وجود

... loading ...

وجود

جنوبی ایشیاکاسرسبزوشاداب ترین جزیرہ۔۔ سری لنکا

اتوار 08 اپریل 2018 جنوبی ایشیاکاسرسبزوشاداب ترین جزیرہ۔۔ سری لنکا

سری لنکا کا نام سنتے ہی عموماً کرکٹ، ریڈیو سیلون، چائے یا پھر تامل ٹائیگرز کا خیال ذہن میں آتا ہے۔ کولمبو ائرپورٹ سے ٹیکسی میں بیٹھ کر شہر کی طرف جاتے ہوئے اندازہ ہوا کہ کسی بھی ملک کی عالمی شناخت کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں، مگر حقیقت میں ہر ملک متنوع مزاج رکھتا ہے۔ پچیس ہزار مربع میل کے اس سرسبز و شاداب جزیرے کی زمینی سرحدیں نہیں، فقط سمندری حدود ہیں، جو بھارت اور مالدیپ کے ساتھ ملتی ہیں۔ دو کروڑ نفوس پر مشتمل یہ ملک، پہلی نظر میں بے حد مذہبی رجحان کا حامل دکھائی دیا۔ فی مربع میٹر عبادت گاہوں کی اتنی زیادہ تعداد اور تنوّع ہم نے دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں دیکھا۔ ستّر فی صد اآادی بدھ مت کی پیروکار، جب کہ تیرہ فی صد ہندو دھرم کی ماننے والی ہے ۔ عیسائیت سے تعلق رکھنے والے، ملکی آبادی کا فقط سات فی صد ہیں، اس کے باوجود کولمبو میں جتنے گرجا گھر ہیں، اتنے کسی عیسائی اکثریت والی ریاست میں بھی نظر نہیں آتے۔ مسلمان آبادی کا دس فی صد ہیں، لیکن مساجد اور درگاہوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ شمار مشکل ہے۔ یقیناً بدھ معبد خانوں، مندروں، کلیسائوں اور مساجد کی کثیر تعداد ہی ایک وجہ ہوگی کہ معتبر عالمی تحقیقاتی ادارے ’’پیو‘‘ نے سری لنکا کو تیسرا سب سے زیادہ مذہبی رجحان رکھنے والا ملک قرار دیا۔ریاست کا سرکاری نام سوشلسٹ جمہوریہ سری لنکا ہے، مگر سوشلزم یہاں چین اور یورپ کے طرز پر کھلی منڈی پر مشتمل ہے۔ شمالی کوریا اور کیوبا کی طرح معیشت پر حکومتی قبضہ نہیں ہے۔ چند برس قبل سے تیس سالہ طویل خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سری لنکا تیزی سے معاشی ترقی کرتا نظر آرہا ہے۔

تامل ٹائیگرز کو جس طرح یہاں فوج نے شکست دی، اس سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ مسلح گروہوں اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مسلح سیکیوریٹی اداروں کی کارروائی ہی واحد حل ہے۔ تامل نسل یہاں کی کل آبادی کا دس، پندرہ فی صد اور مذہبی اعتبار سے ہندو ہے۔ پچھّتر فی صد آبادی سنہالی نسل سے تعلق رکھتی ہے، جن میں غالب اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

سری لنکا میں بدھ مت کی ابتدا کا قصّہ بھی خاصا دل چسپ ہے۔ مشہور ہے کہ اشوکِ اعظم نے اپنے دورِ حکومت میں بدھ مت کے پرچار کی غرض سے اپنے حقیقی بیٹے کو بدھا کا پیغام دے کر سری لنکا بھیجا، تو لنکا کے راج دربار نے مہاتما بدھ کی تعلیمات کو پسند کیا اور بدھ مت اختیار کرلیا۔ تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ ہندوستان میں روزِ اوّل سے ہندو مذہب اکثریت میں ہے، مگر آج تک کوئی ایک نام ور ہندو حکمران نہیں گزرا۔

تاہم، مورخین چھے بادشاہوں پر متفق ہیں کہ وہ سب سے طاقت وَر اور دبنگ گزرے ہیں۔ ان میں چندرگپت موریا، جین مت کا پیروکار تھا۔ اس کے بعد اشوکا، عظیم سلطنت کا بانی اور حکمران، جوکہ بدھ مت کا ماننے والا تھا، جب کہ باقی چار بادشاہوں اکبرِ اعظم، شاہ جہاں، جہانگیر اور اورنگزیب کا شمار مسلمان مغل فرماں روائوں میں ہوتا ہے۔

ریڈیو سیلون کو ادب کا بہت اہم حوالہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس کو ملنے والی اہمیت اور توجّہ قابلِ فہم بھی ہے۔ کیوں کہ 1923ء میں جب یہ قائم ہوا، تو ایشیاء بھر میں اولین ریڈیو اسٹیشن تھا۔ جب تاجِ برطانیا نے اپنی اس نوآبادی میں مختلف زبانوں میں ریڈیو سروس شروع کی، تو چین، جاپان، بھارت سمیت کہیں بھی کوئی ریڈیو اسٹیشن نہیں تھا۔ گو یورپ میں 1920ء سے ریڈیو نشریات شروع ہوچکی تھیں، یاد رہے کہ سری لنکا کا پرانا نام سیلون تھا۔ 1505ء میں جب پرتگال نے اس جزیرہ نما پر قبضہ کیا، تو اسے سائی لون کا نام دیا۔ کچھ عرصے یہاں ولندیزی حکمرانوں کا تسلّط رہا۔ بعدازاں، جب 1815ء میں برطانوی قبضہ ہوا، تو یہ سیلون کہلانے لگا۔ 1948ء میں برطانیا تو یہاں سے چلا گیا، مگر ملک کا نام 1972ء تک سیلون ہی رہا،لیکن پھر ملک کے نام کی تبدیلی کے ساتھ ہی ریڈیو سیلون، سری لنکا براڈ کاسٹنگ بن گیا۔ سیلون چائے کے باغات کو پانچ صدیوں پر محیط یورپی نوآبادیاتی عہد کی یادگار قرار دیا جاسکتا ہے۔ سری لنکا کی چائے اب بھی دنیا بھر میں اس کی پہچان ہے۔ نو آبادیاتی عہد کے اثرات یہاں ہر شعبہ زندگی میں نظر آتے ہیں۔ قدیم طرزِ تعمیر کی بِنا پر یہاں کی عمارات عہدِ رفتہ کی کہانی سناتی ہیں۔ زمانہ قدیم، ایرانی، عرب، پرتگالی، ولندیزی، برطانوی اور زمانہ جدید، ہندو مذہب کے ماننے والے سری لنکا کو ’’بھگوان کی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ نقشے میں سری لنکا کا جغرافیہ دیکھنے سے یہ بات بہ خوبی سمجھ میں آجاتی ہے۔ مہا بھارت میں لکھا ہے کہ راون نے سیتا کو اغوا کرکے یہیں قید کیا تھا۔

جب رام نے سیتا کی رہائی کے لیے لنکا پر ہلّہ بول کر اسے تہس نہس کر ڈالا، تو وہیں سے ’’لنکا ڈھانے‘‘ کا استعارہ تشکیل پایا۔ مہاتما بدھ کی تعلیمات جنہیں ’’پالی اصول‘‘ کہتے ہیں، پہلی مرتبہ یہیں سے کتابی شکل میں مرتب ہوکر سامنے آئیں۔ کولمبو سے دو گھنٹے کی مسافت پر حضرت آدمؑ کی جائے نزول ہے، جسے ADAM’S PEAK کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ عیسائی مذہب کے پیروکاروں کابھی یہ عقیدہ ہے کہ اسی چوٹی پر حضرت آدم علیہ السلام اترے تھے اور یہیں ان کے پائوں کے نشان ثبت ہیں۔ تاہم، بدھ بھکشو، اسے بدھا کے پائوں کا نشان قرار دیتے ہیں۔ خراب موسم کی وجہ سے ہم چوٹی کی زیارت تو نہیں کرسکے، مگر سوچتے رہے کہ مہاتما بدھ تو اپنی زندگی میں کبھی سری لنکا آئے ہی نہیں تھے؟ جہاں تک حضرت آدم علیہ السلام کا تعلق ہے، تو ان کے بیٹے ہابیل کی قبر تو ہم نے شام کے سرحدی شہر، زبرانی میں دیکھی تھی، جہاں سے ایک طرف اسرائیل کی پہاڑیاں نظر آتی ہیں، تودوسری طرف لبنان کی چوٹیاں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ ممکن ہے، انہوں نے ہجرت کرلی ہو۔ سری لنکا کی دستاویزی تاریخ تو تین ہزار سال پرانی کہی جاتی ہے، مگر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے نزدیک اس دھرتی کی تاریخ ایک لاکھ پچیس ہزار سال پرانی ہے اوریہی انسان کا پہلا مسکن اور زمین پر اس کا اولین پڑائو بھی ہے۔

اٹھارہ سال قبل لبریشن ٹائیگرز ا?ف تامل ایلام نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک بمبار نے صدارتی محل پر خودکش حملہ کردیا تھا۔ اس کے فوری ردعمل میں صدارتی محل کے سامنے واقع مرکزی شاہراہ کو عوام النّاس کی ا?مد ورفت کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے بند کردیا گیا تھا۔ شہر کے نوا?بادیاتی عہد میں تعمیر کیے گئے مرکز میں تین سو میٹر سڑک کے اس ٹکڑے کے کھلنے سے شہریوں کو ا?مدو رفت کی سہولت کے علاوہ تحفظ کا احساس بھی ہوتا ہے۔

سری لنکا کی مقامی تامل ا?بادی اور بھارت سے ہجرت کرکے ا?ئے ہوئے تامل مجموعی طور پر ملکی ا?بادی کا تیرہ فی صد ہیں۔ سنہالی کے بعد تامل یہاں کی دوسری بڑی زبان ہے۔ مسلمانوں کی کل ا?بادی دس فی صد ہے، جو ’’مور‘‘ اور ’’ملایا‘‘ نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت سے مسلمان اور عیسائی، سنہالی و تامل نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں یہ تذکرہ بھی خارج از دل چسپی نہ ہوگا کہ اردو کا مشہور محاورہ ’’چوروں کو پڑ گئے مور‘‘ اسی مور نسل سے متعلق ہے۔

خودکش حملہ ا?وروں کی تاریخ یوں تو زمانہ قبل از مسیح جتنی پرانی ہے، مگر عہدِ جدید میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی ہوا بازوں نے، جنہیں ’’کھامی کھازی‘‘ جس کا ترجمہ ’’بادِ خدا‘‘ یا پھر ’’ملکوتی ہوا‘‘ کیا جانا چاہیے، اس کی بنیاد رکھی۔ پھر تامل ٹائیگرز نے اسے شدت اور جدّت سے ہم کنار کیا۔ یہ خودکش بمبار اگر اپنے مشن میں ناکام ہوجاتے، تو اپنے گلے میں پہنا ہوا زہر کا کیپسول نگل جاتے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے کسی سرکاری ادارے کے ہاتھ نہ ا?جائیں۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں، جب گرفتار ہونے والے جنگجوئوں نے زہر کا کیپسول نگل کر جان دے دی۔ ان خودکش جنگجوئوں میں خواتین بھی شامل تھیں۔ یاد رہے کہ سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو خودکش بم حملے میں ہلاک کرنے والی بھی ایک تامل ٹائیگرز کی رکن خاتون ہی تھی۔ بھارت کے ساتھ تامل ٹائیگرز کو یہ گلہ ہے کہ اس نے دوغلی پالیسی اپنائی، پہلے اس تنظیم کو مدد فراہم کرکے مضبوط کرتا رہا، پھر اسی تنظیم کے خاتمے کے لیے سری لنکا حکومت سے معاہدہ کرکے اپنی فوج بھیج دی۔ بنیادی طور پر بھارت نے سری لنکا میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے اس تنظیم کو استعمال کیا تھا، لیکن جب بھارتی فوج سری لنکا میں امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی، تو بالا?خر سری لنکا کی اپنی ہی فوج نے یہ مشکل جنگ لڑی اور فتح یاب ہوئی۔

سری لنکا میں خانہ جنگی کے ا?خری برس چالیس ہزار افراد سیکیوریٹی اداروں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، مگر اقوامِ متحدہ سمیت کہیں بھی کسی نے ان میں سے ماورائے عدالت قتل ہونے والوں کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ تامل ٹائیگرز کو شکست دینے والے فاتح، سابق صدر، راجا پکسے کے صدارتی انتخاب میں ناکامی کے بعد لوگ اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ وہی سری لنکا میں امن لے کر ا?ئے تھے۔ اب ہر سیاسی لیڈر میں نیلسن منڈیلا جیسا ظرف اور حوصلہ کہاں ہوتا ہے کہ اپنے اقتدار کے عروج اور سیاسی نقطہ کمال پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے اقتدار عوام کے دیگر نمائندوں کے سپرد کردے اور پھر سیاست میں مداخلت بھی نہ کرے۔ تیسری دنیا کے سیاسی قائدین کا المیہ ہے کہ جب تک جوتے یا گندے انڈے ان کے سر پر نہ پڑیں، انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں میں اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں۔ فی الحال سری لنکا میں صدارتی نظامِ حکومت ہے۔ صدر پانچ سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ اس عہدے پر براجمان رہ سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20لیٹر پیٹرول100 روپے قیمت پر دینے کا اعلان،نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا، ٹرک، گڈز اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر سبسڈی ملے گی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے،وزیرپیٹرولیم، وزیر خزانہ...

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ وجود - جمعه 03 اپریل 2026

ایرانی اعلیٰ کمانڈر کی ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر فوج کو سخت ہدایات جاری ، دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی باریکی سے نظر رکھی جائے، ہر لمحے کی صورتحال سے آگاہ رہا جائے دشمن نے زمینی حملے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکا ، اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ زمی...

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم وجود - جمعه 03 اپریل 2026

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار عمران خان ، بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی سوالیہ نشان قرار،پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردی، سیاسی صورتحال اور پیٹرول بحران سمیت متع...

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی وجود - جمعه 03 اپریل 2026

شہدا کی تعداد 1 ہزار 318 ہوگئی، حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں پر تاڑ توڑ حملے کئے 48 فوجی زخمی ہونے کی اسرائیلی تصدیق، مجتبیٰ خامنہ ای کی حزب اللہ کو خراج تحسین پیش اسرائیل نے لبنان پر مزید فضائی حملے کئے، بیروت سمیت مختلف علاقوں میں بمباری سے سولہ افراد شہید جبکہ چھبیس زخمی ہو...

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

کیس میں 2 مزید ملزمان اور 1 گواہ کا اضافہ ،آئندہ سماعت پر کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا جائے گا چالان میں بانی پی ٹی آئی ودیگر ملزم نامزد ،تفتیشی افسر طبعیت ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکا ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ ک...

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا

عمران خان رہائی فورس کی تشکیل، آئینی عدالت نے سہیل آفریدی، حکومتسے جواب طلب کرلیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے، وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو،سماعت کے دوران عدالت کا استفسار سزا یافتہ انسان کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے، سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں،رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی ح...

عمران خان رہائی فورس کی تشکیل، آئینی عدالت نے سہیل آفریدی، حکومتسے جواب طلب کرلیا

سانحہ گل پلازہ، جاں بحق 61 خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ معاوضہ مل گیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

843 دکان داروں کو فی کس 5 لاکھ، 11 کیسز پر فیصلہ ہونا باقی، وزیراعلیٰ کو بریفنگ پلازہ پر کام جلد شروع کیا جائے،متاثرہ تاجروں کیلئے مالی امداد کیلئے 600 ملین مختص سانحہ گل پلازا میں جاں بحق ہوئے افراد میں سے 61 خاندانوں کو فی کیس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیدیا گیا 11 کیسز پر فیصلہ...

سانحہ گل پلازہ، جاں بحق 61 خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ معاوضہ مل گیا

بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی رہائی فورس لانچ ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو گئی پی ٹی آئی نے اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے عمران رہائی فورس کے منصوبے کو مسترد کر دیا،ذرائع بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟ تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار ہوُگئی، وزیر اعلیٰ خیبر ...

بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار

دہشت گردوں ،پشت پناہی کرنیوالوں کو نہیں چھوڑیں گے،صدرمملکت،وزیراعظم وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

زرداری،شہباز ،وزیرداخلہ ودیگر کا دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کو خراج تحسین حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہے،صدر،وزیراعظم صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف،وزیرداخلہ محسن نقوی ودیگر نے خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر ...

دہشت گردوں ،پشت پناہی کرنیوالوں کو نہیں چھوڑیں گے،صدرمملکت،وزیراعظم

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ وجود - بدھ 01 اپریل 2026

پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ

مضامین
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

مریم ،نسیم اورعزیزی وجود جمعه 03 اپریل 2026
مریم ،نسیم اورعزیزی

بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا وجود جمعرات 02 اپریل 2026
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا

مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے! وجود جمعرات 02 اپریل 2026
مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے!

ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟ وجود جمعرات 02 اپریل 2026
ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر