وجود

... loading ...

وجود

زہریلے کیمیکل ملے مصنوعی دود ھ کی فروخت‘بڑی کمپنیاں بھی موت بانٹنے میں پیش پیش

جمعرات 01 فروری 2018 زہریلے کیمیکل ملے مصنوعی دود ھ کی فروخت‘بڑی کمپنیاں بھی موت بانٹنے میں پیش پیش

پاکستان میں ہرجانب جعلسازی کرپشن اورفراڈعام ہے ‘چھوٹے بڑے سرکاری اداروں میں رشو ت کاراج ہے ‘ہرکوئی بہتی گنگامیں ہاتھ دھونے میں مصروف ہے ۔ملک کے طول وعرض سے ایسی ایسی بھیانک خبریں موصول ہوتی ہیں کہ دل دہل جاتاہے ۔ملک بھرمیں جعلی مسالہ جات ودیگراشیائے ضروریہ کی تیاری کی خبریں توآئے روزسامنے آتی رہتی تھیں اور ان کوتیارکرنے والے مراکزکے خلاف کئی شہروں میں کارروائی بھی جاتی رہی ہے، لیکن اس سب کے باوجوداعلی حکومتی شخصیات سے تعلقات یارشوت کے بل پریہ کارروباردھڑلے سے جاری ہے ۔ یہی نہیں ظالم لوگ اپنے منافع کی خاطردودھ جیسی نعمت بھی جعلی تیارکرکے مارکیٹ میں فروخت کررہے ۔ اس جرم میں چھوٹے کاروباری حضرات ہی نہیں بڑی بڑ ی کمپنیاں بھی شریک ہیں ۔ کیونکہ جعلی دودھ کی تیاری میں سرمایہ اوروقت کم منافع بہت زیادہ حاصل ہوتاہے۔ کیونکہ اس کی تیاری کے لیے جعلی وائٹنگ پائوڈراوریوریاکھاد اورپانی کی ضرورت ہوتی ہے اورمنٹوں میں جعلی دودھ تیارہوجاتاہے ۔ بعض اطلاعات کے مطابق جعلی دودھ کی تیاری میں بال صفاپائوڈربھی استعمال کیاجاتاہے ۔

یہی نہیں ملک کی بعض مشہورترین کمپنیا ں بھی ٹی وی چینلزاوراخبارات میں پبلسٹی پربھاری بھرکم رقم خرچ کرکے خوبصورت پیکنگ میں دودھ کے نام پرعوام کوناجانے کیاالابلافروخت کرتی رہی ہیں ۔گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ آف پاکستان نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ڈبے میں مضرِ صحت دودھ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔اورملک بھر میں تمام مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے ڈبے کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔

عدالتی حکم پر مختلف کمپنیوں کی جانب سے فروخت ہونے والے ڈبے کے دودھ کے ٹیسٹ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس میں انکشاف ہوا کہ چار کمپنیوں کے دودھ مضرِ صحت ہیں جنہیں تیار کرنے کے لیے ان میں کچھ مضرِ صحت کیمیکلز ملائے جاتے ہیں۔کمپنیوں کے وکلا نے اپنے دلائل کے دوران سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ انہیں مزید وقت دیا جائے اور ڈبے کے دودھ کا کسی معیاری لبیبارٹری سے ٹیسٹ کرایا جائے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ عوام کو غیر معیاری دودھ فروخت کر رہے ہیں۔

عدالت نے ٹیسٹ کے نتیجے کی روشنی میں چار کمپنیوں کے ڈبے کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کردی اور ان میں سے ایک کمپنی پر جرمانہ بھی عائد کردیا، اس کے ساتھ ساتھ ٹی وائٹنرز بنانے والی کمپنیوں کو ڈبے پر یہ دودھ نہیں لکھنے کی ہدایت جاری کر دی۔سپریم کورٹ نے دیگر کمپنیوں کے دودھ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

کراچی رجسٹری میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اچھے برانڈز والے دودھ بھی ناقص ہیں، اسی لیے ہر برانڈ کے دودھ کا جائزہ لیا جائے گا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈبے کا دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت جاری کیں تھیں کہ ٹی وائٹنرز کے ڈبے پر واضح طورپر لکھا جائے کہ یہ دودھ ہرگز نہیں ہے جبکہ ٹی وی اور اخبارات میں بھی اشتہار میں واضح کیا جائے کہ ڈبے میں دودھ نہیں ہے۔

ڈبے کے دودھ کی فروخت کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے عدالت عظمی میں جواب داخل کرایا گیا تھا۔بعدِ ازاں چیف جسٹس نے عدالتی معاون کو حکم دیا تھا کہ مارکیٹ سے دودھ اور ٹی وائٹنرز کے ڈبے اٹھا کر پی سی ایس آئی آر لیبارٹری سے دودھ کا معائنہ کرایا جائے۔ یاد رہے کہ 6 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں ڈبے کے تمام دودھ جعلی اور مضر صحت ہیں۔

سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل فوڈ نے عدالت کو بتایا تھا کہ حلیب، اینگرو فوڈ، نیسلے، ایوری ڈے، فوجی، شکر گنج سمیت 90 فیصد کمپنیاں ٹی وائٹنر بنا رہی ہیں۔خیال رہے کہ اس قبل ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے ڈبے پر جلی حروف میں یہ دودھ نہیں لکھنے کا حکم دیا تھا۔تاہم عدالتی احکامات پر ٹی وائٹنر بنانے والی کمپنی ترنگ نے ڈبے کا نیا ڈیزائن پیش کیا جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

بعدازاں لاہوررجسٹری میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جب ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ غیر معیاری دودھ کے کئی سیمپل لے کر لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں جہاں سے آئی ہوئی رپورٹ غیراطمینان بخش ہے۔ اس موقع پرودھ فروخت کرنیوالی کمپنیوں کے وکلا ء نے بند کی گئی کمپنیوں کو کھولنے کی استدعا بھی کی

اس دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے نمونوں میں غیر معیاری دودھ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف کاروائی کرکے انہیں سیل کیاگیاہے اگر یہ اپنا معیار بہتر کر لیں تو انہیں ڈی سیل کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پاؤڈر ملک کو دودھ کہہ کرفروخت کررہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ کمپنیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کویہ لکھناپڑے گا کہ یہ دودھ نہیں ہے۔ جب تک تسلی نہیں ہوگی، دودھ کی کمپنیاں نہیں کھلیں گی۔دوران سماعت بریسٹر ظفراللہ خان نے کہا کہ غیرمعیاری دودھ کی تشہیر کرنیوالوں کوسزا دی جائے۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ پہلا موقع دے رہا ہوں ہرکوئی اپنا قبلہ درست کر لے۔ قبلہ درست نہ کیا توقانون کیمطابق کارروائی کریں گی. عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔
اس حوالے سے کوئی دورائے نہیں ہیں کہ دودھ کے نام پرمضرصحت کیمیکل ملک کے تمام شہروں میں کھلے عام فروخت کیاجارہاہے ۔جبکہ ملک بھرمیں باڑوں کے آنے والادودھ بھی کسی طورخالص نہیں کہاجاسکتا ماضی میں توصرف دودھ میں پانی ملاکردوگنامنافع کمایا جاتا تھا اب توبھینسوں کوٹیکے لگاکر دودھ بھی زیادہ بھی حاصل کیاجانے لگاہے اوراس میں پانی بھی ملادیاجاتاہے۔ جس کی وجہ ایک جانب تودودھ اپنی غذایت کھودیتاتودوسر ی جانب ا ن ٹیکوں کے لگائے جانے سے بھینیسںروقت سے پہلے ہی کٹوکے نام پرکمیلے میں پہنچادی جاتی ہیں اور ان کا لاغر گوشت بھی مارکیٹ میں آکربیماریاں پھیلانے کاسبب بنتا ہے اس کے علاوہ ڈبہ پیک دودھ فراہم کرنے والی کمپنیاں دودھ نہیں ٹی وائٹنرفروخت کے لیے پیش کرتی ہیں ۔ اس پرستم یہ کہ ان ڈبوں میں موجودفارمولین نامی کیمیکل بھی انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے بھنیسوں کادودھ دینے والے انجکشن پربھی پابند ی لگائی جاچکی ہے ۔ اس پابندی پرعمل درآمد کرانا حکومتوں کاکام ہے لیکن افسوس کامقام یہ ہے کہ عدالتی حکم کے باوجودمتعلقہ ادارے حرکت میں آتے نظرنہیں آرہے خاص کرسندھ اورکے پی کے کہیں سے کوئی ایسی اطلاع نہیں ملتی کہ جہاں جعلی دودھ تیارکرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہو۔

اس سلسلے میں کسی حدتک پنجاب میں فعال محکمہ فوڈکی جانب سے کارروائیوں اورجعلی دودھ کے تلف کیے جانے کی اطلاعات سامنے بھی آجاتی ہیں لیکن کراچی جیسے شہرمیں اس مصنوعی دودھ کی فروخت کی روک تھام کے لیے کوئی ادارہ حرکت میں نظرنہیں آتا۔ کم وپیش تمام علاقوں میں یہ مصنوعی دودھ دکانوں میں فروخت خالص دودھ سے نسبتاکم قیمت پرفروخت کیاجارہاہے اورمہنگائی کے ستائے عوام چندپیسے بچانے کے چکر میں اسے خرید کرخوداپنے اوراہل خانہ کے لیے بیماریوں کاسامان پیداکررہے ہیں ۔ کم وپیش یہی صورت سندھ کے دیگرشہروں کی ہے جہاں ایساکوئی نظام موجودنظرنہیں آتاجوا س مذموم کاروبارمیں ملوث عناصرکوگرفت میں لائے ۔ اس کی وجہ صاف ظاہرہے کہ اس کاروبارمیں وہ سرمایہ دارملوث ہیں جوتمام چھوٹے بڑے افسران کی مٹھی گرم کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی شخصیات کے منہ بندکرنے کے اسباب پیداکرتے رہتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر