وجود

... loading ...

وجود

لاہور میں دہشت کی علامت عابد باکسر کس کا آلہ کار تھا

پیر 12 فروری 2018 لاہور میں دہشت کی علامت عابد باکسر کس کا آلہ کار تھا

نوے کی دہائی میںپرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا نہ ہونے پر پاکستانیوں کی کثیر تعداد کو نہیں پتا تھا کہ شہر لاہور میں پولیس کی جانب سے کیا ہو رہا ہے ،کون ہے جو پولیس آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ انڈر ورلڈ کا ایک نامی گرامی کردار ہے،صرف وہی لوگ کسی حد تک جانتے تھے جو اخبار بینی کے عادی تھے،اس وقت الراقم خود آئے روز خبروں میں رہنے والے اس کردار کے بارے میں بہت متجسس تھا کہ آخر پولیس کا یہ بادشادہ سلامت کیا چیز ہے؟جسے نہ کسی کا ڈر ہے نہ خوف ،نہ کوئی اسے پوچھنے والا ہے نہ وہ کسی کو جواب دہ ہے،پولیس انسپکٹر عابد باکسربلاشبہ اس وقت لاہور میں دہشت کی سب سے بڑی علامت تھا2007میں منظر عام سے غائب ہونے والے پولیس کے اس نامور کردار کو انٹرپول نے دوبئی سے گرفتار کیا تو کراچی کے انکائونٹرسپیشلسٹ رائو انوار سے بھی کہیں شہرت یافتہ اب دوبئی میں زیر حراست ہے دو روز قبل وہ ملائیشیا سے دوبئی پہنچا تو ائیر پورٹ پر انٹر پول نے تصویر اور اشتہاریوں کی فہرست میں نام کی موجودگی کی تصدیق پر اسے گرفتار کر کے دوبئی پولیس کے حوالے کر دیا،بعض ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ شکنجہ کسے جانے پر عابد باکسر نے سرنڈر کرتے ہوئے خود گرفتاری دی ہے اور وہ اپنی زندگی کی ضمانت اور عدالت تک رسائی کے بعد اہم شخصیات کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنے گا۔

اس سے پہلے اطلاعات آتی رہیں کہ وہ بنکاک،ہامگ کانگ ،ملائیشیا ،دوبئی یا مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں رہائش پذیر ہے،دو ماہ پہلے تقریباًبیرون ملک رہائش پذیر250اشتہاری ملزمان کے ریڈ ورانٹ انٹر پول بھیجے گئے ایک ڈی آئی جی کی سربراہی میں ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا جسے ٹاسک دیا گیا کہ وہ بیرون ممالک فرار اشتہاریوںکی گرفتاری کو یقینی بنائے اس پرکئی اشتہاری دوبئی سے بھی دیگر ممالک فرار ہو گئے اور عابد باکسر بھی ملائیشیا چلا گیا،لاہور پولیس نے ابھی تک عابد باکسر کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے، آئے روز کسی نہ کسی پولیس مقابلے کے علاوہ اسے غنڈہ گردی سے انتہائی شہرت ملی جب اس نے شوبز کی دنیا کی نامور اداکارہ نرگس کو ناراضگی پر شدیدزدوکوب کیا سر کے بال اور بھنویں تک مونڈ ڈالیں۔

عابد حسین قریشی گورنمنٹ کالج سے تعلیم یافتہ اور باکسنگ کاکھلاڑی ہونے پر بطورسب انسپکٹر پنجاب پولیس میں بھرتی ہوا ،باکسر ہونے کی وجہ سے اس کا نام عابد باکسر سے ہی مشہور ہو گیا،عابد باکسر محکمہ پولیس میں جانے کے بعد بہت جلد اعلیٰ پولیس افسران اورحکومتی شخصیات کا منظور نظر بننے میں کامیاب ہو گیا،جلد ہی لاہور کے مختلف تھانوں میں ایس ایچ او کی کرسی اس کے لیے خالی کر دی جاتی ،لاہور کے تمام جرائم پیشہ گروہ بھی اس انوکھے اور دبنگ پولیس افسر کے رابطوں میں آنے لگے،اعلیٰ سیاسی شخصیات کی سرپرستی پر وہ کسی بھی نوعیت کی بازپرس سے محفوظ ہو گیا،پولیس مقابلے اس کی پہچان بنتے گئے ،کراچی کے رائو انوار کی طرح آئے روز لاہور میں کسی نہ کسی پولیس مقابلے کی خبر اخبارات کی زینت بنتی جن میں عابد باکسر ہی نمایاں ہوتا،ایک محتاط اندازے کے مطابق عابد باکسر نے چھ سالہ پولیسی فرعونیت میں کم از کم65پولیس مقابلوں میں درجنوں افراد کو پار کیا،عابد باکسر نے شوبز انڈسٹری کا رخ کیا تو کئی بڑے بڑے ناموں سے اس کی دوستی ہوگئی معروف ڈانسر نرگس بھی اس کے دوستوں میں تھی مگر اختلاف پیدا ہونے پر اس نے نرگس کو سر عام تشدد کا نشانہ بنایا،اس واقعہ کا مقدمہ 28مارچ2002کو ٹائون شپ میں درج ہوابدترین تشدد کے باوجود نرگس ڈر کے مارے پولیس کے پاس نہیں گئی بلکہ ایک گینگسٹر کے پاس گئی کہ اسے عابد سے بچایا جائے نرگس اور عابد باکسر کے درمیان صلح کرانے میں اہم کردار ممتاز نغمہ نگار اور شاعر خواجہ پرویز نے ادا کیا جس کے بعد نرگس شوبز کی دنیا کو خیر باد کہہ کر زبیر شاہ نامی شخص کے ساتھ شادی کر کے کینیڈا رہائش پذیر ہو گئیں۔

اس واقعہ کے بعد عابد باکسر شوبز انڈسٹری میںبھی ڈان بن کر ابھرا،عابد باکسر زمینوں،بنگلوں اور ہائوسنگ سو سائٹیوں میں قبضہ مافیا کا بھی سرغنہ بن گیا بھتہ خوری بھی اس کے لیے لازم و ملزوم تھی،جن جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ اس کے بہترین تعلقات تھے ان میں طیفی بٹ،گوگی بٹ گروپ اور ملک احسان گروپ نمایاں ترین تھے جو اس کے اندرون و بیرون ملک رہائش سمیت تمام دیگر اخراجات بھی برداشت کرتے تھے ، قانون کا یہ رکھوالا خود کو ہر قسم کے قانون سے بالاتر سمجھتا اس کے نام کی دھاک لاہور میں بیٹھ گئی ،اس کے راستے میں جو بھی آیا اسے اس نے قانون کی طاقت کو غلط استعمال کرتے ہوئے روند ڈالا، طالب علم رہنماء طاہر پرنس ،اداکارہ ماروی ، اسٹیج اداکارہ قسمت بیگ کو بھی اسی نے اگلے جہان پہنچایا، گلبرگ تھرڈ میں حالی روڈ پر 7E..1میں برگیڈئیر (ر)نسیم شریف (مرحوم )کے قیمتی پلاٹ پر قبضہ کر لیا اس کے بیٹے کو قتل کرنے کے بعد اس کی بیوہ نورین شریف کو گھر سے اغوا کر کے اس سے پلاٹ کی دستاویزات پر زبردستی دستخط کروانے کے بعد اسے قتل کر دیا گیا اس واقعے میں اس کے ماموں ظفر عباس ،ماموں زاد بھائی علی عباس باکسر اور ندیم عباس بھی شامل تھے جو لاہور کا بہت بڑا قبضہ مافیا تھا،ندیم عباس اور علی عباس اس قبضہ کیس میں گرفتار ہوئے جنہیں 21 جولائی 2011کو کیمپ جیل میں ایڈیشنل سیشن جج ایم شہزاد کیانی نے موت و عمر قید کی سزا سنائی گئی عابد باکسر اس کیس میں گرفتار نہ ہوااسے جج نے اشتہاری قرار دے دیا۔

لاہور کے ایک اور معروف بچہ ا سکینڈل میں عابد نے ماموں ظفر عباس کے ساتھ مل کر کروڑوں روپے کی اراضی ہتھیا لی،مراکہ میں عابد باکسر نہ صرف994کنال پر مشتمل گجا گارڈن پر قبضہ کیا بلکہ وہاں اس نے ایک گجر خاندان کو ہی غائب کر دیا،عابد باکسر کے ماموں اور ماموں زاد بھائیوں کو ایس پی عمر ورک نے گرفتار کیا تھا اس کے ماموں ظفر عباس پولیس کی حراست میں ہلاک ہو گئے تھے ،عابد باکسر نے بھتہ نہ ملنے پر تھانہ گجر سنگھ کے علاقہ میں سینما مینجر کو قتل کر دیا،ڈائریکٹر آف کوآپریٹو بینک کا قتل بھی اس کے کھاتہ میں ہے،عابد باکسر اندرون شاہ عالم مارکیٹ کے معروف ٹرانسپورٹر امیر عارف عرف ٹیپوٹرکاں والا پر ایوان عدل میں قاتلانہ حملہ کے کیس جس میں پانچ افراد ہلاک اور ٹیپو زخمی ہوا کے مقدمہ میں بھی نامزد ہیں،اس کے بیرون ملک ہونے کے باوجود بطور ڈان اس کی کاروائیاں جاری رہیں اسے باقاعدگی سے بھتہ ملتا رہا گذشتہ برس اس نے سمن آباد میں کیبل آپریٹر جواد کا قتل ہوا تو اس کیس میں عابد باکسر نامزد ہوا کہ اس نے جواد کو بیرون ملک بیٹھ کر قتل کرایا ہے،عابد باکسر کے خلاف اسلام پورہ،قلعہ گجر سنگھ،مسلم ٹائون،ملت پارک،جوہر ٹائون،ٹائون شپ،سمن آباد ،سبزہ زاروغیرہ میں قتل،اقدام قتل،اغوا،بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیں،یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آئیں تھی کہ1998میں پنجاب کی ایک اعلیٰ شخصیت کی جانب سے عابد باکسر کی گرفتاری اور پھر پولیس مقابلے میں اس کی ہلاکت کا ٹاسک ڈی ایس پی عاشق مارتھ (مرحوم)کو سونپا گیا مگر جس دن یہ پلان بنا اسی دن حکومت تبدیل ہو گئی اس سے قبل 1996میں بھی بہاولنگر میں تعینات ضلعی پولیس آفیسر کو ایساٹاسک ملا مگر اس نے انکار کردیاتو اسے فیڈرل کنٹرول روم میں تبدیل کر دیاگیا۔

1999میں عابد باکسر ایک دفعہ گرفتار بھی کیا گیا مگر وہ با اثر پولیس آفیسر بچ نکلا اور اسے شیخو پورہ تبدیل کر دیا گیا اسی دوران اسے آئی جی پولیس طارق سلیم ڈوگر نے نوکری سے برخاست کر دیا،بعد میں انڈر ورلڈ رہا اور2007کے بعد وہ پاکستان چھوڑ گیا،بعد میں وہ کئی بار بیرون ملک سے منظر عام آتا رہا اور حکومتی شخصیات کے ساتھ پولیس افسران پر الزامات عائد کرنے کا دعویٰ کرتا رہا،اس نے جتنے بھی جعلی پولیس مقابلے کیے ان میں اعلیٰ افسران اور پنجاب کی ایگزیکٹو اتھارٹی شامل ہوتی تھی،سبزہ زار میں بھی اسے ایک پولیس مقابلے کا حکم ملا مگر اس انکارکیا تو یہاں جعلی پولیس مقابلے میں ایس پی عمر ورک نے پانچ افراد کو مبینہ پولیس مقابلے میں مارا جن میں دو مزدور بھی شامل تھے جو فٹ پاتھ پر سورہے تھے اسی پولیس مقابلے کے مقدمہ میں وزیر اعلیٰ میاں شہبازشریف کا نام بھی شامل ہے ، معلوم ہوا ہے کہ عابد باکسر کی گرفتاری کی خبر سن کر پولیس افسران ،کاروباری اور شوبز کی شخصیات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ Kبلاک ماڈل ٹائون میں رہائش پذیر اس کے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا ہے، انٹرپول نے اس کے ساتھی شہباز المعروف سائیں کو بھی گرفتار کر لیا ہے تاہم ان کا ایک خطرناک ساتھی افضال گھونو ابھی تک فرار ہے، 11سال بعد قانون کی گرفت میں آنے والے اس ڈان کے حوالے سے پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے،بہرحال یہ وقت بتائے گا کہ عزیر بلوچ ،رائو انوار کی طرح عابد باکسر کس کا آلہ کا رتھا۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر