وجود

... loading ...

وجود

نقیب اللہ کی جعلی مقابلے میں ہلاکت رائوانوارکے گلے کاپھندابننے لگی

منگل 23 جنوری 2018 نقیب اللہ کی جعلی مقابلے میں ہلاکت رائوانوارکے گلے کاپھندابننے لگی

نقیب اللہ محسودکی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت ایس ایس پی ملیرکے گلے کاپھندابنتی جارہی ہے ۔ سول سوسائٹی کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے سوشل میڈیاپرزیربحث آنے اورمیڈیاکے شورمچانے کے بعد اعلی حکام حرکت میں آئے آئی جی سندھ نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکی ہدایت پرتحقیقات کاحکم ہی نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخودنوٹس بھی لے لیاہے ۔معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی جس نے ابتدائی تحقیقات کی مقابلہ مشکوک قراردیا۔ اس بعد رائوانوارکے خلاف ثبوت سامنے آتے چلے گئے ۔پرنٹ والیکٹرانک میڈیاکی جانب سے اپنے طورپرتحقیقات بھی کی گئیں ، جس میں صرف نقیب اللہ ہی نہیں کئی مقابلے مشکوک محسوس ہوئے ۔تاہم فی الحال نقیب اللہ محسودکامعاملہ ہی زیربحث ہے ۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ خودمعاملے کی تحقیقات اورحقائق سامنے لانے کے لیے میدا ن میں ہیں ۔اورضلع ملیرمیں تعینات تین ایس پیز‘دوایس پیزاوردس ایچ اوزکاتبادلہ کیاجاچکاہے ۔جن میں سے کئی کے خلاف تحقیقات بھی جاری ہیں خودسابق ایس ایس پی ملیررائوانوارکے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ گزشتہ روز ایس پی انویسٹی گیشن شرقی 2 عابد قائم خانی کی جانب سے راؤ انوار کو نقیب اللہ کے معاملے میں تحقیقات کے لیے پیر 22 جنوری کو سینٹرل پولیس آفس طلب کیا گیا تھا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔سینٹرل پولیس آفس میں اعلیٰ پولیس حکام اور ہیومن رائٹس ٹیم کے ارکان راؤ انوار کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ مقررہ وقت میں آفس نہیں آئے۔اس کے علاوہ تحقیقات کے لیے امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت علی شاہ، محسن عباس اور راجہ شمیم کو بھی طلب کیا گیا تھا۔اس بارے میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن شرقی 2 کا کہنا تھا کہ ہمارا راؤ انوار سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، کا فی انتظار کیا گیا لیکن کوئی افسر اب تک پیش نہیں ہوا، جس پر محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ہائی پروفائل کیس ہے جبکہ پورے پاکستان کی نظر اس پر ہے اور اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا۔انہوں نے راؤ انوار کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ تعاون کریں بصورت دیگر ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔راؤ انوار کے گھر پر چھاپے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ گھروں پر نوٹس چسپا کروائے گئے ہیں، اب تک کوئی چھاپا نہیں مارا گیا۔ ڈی آئی جی ایسٹ کہناتھا کہ انکوائری کمیٹی راؤانوارکوسنناچاہتی تھی اس کامقصد راؤ انوار کو موقع دیناتھاکہ اگران کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کریں۔انھوں نے کہا کہ ہمیں شفاف تحقیقات کرنی ہیں اور ہم پرکسی بھی ادارے کادباؤ نہیں۔سلطان خواجہ نے کہا کہ اگر ہم پراعتبارنہیں تو راؤانوار ہیومن رائٹس کمیشن کیسامنے پیش ہوجائیں۔انھوں نے راؤانوار پر ہونے والے خود کش حملے پر بھی شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آورجلتانہیں ہے اس لیے راؤانوار پر ہونے والا خودکش حملہ مشکوک لگتا ہے اور اس خود کش حملے کی بھی تفتیش کریں گے۔

دوسری جانب راؤ انوار نے معاملے کی تفتیش کرنے والی انکوائری ٹیم کے دو ارکان کو ان کے خلاف ‘ذاتی طور پر جانب دار’ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے تفتیش کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ایس ایس پی راؤ انوار کا کہنا تھا کہ انہوں یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ انکوائری ٹیم میں موجود دو ارکان مبینہ طور پر ان کے خلاف ‘ذاتی طور پر جانب دار’ ہیں اور انہیں واقعے کے حوالے سے پوچھے بغیر کیس میں ملوث کردیا گیا۔انھوں نے ایک روزقبل بھی کہاتھاکہقبل ازیں راؤ انوار نے دعویٰ کیا تھا کہ جب وہ پولیس پارٹی کے ہمرا انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے اس وقت انھوں نے ‘مکمل تعاون کیا تھا’ تاہم بعد ازاں مجھے کہا گیا کہ ایک اور سیشن ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر میں جمعے کی نماز کے بعد ہوگا۔انھوں نے کہا کہ جمعے کی نماز کے بعد ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر میں چار مرتبہ رابطہ کیا لیکن انھیں کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔دوسری جانب ملیر کے ایس پی انوسٹی گیشن عابد قائم خانی نے راؤ انوار کے اس دعوے کو مسترد کردیا جس میں انھوں کہا تھا کہ ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر سے رابطے کے لیے چار مرتبہ کوشش کی لیکن انھیں ملاقات کے لیے نہیں بلایا گیا۔

سابق ایس ایس پی ملیر نے انکشاف کیا کہ وہ انکوائری کمیٹی کو پہلے ہی دو پولیس فسران کے نام دے چکے ہیں جن کے نام علی اکبر اور فیصل ہیں جنھوں نے نقیب کو حراست میں لیا اور انھیں دہشت گرد کے طور پر پیش کیا اور انھیں دیگر تین اصلی دہشت گردوں کے ساتھ مار دیا۔راؤ انوار نے کہا کہ انھوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا تاکہ پولیس پارٹی کا مورال بلند کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ‘میں عام طور پر مقابلے کے بعد میڈیا سے صرف اس لیے بات کرتا ہوں تاکہ پولیس پارٹی کے بجائے میں خود سیکیورٹی رسک لوں۔پولیس پارٹی کی جانب سے انھیں غلط معلومات پہنچانے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘ہوسکتا ہے پولیس پارٹی کی جانب سے مجھے غلط رہنمائی دی گئی ہو’۔

اتوارکے روزعدم پیشی کے بعد پیر کو تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیٹی نے ایک بار پھر راؤ انوار کو آج طلب کیا تھا تاہم وہ آج بھی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوسکے۔ تحقیقاتی کمیٹی کا اتوار کی رات 11 بجے ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر میں اجلاس ہوا جس میں آج صبح ساڑھے دس بجے سینٹرل پولیس آفس میں ایس ایس پی راؤ انوار کو اپنی ٹیم کے ہمراہ پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا لیکن راؤ انوار نے آئی جی سندھ کے احکامات کو بھی ہوا میں اڑا دیا اور پیش نہیں ہوئے جبکہ ہیومن رائٹس ٹیم اور اعلی پولیس افسران سی پی او میں ان کے منتظر رہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں رائو انوار اپنا موبائل فون بندکرے روپوش ہوچکے ہیں

اس حوالے سے سینئر پولیس افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ماورائے عدالت ’جعلی انکاؤنٹر‘ میں ہلاک کیا۔باوثوق ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے سندھ پولیس کو جمع کرائی گئی اپنی ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ 27 سالہ نوجوان میں عسکریت پسندی کا بھی کوئی رجحان نہیں تھا۔دو روز کی تحقیقات کے دوران، جس میں مبینہ انکاؤنٹر کے مقام کا معائنہ بھی شامل تھا، کمیٹی کو فائرنگ کے تبادلے کے کوئی شواہد نہیں ملے جس کے باعث کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ نسیم اللہ، جسے نقیب اللہ محسود کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک حوصلہ مند نوجوان تھا جس کا عسکریت پسندی یا جرائم میں ملوث ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔سندھ پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی کے آئی جی پی ڈاکٹر ثنااللہ عباسی کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمیٹی دو روز قبل تشکیل دی گئی تھی، جسے پولیس کے مبینہ انکاؤنٹر کی تحقیقات کا ٹاسک سونپا گیا تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے ابتدائی نتائج سے واقف ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران کمیٹی اراکین نے نیشنل ہائی وے سے باہر شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ انکاؤنٹر کے مقام کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فائرنگ کے مبینہ تبادلے میں حصہ لینے والے ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن امان اللہ مروت سمیت 6 پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ایس ایچ او نے کمیٹی اراکین کو بتایا کہ پولیس پارٹی خفیہ اطلاع پر علاقے میں ٹارگٹڈ کارروائی کر رہی تھی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی کو معلوم ہوا کہ جس مقام پر مبینہ انکاؤنٹر کیا گیا وہ ایک ویران پولٹری فارم تھا۔اپنے بیان میں ایس ایچ او امان اللہ مروت نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے مشتبہ دہشت گردوں کے ٹھکانے کا محاصرہ کیا تو ان کی جانب سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں 4 مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں سے ایک کی شناخت نقیب اللہ محسود کے نام سے ہوئی۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ پولٹری فارم کے مکمل معائنے کے بعد تحقیقاتی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ انکاؤنٹر ’جعلی‘ اور ’من گھڑت‘ تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ کمیٹی اراکین کو پولٹری فارم کے اندر گولیوں کے کوئی نشانات نہیں ملے، بلکہ فارم کے کمرے اور دیواروں پر فائرنگ کے مختلف نشانات تھے جنہیں کمیٹی اراکین نے ’واقعے کے بعد ڈالے جانے والے اور جھوٹے نشانات‘ قرار دیا۔تحقیقاتی کمیٹی کو ایسے بھی کوئی شواہد نہیں ملے سے جس سے یہ معلوم ہو کہ پولیس پارٹی پر پولٹری فارم کے اندر سے حملہ کیا گیا۔یہ بات واضح ہونے کے بعد کہ انکاؤنٹر ’جعلی‘ تھا، تحقیقاتی کمیٹی نے نقیب اللہ محسود سے متعلق بھی معلومات حاصل کیں۔ذرائع نے کہا کہ کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ کی پروفائل اور سوشل میڈیا پوسٹس سے عسکریت پسندی کا کوئی رجحان نہیں پایا گیا۔اراکین نے کہا کہ مقتول بظاہر ایک خوشگوار زندگی گزار رہا تھا جس نے اپنے مستقبل کے مقاصد بھی طے کر رکھے تھے۔

1992ء ایم کیوایم کے خلاف آپریشن سے شہرت پانے والے رائو انوار نے اب تک مقابلو ں میں ڈھائی سوکے لگ بھگ ملزمان کوماراہے ان کی کاپسندیدہ ضلع بھی ملیر ہی ہے وہ مختلف الزامات کے تحت معطل اورمحکمانہ کارروائی کاسامنابھی کرچکے ہیں ۔ کچھ عرصے قبل انھیں ایم کیوایم رہنما خواجہ اظہارالحسن کی گرفتاری پرمعطل کیا گیا تھاتاہم چندمہینوں بعد ہی وہ واپس بحال کر دیے گئے تھے ۔ سندھ پولیس میں وہ ان کائونٹراسپیشلسٹ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔کئی مقابلو ں میں انھوں کالعدم جماعتوں کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی ہیں ۔ موجودہ مبینہ پولیس مقابلہ بھی شاہ لطیٖٖف ٹائون میں ہونے والاہی ایک مقابلہ تھا جس میں نقیب اللہ محسود سمیت چاردہشت گردوں کومارنے کادعوی کیا گیا تھا۔ تاہم یہ مقابلہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعدمشکوک ہوچکاہے اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں ۔اوروہ اس کے سامنے پیش ہونے کے بجائے اپناموبائل بندکرکے روپوش ہوچکے ہیں۔امکان پایا جا رہا ہے کہ انھیں پارٹی سمیت گرفتار کر لیا جائے گا۔ دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ازخودنوٹس لیے جانے کے بعد مقتول نقیب سمیت کئی معاملات سامنے آنے کاامکان ہے ۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر