... loading ...
انسانیت کی بلا تفریق خدمت کا جو درس ہمیں حضور علیہ السلام کی تعلیم وسیرت سے ملتا ہے ایسا درس دنیا کے کسی اور مذہبی رہنما سے نہیں ملتا ،آپ علیہ السلام نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے حقوق کوبھی تحفظ دیا ۔حتیٰ کے جان کے دشمنوں کے ساتھ بھی اس طرح حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے کہ وہ سب کے سب آپ کے گرویدہ ہوگئے ،انسان تو انسان جانوروں کے حقوق کا بھی ایسا لحاظ رکھا کہ اسکی نظیرتاریخ انسانیت میں محال ہے ۔نگاہ نبوت میں تربیت پانے والے حضرت ابوبکر صدیقص کی ذات عکس مصطفیٰ نظر آتی ہے ،آپ صنے بھی خدمت خلق جیسے عظیم مشن کو مقدم رکھا یہی وجہ ہے کہ خدمت خلق کے معاملہ میں حضرت ابوبکر صدیق صہمیشہ پیش پیش رہا کرتے تھے اور کوشش کرتے کہ دوسروں پر سبقت لے جائیں ۔
یہ آپ ہی کے دور خلافت کا واقعہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے اطراف میں ایک بوڑھی عورت رہا کرتی آنکھوں سے نابینا تھی اور بڑھیا کی خدمت کرنے والاکوئی نہ تھا ۔کوئی رشتہ دار ،عزیز واقارب نہ تھا حضرت عمر صہر روزرات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لاتے اور اس کے گھر کا تما م کام اپنے ہاتھو ں سے کرنے کے بعد پانی بھی رکھ کر جاتے ،ایک مرتبہ حضرت عمر فارو ق صاپنے معمول کے مطابق رات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لے گئے کیا دیکھتے ہیں کہ اس بڑھیا کے گھر کا سارا کام ان سے پہلے ہی کوئی اور کرکے چلا گیا ۔آپ واپس آگئے دوسرے دن معمول کے مطابق رات کو تشریف لے گئے دیکھا تو پھر پہلے کی طرح کوئی گھر کاکام کرکے چلا گیا تھا ۔اس طرح حضرت عمر فاروق صچند دن تک مزید آتے رہے اور یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے کہ اس بڑھیا کاکام کوئی اور کرکے چلا گیا ہے ،آخر ان کو جستجو ہو ئی کہ یہ کون ہے جو مجھ سے سبقت لے جاتا ہے مجھ سے پہلے ہی بڑھیا کے پاس آجا تا ہے اور اس کے کام کرکے چلا جاتا ہے ۔انہوں نے اس معمہ کو حل کرنے کا ارادہ کرلیا اور اگلے دن بہت جلد ی آکر انتظار کیا کہ دیکھیں کون آتا ہے اور بڑھیا کی خدمت کرکے جاتا ہے ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ حضرت عمر فاروقصنے دیکھا خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق صچپکے سے تشریف لائے اور اس بڑھیا کے گھر کا کام کرنا شروع کردیا ۔یہ دیکھ کر حضرت عمر صبہت حیران ہوئے ۔(تاریخ الخلفاء ،کنزالعمال )
دودھ دوہنا:۔آپ گھر کے کام اپنے ہاتھوں سے کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرتے تھے اکثربھیڑ بکریا ں خود ہی چرالیتے تھے محلہ میں اگر کسی کاکوئی کام ہوتاتو وہ بھی کردیا کرتے تھے ۔بعض اوقات محلہ داروں کی بکریا ں بھی دوھ دیا کرتے منصب خلافت پرفائز کیے گئے تو محلہ میں ایک لڑکی کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ حضرت ابوبکر صدیق صتو اب منتخب ہوگئے ہیں ،لہٰذا اَب ہما ری بکریا ں کو ن دوہے گا ؟حضرت ابوبکر صدیق صنے یہ بات سنی تو یہ فرمایا :۔اﷲکی قسم !میں بکریاں دوہوں گا اور مجھے امید ہے کہ مخلو ق کی خدمت مجھے باز نہ رکھے گی ۔‘‘(طبقات ابن سعد )یہ آپ ہی کی صفت تھی کہ خلیفۃ ُالمسلمین ہونے کے باوجود دوسروں کی خدمت کرتے ۔
والد کا مشورہ :۔حضرت عبد اﷲبن زبیر ص سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق صکامکہ مکرمہ میں دستور تھا کہ آپ بوڑھے مردوں اور بوڑھی عورتوں کو جب وہ اسلام قبول کرلیتے توان کو خرید کرآزاد فرمادیتے تھے ،ایک دن حضرت ابوبکر صدیق صکے والد محترم نے کہا ،اے بیٹے !میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بوڑھے لوگوں کو خریدکر غلامی سے آزادکررہے ہواگر تم بوڑھو ں کے بجائے قوی اور جوان لوگوں کو خرید کر آزاد کروتووہ تمہا را ساتھ دیں گے ،تم کو نقصان سے محفوظ رکھیںگے اور تمہاری مدافعت کریں گے ،یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیقص نے فرمایا ،اے والد محترم !میرا مقصد اس سے اﷲکی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے ۔(سیرت ابن ہشام )
عامر بن فہیرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ :۔حضرت ابوبکر صدیق صنے حضرت عامر بن فہیرہ صکوبھی آزاد کرایا ۔جوایک مشرک کے غلام تھے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں وہ مشرک ان پر ظلم وستم کیا کرتا تھا ۔حضرت عامر بن فہیرہ صہجرت مدینہ کے سفراور اسلام میں آپ صکے ہمراہ تھے ،غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں شریک بیئر معونہ کی جنگ میں جام شہادت نوش فرمائی ۔
نھدیہ اور بنت نھدیہ :۔آپ صنے نہدیہ اور ان کی بیٹی کو بھی کفار سے نجات دلائی ،یہ دونوں بنی عبد الدارکی ایک عورت کی ملک میں تھیں ۔ملکہ نے نہدیہ اور ان کی بیٹی کو آٹا پیسنے کے لیے دیا اور قسم کھاتے ہوئے کہا ،ربّ کعبہ کی قسم !میں تمہیں کبھی آزاد نہ کروں گی حضرت ابوبکر صدیق صوہاں سے گزر رہے تھے ،فرمانے لگے ،اے فلاں شخص کی ماں !اپنی قسم توڑ دے کفار ہ ادا کردے ،اُس عورت نے کہا تم ہی نے توان کو بگاڑا ہے ۔تم ہی ان کو آزاد کراؤ ۔حضرت ابوبکر صدیق صنے فرمایا توان کو کتنے میں دے گی ؟اس نے رقم بتائی توحضرت ابوبکر صدیق صنے فرمایا میں نے انہیں خرید لیا ہے اور اب وہ آزاد ہیں ۔اس کے ساتھ ہی نہدیہ اور ان کی بیٹی سے فرمایاکہ اس کی چیز واپس کردو۔انہوں نے عرض کیاکہ اے ابوبکر (ص)!ابھی واپس کردیں یا کام پورا کرکے یعنی پیس کردیں ۔ارشاد فرمایا،جس طرح تمہاری مرضی ۔(سیرت ابن ہشام)اس کے علاوہ بھی حضرت ابوبکر صدیق صنے بہت سے مظلوم مسلمانوں کی اعانت فرمائی جن میں اُم عبیس رضی اﷲتعالیٰ عنہا،حضرت زنیرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا اور بنی مومل کی ایک لونڈی شامل ہیں ۔
حضرت بلال صکی اعانت :۔حضرت بلال صکے اسلام قبول کرلینے کے بعد اُمیہ بن خلف اور اس کے چیلے ایک مدت تک حضرت بلال صپر تشدد کرتے رہے ،ظلم وتشدد کا یہ سلسلہ کسی دن بھی نہ ٹوٹتاتھا ہر روز تشدد واذیت کا عمل دہرایا جاتا تھا ،حضرت بلال ص کو دین حق سے باز رکھنے کی خاطر اذیت کا ہر حربہ استعمال کیاجاتا تھا ،حضرت بلال صپرہونے والے ظلم وتشدد کی مکمل خبر حضور نبی کریم ﷺکو تھی اور آپ ﷺاس بارے میں سخت بے چین تھے ،حضرت ابوبکرصدیقص کاگھربنوجمح کے محلہ میں ہی تھا اسی لیے آپ ہر روز حضرت بلال ص پرہونے والے مظالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور بہت بے تاب ہوتے ،حضرت بلال صکو اُمیہ بن خلف کے ظلم سے بچانے کے لیے کافی سوچ بیچا ر کی ،ایک دن جبکہ اُمیہ بن خلف نے ظلم وتشدد کی انتہا کردی تو حضرت ابوبکر صدیق صسے مزید برداشت نہ ہوسکا اور اُمیہ کے پاس جا پہنچے اور اس سے فرمایا ،اے اُمیہ !اس بے چارے غلام پر اس قدر ظلم نہ کرواس میں تمہا را کیا نقصان ہے کہ وہ خدائے واحد کی عبادت کرتا ہے اگر تو اس پر مہربانی کرے گا تو یہ مہربانی قیامت کے دن تیرے کام آئے گی اُمیہ بن خلف انتہائی حقارت آمیزانداز میں بولا ،میں تمہا رے قیامت کے دن کو نہیں مانتا ،میرے دل میں جو آئے گا میں کرونگا ،غلام میرا ہے میں جو مرضی اس کے ساتھ سلوک کروں ۔
حضرت ابو بکر صدیق صنے امیہ کو پھر نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تم قوت والے ہو یہ غلام تو بے بس ہے اس پر اس قدر ظلم وتشدد کرنا تمہاری شان کے خلاف ہے تم ایسا کرکے عربوں کی قومی روایات کو داغدارنہ کرو۔غرضیکہ حضرت ابوبکرصدیق اسی طرح اُمیہ بن خلف کے ساتھ بحث کرتے رہے ،آخرکا ر اُمیہ بن خلف اس بحث سے تنگ آکر بولا اے قحافہ کے بیٹے ! اگر اس غلام کے تم اتنے ہی خیر خواہ ہوتو مجھ سے اسے خرید کیوں نہیں لیتے ،حضرت ابوبکر صدیق صنے موقع غنیمت جانا فوراً ارشاد فرمایا ،کیا قیمت لوگے ؟اُمیہ بن خلف بڑا چالاک تھا اس نے خیال کیا کہ حضرت ابوبکر صکے پاس ایک ایسا غلام ہے جس کی قیمت اہل مکہ کے نزدیک بہت زیادہ ہے ۔فسطاس نامی یہ غلام بڑے کام کاہے،اور بلال صکے بدلے میں ابوبکر صدیق صکبھی بھی فسطاس کو دینے میں رضا مند نہیں ہوں گے اس طرح اس بحث مباحثہ سے خلاصی ہوجائیگی ۔چنانچہ اس خیال کے مدنظر رکھتے ہوئے جھٹ سے بولا،تم اپنا رومی غلام فسطاس دے دواور بلال صکو لے جاؤادھر اُمیہ بن خلف کے منہ سے یہ بات نکلی اُدھر فوراًہی حضرت ابوبکر صدیق صنے اس سودے کو منظور فرمالیا اور حضرت بلال صکے بدلے میں اپنا غلام فسطاس دینے پر تیار ہوگئے ،امیہ نے جب یہ دیکھا کہ بات اتنی جلدی بن گئی ہے تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اب اس نے پینترابدلااور کہنے لگا کہ میں فسطاس بھی لوں گا اور اس کے بعد چالیس اوقیہ چاندی بھی لوں گا ۔اُمیہ کا خیال تھا کہ اس مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق صنہیںمانیںگے ،مگر وہ یہ سن کر حیران رہ گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق صاس بات پر کیسے رضا مند ہوگئے اس طرح سودا طے ہوگیا ۔اُمیہ اس زعم میں مبتلا تھاکہ اس نے بڑے ہی نفع کا سودا کیا ہے ،حضرت بلال صکوحضرت ابوبکر صدیق صکے سپر د کرکے چالیس اوقیہ چاندی اور فسطاس غلام لے لیا ،اس سودے پر امیہ خوش تھا ،گھمنڈ میں آکر ہنسا اور بولا اے قحافہ کے بیٹے !اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تواس غلام کو ایک درہم کے چھٹے حصے کے بدلے میں بھی کبھی نہ خریدتا۔حضرت ابوبکرصدیق نے بھی اس کی طرف دیکھا اور فرمایا ،اے اُمیہ !تو اس غلام کی قدروقیمت کونہیں جانتا ا س کی قدر مجھ سے پوچھ ،یمن کی بادشاہی بھی اس کے عوض میں کم ہے ۔یہ فرما کر حضرت ابوبکر صدیق صحضرت بلال صکو لے کر چل پڑے ۔حضور نبی کریم ﷺبہت خوش ہوئے اور ارشاد فرمایا ،ابوبکر (ص)!مجھے بھی اس نیک کام میں شریک کرلو۔حضرت ابوبکر صدیق صنے کہا ،یا رسول اﷲﷺ!گواہ رہئے کہ میں نے بلال (ص) کو آزاد کرلیا ہے ۔اس پر حضور رؤف الرحیم ﷺنے حضرت ابوبکر صدیق صکے حق میں دعائے خیر فرمائی ۔
اُس دور میں غلام اپنے آقا کے تابع ہوتا تھا جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی تھی ،حضرت ابوبکر صدیق صان مجبور غلاموں کو خریدکر آزاد کردیتے تاکہ یہ لوگ آزاد فضا میں سانس لے سکیں اور اﷲکی بندگی کھل کر کرسکیں اور اپنے مشرک آقاؤں کی ایذا ء رسانی سے محفوظ ہوجائیں اور ان کا آزاد کرنا اس وجہ سے ہر گزنہ تھا کہ وہ احسان مان کرمسلمان ہوجائیں بلکہ وہ غلام پہلے ہی سے مسلمان ہوتے تھے اور اپنے مشرک وکافرآقا کے تابع ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کی تکلیفوں اور مظالم میں مبتلا رہتے ۔حضرت ابوبکر صدیق صان کو خرید کر آزاد کردیتے ۔ دورحاضر میں اگرچہ غلاموں کوآزادکرانے کا طریقہ ختم ہوچکاہے ،اسکے بدلے فقہا ء کرام نے فرمایا اگرکوئی ناحق مسلمان قیدی کی مددکرے،یعنی اگر اسکے پاس وکیل نہیں ہے تو وکیل کا انتظام کردے یا جرمانے کی مددمیں سزاپارہاہے تواس کا جرمانہ اداکرکے اسے رہائی دلائے ،اسی طرح اگر کوئی غریب شخص مقروض ہے تو اس کا قرض اَداکردے،ان تمام کاموں میں غلام آزادکرانے کے برابراﷲتعالیٰ اَجراداکرے گا۔
بیت المال کھولو:۔حضرت ابوبکر صدیق صکا عوالی مدینہ میں مشہور گھر تھا جس کا کوئی چوکیدار نہیں تھا ۔کسی نے آپ صسے عرض کیا :اے خلیفہ رسول ﷺ!آپ ص بیت المال کے لیے کوئی پہرے دار مقرر کیوں نہیں کرتے ؟آپ صنے فرمایا :وہاں کو ئی خطرہ نہیں ،پوچھا گیا وہ کیوں ؟فرمایا کہ اس پر قفل (تالا ) لگاہوا ہے ۔درحقیقت حضرت ابوبکر صدیق صبیت المال کا سار امال (ضرورت مندوں ) میں تقسیم کردیا کرتے تھے یہاں اس میں کچھ باقی نہ رہتا ۔حضرت صدیق اکبرص کی جب وفات ہوگئی اور آپ صکی تدفین بھی عمل میں آگئی تو حضرت عمر صنے خزانچیوں کو طلب کیا اور ان کے ہمرہ ابوبکر صدیق صکے بیت المال میں تشریف لے گئے ،آپ صکے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف صاور عثمان بن عفان صبھی تھے ،بیت المال کھولاتو اس میں نہ دینار ملا اورنہ درہم ،ایک بوری ملی ،اس کو جھٹکا تو اس سے ایک درہم نکلا ،(یہ حالت دیکھ کر ) ان کو ابوبکر صپر رحم آگیا ۔(طبقات ابن سعد ۳/۳۱۲)
حضرت ابوبکر صدیق کا صدقہ کرنا :۔حضرت ابوبکر صدیق صکچھ مال بطور صدقہ کے چھپا کر لائے اور دھیمی آواز میں عرض کیا :یا رسول اﷲﷺ!یہ میرا صدقہ ہے ،اور اﷲ کے لیے میرے ذمہ ایک اور صدقہ بھی ہے ۔پھر حضرت عمر ص،اپنا صدقہ بطور اظہا ر کے ساتھ لائے اور عرض کیا :یا رسول اﷲﷺ!یہ میرا صدقہ ہے ،اور اﷲکے ہاں میرے لیے اس کا بدلہ ہے ۔نبی کریم ﷺنے فرمایا :اے عمر ص! تو نے کمان کو تانت لگائی بغیر تانت کے (یعنی تو نے ابوبکر صپرسبقت لے جانے کی کوشش تو کی مگر کامیاب نہ ہوسکے )پھر حضور ﷺنے فرمایا :تم دونوں کے صدقات میں وہی فرق ہے جو تمہا رے کلمات میں فرق ہے ۔(’’ابونعیم ‘‘۱/۲۳)
ابوبکر رضی اﷲعنہ خیر الناس ہیں :۔حضرت عمرص،حضرت ابوبکر صدیقص کے پاس آئے اور صدیق اکبرص کو یوں مخاطب کیا ۔
یاخیرا لناس بعد رسول اﷲﷺ
’’یعنی رسول اﷲﷺکے بعد تمام لوگوں میں بہترین انسان !‘‘
کل کاکل مال خرچ کرنا:۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے اپنی جان ومال سے دین اسلام کی خدمت کی وہ اپنی مثال آپ ہے ،حضرت عمررضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے ہمیں صدقہ کاحکم دیا ،اس وقت میرے پاس کافی مال تھا ،میں نے کہاکہ اگر کسی روزمیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے سبقت لے جاسکا توآج کادن ہوگا۔پس میں نصف مال لے کر حاضرہوا،رسول اﷲﷺنے پوچھا گھروالوں کے لیے کتنا چھوڑاہے؟عرض کیااسکے برابر،حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ اپنا سارامال لے آئے ،توفرمایااے ابوبکر اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ عرض گذارہوئے ،ان کے لیے اﷲاور اسکے رسول کوچھوڑآیاہوں ،میں نے کہامیں ان سے کبھی نہیں بڑھ سکتا۔(ترمذی )اﷲتعالیٰ ہمیں بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ جیسی سخاوت اور ایثارکاجذبہ نصیب فرمائے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...