وجود

... loading ...

وجود

دنیاکے بڑے شہر پانی کی کمی کا شکار ‘ کہیں آلودگی ‘کئی جھیلیں سوکھ گئیں

بدھ 14 فروری 2018 دنیاکے بڑے شہر پانی کی کمی کا شکار ‘ کہیں آلودگی ‘کئی جھیلیں سوکھ گئیں

شہرقائدمیں جہاں نظراٹھائیں لوگ بالٹیا ںہاتھوں میںاٹھائے پانی تلاش میں مصروف نظرآتے ہیں اس حوالے سے کئی علاقوں کی حالت توبہت زیادہ بری ہے ۔اسے دیکھ کرلگتاہے کہ ساری دنیامیں پانی کاسب سے زیادہ مسئلہ کراچی میں ہی ہے لیکن آپ کویہ جان کرشدید حیرت ہوگی دنیا کے ایک چوتھائی بڑے شہروں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔یہ وہ مسئلہ ہے جس کی طرف ماہرین ایک عرصے سے توجہ دلا رہے تھے۔
بظاہر تو پانی دنیا کے 70 فیصد حصے پر پھیلا ہوا ہے، لیکن اس کا صرف تین فیصد ہی پینے کے قابل ہے جو آبادی بڑھنے، آلود

گی اور دوسری وجوہات کی بنا پر ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اور 2.7 ارب انسان ایسے ہیں جنھیں سال کے کم از کم ایک مہینے میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

2014 میں دنیا کے پانچ سو بڑے شہروں کا سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ہر چار میں سے ایک شہر ‘پانی کے دباؤ’ سے دوچار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ وہ صورتِ حال ہے جب پانی کی سالانہ مقدار 1700 مکعب میٹر (17 لاکھ لیٹر) فی کس سے کم ہو جائے۔

اقوامِ متحدہ کی پیش گوئی کے مطابق 2030 کی دنیا میں تازہ پانی کی طلب 40 فیصد تک بڑھ جائے گی، جس کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور انسانی رویوں میں تبدیلی ہے۔جنوبی افریقہ کا شہر کیپ ٹاؤن دنیا کا پہلا بڑا شہر بن گیا ہے جہاں سے جدید دور میں پینے کے پانی کی کمی واقع ہو گئی ہے۔اس تمام تر صورتِ حال میں کیپ ٹاؤن آئس برگ کی چوٹی کی مانند ہے جس کا صرف ایک حصہ پانی سے باہر اور نو حصے اندر ہوتے ہیں۔ذیل میں دنیا کے چھ ایسے اہم شہروں کی صورتِ حال بیان کی جا رہی ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ کیپ ٹاؤن کی طرح پانی کی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
بنگلور
اس انڈین شہر کے ٹیکنالوجی کا مرکز بننے کے بعد وہاں کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جس کا اثر لامحالہ طور پر پانی کی فراہمی اور نکاسی کے نظام پر پڑا ہے۔مزید یہ کہ شہر میں پانی کی ترسیل کا نظام اس قدر خراب ہے کہ مقامی حکومت کے مطابق نصف صاف پانی ضائع ہو جاتا ہے۔صرف یہی نہیں، جو پانی گھروں تک پہنچ بھی جاتا ہے وہ بھی آلودہ ہوتا جا رہا ہے۔اس شہرکی جھیلیں دنیابھرمیں سب سے آلودہ ہیں۔
بیجنگ
ورلڈ بینک نے پانی کی کمی کی تعریف متعین کر رکھی ہے، یعنی جب فی کس صاف پانی کی مقدار دس لاکھ لیٹر سالانہ سے کم ہو جائے۔
2014 میں بیجنگ کے دو کروڑ سے زیادہ باسیوں کو صرف ایک لاکھ 45 ہزار لیٹر پانی سالانہ میسر تھا۔چین کو مجموعی طور پر بھی پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ وہاں دنیا کی کل آبادی کا 20 فیصد حصہ آباد ہے لیکن اس کے حصے میں صرف سات فیصد صاف پانی آیا ہے۔آلودگی کا مسئلہ اس کے علاوہ ہے۔ 2015 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیجنگ کا 40 فیصد پانی اس قدر آلودہ ہے کہ پینا تو درکنار، زرعی اور صنعتی مقاصد کے لیے بھی کارآمد نہیں۔
قاہرہ
قاہرہ شہر کے اندر سے بہنے والا دریائے نیل نے ویسے تو ہزاروں برس سے تہذیبوں کی آبیاری کی ہے، لیکن اب اس عظیم دریا کو شدید دباؤ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔نیل مصر کے صاف پانی کا 97 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، لیکن اب یہ رہائشی اور زرعی فضلے سے آلودہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق مصر میں آلودہ پانی سے متعلقہ بیماریوں سے بڑے پیمانے پر اموات ہو رہی ہیں، اور 2025 تک وہاں پانی کی شدید کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔
ماسکو
روس میں مجموعی طور پر تازہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ پایا جاتا ہے، لیکن سوویت دور میں کی جانے والی زرعی توسیع کی وجہ سے اسے بھی آلودگی کا سامنا ہے۔ماسکو کا 70 فیصد پانی زمین کی سطح سے حاصل ہوتا ہے، جو زیادہ آسانی سے آلودہ ہو جاتا ہے۔مقامی ادارے تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کا 35 سے 60 فیصد پانی حفظانِ صحت کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔
استنبول
مقامی اعداد و شمار کے مطابق ترکی کو مجموعی طور پر پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ 2030 تک یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر لے گا۔حالیہ مہینوں میں ایک کروڑ 40 لاکھ آبادی والے استنبول میں خشک مہینوں میں پانی کمی ہو جاتی ہے۔ شہر میں پانی کے ذخیرے میں 30 فیصد کی کمی واقع ہو گئی ہے۔جس کی وجہ یہاں کی ایک جھیل کاسوکھ جانا بتایا جا رہا ہے ۔
لندن
بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ لندن میں بھی پانی کی فراہمی دباؤ کا شکار ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہاں بہت بارش ہوتی ہے، لیکن دراصل لندن میں بارش کی مقدار پیرس اور نیویارک کے مقابلے پر کم ہے اور یہاں کا 80 فیصد پانی دریاؤں سے آتا ہے۔اوربڑ ی مقدارمیں یہ پانی ضائع بھی کردیاجاتاہے جواس کی قلت کی بڑ ی وجہ ہے ۔گریٹر لنڈن اتھارٹی کے مطابق 2025 تک شہر میں پانی کم پڑنا شروع ہو جائے گا اور یہ مسئلہ 2040 تک ’سنگین شکل‘ اختیار کر لے گا۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر