وجود

... loading ...

وجود

کالی آندھی پاکستان کے لیے ہواکاخوشگوارجھونکا

جمعرات 05 اپریل 2018 کالی آندھی پاکستان کے لیے ہواکاخوشگوارجھونکا

پی ایس ایل کے کامیاب انعقادکے بعد سے پاکستا ن پرانٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھلتے چلے جارہے ہیں ۔پی ایس ایل کے دوسر ے ایڈیشن کے فائنل کے لاہورمیں انعقادکے بعد ورلڈالیون نے پاکستان کادوراکیا اورقذافی اسٹیڈیم میں ٹی ٹوئنٹی میچزکھیلے گئے جنھیں شائقین کی بڑی تعدادنے دل کھول کرانجوائے کیا۔ اس کے بعد چیئرمین پی سی بی کی جانب سے کراچی میں تیسرے ایڈیشن کے جرات مندانہ فیصلہ کیاگیاجس کے بعد کالی آندھی اہل کراچی کے لیے تازہ ہواکاخوشگوارجھونکا بن کرآئی اورتین لگاتارٹی ٹوئنٹی میچزکھیل کرسارے پاکستان کے دل جیت لیے ۔

گوکہ اس سیریزمیں کالی آندھی اپناروایتی کھیل نہ پیش کرسکی ۔ظاہرہے ایک دن سے زائدمسلسل جہازکاسفرکرکے آتے ہی انٹرنیشنل میچ میں کوئی بھی کھلاڑی خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھاسکتا ایسا ہی کچھ ویسٹ انڈیزکے ساتھ بھی ہوا۔پی ایس ایل کھیل کرمکمل طورپرتیارشاہین پہلے میچ میں ان پرجیسے پل سے پڑے پہلے بیٹنگ میں بابراعظم ‘فخرزمان‘شعیب ملک اورطلعت حسین کے عمدہ کھیل کی بدولت 203رن کامجموعہ ترتیب دیاتوجواب میں ویسٹ انڈیزکی ٹیم کی وکٹیں خزاں رسیدہ پتوں کی طرح قومی بائولروں نے بکھیردیں یوں پہلے میچ میں کالی آندھی کاجوابی سفرمحض 60رنزپرہی تمام ہوگیا۔

دوسرے میچ میں بھی قومی بلے بازوں کابلا خوب چلااوربابراعظم کی 97رنزکی دلکش اننگ اورطلعت حسین کی ففٹی کی بدولت اس بار204رنزکامجموعہ ترتیب دیا۔ ویسٹ انڈیزکی جوابی اننگ پہلے میچ کی بہ نسبت قدرے بہتررہی اوراس نے چیدوک والٹن 40اوردنیش رامدین کے 21رنزکی بدولت 123رنزضروربنائے لیکن پھرہمت ہارگئی اورمیچ کے ساتھ سیریزبھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جھولی میں آگری۔

تیسرے اورآخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں کالی آندھی کسی قدراپنے روایتی رنگ میں رنگی نظرآئی اوراس نے پہلے کھیلتے ہوئے 153رنزکامجموعہ بناڈالا

آخری ٹی20 میچ میں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے اپنے بلے بازوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔میچ کے لیے پاکستانی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں اور محمد عامر اور حسن علی کو آرام کا موقع فراہم کر کے شاہین آفریدی اور عثمان شنواری کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ویسٹ انڈیز نے بھی اپنی ٹیم میں ایک تبدیلی کی اور کیسرک ولیمز کی جگہ آندرے میک کارتھی کو ڈیبیو کرایا۔سیریز کے لگاتار تیسرے میچ میں ویسٹ انڈین اننگز کا آغاز ایک مرتبہ پھر مایوس کن رہا اور صرف 2 کے مجموعے پر چیڈوک والٹن محمد نواز کی وکٹ بن گئے۔تاہم اس کے بعد مارلن سیمیولز اور آندرے فلیچر نے ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری وکٹ کے لیے 72 رنز جوڑ کر ابتدائی نقصان کا ازالہ کردیا۔سیمیولز 25 گیندوں پر 2 چھکوں اور 2 چوکوں سے مزین 31 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد شاداب خان کے خلاف اپنی وکٹیں محفوظ نہ رکھ سکے۔فلیچر نے کیریئر کا پہلا میچ کھیلنے والے آندرے میک کارتھی کے ساتھ مل کر اسکور 90 تک پہنچایا ہی تھا کہ ویسٹ انڈین بیٹنگ لائن ایک مرتبہ پھر مشکلات سے دوچار ہو گئی اور 6 رنز کے وقفے سے 3 وکٹیں گنوا بیٹھی۔

فلیچر 3 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 52 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہوئے۔5 وکٹیں گرنے کے بعد ایک مرتبہ ویسٹ انڈین ٹیم کے کم اسکور پر آؤٹ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا لیکن دنیش رامدین اور جیسن محمد نے اختتامی اوورز میں قدرے بہتر بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو معقول مجموعے تک رسائی دلائی۔دونوں کھلاڑیوں نے 26 گیندوں پر 44 رنز کی شراکت قائم کی جس کی بدولت ویسٹ انڈیز نے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 153 رنز بنائے۔دنیش رامدین نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 18 گیندوں پر 3 چھکوں اور 4 چوکوں کی بدولت ناقابل شکست 42 رنز کی اننگز کھیلی۔

پاکستان کی جانب سے شاداب خان 2 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ فہیم اشرف، عثمان شنواری اور محمد نواز نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔پاکستان نے دہف کا تعاقب شروع کیا تو فخر زمان نے روایتی جارحانہ انداز اپنایا جس کی بدولت پاکستان نے بہترین انداز میں اننگز کا آغاز کر کے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔فخر نے 17 گیندوں پر 2 چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 40 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے لیکن بابر اعظم نے دوسرے اینڈسے شاندار بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور لگاتار دوسرے میچ میں اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

بابر 6 چوکوں کی مدد سے 51 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے لیکن پاکستان کی ہدف کی جانب پیش قدمی کو کوئی فرق نہ پڑا اور گرین شرٹس نے 19 گیندوں قبل ہی باآسانی دو وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر کے سیریز میں کلین سوئپ کر لیا۔فخر زمان کو جارحانہ بیٹنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ بابر اعظم سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ لے اڑے۔

سیریزکااگرجائزہ لیاجائے تواس میں کوئی شک نہیں پاکستانی بائولرزاوربلے بازعمدہ فارم میں جبکہ ویسٹ انڈیزکی ٹیم کسی حدتھکی تھکی نظرآئی ۔ تاہم آخر ی میچ میں کسی حدتک کالی آندھی اپنے روایتی رنگ میں رنگی نظرآئی ۔اگردیکھاجائے توسیریزہارنے کے باوجوداس نے پاکستانی شائقین کے دل جیت لیے ۔ دوسری جانب انٹرنیشنل ٹیم کے دورہ پاکستان اورکامیاب سیریز کے انعقادکے بعد یہ امید ہوچلی ہے کہ جلد مزیدٹیمیں پاکستان کادورہ کریں گی۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر