وجود

... loading ...

وجود

پلاسٹک آلودگی

منگل 06 فروری 2018 پلاسٹک آلودگی

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے پاس فون ہے تو اس میں بہت حد تک پلاسٹک استعمال ہوا ہے۔ آپ کا کمپیوٹر، کھانے کی اشیا پلاسٹک کی ہیں، شاپنگ بیگز، کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں بھی پلاسٹک سے بنے ہیں۔ چھوٹے بچوں کے کھلونے بھی زیادہ تر پلاسٹک سے ہی بنتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ پلاسٹک کیا ہے؟ زیادہ تر پلاسٹک مصنوعی طور پر کیمیاوی امتزاج سے بنایا جاتا ہے۔ پلاسٹک کی 2 اہم خصوصیات ہیں۔ اس کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ اسے کسی بھی شکل میں آسانی سے ڈھالا جا سکتا ہے۔ تقریبا ہر طرح کا پلاسٹک پیٹرولیم سے بنتا ہے۔
پلاسٹک کا زیادہ استعمال اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ یہ سستے داموں میسر ہوتا ہے۔ عام گھریلو استعمال کے بہت سے برتن پلاسٹک سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ سستا ہونے کے علاوہ اس کے عام استعمال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ پائیدار ہوتا ہے۔ پلاسٹک، بلا شبہ ایک مفید اور کار آمد چیز ہے لیکن پلاسٹک آلودگی کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ پلاسٹک کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ زیادہ تر پلاسٹک خراب نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے کوئی چیز کھاتی ہے۔ انسان کی بنائی ہوئی تقریبا تمام اشیا ٹوٹ پھوٹ یا انحطاط کا شکار ہوجاتی ہیں، ان جرثوموں کی وجہ سے جو قدرتی طور پر اس چیز کوخوراک کے طور پر کھا جاتے ہیں اور وہ چیز گلنا سڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی واضح مثال اسٹیل ہے جسے زنگ لگ جاتا ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ استعمال شدہ خراب پلاسٹک کے ساتھ کیا کیا جائے؟ اس کا جواب واضح اور آسان ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اسے ری سائیکل (Recycle) کرتے ہوئے دوبارہ استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ یہ بات یقینادرست ہے مگر بہت سا پلاسٹک ایسا بھی ہے جسے آسانی سے ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا پلاسٹک عموما کوڑا دان میں، گلیوں میں، نہروں اور دریائوں میں یا ساحل سمندر پر پھینک دیا جاتا ہے۔

کلو رین ملا پلاسٹک جب مٹی میں شامل ہوتا ہے تو اپنے ارد گرد کی مٹی میں نقصان دہ کیمیکل شامل کرتا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل زیر ِ زمین پانی اور پانی کے دیگر قریبی ذرائع کو بھی متاثر کرتا ہے۔ کوڑا کرکٹ پر مشتمل ، زمین کی بھرائی کا ملبہ، مختلف قسم کے پلاسٹک سے بھرا ہوتا ہے۔جب اس پلاسٹک پر مشتمل ملبے سے زمین کی بھرائی کی جاتی ہے تو اس پلاسٹک سے انتہائی نقصان دہ بیکٹیریا پیدا ہوتے ہیں جن سے بے رنگ اور بو کی ایسی گیس پیدا ہوتی ہے جو کہ زمینی فضا میں افزائش حرارت کی ایک بڑی وجہ ہے۔

2012ء کے ایک اندازے کے مطابق، دنیا کے تمام سمندروں میں ، تقریباً 125ملین ٹن پلاسٹک کی وجہ سے آلودگی ہے۔ ساحلوں اور سمندروں میں پلاسٹک آلودگی کی ایک وجہ وہ پلاسٹک دانہ بھی ہے جو کہ سمندروں کے ذریعے در آمد اور بر آمد کیا جاتا ہے۔ہر سال کئی ارب پلاسٹک دانہ ، دوران تجارت سمندروں میں گرتا ہے ۔ اندازے کے مطابق ، عالمی سطح پر ، ساحل کی دس فی صد گندگی، پلاسٹک دانہ کی وجہ سے ہے۔ مزید یہ کہ ساحلوں پر سیر کے لیے آنے والے لوگ اپنے ساتھ لائے گئے پلاسٹک بیگز اور کھانے کے ڈبوں کو بھی وہیں پھینک دیتے ہیں۔

پلاسٹک کی وجہ سے سمندروں میں پیدا ہونے والی آلودگی، سمندری حیات کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے بھی نہایت خطرناک اور زہریلی ہے۔ بہت سے سمندری جانور، پلاسٹک کو کھانے کی چیز سمجھ کر کھا جاتے ہیں ۔ مثلاً سمندری کچھوے اکثر اسی وجہ سے مر جاتے ہیں کہ غذا سمجھ کر کھایا ہوا پلاسٹک ان کے نظامِ انہظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی کے باعث ،تقریبا 4لاکھ آبی ممالیہ ہر سال مرتے ہیں۔ پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کس طرح روکا یا کم کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہم چار ایسے طریقے اپنا سکتے ہیں جن سے ہم اپنے ماحول کو پلاسٹک آلودگی سے بہت حد تک بچا سکتے ہیں۔
نمبر ایک تو یہ کہ ہم کم سے کم ایسی چیزیں خریدیں جو پلاسٹک سے بنی ہوں۔ ہم پلاسٹک کے بجائے شیشے سے بنی کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں بھی خرید سکتے ہیں۔جس کا واضح مطلب ہو گا کہ نہ پلاسٹک خریدیں گے ، نہ ہی ہم استعمال کے بعد اسے گھر سے باہر پھینکیں گے۔نمبر 2یہ کہ کیوں نہ ماضی کی طرح اب بھی ، اشیا کو محفوظ کرنے کے لیے پلاسٹک کے بجائے شیشے کی بوتلیں اور برتن استعمال کیے جائیں۔ نمبر 3یہ کہ پلاسٹک کو (Recycle) ری سائیکل کیا جائے۔ نمبر 4 یہ کہ پلاسٹک کے استعمال ہی سے گُریز کیا جائے۔پلاسٹک کے تھیلوں کے بجائے کپڑے کے تھیلے استعمال کیے جائیں۔ کھانے، پینے کی اشیا، جیسا کہ دودھ ، دہی، چائے یا کوئی سالن وغیرہ لانے ، لے جانے کے لیے پلاسٹک کے تھیلے یا بوتلیں ہر گز استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔انگریزی زبان میں ان چار طریقوں کو ’’ Four R’s‘‘ کہا جاتا ہے۔
سائنس دان اب اس بارے میں تحقیق کر رہے ہیں کہ کسی طرح پودوں سے ایسا پلاسٹک بنایا جا سکے جس سے خریداری کے لیے تھیلے اور کھانے کی اشیا محفوظ کر نے کے لیے ڈبے وغیرہ بنائے جا سکیں۔ جنھیں استعمال کے بعد ، پودوں کی کھاد کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ چند جرثوموں کے ذریعے انھیں تحلیل کیا جا سکے گا۔ اِسے انگریزی میں (biodegradable)کہا جاتا ہے ۔ جب کہ پیٹرولیم سے بنا پلاسٹک غیر محلل ہے۔ اسے کسی بھی جرثومے سے تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔
٭ ٭ ٭ ‎


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر