... loading ...
سپریم کورٹ کی جانب سے درندہ صفت رائوانوارکی گرفتاری کے لیے دی گئی پہلی ڈیڈلائن گزرگئی لیکن سندھ پولیس تمام ترکوششوں کے باوجوداسے گرفتارکرناتودورکی بات اس کے درست ٹھکانے کاپتہ نہ چلاپائی ۔اس کودیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ رائوانوارانسان سے چھلاوابن چکاہے ۔اس حوالے سے آئی جی سندھ نے بھی یہ کہتے ہوئے اپنی بے بسی ظاہرکردی کہ رائوانواروٹس ایپ استعمال کررہے ہیں اورہمارے پاس اس کاکھوج لگانے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ سندھ پولیس معطل ایس ایس پی کی گرفتاری کے لیے سرتوڑکوششیں کررہی ہے اس حوالے سے سندھ بھرمیں ہی نہیں ملک کے دیگرشہروں میں کارروائیاں جاری ہیں ۔ پشاور اور اسلام آباد میں بھی چھاپے مارے گئے مگر رائو انوار کو گرفتاری عمل میں نہ آسکی ۔ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی نجی طیارے میں یا سمندری راستے سے فرار ہو چکے ہیں یا انہیں بااثر شخصیات نے چھپا رکھا ہے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ رائو انوار ایک نجی ٹی وی چینل پر تو نمودار ہوجاتے ہیں اور اس چینل کو انٹرویو کے لیے دستیاب ہیں مگر وہ پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے دوسرے اداروں کے لیے چھلاوا بنے ہوئے ہیں۔ کیا یہ پولیس کی ناقص کارکردگی کا بڑا ثبوت نہیں؟ ایک پولیس افسر کو جو عدالت کو مطلوب ہے جس پر جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کا الزام ہے۔ وہ نجی ٹی وی چینل کی تو دسترس میں ہے‘ مگر متعلقہ ادارے اسے ڈھونڈنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ عدالت کے حکم پر بھی وہ گرفتار نہیں ہو رہے تو کیا پولیس اپنے پیٹی بند بھائی کی گرفتاری میںدانستاً ٹال مٹول کر رہی ہے۔ رائو انوار اگر بے گناہ ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہو کر مارے جانے والوں کے جرائم کے ثبوت عدالت میں پیش کرنے چاہئیں۔ اس طرح چوہے بلی کے کھیل سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر وہ گرفتاری نہیں دیتے تو پھر پولیس کو چاہئے کہ وہ تمام ممکنہ ذرائع استعمال کر کے انہیں جلد از جلد گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ میں نقیب قتل کیس ازخودنوٹس کیس کی سماعت جاری ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے رائوانوارکی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس کومزید دس روزکی مہلت دیتے ہوئے نہ صرف ان کاپیغام میڈیا پر چلانے پرپابندی لگا دی بلکہ ملزم کی تلاش کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کو انٹرپول کے ذریعے دنیا بھر کے ایئرپورٹس سے رابطہ کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ میں نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور ڈی جی سول ایوی ایشن عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کے جان و مال کے محافظ پر قتل کا الزام لگا ہے، نقیب اللہ قتل کا الزام دراصل ریاست پر ہے۔ اس موقع پر آئی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ڈی آئی جی کو 13 جنوری کو پولیس مقابلے کا بتایا گیا، 4 میں سے 2 دہشتگردوں کی شناخت موقع پر ہوگئی تھی، 17 جنوری کو نقیب اللہ کی لاش کی شناخت ہوئی، سوشل میڈیا سے معلوم ہوا ہے نقیب اللہ روشن خیال تھا، معلومات ملنے پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی، 19 جنوری کو تحقیقاتی کمیٹی نے بتایا پولیس مقابلہ فرضی تھا۔
اس موقع پرچیف جسٹس نے استفسار کیا تحقیقاتی کمیٹی رپورٹ آنے کے بعد ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی؟، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ملزمان کو فرار سے روکنا چاہیے تھا۔ آئی سندھ نے جواب دیا کہ راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کی کوشش کے باوجود راؤ انوار اسلام آباد ائرپورٹ پہنچ گیا۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ 20 جنوری کو راؤ انوار پی کے 300 کے ذریعے اسلام آباد آئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا راؤ انوار فلم کی طرح گنے کی ٹرالی پر لیٹ کر آیا؟، ایئر پورٹ تک پہنچنے کے دوران راؤ انوار کو کیوں نہیں روکا گیا؟۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کیا راؤ انوار کو فرار ہونے کا موقع دیا گیا؟، راؤ انوار کو ایف آئی اے نے روکا، اگر وہ چلا جاتا تو کیا ہوتا؟، آپ نے تو صرف خط بازی کے ذریعے کام چلا دیا، پولیس اتنے اہم ملزم کی نگرانی کیوں نہیں کر رہی تھی؟ چشم دید گواہوں کے کہنے پر مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا، آپ کو معلوم ہے عدالت پر آئی جی کی تقرری سے متعلق کتنی تنقید ہو رہی ہے، آپ کی تقرری پر ہمیں بہت کچھ سننا پڑ رہا ہے۔ آئی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا عدالت کہے تو عہدہ چھوڑ دیتا ہوں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ راؤ انوار عدالتی حفاظت میں آجاؤ، اگر عدالتی تحویل میں نہ آئے تو زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے، جن لوگوں کے کہنے پر کام ہو رہے ہیں نہیں چھوڑیں گے، مجھے نہیں معلوم کہ راؤ انوار سے کون لوگ کام کروا رہے ہیں۔
سوال یہ پیداہوتاہے کہ ایک ایس ایس پی رینک کاافسرجسے ماورائے عدالت قتل سے میڈیاکے ذریعے شہرت ملی اتناطاقت ورکیسے ہوگیاکہ ساری پولیس فورس‘ ملک بھر کی ایجنسیاں اسے گرفتارکرنے میں ناکام ہیں ۔رہی بات جعلی مقابلوں کی تواس حوالے سے ماضی میں بھی اس پرالزاما ت لگتے رہے ہیں لیکن وہ اس قسم کی صورت حال سے دوچارنہیں ہواجواسے آج کل درپیش ہے ۔ ہرمرتبہ حدودسے تجاوزکرنے کے بعد وہ دندناتا نظر آتا اور پہلے سے بڑھ کرکارروائیوں میں مصروف ہوجاتا،حیرت کی بات یہ ہے کہ ہربارمبینہ خطرناک دہشت گردوں سے اس کا اور اسکی پارٹی کاٹاکراہوتااورکسی کوخراش تک نہ آتی اوراسلحہ وبارودلے کرچلنے اورخودکودھماکے سے اڑالینے والے مبینہ دہشت گردہی مارے جاتے ۔ اورمیڈیاپرآکر وہ ہیروبن جاتا۔ نقیب اللہ کی ہلاکت والے روزبھی یہی رائوانوارٹی وی اسکرین پرنظرآیا اوراپنے تازہ کارنامے سے آگاہ کیا۔ اگرسوشل میڈیااس معاملے کونہ اٹھاتاتوشایدسفاک ایس ایس پی ہمیشہ کی طرح اسے معاملے سے بچ نکلتالیکن اس بات سے کسی کوانکاربھی ممکن نہیں کہ اللہ کی پکڑبڑی ہے اورانسان خواہ کتنابھی بڑاجرم کرلے اپنی زندگی میں ایک بار ضرورقانون کی گرفت میں آتاہے ۔
جیسے جیسے کیس کی تفتیش آگے بڑھ رہی ہے مزید سنگین معاملات سامنے آرہے ہیں ۔ رائوانوارصرف پولیس مقابلو ں ہی میں مصروف نہیں تھا۔ اس کی سرپرستی میں دیگرغیرقانونی دھندے جن میں ریتی بجری کی چوری ‘زمینوں پرقبضہ وغیروغیرقابل ذکرہیں جاری تھے اطلاع کے مطابق اب دھندے بند ہوچکے ہیں۔یہ بھی کہاجاتاہے کہ اسے پیپلزپارٹی کی اعلی ترین شخصیت کی پشت پناہی بھی حاصل تھی ،اسی لیے وہ ہربارمعطل ہونے کے بعد دوبارہ اپنی من پسند سیٹ پربراجمان ہوتارہاہے ۔اس وقت بھی جب ساری پولیس فورس اورایجنسیاں اسے تلاش کرنے میں مصروف ہیں اورپاکستان میں ہونے کے باجودکسی کے ہاتھ نہیں آرہاہے اسے دیکھتے ہوئے کوئی کم عقل بھی صاف کہہ سکتاہے کہ وہ اپنے انہی سرپرستوں کی بنائی گئی خفیہ کمیں گاہوں میں موجودہے جن کی ایماء پروہ ہربڑے سے بڑاکام کرنے سے بھی چوکتا تھا۔
معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...
آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...
منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...
حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...
اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...
عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...
نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...
توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...
کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...
صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...
لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...