... loading ...
حکومت سندھ کا ہیلتھ کیئر کمیشن حکومت ختم ہونے سے چند ماہ قبل یکم فروری 2018ء کو بالآخر فعال ہوگیا۔ یہ اتفاق تھا یا کچھ اور شہر کے فائیو اسٹار ہوٹل میں اس کمیشن کی افتتاحی تقریب صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی کی سانحاتی یا حادثاتی موت کے باعث مذکورہ تقریب تعزیتی تقریب میں تبدیل ہوگئی۔ تقریب کا آ?غاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کے بعد کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان سید نے اپنے کلیدی خطاب کے آغاز میں ہی صوبائی وزیر کی موت کے باعث تقریب کو تعزیتی تقریب میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فاتحہ خوانی اور مغفرت کی دعا کیلئے کمیشن کے کمشنر اقبال احمد کو روسٹرم پر آنے کی دعوت دے دی جس کے بعد کمیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر منہاج قدوائی نے حاضرین سے اظہار تشکر کرکے تقریب کے التوا کا اعلان کردیا۔ تقریب میں شہر کے نجی ہسپتالوں کے مالکان اور نمائندگان کی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر کسی بھی سرکاری ہسپتال کے انتظامی سربراہ یا ان کے نمائندگان کی کوئی نمائندگی موجود نہیں تھی۔ حالانکہ کمیشن کے قانون کے مطابق اب سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی رجسٹریشن کمیشن میں لازمی کرانی ہے۔ جبکہ تقریب میں کمیشن کے 9 کمشنر اور 8 ڈائریکٹران تو موجود تھے لیکن تقریب میں وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو اور سیکرٹری صحت ڈاکٹر فضل اللہ پیجوہو بھی تقریب میں شریک نہیں تھے۔ اگر ان کی تقریب میں غیر حاضری میر ہزار خان بجارانی کی موت کی وجہ سے تھی تو محکمہ صحت کی کلید پر فائز یہ دونوں شخصیات میر ہزار خان بجارانی جیسی اہم شخصیت کی نعش کے حساس معاملے پوسٹ مارٹم جیسے عمل میں بھی کہیں دکھائی نہیں دیئے۔ جبکہ اس موقع پر میر ہزار خان بجارانی کی اہلیہ کی نہ تو موت کا کوئی ذکر ہوا نہ ان کے لئے دعا کی کوئی ضرورت محسوس کی گئی اور نہ ہی یہ پتا چل سکا کہ کمیشن کی افتتاحی تقریب میں سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی سربراہان یا ان کے نمائندے کیوں موجود نہیں تھے۔ یا انہیں تقریب میں مدعو ہی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اس کا بہتر جواب تو کمیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر منہاج قدوائی بہتر طور پر دے سکتے ہیں۔ تاہم کمیشن کی تقریب کے التوا کے بعد ہائی ٹی کے دوران سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے پہلے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان سید نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ قانون کو معالج اور مریض کے لئے اچھی خبر قرار دیا اور کہا کہ یہ قانون صوبے میں تمام لوگوں کے معیاری علاج کی ضمانت ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے پہلے مرحلے میں ضلع سائوتھ کراچی کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جارہا ہے۔ رواں ہفتے کے دوران کمیشن کا اشتہار شائع ہونے کے نوے روز بعد سائوتھ کراچی کے تمام ہسپتالوں کو رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگی۔ پہلے مرحلے میں یہ کام سائوتھ کراچی سے اس لئے کیا جارہا ہے کہ کمیشن کے اسٹاف کی ریکروٹیمنٹ کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ مرحلہ وار صوبے کے تمام ہسپتالوں کی رجسٹریشن اور دوسرے مرحلے میں انہیں لائسنس دیا جائے گا۔ رجسٹریشن مفت ہے، لائسنس کی فیس مناسب شرح کے مطابق ادا کرنا ہوگی۔ ہسپتالوں کی رجسٹریشن کے بعد پیتھالوجی لیبارٹریز، ریڈیالوجی اور کلینکس کا رجسٹریشن بھی کیا جائے گا۔ پروفیسر ٹیپو سلطان کے مطابق اس قانون کے نفاذ کے بعد اب طبی غفلت کے کسی واقعے یا شکایت کی صورت میں ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ اور طبی و نیم طبی عملے کے ساتھ تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوگا۔ بلکہ مریض یا مریض کے ورثا کمیشن کے پاس اپنی شکایت درج کراسکیں گے اور شکایت درست ہونے کی صورت میں ہسپتال کی بندش، معالج کی پریکٹس کی معطلی اور مالی جرمانے جیسی سزائیں بھی کمیشن کی جانب سے دی جاسکیں گی۔ پروفیسر ٹیپو سلطان نے راقم الحروف کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کمیشن کو خدمات کے عوض فیسیوں کے تعین کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس قانون پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں صوبے سے اتایت کا خاتمہ اور کم ہونے کا عمل شروع ہوسکے گا۔ جبکہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بہت جلد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی میڈیا کو تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ لہٰذا کمیشن کی تفصیلی بریفنگ سے قبل عوام کو یہ بتانا ضروری ہے کہ مذکورہ قانون کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد کرانے میں حکومت سندھ نے تین سال کیوں لگائے۔ جبکہ دنیا میں ہونے والی قانون سازی میں تمام اسٹک ہولڈرز کو اس کی تدوین اور ترتیب میں شامل رکھا جاتا ہے۔ لیکن مذکورہ قانون کی تیاری میں اصل فریق مریض کہیں دور دور تک نہیں ہے اور نہ ہی مریضوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی کسی این جی او کو مذکورہ قانون سازی میں شامل رکھنے کی کوئی بھی شعوری کوششیں کی گئیں۔ جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ قانون ڈاکٹروں کا اور ڈاکٹروں کی تنظیم کا بنایا ہوا ہے اور اس قانون کی منظوری اور اس کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بھی ڈاکٹر اور ایک ڈاکٹروں کی تنظیم بتائی جاتی ہے اس تنظیم کا تعارف یہ ہے کہ وہ نجی تدریسی ہسپتال رکھتے ہیں۔ قانون منظور کرانے والی تنظیم کا کوئی بھی ممبر تدریسی ہسپتال کا حامل نہیں ہے اور اس تنظیم کے قانون کو سندھ اسمبلی تک لے جانے کے لئے پہلے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے آرڈیننس کا سہارا لینا پڑا جبکہ اس کمیشن کے مذکورہ پس منظر میں یہ توقع تو بجا ہے کہ اب صوبہ سندھ میں بغیر رجسٹریشن کے سرکاری اور نجی ہسپتال، پیتھالوجی لیب، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ اور کلینکس کام نہیں کرسکیں گے۔ لیکن ایک ریگولیٹری اتھارٹی کا درجہ کمیشن کو حاصل نہ ہونے کی بناء پر مریضوں کے حقوق کا تحفظ اور نجی ہسپتالوں کی من مانی فیسیوں کو کنٹرول نہیں کیا جاسکے گا مزید کمیشن کی تفصیلی بریفنگ کے بعد سیر حاصل بحث ہوسکتی ہے۔
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...
حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...