وجود

... loading ...

وجود

22رجب یوم وفات جرنیل اسلام سیدنا معاویہ بن ابی سفیان

جمعه 06 اپریل 2018 22رجب یوم وفات جرنیل اسلام سیدنا معاویہ بن ابی سفیان

نام و نسب:آپ کا نام نامی اسم گرامی معاویہ ، کنیت ابو عبد الرحمان، والد کا نام ابو سفیان ؓ ، دادا کا نام حرب اور والدہ کا نام ہندؓ ہے ۔ حافظ ابن حزمؒ نے والد کی طرف سے آپؓ کا سلسلہ نسب یوں تحریر فرمایا ہے : ’’ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی…الخ۔ ( جمہرۃ الانساب:۱/۱۱)

ولادت باسعادت:حضرت معاویہؓ کی ولادت بعثت نبویؐ سے پانچ سال قبل ۶۰۸ ؁ء میں ہوئی ،ماں باپ نے اُس وقت کے عرب کے دستور کے مطابق مختلف علوم و فنون سے آپؓ کو آراستہ کیا اور آپ کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔( الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ : ۳/۴۱۲)

حلقہ بگوشِ اسلام:ویسے تو حضرت معاویہ ؓصلح حدیبیہ کے بعد سنہ ۷ ہجری میں عمرۃ القضاء سے پہلے ہی ایمان لے آئے تھے ، لیکن کچھ والدہ کے ڈر اور کچھ دیگر معقول اعذار کی بناء پر آپ ؓ نے اپناقبولِ اسلام مخفی رکھا، پھر عین فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد بزرگوار حضرت ابو سفیانؓ کے ہم راہ واشگاف الفاظ میں آپؓ نے اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا ۔( الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ : ۳/۴۱۲)

حسن صورت اور حسن سیرت:حضرت معاویہ ؓ کو قدرتِ الٰہیہ نے جہاں ظاہری حسن صورت کے لحاظ سے گلابی رنگ ، کتابی چہرہ ، سرو قد ، جاذب نظر اور پُرکشش بانکپن جیسی خوب صورت شکل و وجاہت سے نواز رکھا تھا تو وہیں حسن سیرت کے لحاظ سے بھی آپؓ کو اپنی خشیت و للہیت ، اطاعت پیمبری ، حلم و بردباری ، عفو درگزر ، نرم خوئی ، عمدگیٔ اخلاق ، بلندیٔ کردار ، فقر و استغنا عاجزی ، انکساری ، سادگی اور ظرافت طبع جیسی عمدہ صفات اور اعلیٰ صلاحیتوں سے بھی وافر حصہ عطا فرمارکھا تھا۔

خدمت نبوی اور کتابت وحی:چوں کہ آنحضرتؐ کے زمانہ میں ’’کتابت وحی‘‘ ایک نازک ترین مگر عظیم ترین کام تھا اور اس کے لیے جس احساسِ ذمہ داری ، امانت داری و دیانت داری اور جس علم و فہم کی ضرورت تھی وہ محتاجِ بیاں نہیں اور حضرت معاویہؓ میں یہ تمام تر باتیں بوجہ اتم موجود تھیں اس لیے حضرت معاویہؓ کے حلقہ بگوشِ اسلام ہوجانے کے بعد حضورِ اقدسؐ کی نظر دور شناس نے آپؓ کی علمی پختگی اور عملی شیفتگی کو فوراً بھانپ لیا اور آپؓ کو ’’ وحی‘‘ جیسے نازک مگر عظیم کام پر مامور فرمادیا ، جسے نہایت عمدگی اور بہتر انداز میں آپؓ ادا فرماتے رہے تاآں کہ آپؓ کا شمار کاتبین وحی کے کبار اور جلیل القدر صحابہؓ میں ہونے لگا ۔چنانچہ علامہ ابن حزمؒ کی تحقیق کے مطابق کتابت وحی کے سلسلہ میں آنحضرتؐ کی خدمت میںسب سے زیادہ رہنے کا شرف پہلے نمبر پر اگر حضرت زید بن ثابتؓ کو حاصل ہے تو دوسرے نمبر پر بلا شرکت غیرے حضرت معاویہ ؓ کو حاصل ہے ۔ ( جوامع السیرۃ : ص ۲۷)

علاوہ ازیں آنحضرت ؐ نے اپنے باہر اور دور دراز سے آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارات اور ان کے قیام و طعام کا بند و بست اور انتظام و اہتمام حضرت معاویہؓ کے ہی سپرد فرمارکھا تھا ۔ ( تاریخ اسلام : ۲/۷)

اور مکہ مکرمہ سے آجانے کے بعد تو حضرت معاویہؓ نے مستقل طور پر اپنے آپ کو حضورِ اقدس ؐ کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ ( سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ : ۳۹ ، ۴۰ )

مختلف غزوات میں شرکت:اور آپؓ مستقل طور پر آنحضرتؐ کے ساتھ رہنے لگ گئے تھے اور تمام غزوات بالخصوص غزوۂ حنین ، غزوۂ طائف ، غزوۂ یمامہ اور چھوٹی بڑی کئی گشتی اور جنگی مہموں میں شرکت فرمائی۔ (سیرت ابن ہشامؒ : ۲/۲۹۲)

حضرت معاویہ ؓ آنحضرتؐ کی نظر میں:حضرت معاویہؓ کی آنحضرت ؐ کی خدمت میں مسلسل حاضری ، کتابت وحی ، امانت داری و دیانت داری اور دیگر صفات محمودہ سے متاثر ہوکر حضورنبی پاکؐ نے متعدد بار کئی مواقع پر آپؓ کے حق میں دُعائیں فرمائی ۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے : ’’ اے اللہ ! معاویہؓ کو سیدھا راستہ دکھانے ولا اور ہدایت یافتہ بنادیجئے ! اور اس کے ذریعہ دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت عطا فرمادیجئے ! ۔‘‘ (ترمذی: ۲/۲۴۷، اسد الغابہ :۴/۳۸۶، کنز العمال : ۷ /۸۷)

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے : ’’اے اللہ! معاویہؓ کو حساب و کتاب کا علم سکھلادیجئے ! اور اسے جہنم کے عذاب سے بچادیجئے ! ۔‘‘ الاستیعاب تحت الاصابہ : ۳/۳۸۱ ، مجمع الزوائد : ۹/۳۵۶ ، کنز العمال : ۷/۸۷)

ایک اور جگہ ارشاد ہے : ’’اے اللہ! معاویہؓ کا سینہ ( علم و حکمت سے) لبریز فرمادیجئے! ۔‘‘ ( تاریخ اسلام للذہبیؒ : ۲/۳۱۹)

حضرت معاویہؓ عہد صدیقی میں:آنحضرتؐ کی وفات کے بعد حضرت معاویہ ؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد خلافت کے اوّل ایام ہی میں آپؓ روایت حدیث کی طرف متوجہ ہوگئے اور کئی ایک احادیث حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عثمانؓ اور اپنی ہم شیرہ حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت کیں ، جن کی تعداد علامہ ابن حجر ہیتمی مکیؒ کی تحقیق کے مطابق ۱۲۳ ہے ۔ ( اعلام الاسلام وغیرہ : ص ۲۲۶)

جہادِ شام کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپؓ کے حقیقی بھائی حضرت یزید بن ابی سفیانؓ کو امیر لشکر بناکر جب کہ آپؓ کو اس لشکر کا علم بردار بناکر روانہ فرمایا۔ (محاضرات تاریخ الامم الاسلامیہ : ۴/۴۷۱، فتوح البلدان : ص۴۸)

حضرت معاویہؓ عہدفاروقی میں:عہد فاروقی میں جوعلاقے رومیوں کے قبضے میں چلے گئے تھے ، حضرت معاویہ ؓ نے اُن کے ہاتھ سے چھین کر وہاں اسلامی شوکت و حشمت کا پھریررا لہرا دیا نیز اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ’’قلعہ عرفہ‘‘ کو فتح کیا جس سے حضرت عمر فاروق ؓ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور آپؓ کو اُردن کا گورنر مقرر فرمادیا ۔ (تاریخ اُمت: ۳/۸)

عہد عثمانی میں پہلے بحری بیڑے کا قیام:عہد عثمانی میں حضرت معاویہ ؓ نے پہلا اسلامی بحری بیڑا ایجاد کیا جو سنہ ۲۸ ہجری میں بحیرۂ روم میں اُتراچنانچہ کچھ ہی دنوں بعد یورپ و افریقہ کی وسیع و عریض زمین پر اسلامی جھنڈا لہراتا ہوا نظر آنے لگا۔(سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ : ۴۵ ، ۴۶)

حضرت معاویہؓ عہد مرتضوی میں:حضرت عثمانؓ کی الم ناک شہادت کے بعد حضرت علی المرتضیٰ ؓ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ راشد ہوئے ، لیکن افسوس کہ آپؓ کا انتخاب ایک انتہائی پُر آشوب اور ہنگامی دور میں ہوا اور سوئے اتفاق کہ انہی لوگوں کے ہاتھوں ہوا کہ جن کا دامن دم عثمان کے داغ سے داغ دار تھا ، اس لیے صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو دم عثمان کے قصاص کے حصول کی شرط کے ساتھ مشروط کردیا اور قصاصِ دم عثمان کے حصول کے لیے آمادۂ بغاوت ہوگئے ۔

جنگ جمل:یہاں تک کہ پہلے ’’جنگ جمل ‘‘ کی صورت میں مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں باہم سخت ٹکراؤ ہوا اور آن کی آن میں فریقین کی بھاری اکثریت خاک و خون میں لت پت ہوگئی ، اور لڑائی کی آگ ٹھنڈی ہوگئی لیکن بعد میںاگرچہ مختلف قسم کی باہمی مصلحانہ کوششوں کی تگ و دو جاری رہی تاہم وہ کسی طرح بھی اپنے اندر دم نہ بھرنے پائیں ،اورکچھ عرصہ تک تو یہ جنگ ٹھنڈی رہی لیکن جب اس کی خاکستر میں دبی چنگاری مسلمانوں کی ہر قسم کی باہمی مصالحانہ کوششوں کے باوجود بھی کسی طرح ختم نہ ہوسکی تو وہ دبی چنگاری دوبارہ بھڑک اُٹھی ۔

جنگ صفین:اور مسلمانوں کی دو بڑی جماعتیں ایک بار پھر ایک دوسرے کے مدمقابل آگئیں اور جنگ صفین کی صورت میں ان کا باہمی ٹکراؤ ہوا ، لیکن یہ جنگ پہلی جنگ کے مقابلہ میں خاصی سرد رہی ، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ فریقین میں سے بعض عاقبت اندیش اور دُور رس نگاہ رکھنے والے حضرات نے جب یہ محسوس کیا کہ اگر مسلمانوں کی یہ باہمی خون ریز جنگ یوں ہی باقی رہی تو مسلمانوں کی شان و شوکت اور قوت و طاقت مکمل طور پر تباہ و برباد ہوجائے گی اور ان کا تمام جمع شدہ شیرازہ بکھر جائے گا اس لیے انہوں نے فوراً جنگ بندی کا اعلان کردیا ۔

اس کے بعد طرفین سے دو حکم مقرر ہوئے تاکہ مسلمانوں کی ان جنگی منفی حالات کا رُخ کسی مثبت اور سیدھے راستہ کی طرف پھیرا جاسکے ، لیکن یہ صورت بھی کسی طرح کارگر ثابت نہ ہوسکی اور حالات نے پہلی کی سی صورت دوبارہ اختیار کرلی اور قریب تھا کہ مسلمانوں میںایک تیسری جنگ بھڑک اٹھتی ، اُس وقت حضرت معاویہ ؓ نے خود حضرت علیؓ کی طرف ایک معقول صلح نامہ لکھا کہ چوں کہ مسلمانوں کے درمیان خون ریزی بہت زیادہ ہوچکی ہے اور باہمی اختلافات کی اُلجھی ہوئی ڈور کا سرا کسی بھی طرح نہیں مل رہا ، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اب ہم بہرصورت آپس میں اس بات پر صلح کرلیں کہ شام اور مصر کے علاقے میرے پاس رہیں گے اور حجاز و یمن اور عراق و فارس اور کرمان کے علاقے آپؓ کے پاس رہیں گے ۔ حضرت علی ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کی یہ معقول تجویز بسر و چشم اس کی تمام شرائط سمیت قبول فرمالی اور دونوں فریقین اپنے گھروں میں جابیٹھے۔ ( ابن اثیر : ۳/۳۲۴)اس طرح معاہدۂ امن و صلح لکھنے کی بنیاد پڑی اور یوں رنجش و رقابت کا دور ختم ہوکر محبت و مودت کا دور دورہ شروع ہوگیا اور مسلمان آپس میں دوبارہ ایک بار پھرشیر و شکر ہوگئے۔

حضرت علی ؓ حضرت معاویہؓ کی نظر میں:ایک بار کسی شخص نے حضرت معاویہؓ کے سامنے حضرت علیؓ کی شان میں کچھ گستاخی کے الفاظ کہے تو حضرت معاویہ ؓ آپے سے باہر ہوگئے اور فرمایا کہ تو ایسے شخص سے نفرت کرتا ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ؐ فرمایا کہ علیؓ میرے لیے ایسے ہیں جیسے حضرت موسیٰ کے لیے حضرت ہارون ، الا یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘ اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے اُس شخص کو اپنے دربار سے چلتا کیا اور حکم جاری کیاکہ اس کا وظیفہ بند کردیا جائے۔( الاستیعاب : :۴۵۳، البدایہ والنہایہ : ۸/۱۳۰)

حضرت معاویہؓ حضرت علیؓ کی نظر میں:ـحضرت علی المرتضیٰ ؓ کی رحلت کا وقت جب قریب آیا تو آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کو اپنے پاس بلایا اور اُن کو وصیت فرمائی کہ : ’’بیٹا! حضرت معاویہؓ کی امارت قبول کرنے سے ہرگز نفرت نہ کرنا! ورنہ باہم کشت و خون ریزی دیکھوگے۔‘‘( البدایہ والنہایہ : ۸/۱۳۱)

حضرت حسن ؓ سے مصالحت:چنانچہ معاہدۂ صلح کے ایک سال بعد جب حضرت علی ؓ کاانتقال ہوگیا اور آپؓ کی جگہ آپؓ کے بیٹے حضرت حسنؓ جانشین خلافت ہوگئے تو شیعانِ علیؓ نے حضرت حسنؓ کو حضرت معاویہؓ سے لڑنے پر آمادہ کیا اور زُور دیا تو اُس وقت حضرت حسن ؓ کو اپنے والد گرامی حضرت علیؓ کی مذکورہ بالا وصیت یاد آگئی ، اس لیے آپؓ نے تنگ آکر یہ فیصلہ فرمالیا کہ اب حضرت معاویہؓ سے صلح کرلینا ہی بہتر ہے ۔

حسن اتفاق دیکھئے کہ ابھی حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہ ؓ سے صلح کرنے کا دل میں سوچا ہی تھا کہ حضرت معاویہؓ نے آپؓ سے صلح کرنے میں پیش قدمی کرلی ، جس کے بعد حضرت حسنؓ نے اپنی دلی رضاء و رغبت کے ساتھ منصب خلافت حضرت معاویہؓ کو سونپ دیا اور حضرت معاویہ ؓ کو اپنا خلیفہ تسلیم فرماکر خلافت جیسے عظیم عہدے سے سبک دوش ہوگئے۔(تاریخ اسلام: جلد اوّل ص ۵۴۴)

فتوحاتِ معاویہؓ پر ایک نظر:سنہ ۹ ہجری میں حضرت معاویہؓ نے نے قیساریہ کو فتح کیا ۔ ۲۷ہجری میں بحری بیڑہ لے کر قبرص کی جانب بڑھے اور تاریخ اسلام کی پہلی بحری جنگ لڑی ۔ ۲۸ ہجری میں قبرص کا عظیم الشان جزیرہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا ۔ ۳۲ ہجری میںآپؓ نے قسطنطنیہ کے قریبی علاقوں میں جہاد جاری رکھا ۔ ۳۳ہجری میں افرنطہ ، ملطیہ اور رُوم کے کچھ قلعے فتح کیے ۔ ۳۵ہجری میں آپؓ کی قیادت میں غزوۂ ذی خشب پیش آیا ۔ ۴۲ہجری میں غزوۂ سجستان پیش آیا اور سندھ کا کچھ حصہ مسلمانوں کے زیر نگین آیا ۔ ۴۳ہجری میں سوڈان کا ملک فتح ہوا اور سجستان کا مزید علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا ۔ ۴۴ہجری میں افغانستان کا مشہور شہر کابل فتح ہوا اور مسلمان ہندوستان میں قندابیل کے مقام تک پہنچ گئے۔ ۴۵ہجری میں افریقہ پر لشکر کشی کی گئی اور ایک بڑا حصہ مسلمانوں کے زیر نگین آیا ۔ ۴۶ہجری میں صقلیہ (سسلی) پر پہلی بار حملہ کیا گیا اور کثیر تعداد میں مالِ غنیمت مسلمانوں کے قبضہ میں آیا ۔ ۴۷ہجری میں افریقہ کے مزید علاقوں میں غزوات جاری رہے ۔ ۵۰ /۵۱ ہجری میں غزوۂ قسطنطنیہ پیش آیا جہاں پہلی بار مسلمانوں نے حملہ کیا تھا ۔ ۵۴ہجری میں مسلمان نہر جیحون کو عبور کرتے ہوئے بخارا تک پہنچے تھے ۔ اور ۵۶ہجری میں غزوۂ سمرقند پیش آیا۔( العبر فی خبر من غبر للذہبیؒ)
وفات حسرت آیات:سنہ ۶۰ ہجری میں جب کہ حضرت معاویہؓ اپنی عمر عزیز کی اٹھہترویں بہار سے گزر رہے تھے تو اچانک ایک دن آپؓ کی طبیعت کچھ ناساز سی ہوگئی اور پھر آئے دن خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی تاآں کہ دمشق کے مقام پر مؤرخہ ۲۲/ رجب المرجب ۶۰ ؁ھ میں اسی مرض کی حالت میں آپؓ نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اس طرح علم و حلم ، زہد و تقویٰ اورتدبر و سیاست کا یہ آفتاب جہان تاب اور ماہتاب عالم تاب عالم دُنیا کے اُفق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ آپؓ کی نمازِ جنازہ حضرت ضحاک بن قیسؓ نے پڑھائی اور باب الصغیر دمشق میں آپؓکو محو استراحت کردیا گیا ۔
(الاستیعاب تحت
الاصابہ : ۳/۳۷۸ )


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر