وجود

... loading ...

وجود

سیاسی جماعتوں کے سربراہ کروڑوں کی ادائیگی کے ثبوت کہاں سے لائیں گے ؟

جمعه 09 مارچ 2018 سیاسی جماعتوں کے سربراہ کروڑوں کی ادائیگی کے ثبوت کہاں سے لائیں گے ؟

الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کے ثبوت ان سیاسی جماعتوں کے قائدین سے طلب کرلیے ہیں، جنہوں نے کھل کر کہا کہ ان کے ارکان اسمبلی نے چار چار کروڑ (یا اس سے بھی زیادہ) وصول کرکے پارٹی کے طے شدہ اصول کے خلاف ووٹ دئیے۔ 14 مارچ کو پارٹی کے قائدین یہ ثبوت کہاں سے لائیں گے، یہی سب سے مشکل سوال ہے۔ پہلے تو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ کس رکن نے کتنے پیسے کس سے لیے۔ عام طور پر انسداد رشوت ستانی کے اداروں کا طریق کار یہ ہوتا ہے کہ وہ اگر کسی کو رشوت ستانی کے الزام میں پکڑنا چاہیں تو دستخط شدہ نوٹ کسی کے حوالے کرتے ہیں جو یہ نوٹ رشوت لینے والے کے سپرد کرتا ہے تو ساتھ ہی چھاپہ پڑ جاتا ہے اور گرفتاری ہو جاتی ہے۔ دستخط شدہ نوٹ ثبوت کے طور پر رکھ لیے جاتے ہیں اور عدالت میں مقدمہ چلتا ہے تو پیش کر دئیے جاتے ہیں، پھر بھی اکثر صورتوں میں ایسا ہوتا ہے کہ ’’ثبوتوں‘‘ کے باوجود پکڑے جانے والے مختلف وجوہ کی بنا پر بری ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دستخط شدہ نوٹ ہمیشہ ہی بطور ثبوت قابل قبول نہیں ہوتے۔ اب عمران خان کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے ارکان نے چار چار کروڑ وصول کیے۔ ان کے دست راست شیخ رشید احمد نے یہ رقم پانچ کروڑ بتائی ہے۔ اب جس کسی نے بھی چار یا پانچ کروڑ وصول کیے ہیں، اس نے کوئی دستخط شدہ رسید تو لکھ کر نہیں دی کہ وہ چار یا پانچ کروڑ وصول کر رہا ہے۔ پیسوں کا یہ لین دین تو ’’حساب دوستاں در دل‘‘ کی طرح تھا، یعنی جنہوں نے پیسے وصول کیے، انہوں نے اس کا بدلہ ووٹ کی شکل میں دے دیا اور معاملہ ختم۔ عمران خان تو خود کہہ چکے ہیں کہ وہ پیسے دینے والوں کو جانتے ہیں، لینے والوں کا علم انہیں نہیں ہے۔ یہ معلوم کرنا ریاستی اداروں کا کام ہے تو کیا ان سب لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پیسے وصول کیے اور ان کو گرفتار کرکے تفتیش کی جائے گی؟

اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ووٹ خفیہ طور پر ڈالے گئے، کس نے کس کو ووٹ ڈالا، یہ کسی کو معلوم نہیں نہ ہی کوئی ایسا ثبوت مل سکتا ہے، جس سے یہ بات طے ہوسکے کہ رقم وصول کی گئی تھی۔ اس لیے لگتا ہے کہ قیادت کوئی ایسا ثبوت فراہم نہیں کرسکے گی جو قانون کی نظر میں قابل قبول ہو۔ ارکان اسمبلی کو کوئی قانون اس بات کا پابند نہیں کرتا کہ وہ ووٹ صرف پارٹی پالیسی کے مطابق دیں گے، یہ تو ایک شریفانہ معاہدہ ہے جو رکن اسمبلی اور پارٹی کے درمیان ہوتا ہے۔ جو ارکان پارٹیاں چھوڑ دیتے ہیں یا پارٹیاں جن ارکان کو نکال دیتی ہیں، وہ کسی تحریری ثبوت کی بنیاد پر تو نہیں ہوتا۔ بس ایک تصور بن جاتا ہے جس کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے۔ پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ دینے کی پابندی صرف قائد ایوان کے انتخاب، تحریک عدم اعتماد کے موقع پر اور بجٹ پر ہوتی ہے۔ ان تین مواقع کے علاوہ جہاں کہیں ووٹ کا حق استعمال ہوتا ہے، رکن اسمبلی یہ موقف اختیار کرسکتا ہے کہ اس نے اپنی رائے کا آزادانہ استعمال کیا ہے۔ ایسے کسی ’’باغی‘‘ رکن کو پارٹی سے تو نکالا جاسکتا ہے۔ کوئی دوسری سزا نہیں دی جاسکتی۔ اس لیے جو پارٹیاں بھی ہارس ٹریڈنگ کا شور مچا رہی ہیں، انہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اس کا حل سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کا انتخاب بھی قومی اسمبلی کی طرح براہ راست کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے۔ اگر ایسی کوئی کوشش کامیاب ہو جائے تو آئندہ سے پیسے کے لین دین کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ موجودہ الیکشن میں جو کچھ بھی ہونا تھا، ہوچکا۔ اس پانی میں مدھانی رڑکنے سے اب بالائی نہیں نکلنے والی۔ ویسے تو جب انتخابی اصلاحات کا بل زیر بحث تھا، اس وقت ایسی ترمیم منظور کرلی جاتی، لیکن سیاسی پارٹیوں کی بھی اپنی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ عین ممکن ہے آئندہ بھی براہ راست الیکشن کی تجویز کو پذیرائی نہ ملے۔ ابھی تو چند روز میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ہونا ہے، ان انتخابات میں بھی پیسے کے کردار کو پوری طرح رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ جن پارٹیوں نے اپنے امیدوار منتخب کرانے کے لیے پیسے دئیے یا جو امیدوار اپنی جیب سے رقم ادا کرتے رہے، وہ بھی چاہیں گے کہ چیئرمین کے انتخاب کی بہتی گنگا میں اگر ہاتھ دھو سکتے ہیں تو دھو لیں۔ بالواسطہ انتخاب میں جہاں ووٹروں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ اس طرح کے الزامات ہمیشہ لگتے رہتے ہیں۔ فرق صرف یہ پڑا ہے کہ بات ہزاروں اور زیادہ سے زیادہ لاکھوں سے چلی تھی اور اب کروڑوں تک پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا سیاسی سربراہ الیکشن کمیشن کے پاس کون سے ثبوت لے کر جاتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان وجود - جمعه 19 جون 2026

پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط وجود - جمعه 19 جون 2026

امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ وجود - جمعه 19 جون 2026

جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال وجود - جمعه 19 جون 2026

شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش وجود - جمعه 19 جون 2026

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

مضامین
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

یادوں کی نیلامی وجود جمعه 19 جون 2026
یادوں کی نیلامی

نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر وجود جمعه 19 جون 2026
نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر

مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر