وجود

... loading ...

وجود

ق لیگ کے سربراہ کی سوانح حیات سیاسی اورغیرسیاسی حلقوں میں مقبول چودھری شجاعت نے سچ لکھ دیا

جمعه 13 اپریل 2018 ق لیگ کے سربراہ کی سوانح حیات سیاسی اورغیرسیاسی حلقوں میں مقبول چودھری شجاعت نے سچ لکھ دیا

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین کی خودنوشت سوانح حیات ’’سچ تو یہ ہے‘‘ کو سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے، انہوں نے واقعات کو بے ساختگی اور سادگی سے بیان کر دیا ہے، اگرچہ کہیں کہیں تشنگی کا احساس ہوتا ہے اور آدمی محسوس کرتا ہے کہ اس لذیذ حکایت کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جاتا لیکن لکھنے والے کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ وہ واقعات کو کس طرح دیکھتا اور کس طرح بیان کرتا ہے، اسے اس ضمن میں کوئی مشورہ تو نہیں دیا جا سکتا البتہ اس حکایت میں جن لوگوں کا ذکر آیا ہے ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اللہ کو پیارے ہو چکے، لیکن بہت سے حضرات ماشاء اللہ زندہ سلامت موجود ہیں اور اپنے حصے کے کردار کی تفصیلات بیان کر سکتے ہیں، اس لیے اْنہیں چاہئے کہ وہ قلم اٹھائیں تاکہ آنے والے دور میں جب مورخ تاریخ لکھنے بیٹھے تو اس کے پاس مصدقہ مواد موجود ہو۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی برطرفی کس طرح ہوئی، اس سے وہ لوگ تو واقف ہیں جن کے سامنے یہ واقعات گزرے یا پھر اس کی رپورٹیں اخبارات میں شائع ہوتی رہیں لیکن یہ بات چودھری شجاعت حسین کی کتاب پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ 6اگست 1990ء کو جب بے نظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کا منصوبہ ’’نوائے وقت‘‘ اور ’’نیشن‘‘ میں شائع ہو چکا تھا۔

بے نظیر بھٹو آئی ایس آئی چیف شمس الرحمن کلو کی موجودگی میں معمول کی سرکاری سرگرمیوں میں مگن تھیں، وہ اتنی مطمئن نظر آ رہی تھیں کہ اس روز انہوں نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی صدارت بھی کی، ان کے اس اطمینان کی وجہ یہ تھی کہ ان اطلاعات پر کہ آج اْن کی حکومت برطرف کی جا رہی ہے، انہوں نے امریکی سفیر رابرٹ اوکلے سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ وہ غلام اسحاق خان سے ملاقات کرکے ان سے حقیقتِ حال دریافت کریں۔ چودھری شجاعت لکھتے ہیں ’’امریکی سفیر صبح ساڑھے نو بجے صدر سے ملنے ایوانِ صدر گئے، اْن کے بعد ہیپی مینوالا نے بھی صدر سے ملاقات کی، دونوں نے واپس آ کر بے نظیر بھٹو کو بتایا کہ صدر غلام اسحاق خان نے حکومت برطرف کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ بے نظیر بھٹو کی تشفی ہو گئی لیکن شام پونے پانچ بجے جب صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کو فون کرکے حکومت برطرف کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا تو بے نظیر بھٹو بری طرح بوکھلا گئیں اور کہا کہ ’’اگر آپ نے یہی فیصلہ کر رکھا تھا تو آج صبح آپ نے اس کی تردید کیوں کی؟ اس پر صدر اسحاق نے مختصر سا جواب دیا کہ یہ فیصلہ میں نے آج بعد دوپہر کیا ہے۔‘‘ اگرچہ غلام اسحاق خان اور بے نظیر بھٹو اب اس دنیا میں موجود نہیں لیکن بہت سے ایسے حضرات جن کے براہ راست یا بالواسطہ علم میں یہ واقع ہے وہ اس کی تفصیلات منظرعام پر لا سکتے ہیں، اوپر ’’نوائے وقت‘‘ اور ’’نیشن‘‘ کی جس خبر کا تذکرہ ہے، وہ عارف نظامی نے پوری تفصیل سے بیان کر دی تھی اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ نگران حکومتوں میں کون کون سے نام شامل ہوں گے۔

