں۔ اکثر لوگ کھانا کھاتے ہوئے ٹی وی دیکھتے ہیں اور اس دوران ضرور ت سے زیادہ کھا جاتے ہیں، لہٰذا جتنی جلدی ہو سکے اپنی یہ عادت بھی ترک کر دیں۔

ہوٹل میں کھانے کا آرڈر دیتے ہوئے ہمیشہ خیال رکھیں کہ سستے کھانے کے چکر میں کومبو میل کا آرڈر مت کریں۔اس طرح بے خبری میں آپ اپنا ہی نقصان کر بیٹھیں گے۔

فرانسیسی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق میدے اور چھنے ہوئے اناج سے بنی اشیاء انسان کو فربہ کرتی ہیں۔جب کہ خالص اناج سمارٹ بناتاہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خالص اناج میں فائبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے،اور ان میں دیگر غذائی اجزاء بھی موجود ہوتے ہیں ۔یہی خوبی انہیں سپر فوڈ بنا تی ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو وجود - جمعه 15 مئی 2026

عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم وجود - جمعه 15 مئی 2026

وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی وجود - جمعه 15 مئی 2026

علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی وجود - جمعه 15 مئی 2026

ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں وجود - جمعرات 14 مئی 2026

اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ وجود - جمعرات 14 مئی 2026

یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

مضامین
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا وجود جمعه 15 مئی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا

25کروڑمال مویشی وجود جمعه 15 مئی 2026
25کروڑمال مویشی

ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی وجود جمعه 15 مئی 2026
ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی

اب یہ لوگ جنگ کا حصہ بنیں گے! وجود جمعه 15 مئی 2026
اب یہ لوگ جنگ کا حصہ بنیں گے!

کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب وجود جمعرات 14 مئی 2026
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر