وجود

... loading ...

وجود

الیکٹرونکس مارکیٹ کی چھتوںپرتعمیرپینٹ ہائوس جرائم کے اڈے بن گئے

جمعرات 22 فروری 2018 الیکٹرونکس مارکیٹ کی چھتوںپرتعمیرپینٹ ہائوس جرائم کے اڈے بن گئے

کراچی میں الیکٹرونکس مارکیٹ کی عمارتوں پر قائم درجنوں خفیہ پینٹ ہاؤس کی موجودگی کا انکشاف ہو گیا۔ “SBCA” اور الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ذمہ داران کی سر پرستی میں 400 سے زائد عمارتوں کی چھتوں پر تعمیر کیے گئےپینٹ ہاؤس جرائم کے اڈے بن گئے۔ سنگین جرائم میں ملوث دُکانداروں کی زیر ملکیت مذکورہ پینٹ ہاؤس اسمگل شدہ برقی مصنوعات اور نئے ماڈل کی گاڑیوں سے چوری کیے گئے ساؤنڈ سسٹم چھپا کر رکھنے، پرانی اور ناکارہ برقی مصنوعات کو نیا بنا کر پیک کرنے کے علاوہ منشیات، زناکاری اور جوئے/ سٹے کی محفوظ پناہ گاہوں میں تبدیل ہوگئے۔ جو بلی مینشن سمیت درجنوں عمارتوں کی چھتوں پر قائم مذکورہ “پینٹ ہاؤس” مختلف کالعدم تنظیموں کی مذموم سرگرمیوں کے ٹھکانے بھی بنے ہوئے ہیں جہاں تاوان اور تشدد کے لیے اغواکیے گئے افراد کو قید رکھا جاتا ہے۔ کراچی میں تعینات پولیس اور رینجرز کے بعض بدعنوان افسران ممکنہ طور پر پریڈی تھانہ میں دی گئی سینکڑوں شکایتی درخواستوں پر عمل درآمد کی قانونی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے صدر میں واقع الیکٹرونکس مارکیٹ کی 400 سے زائد عمارتوں کی چھتوں پر جرائم پیشہ دُکانداروں نے الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ذمہ داران کی ملی بھگت سے غیر قانونی پینٹ ہاؤس تعمیر کر رکھے ہیں جنکی تعمیرات کی تکمیل کے لیےالیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کو کراچی میں تعینات SBCA، پولیس اور رینجرز کے بعض بدعنوان افسران کی براہ راست سر پرستی حاصل ہے۔ قائداعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طے شدہ ملاقات کے دوران الیکٹرونکس مارکیٹ کے چند دکانداروں نے نام شائع یا ظاہر نہ کرنے کی شرط پر “جرأت” کو بتایا کہ الیکٹرونکس مارکیٹ کی 2000 سے زائد عمارتوں میں سے 400 سے زائد عمارتوں کی چھتوں پر غیر قانونی طور پر پینٹ ہاؤس تعمیر کیے جا چکے ہیں اور مزید عمارتوں پر پینٹ ہاؤس کی تعمیرات کا غیر قانونی سلسلہ بدستور جاری ہے۔ الیکٹرونکس مارکیٹ کے دکانداروں کے مطابق الیکٹرونکس مارکیٹ کی عمارتوں کی چھتوں پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے “پینٹ ہاؤس” مجرمانہ سرگرمیوں کے اڈے بن چکے ہیں جہاں بیرون ممالک سے اسمگل شدہ قیمتی برقی مصنوعات اور کراچی میں نئے ماڈل کی گاڑیوں سے چوری کیے گئے قیمتی ساؤنڈ سسٹم چھپا کر رکھے جاتے ہیں جبکہ پرانی اور ناکارہ برقی مصنوعات کو قابل استعمال بنا کر مقامی پرنٹنگ پریس سے چھپوائی گئی پیکنگ میں پیک کیے جانے کا کام بھی سر انجام دیا جاتا ہے۔

الیکٹرونکس مارکیٹ کے دُکانداروں کے مطابق الیکٹرونکس مارکیٹ کی عمارتوں کی چھتوں پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئےپینٹ ہاؤس مجرمانہ خصلت رکھنے والے دُکانداروں کی سرگرمیوں کا مرکز بھی بنے ہوئے ہیں جہاں مذکورہ دُکانداررات کے اوقات میں منشیات، زناکاری اور جوئے/ سٹے کی مخلوط محفلیں بھی سجاتے ہیں جبکہ غیر ملکی شراب کی بہت بڑی مقدار بھی مذکورہ پینٹ ہاؤس کے اندر چھپا کر رکھی جاتی ہے۔ الیکٹرونکس مارکیٹ کے ملاقاتی دکانداروں کے مطابق دبئی سے کراچی اسمگل شدہ قیمتی موبائل فون کی پیکنگ سے اوریجنل چارجر اورہینڈز فری نکال کر انکی جگہ جعلی چارجر اور ہینڈز فری رکھے جانے کا گھناؤنا کام بھی مذکورہ پینٹ ہاؤس کے اندر سر انجام دیا جاتا ہے۔جرأت سے رابطہ کرنیوالے الیکٹرونکس مارکیٹ کے دُکانداروں نے انکشاف کیا کہ الیکٹرونکس مارکیٹ کی عمارتوں پر تعمیر کیے گئے غیر قانونی پینٹ ہاؤس میں جاری مجرمانہ سرگرمیوں سے واقف پولیس افسران اور بعض صحافیوں کے علاوہ دیگر ذمہ دار اداروں کے افسران کوالیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان کے ذریعے ماہانہ بھاری رقوم فراہم کی جاتی ہیں ۔الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کی مجرمانہ سرگرمیوں پر نالاں الیکٹرونکس مارکیٹ کے ملاقاتی دُکانداروں نے انکشاف کیا ہے کہ 13 برس قبل جوبلی مینشن نامی عمارت کی چھت پر DSP ذاکر حسین پپرانی نے حنیف سوزوکی نامی شخص کیساتھ ملکر غیر قانونی طور پر ایک پینٹ ہاؤس تعمیر کرکے وہاں سے ساؤتھ افریقہ میں ہونے والی گھوڑوں کی ریس پر جوئے/ سٹے کا دھندہ شروع کیا تاہم مذکورہ پینٹ ہاؤس کے اندر منعقدہ ایک مخلوط محفل کے دوران نشے کی زیادتی کے سبب دم توڑ دینے والی ایک جواں سال خاتون کی نعش کو علی الصبح گاڑی میں ڈال کر بلوچ کالونی پل کے نیچے پھینک دیا گیا تھا اور اس واقعہ کے بعد مذکورہ پینٹ ہاؤس کو دیگر سنگین جرائم کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

ذرائع کے مطابق جوبلی مینشن کی نچلی منزل پر واقع پپرانی الیکٹرونکس نامی دکان DSP ذاکر حسین پپرانی کی ملکیت بتائی جاتی ہے جہاں موجود اسکا چھوٹا بھائی مذکورہ پینٹ ہاؤس کی تمام مجرمانہ سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ DSP ذاکر حسین پپرانی کراچی کے پوش علاقوں ڈیفنس، کلفٹن، بوٹ بیسن، درخشاں اور گزری میں زمینوں پر قبضوں کے متعدد واقعات میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ الیکٹرونکس مارکیٹ کے ملاقاتی دکانداروں نے جرأت کے توسط سے اعلیٰ حکام سے درخواست کی کہ الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کی سرپرستی میں الیکٹرونکس مارکیٹ کی عمارتوں کی راہ داریوں اور انکی دُکانوں سے متصل فٹ پاتھوں کو گھیر کر بنائی گئیں غیر قانونی دُکانوں کو فی الفور ختم کیا جائے جنکی وجہ سے انکا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

مضامین
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

بھارت میں تیل کا بحران وجود بدھ 13 مئی 2026
بھارت میں تیل کا بحران

بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل وجود بدھ 13 مئی 2026
بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل

وزیراعظم کا قوم کے نام خط وجود منگل 12 مئی 2026
وزیراعظم کا قوم کے نام خط

riaz وجود منگل 12 مئی 2026
riaz

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر