وجود

... loading ...

وجود

پان چھالیہ اورگٹکاکینسرکاباعث ہی نہیںدیگرامراض کاپیش خیمہ بھی

بدھ 21 مارچ 2018 پان چھالیہ اورگٹکاکینسرکاباعث ہی نہیںدیگرامراض کاپیش خیمہ بھی

چھالیہ اور گٹکا استعمال کرنے سے منہ کا کینسر ہوسکتا ہے اورآج کل یہ بیماری عام دیکھنے میں ملتی ہیں لیکن پابندی کے باوجود یہ کاروبار جاری و ساری ہیں ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس سے محفوظ کرنے کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں میںآگاہی مہم کا آغاز کرنا چاہئیے تاکہ اس موذی مرض سے بچا جاسکے۔

پان، چھالیہ اور گٹکا صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں لیکن برصغیر پاک و ہند میں اس کا استعمال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے ان کے زیادہ استعمال سے لوگوں میں منہ کا کینسر کا عام ہیں اس کے مضر اثرات کے بارے میں ٹیلی ویڑن اور اخبارات میں اکثر آگاہی مہم بھی چلائی جاتی ہیں لیکن سب بے سود رہتا ہے اب حکومت نے گٹکے اور چھالیے کے بعد پان پر بھی پابندی لگادی ہیں تاکہ لوگ اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہیں چھالیہ اور گٹکا استعمال کرنے سے منہ کا کینسر ہوسکتا ہے اورآج کل یہ بیماری عام دیکھنے میں ملتی ہیں لیکن پابندی کے باوجود یہ کاروبار جاری و ساری ہیں ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس سے محفوظ کرنے کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں میںآگاہی مہم کا آغاز کرنا چاہئیے تاکہ اس موذی مرض سے بچا جاسکے۔

منہ کا کینسر اب عام ہوتا چلا جارہا ہے یہ بیماری پوری دنیا میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں لیکن اس سے محفوظ رہنا ممکن ہے دوسرے ممالک میں جہاں شراب نوشی عام ہیں اور سگریٹ بھی استعمال میں لائے جاتے ہیں ایسے ممالک میں منہ کا کینسر بھی عام ہیں،ہمارے ہاں سگریٹ نوشی کے علاوہ پان گٹکا اور چھالیہ استعمال کیا جاتا ہے جو منہ کے کینسر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے چھالیہ مین پھپھوندی لگنے سے منہ کا کینسر ہوتا ہے اس کے علاوہ اس سے جگر کا کینسر بھی ہوتا ہے اس لیے ہمیں ان اشیاء خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی بچانا ہے حتیٰ کہ میٹھی چھالیہ بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس کو ذائقہ دار بنانے کے لیے عارضی رنگ اور کیمیکل ملائے جاتے ہیں جو منہ کے کینسر کا سبب بنتے ہیں اس لیے ایسی خواتین اور بچے میٹی چھالیہ کا استعمال نہ کریں زیادہ تر یہ اشیاء انڈیا سے اسمگلنگ کے ذریعے لائی جاتی ہیںان کا زیادہ استعمال بھی کراچی اور اردگرد کے علاقوں میں ہوتا ہے ایسی چھالیہ اسمگل کی جاتی ہیں جو پھپھوندی زدہ ہوتی ہیں یہ منہ کے علاوہ جگر پھیپھڑوں اور خواتین میں چھاتیوں کے کینسر کی وجہ سے بنتی ہے اس پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔

اب دیکھتے ہیں کہ کینسر کیسے ہوتا ہے جب ہم چھالیہ یا گٹکا کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے ہمارے منہ اور حلق میں زخم بن جاتے ہیں اگر ان زخموں کا بروقت علاج نہ کیا جائے اور چھالیہ و گٹکا کا استعمال نہ روکا جائے تو یہ منہ کا کینسر بن جاتا ہے جوکہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے خدانخواستہ اگر کوئی اس بیماری میں مبتلا ہوجائے تو اس کا منہ پوری طرح نہیں کھل سکتا وزن میں کمی،بخار‘ پاخانے میں خون آنا،قے وغیرہ کینسر کی اہم علامت ہیں منہ کا کینسر ہوجانے سے بدبو آتی ہیں جس سے کوئی بھی ان کے پاس آنے سے کتراتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اگر آپ منہ کے کینسر سے بچنا چاہتے ہیں تو ان تمام اشیاء کا استعمال ترک کردیں جن کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہوتی ہیں اپنی اور اپنے خاندان کی صحت کا خیال رکھیں سارہ اور متوازن غذا کا استعمال کریں اور پابندی سے ورزش کو اپنا معمول بنائیںتب ہی آپ صحت مند رہ سکتے ہیں نماز کی پابندی کو یقین بنائیں اور غیر فطری طرز عمل سے بچیں ابھی بھی حکومت نے پابندی لگا رکھی ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بھی پان سگریٹ کی دکانیں جابجا ہیں کل بھی ٹی وی رپورٹ چل رہی تھی کہ اس سے منسلک لوگوں نے احتجاج کیا ہے کہ ہمیں بے روزگار نہ کیا جائے یہ کہاں کا کاروبار ہے جس میں آپ لوگوں کی زندگیوں کو دائو پر لگا دیں میری نظرمیں ایسی پابندی ایک خوش آئندہ بات ہے دنیا میں اور بھی کئی کاروبار ہیں جنہیں کیا جاسکتا ہے ایسا گھنائونا کاربار کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی اشد ضرورت ہے اور تمام اشیاء جن میں سگریٹ،پان چھالیہ اور گٹکا شامل ہیں سب کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کردینی چاہیئے تاکہ کوئی بھی اس زہر کو فروخت نہ کرسکے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود بھی اس سے بچیں اور اپنے اردگرد رہنے والوں اور دوستوں کو بھی اس کے مضر اثرات سے بچنے کی تقلین کریں تبھی ہم اس بیماری پر قابو پاسکیں گے حکومت کی طرف سے پنجاب کے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ان تمام اشیاء کی فروخت پر پابندی ہے جو ایک خوش آئندہ بات ہے۔


متعلقہ خبریں


مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان وجود - منگل 17 فروری 2026

وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے...

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل وجود - منگل 17 فروری 2026

چیف آف ڈیفنس فورسز کی اماراتی مشیر سلامتی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات دونوں رہنماؤںکا خطے کی صورتحال، امن و سلامتی کے فروغ کیلئیمسلسل رابطوں پر زور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سل...

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید وجود - منگل 17 فروری 2026

شمالی غزہ میں خیمہ بستی پر حملے میں6جبکہ جنوبی حصے میں ایک اور حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوئے حماس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیل ڈیفنس فورسز غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ حملوں میں مزید 11 فلسطین...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ وجود - پیر 16 فروری 2026

کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری وجود - پیر 16 فروری 2026

شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن وجود - پیر 16 فروری 2026

حکومت مذاکرات کیلئے تیار ،جماعت اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی منعم ظفر کون ہوتے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کریں، سینئر صوبائی وزیرکی گفتگو سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،حکومت مذاکر...

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم وجود - پیر 16 فروری 2026

رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت ہمارے 50 سے زائد کارکنان گرفتار اور لاپتا ہیں پرامن رہ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے دستبردار نہیں ہوں گے،امیر جماعت اسلامی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ سابق بنگلادیشی وزیر اعظم...

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ وجود - پیر 16 فروری 2026

سندھ نے پاکستان بنایا، ورغلانے والے سن لیں، صوبے کے باسی کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے سندھ متحد رہے گا، کل بھی کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی ہے، انہیں کہتا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ ...

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا وجود - اتوار 15 فروری 2026

پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ...

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی وجود - اتوار 15 فروری 2026

میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے احساس ہیبانی پی ٹی آئی کی صحت پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا کا پیغام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔سماجی را...

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی

مضامین
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے وجود بدھ 18 فروری 2026
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان وجود بدھ 18 فروری 2026
روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان

وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار وجود بدھ 18 فروری 2026
وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر