... loading ...
جرات رپورٹ
جو استعفیٰ لینے گھروں سے نکلے ہوئے تھے، وہ اگر خود استعفیٰ دے کر چلے جائیں تو آپ انہیں کیا کہیں گے؟ کامیاب یا ناکام؟ خیر یہ فیصلہ تو ہوتا رہے گا، البتہ عمران خان نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیج دی ہے۔ اس پارلیمنٹ پر جس سے وہ اور ان کی جماعت کے ارکان ہر ماہ لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔ ایسی ’’ہزاروں لعنتیں‘‘ وہ پہلے بھی اس اسمبلی پر بھیج چکے ہیں۔ انہوں نے ان گنت مرتبہ یہ کہا کہ اس اسمبلی میں سارے چور اور ڈاکو بیٹھے ہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عمران خان اور ان کی پارٹی کے ارکان اسمبلی سے مستعفی ہوچکے تھے۔ البتہ چار یا پانچ ارکان ایسے تھے، جنہوں نے استعفے نہیں دئیے اور وہ پارٹی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے اسمبلی میں بدستور آتے رہے۔
تحریک انصاف کے جن ارکان نے استعفے دئیے تھے، انہوں نے بھی ایک دن اچانک اس لعنت زدہ اسمبلی میں دوبارہ قدم رنجہ فرمایا۔ استعفے کے تمام مہینوں کی ایک ایک پائی وصول کی۔ تنخواہ بھی، ٹریول واؤچر بھی اور وہ ساری مراعات بھی جو ایک ایم این اے اس لیے وصول کرتا ہے کہ وہ اسمبلی کے اجلاس میں جائے۔ لاہور کی شاہراہ قائداعظم پر عوامی تحریک کے جس جلسے میں عمران خان نے اسمبلی کی رکنیت پر لعنت بھیجی، اس میں آصف علی زرداری بھی شریک ہوئے، جہاں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جب چاہیں حکومت کا خاتمہ کرسکتے ہیں، ایک دوسری چونکا دینے والی بات انہوں نے ایسی بھی کی جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کی حالیہ کارروائیوں یعنی نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور بعدازاں ان کے استعفے کے بعد مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے عبدالقدوس بزنجو کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب میں ان کا کردار تھا۔ انہوں نے کہا ہم نے دعا بھی دی اور دوا بھی۔ اس سے یہ مفہوم بھی نکالا جاسکتا ہے کہ ارکان صوبائی اسمبلی کو اربوں روپے دینے کی جو بات ایک رکن اسمبلی کر رہے ہیں، اس میں صداقت ضرور ہوگی۔
آصف علی زرداری کے اس اعلان سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کی کوئی حیثیت نہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بلوچستان کے معاملات سے پیپلز پارٹی کا کچھ لینا دینا نہیں۔ اگر والد محترم کہتے ہیں ’’دعا بھی دی اور دوا بھی‘‘ تو صاحبزادے کی اس بات میں تو کوئی وزن نہیں رہ جاتا۔ شیخ رشید احمد نے اس اسمبلی کی رکنیت پر بار بار لعنت بھیجی، جس کے وہ ساڑھے چار سال سے رکن ہیں اور اب جبکہ اس کی مدت ساڑھے چار ماہ رہ گئی ہے، انہوں نے اس پر لعنت بھیج دی ہے۔ وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ شہباز شریف پر بھی تبرّہ کرتے رہے۔ شیخ رشید تو خیر اپنی پارٹی کے تنہا والی وارث ہیں نہ وہ کسی کو جواب دہ ہیں نہ پارٹی کے اندر کوئی ایسے لوگ ہیں جن سے انہیں مشورہ کرنا پڑے، اس لیے وہ پارٹی کی جانب سے کوئی بھی اعلان کرسکتے ہیں۔ البتہ تحریک انصاف میں مشاورت کا عمل ہوتا رہتا ہے۔ اگرچہ حرف آخر تو وہاں بھی عمران خان کا فرمایا ہوا ہی ہوتا ہے۔ تاہم مشاورت کا تکلف تو کرنا پڑتا ہے، عین ممکن ہے کہ وہاں استعفوں کا فیصلہ نہ ہو پائے، کیونکہ اگر استعفے ہی دینے ہیں تو لودھراں میں ضمنی الیکشن لڑنے اور جہانگیر ترین کی نشست پر ان کے صاحبزادے کو منتخب کرانے کی کوششیں کیوں ہو رہی ہیں؟
عمران خان اور آصف علی زرداری کا آمنا سامنا ہونے سے بچنے کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری نے یہ طے کر دیا تھا کہ جلسے کے دو سیشن ہوں گے۔ پہلے سیشن میں زرداری خطاب کریں گے اور دوسرے میں عمران خان۔ یہ فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کہ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا، حالانکہ ڈاکٹر طاہر القادری بہت دن پہلے سے مسلسل یہ کہہ رہے تھے کہ زرداری اور عمران ان کے دائیں بائیں ہوں گے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ عمران خان کینٹ میں جے ڈبلیو ڈی (جمال دین والی) شوگر ملز کے دفتر میں بیٹھے رہے۔ یہ جہانگیر ترین کی مل ہے، وہاں منتظر رہے کہ زرداری جلسے سے خطاب کرکے چلے جائیں تو وہ خطاب کے لیے پہنچیں۔ چنانچہ جب زرداری چلے گئے تو عمران خان جلسہ گاہ پہنچے۔ لاہور میں جب یہ جلسہ جاری تھا، بلاول بھٹو بدین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ تحریک انصاف والے سیاست نہیں جانتے ، انہیں سیاست سمجھنے کے لیے ہمارے پاس آنا چاہئے۔ شاید اسی لیے عمران خان، آصف زرداری کی موجودگی میں جلسے میں نہیںآئے کہ کہیں لوگ سچ مچ یہ نہ سمجھنے لگیں کہ عمران خان سیاست کے اسرار و رموز جاننے کے لیے زرداری کے پاس گئے ہیں۔
دوسری جانب وزیرخارجہ عمران خا ن پارلیمنٹ سے متعلق ریمارکس پربرس پڑے اوران کا کہنا ہے کہ حکومت کو گالی دینا اور نکتہ چینی کرنا اپوزیشن کا حق ہے، ادارے کو گالی دینے کا کسی کو حق نہیں پہنچتا، عمران خان جلسوں سے کبھی وزیراعظم نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا جس پارٹی لیڈر نے پارلیمنٹ کو گالی دی، ان ارکان نے استعفے دیئے، یہ رینگتے ہوئے گھٹنوں کے بل ایوان میں واپس آئے، پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ سے کیا کیا سہولتیں لیں سب ظاہر کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ ہمارا فرض ہے پارلیمنٹ کے تقدس کی حفاظت کریں، فیصلے جلسوں میں نہیں ایوان میں ہوتے ہیں، پارلیمان پر حملہ کیا گیا اور گالیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا یہ کامیابی کا نہیں نا کامی کا راستہ ہے، ان لوگوں کو استحقاق کمیٹی میں بلانا چاہیے اور کمیٹی کے چیئرمین کو اختیار ہے کہ ان کو طلب کرے، ان میں ضمیر، شرم اور حیا نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کے پارلیمنٹ سے متعلق الفاظ کی مذمت کرتا ہوں، جو پارلیمنٹ کو برا سمجھتے ہیں انہیں پاکستان میں سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ان کا کہنا تھا قصور پارلیمنٹ کا نہیں بلکہ حکومت کا ہوتا ہے، پاکستان میں پارلیمنٹ پہلے دن سے ہوتی تو بڑے بڑے سانحے پیش نہ آتے۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ ہونے کی وجہ سے سرحدوں کو مضبوط بنایا گیا، ملک کو ایٹمی طاقت بنایا گیا۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا پارلیمنٹ کو اس کا وقار نہ دینا حکومتوں اور ہماری ناکامی ہے، جو پارلیمنٹ کو نہیں مانتے ان کے استعفی کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں عمران خان اور شیخ رشید کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظورکر لی گئی ، قرارداد منظوری کے وقت تحریک انصاف کے ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایوان عمران خان اور شیخ رشید کے الفاظ کی سخت مذمت کرتا ہے،چیئرمین تحریک انصاف اور سربراہ عوامی مسلم لیگ ایوان کے رکن ہیں لیکن دونوں نے پارلیمان کے تقدس کو مجروح کیا،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا استحکام اور بلندی جمہوریت سے وابستہ ہے،پارلیمان عوام کا نمائندہ ادارہ اور جمہوریت کی علامت ہے،لاہور جلسے میں 22 کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی جس کی ایوان مذمت کرتا ہے۔
یہی نہیں عمران خان اورشیخ رشیداحمدکے پارلیمنٹ سے متعلق ریمارکس پرمختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے ردعمل آرہاہے سوشل میڈیاپربھی اس حوالے سے ایک نئی بحث چل نکلی ہے جوناجانے کتنی دورتک جائے ۔معاملہ جوبھی ہوکہا ہوسکتا ہے کہ آئندہ چنددنوں تحریک انصاف کی جانب سے بھی قومی اسمبلی سے استعفے سامنے آجائیں۔
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...
یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...
فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...
عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...
7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...
ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...
امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...
پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...