واقعات بالکل اسی طرح رونما ہوئے، حیرت البتہ یہ ہوتی ہے کہ وزیراعظم کو خبر کی تصدیق کے لیے اپنے وزراء یا عملے کے سرکاری ارکان میں سے کوئی ایسی شخصیت نہ ملی جو صدر کے پاس جا کر معلومات لے سکتی یا خبر کی تصدیق کر سکتی۔ ان کی نظر انتخاب اگر پڑی تو امریکی سفیر پر، جو یہ معلومات لے کر آئے کہ صدر اسحاق نے بے نظیر حکومت برطرف کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ چودھری شجاعت نے یہ واقعہ جس طرح لکھا وہ ہم نے بیان کر دیا۔

اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا امریکی سفیر بھی صدر اسحاق کے اس جواب سے مطمئن ہو گئے تھے اور اْنہوں نے جواب کو من و عن تسلیم کر لیا تھا، کیونکہ اگر دو ذمے دار اخبارات کے ایڈیٹر کی اپنی خبر اخبار میں شائع ہو چکی تھی تو رابرٹ اوکلے کے پاس بھی تو کچھ معلومات ہوں گی جو غلام اسحاق خان کے اس جواب سے ممکن ہے، مختلف ہوں کہ حکومت واقعی برطرف کی جا رہی تھی یا نہیں۔ اب دو صورتیں ممکن ہیں، ایک تو یہ کہ امریکی سفیر بھی صدر کے ممکنہ فیصلے سے بے خبر ہوں یا اگر وہ حقیقتِ حال جانتے ہوں تو انہوں نے دانستہ بے نظیر بھٹو کو کچھ بتانے سے گریز کیا ہو، یہ بھی ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو کہ چند گھنٹوں بعد جو خبر ساری دنیا کو معلوم ہو جانے والی ہے وہ میں بے نظیر بھٹو کو بتا کر پریشان کیوں کروں، اْنہیں بھی جلد ہی علم ہو جائے گا۔

کتاب میں بہت سے ایسے واقعات کا تذکرہ ہے جس کے کردار ابھی زندہ ہیں اور وہ اپنا نقطہ نظر سامنے لا سکتے ہیں وہ واقعات کی تصدیق کر سکتے ہیں یا انہیں جھٹلا سکتے ہیں یا پھر ان کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ کتاب میں مندرج حقائق کی تصدیق یا تصحیح کریں، وہ کسی بھی واقعے کی تفصیل بیان کر سکتے ہیں۔

چودھری شجاعت حسین نے تو سچ لکھ دیا بلکہ کتاب کا نام بھی ’’سچ تو یہ ہے‘‘ رکھا ہے لیکن بعض سچ تشریح طلب بھی ہوتے ہیں۔ جسٹس محمد رستم کیانی (ایم آر کیانی) نے ’’ناٹ دی ہول ٹرتھ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے اس کا نام ’’ہول ٹرتھ‘‘ (پورا سچ) تجویز کیا گیا تھا۔ کتاب میں فیلڈ مارشل ایوب خان کا ایک مختصر سا دیباچہ بھی شامل ہے۔ اس کے بعد اْنہوں نے تقنن طبع سے کام لیتے ہوئے کتاب کا نام ہی بدل دیا۔ جسٹس کیانی اپنی تقریروں اور برسرِ عدالت ریمارکس میں ایسے برجستہ فقرے بول جایا کرتے تھے، اس لیے بعید نہیں کہ اْنہوں نے ایسا کیا ہو، یا پھر اْن سے یہ کہانی کسی نے منسوب کر دی ہو، لیکن چودھری شجاعت حسین نے تو کتاب کا نام سوچ سمجھ کر رکھا ہے اور عمومی تاثر بھی یہی ہے کہ اْنہوں نے تمام تر واقعات پوری صحت کے ساتھ لکھ دیئے ہیں اور جس طرح رونما ہوئے، اسی طرح بیان کر دیئے ہیں تاہم جن شخصیات کا تذکرہ اْنہوں نے کیا ہے، انہیں چاہئے کہ وہ بھی اپنے اپنے حصے کا سچ لکھ یا بول دیں۔ اس وقت تو الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اس کے ذریعے بھی اپنا نقطہ نظر بیان کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ بڑی قومی خدمت ہوگی۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر