... loading ...
اردو کو مسلمانوں کی مشترک زبان بنتے بنتے کئی نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا۔ نئے نئے ممالک کی تسخیر، دور دراز کے علاقوں پر یلغاروں اور پائے تخت کی دہلی منتقلی سے بیرونی فاتحوں کی نئی بنتی ہوئی زبان مسلسل ترقی کرتی رہی۔ مغلوں کی برصغیر میں آمدار دو زبان کے لیے بڑی حد تک انقلابی تبدیلیوں کا باعث بنی۔ مغلوں کی آمد سے قبل حالات اتنے سازگار ہو چکے تھے کہ ارتقا پذیر مقامی بولی اردو فارسی کو ہٹا کر سرکاری زبان کا درجہ حاصل کر لے کیونکہ اس وقت تک (1206ء تا 1526ء) تین صدی سے نسلاً غیر ملکی سہی، پیدائش و تربیت کے اعتبار سے مقامی باشندوں کی حکمرانی کا دور تھا جو اپنے قدیم آبائی وطن سے کوئی نسبت نہ رکھتے تھے۔ ان کی زبان بھی مقامی ہو گئی تھی جسے سرکاری حیثیت تک پہنچنے کے لیے تین صدی کا زمانہ ملا جو اس کے ارتقا کا بھی دور کہلاتا ہے۔ تازہ دارد ہند سے اجنبی مغل حکمران اس زبان کی یہ حیثیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ اس طرح ایک بار پھر فارسی ہی غالب رہی اور فارسی نے مزید قوت کے ساتھ مقامی زبانوں پر اثر ڈالا۔
مغل حکمرانوں کے درباروں میں صرف شاعر ہی نہ تھے بلکہ ہر طرح کے اہل کمال، ہندوستان کی دولت اور قدر دانی کی کشش سے بے اختیار ہو کر بڑی تعداد میں جمع ہوتے گئے۔ ان نو وارد گان اہل کمال کی زبان اور ادب کا اثر نہ صرف مسلمانوں کی زبان پر پڑا بلکہ غیر مسلم باشندوں کی بولیاں بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ آگرہ جہاں کی مقامی بولی متھرا (برج) کے علاقے کی شیریں بھاشا تھی، اور علاقہ دہلی کی زبان سے خاصی مختلف تھی نے بھی زبان دہلوی پر اپنا اثر ڈالا جس نے آگے چل کر ’’ زبان اردوئے معلی‘‘ کا پر شکوہ لقب پایا شاہ جہاں کے عہد میں شاہ جہاں آباد کے نام سے دار الحکومت قرار پایا تو مغل دربار کی تہذیبی عظمت اپنے پورے عروج پر پہنچ کر اسی دہلی کو رشک جہاں بنانے لگی تو حکمران مسلمانوں کی زبان اپنے نقش اول سے بہت مختلف اور زیادہ خوش نما، وسیع اور شائستہ زبان بن چکی تھی۔ اب اس کے بیشتر قدیم الفاظ و محاورات اور تراکیب یا متروک ہو چکی تھیں یا نئے سانچوں میں ڈھل چکی تھیں بعض دیسی الفاظ فارسی و عربی مترادفات کے حق میں دستبردار ہو چکے تھے۔ مختصراً یہ کہ ’’ زبان دہلوی‘‘ سے شاہ جہان کے دور کی ’’زبان اردوئے معلی‘‘ کو وہی نسبت تھی جو نیم متمدن قبائل سے دور حاضر کے مہذب انسان کو ہے۔
اردو زبان کی داستان ارتقا اتنی سادہ نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔ زبان کے آغاز سے لے کر اسے ادبی حیثیت اختیار کرنے تک اس کی تاریخ میں بھانت بھانت کی بولیوں اور زبانوں نے سیاسی و معاشرتی تلاطموں کا سامنا کرتے ہوئے کہیں جا کر موجودہ مقام حاصل کیا۔ بہرحال تمام انقلابات کے باوصف یہ زبان مسلمانوں کی تہذیبی و معاشرتی رحجانات کی آئینہ دار رہی۔ اولیائے کرام نے اردو زبان کے پھیلائو میں مسلم حکمرانوں سے کہیں زیادہ جن لوگوں نے کام کیا وہ اولیائے کرام تھے جو عوام کو روز مرہ کی مقامی بولی میں دین و اخلاق کی تعلیم دیتے تھے۔ اشاعت اسلام میں مصروف ہر بزرگ نے مقامی لوگوں کو اپنی آسان اور دلنشیں گفتگو سے متاثر کیا، ان حضرات کی ذاتی سادہ زندگی، پر خلوص نصیحت اور اعلیٰ کردار کی بدولت عوام ان کے گرویدہ ہو جاتے تھے اور ہمیشہ انہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس طرح ان بزرگوں نے لوگوں کے اخلاق سدھارنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان سمجھنے او ربولنے کا ذوق بھی پیدا کر دیا۔ اردو کی تاریخ میں قدیم ترین شعری و نثری نمونے انہی بزرگوں کے اقوال کی صورت میں ملتے ہیں، ان کے بولے گئے جملوں میں یکسانی اور ہم آہنگی موجود ہے۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی مختصر کتاب ’’ اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا حصہ‘‘ میں ان بزرگوں کے اقوال درج کر دیئے ہیں، جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ان حضرات نے برصغیر کے طول و عرض میں تبلیغ دین اور اصلاح کردار کے ساتھ ساتھ ایک مشترک زبان کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ تیرہویں صدی سے سولہویں صدی عیسوی تک دہلوی حکمرانوں نے اپنی فتوحات کا سلسلہ دکن تک پھیلا دیا۔ اور ان کے ساتھ ساتھ صوفیہ و مشائخ بھی تبلیغ اسلام کے لیے وہاں جا پہنچے۔اگرچہ چودھویں صدی کے وسط ہی میں دکن نے دہلی سے علیحدگی اختیار کر کے ایک الگ مستقل، خود مختار حکومت قائم کر لی تھی لیکن جو زبان شمال سے دکن تک پہنچ گئی تھی وہ مسلسل ترقی کرتی رہی تاہم اس نئی زبان میں یکسانی و ہمواری پیدا نہ ہو سکی۔ ہر علاقے کے مقامی اثرات میں زبان پر ہر جگہ الگ الگ تھے لیکن اس نے باوجود یہ زبان ہر جگہ سمجھی اور بولی جاتی تھی اسے مجموعی طور پر ’’ہندی‘‘ یا ’’ ہندوی‘‘ کہاجانے لگا۔ یعنی وہ زبان جو ہندوستان میں مشترک طور پر بولی جاتی ہو۔ البتہ اسی ’’ ہندوی‘‘ زبان کی جو شکلیں رائج ہوئیں انہیں اسی علاقے کی نسبت سے دہلوی، دکنی، گجری وغیرہ کہا جاتا تھا۔
مغلوں کی آمد یہ زبان برصغیر کے مختلف علاقوں میں سست رفتاری سے ارتقا کی منازل طے کر رہی تھی کہ برصغیر پر ایک تازہ دم اجنبی قوم (مغل) بابر کی قیادت میں حملہ آور ہوا تو اس کا سکہ تقریباً پورے برصغیر پر چلنے لگا۔ مغلیہ سلطنت پہلی مسلم حکومتوں سے زیادہ پائیدار ثابت ہوئی تو ’’ زبان ہندوی‘‘ کی مختلف صورتیں آپس میں اور زیادہ قریب آنے لگیں۔ مغلوں کے انتہائی عروج کے زمانے میں یہ زبان تقریباً پورے برصغیر میں اپنے قدم جما چکی تھی مغلوں کا پائے تخت مغل ثقافت و تمدن کا مثالی نمونہ بن گیا اور تمام علاقوں کے لوگ دہلی ہی سے رجوع کرنے لگے اور یوں زبان کے معاملے میں دہلی کو سند کی حیثیت حاصل ہو گئی اور مقامی لوگ دہلوی زبان کی پیروی پر فخر کرنے لگے۔
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...