وجود

... loading ...

وجود

جڑی بوٹیوں کی چائے

منگل 16 جنوری 2018 جڑی بوٹیوں کی چائے

جڑی بوٹیاں مختلف خواص کی حامل ہوتی ہیں۔ ان خصوصیات کو مدّنظر رکھتے ہوئے آج مشرق اور مغرب علاج کے ضمن میں ان دوائی پودوں سے یکساں فائدے حاصل کررہے ہیں۔ جڑی بوٹیوں سے چائے بنانے کا تصور جدیداور بہت دل کش ہے ،لیکن طب میں جوشاندے کا تصور بہت پرانا ہے۔ جڑی بوٹیوں سے چائے بنانے کا انداز مغرب نے اپنایا ہے۔ وہ اسے جوشاندے کا نام نہیں دیتے، بلکہ چائے کہنے پر اصرار کرتے ہیں، اس لئے ہم بھی اسے چائے ہی کہیں گے۔ ویسے بھی جو شاندے کے مقابلے میں چائے زیادہ اچھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ چائے ابتدا میں بعض لوگوں کو زیادہ ذائقے دار محسوس نہیں ہوتی ، لیکن بعد میں یہ اتنی خوش ذائقہ محسوس ہوتی ہے کہ بار بار پینے کو دل چاہتا ہے۔ بہرحال یہ چائے جسم میں مرض کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی اور قوتِ مدافعت کو طاقت وَرکرکے بیماری کو بھاگنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس چائے میں دودھ نہیں ڈالا جاتا، البتہ آپ چاہیں تو اسے خوش ذائقہ بنانے کے لئے اس میں شہد یا تھوڑا سا لیموں کا رس یا عرقِ گلاب ڈال سکتے ہیں۔ اگر کسی پھَل کا تازہ رس اس چائے میں ملادیں تو اس کے ذائقے اور خوشبو میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

تلسی کی چائے: تسلی کا پودا باغیچوں میں بھی لگایا جاتا ہے۔ اس کے پتوں سے بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ اس پودے کے پتے پھیپڑوں، گردوں اور مثانے کے امراض میں مفید ہیں۔ اس کے پتوں کو سِر کے میں اُبال کر اس کا پانی چہرے پر لگانے سے جلد کے مسامات سُکڑ جاتے ہیں اور چہرہ دل کش ہوجاتا ہے۔ تلسی کے پتوں سے بنی ہوئی چائے میں لذت اور خوشبو زیادہ ہوتی ہے۔
سبز چائے: سبز چائے میں حرارے(کیلوریز)کم ہوتے ہیں ۔ یہ ہضم کے نظام کو بہتر کرتی ہے۔ وزن کم کرنے میں معاون ہے۔ شریانوں کی تنگی دور کرکے امراض قلب سے بچاتی ہے۔ سبز چائے میں دودھ اورشکر شامل کرنے سے اس کی افادیت کم ہوجاتی ہے، اس لیے اسے بغیر دودھ کے قہوے کی طرح پینا چاہیے۔ نظر اور یاداشت کے لیے بھی سبز چائے فائدہ مند ہے۔ یہ جگر کے امراض اور ذہنی دباؤ سے نجات چائے دلاتی ہے۔ اگر کسی کہ منھ سے بُو آتی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سبز چائے پیے، اس کے منھ کی بُو جاتی رہے گی۔

تیز پات کی چائے: تیز پات یا تیج پات ایک پودے کے پتّے ہیں۔ انھیں بریانی اور قورمے میں مسالے کے طور پر ڈالا جاتا ہے۔ یہ پتے نظام ہضم کے لئے بہت مفید ہیں۔ اگر پیچش کی شکایت ہوتو ان پتوں کی چائے بنا کر پینے سے شدت ختم ہوجاتی ہے، لیکن معالج سے مشورہ کرنا بہتر ہوتا ہے۔

سیاہ زیرے کی چائے: سیاہ زیرے کی چائے بنانے سے قبل زیرے کو کچل لیں اور پھر گرم پانی ڈال دیں۔ یہ چائے جگر، پتے اور نطامِ ہضم کے لئے مفید ہے۔ ریاح کی شکایت میں فائدہ مند ہے۔ اسے پینے سے گردوں کا فعل بہتر ہوجاتا ہے۔ سیاہ زیرے میں جِلد کا رنگ صاف کرنے کی بھی خاصیت ہے۔

دھنیے کی چائے: دوسرے بیجوں کی طرح دھنیے کی بھی چائے بنائی جاتی ہے۔ دھنیا کُچل کر اسے اُبلتے ہوئے پانی میں ڈال کر اچھی طرح جوش ہونے دیں۔ یہ چائے بد ہضمی اور گیس کی شکایت ختم کردیتی ہے۔ یہ چائے جلد کے رنگ کو صاف کرنے کے علاوہ خون کو بھی صاف کرتی ہے۔

سونف کی چائے:سونف کے پودے میں دوائی کے طور پر اس کا بیج ہی سب سے طاقت ور اثرات والا جزو ہے۔ اسے بد ہضمی میں استعمال کرایا جاتا ہے۔ آنکھیں دُکھ آنے کی شکایت میں سونف کو پانی میں اُبال کر پانی کو ٹھنڈا کرلیں۔ اس پانی سے آنکھوں کو ٹکور کرنے سے سرخی اور جلن ختم ہوجاتی ہے۔ چہرے کے رنگ کو نکھارنے کے لیے سونف کی چائے بنا کر اس میں شہد اور دہی اچھی طرح ملالیں۔ اب اس آمیزے کو چہرے اور گردن پر لگا کر پندرہ منٹ کے لئے لیٹ جائے ۔ آنکھوں پر پانی میں بھگوئی ہوئی روئی رکھ لیں۔ پندرہ منٹ کے بعد اپنا چہرہ اور گردن نیم گرم پانی سے دھولیں۔ جلد صاف اور چمک دار ہوجائے گی اور آنکھیں بھی چمک اٹھیں گی۔

پودینے کی چائے: پودینے کی چائے دوائی لحاظ سے بہت مفید ہوتی ہے۔ اسے بدہضمی ، سانس کی نالی کی سوجن ، سرکا درد، کھانسی اور زکام دور کرنے کے لئے پیا جاتا ہے ۔ یہ چائے بہت لذیذ اور خوشبودار ہوتی ہے۔ دن بھر تھک جانے کے بعد اس چائے کا ایک کَپ جسم کی تھکن کو ختم کردیتا ہے۔ اس چائے سے ریاح کی تکلیف میں فوری آرام آجاتا ہے۔ یہ چائے آنتوں کو صاف کرتی ہے، جس کی وجہ سے سانس میں ناگوار بو آنے کی شکایت ختم ہوجاتی ہے۔

رس بھری کی چائے: یہ چائے رس بھری کے پتوں سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ چائے ان خواتین کو خاص طورپر پلائی جاتی ہے، جو ماں بننے والی ہوں۔ یہ چائے بچے کی پیدائش میں آسانی کے علاوہ دودھ میں بھی اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس کے علاوہ متلی میں بھی اس سے فائدہ ہوتا ہے او ر آنتوں کا نظام درست رہتا ہے۔

ککر وندے کی چائے: یہ چائے ککر وندے کی جڑ سے تیار کی جاتی ہے۔ جڑی بوٹیوں کی دکانوں میں اس بُوٹی کی جڑ ثابت یاپسی ہوئی دونوں صورتوں میں مِل جاتی ہے۔ اس کی چائے بہترین ٹانک ہے اور جگر وپیشاب کے اعضا کے علاوہ جوڑوں کے درد کی شکایت دور کرنے میں بھی مفید ہے۔ اس چائے کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے، اس لئے ذائقے کو بہتر کرنے کے لئے اس میں کوئی اور چیز ملائی جاسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

مضامین
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اسے کہتے ہیں پاکستان !! وجود پیر 20 اپریل 2026
اسے کہتے ہیں پاکستان !!

پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر