وجود

... loading ...

وجود

اردو کے ماضی پر ایک نظر

هفته 30 دسمبر 2017 اردو کے ماضی پر ایک نظر

اردو کو مسلمانوں کی مشترک زبان بنتے بنتے کئی نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا۔ نئے نئے ممالک کی تسخیر، دور دراز کے علاقوں پر یلغاروں اور پائے تخت کی دہلی منتقلی سے بیرونی فاتحوں کی نئی بنتی ہوئی زبان مسلسل ترقی کرتی رہی۔ مغلوں کی برصغیر میں آمدار دو زبان کے لیے بڑی حد تک انقلابی تبدیلیوں کا باعث بنی۔ مغلوں کی آمد سے قبل حالات اتنے سازگار ہو چکے تھے کہ ارتقا پذیر مقامی بولی اردو فارسی کو ہٹا کر سرکاری زبان کا درجہ حاصل کر لے کیونکہ اس وقت تک (1206ء تا 1526ء) تین صدی سے نسلاً غیر ملکی سہی، پیدائش و تربیت کے اعتبار سے مقامی باشندوں کی حکمرانی کا دور تھا جو اپنے قدیم آبائی وطن سے کوئی نسبت نہ رکھتے تھے۔ ان کی زبان بھی مقامی ہو گئی تھی جسے سرکاری حیثیت تک پہنچنے کے لیے تین صدی کا زمانہ ملا جو اس کے ارتقا کا بھی دور کہلاتا ہے۔ تازہ دارد ہند سے اجنبی مغل حکمران اس زبان کی یہ حیثیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ اس طرح ایک بار پھر فارسی ہی غالب رہی اور فارسی نے مزید قوت کے ساتھ مقامی زبانوں پر اثر ڈالا۔

مغل حکمرانوں کے درباروں میں صرف شاعر ہی نہ تھے بلکہ ہر طرح کے اہل کمال، ہندوستان کی دولت اور قدر دانی کی کشش سے بے اختیار ہو کر بڑی تعداد میں جمع ہوتے گئے۔ ان نو وارد گان اہل کمال کی زبان اور ادب کا اثر نہ صرف مسلمانوں کی زبان پر پڑا بلکہ غیر مسلم باشندوں کی بولیاں بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ آگرہ جہاں کی مقامی بولی متھرا (برج) کے علاقے کی شیریں بھاشا تھی، اور علاقہ دہلی کی زبان سے خاصی مختلف تھی نے بھی زبان دہلوی پر اپنا اثر ڈالا جس نے آگے چل کر ’’ زبان اردوئے معلی‘‘ کا پر شکوہ لقب پایا شاہ جہاں کے عہد میں شاہ جہاں آباد کے نام سے دار الحکومت قرار پایا تو مغل دربار کی تہذیبی عظمت اپنے پورے عروج پر پہنچ کر اسی دہلی کو رشک جہاں بنانے لگی تو حکمران مسلمانوں کی زبان اپنے نقش اول سے بہت مختلف اور زیادہ خوش نما، وسیع اور شائستہ زبان بن چکی تھی۔ اب اس کے بیشتر قدیم الفاظ و محاورات اور تراکیب یا متروک ہو چکی تھیں یا نئے سانچوں میں ڈھل چکی تھیں بعض دیسی الفاظ فارسی و عربی مترادفات کے حق میں دستبردار ہو چکے تھے۔ مختصراً یہ کہ ’’ زبان دہلوی‘‘ سے شاہ جہان کے دور کی ’’زبان اردوئے معلی‘‘ کو وہی نسبت تھی جو نیم متمدن قبائل سے دور حاضر کے مہذب انسان کو ہے۔

اردو زبان کی داستان ارتقا اتنی سادہ نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔ زبان کے آغاز سے لے کر اسے ادبی حیثیت اختیار کرنے تک اس کی تاریخ میں بھانت بھانت کی بولیوں اور زبانوں نے سیاسی و معاشرتی تلاطموں کا سامنا کرتے ہوئے کہیں جا کر موجودہ مقام حاصل کیا۔ بہرحال تمام انقلابات کے باوصف یہ زبان مسلمانوں کی تہذیبی و معاشرتی رحجانات کی آئینہ دار رہی۔ اولیائے کرام نے اردو زبان کے پھیلائو میں مسلم حکمرانوں سے کہیں زیادہ جن لوگوں نے کام کیا وہ اولیائے کرام تھے جو عوام کو روز مرہ کی مقامی بولی میں دین و اخلاق کی تعلیم دیتے تھے۔ اشاعت اسلام میں مصروف ہر بزرگ نے مقامی لوگوں کو اپنی آسان اور دلنشیں گفتگو سے متاثر کیا، ان حضرات کی ذاتی سادہ زندگی، پر خلوص نصیحت اور اعلیٰ کردار کی بدولت عوام ان کے گرویدہ ہو جاتے تھے اور ہمیشہ انہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس طرح ان بزرگوں نے لوگوں کے اخلاق سدھارنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان سمجھنے او ربولنے کا ذوق بھی پیدا کر دیا۔ اردو کی تاریخ میں قدیم ترین شعری و نثری نمونے انہی بزرگوں کے اقوال کی صورت میں ملتے ہیں، ان کے بولے گئے جملوں میں یکسانی اور ہم آہنگی موجود ہے۔

بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی مختصر کتاب ’’ اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا حصہ‘‘ میں ان بزرگوں کے اقوال درج کر دیئے ہیں، جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ان حضرات نے برصغیر کے طول و عرض میں تبلیغ دین اور اصلاح کردار کے ساتھ ساتھ ایک مشترک زبان کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ تیرہویں صدی سے سولہویں صدی عیسوی تک دہلوی حکمرانوں نے اپنی فتوحات کا سلسلہ دکن تک پھیلا دیا۔ اور ان کے ساتھ ساتھ صوفیہ و مشائخ بھی تبلیغ اسلام کے لیے وہاں جا پہنچے۔اگرچہ چودھویں صدی کے وسط ہی میں دکن نے دہلی سے علیحدگی اختیار کر کے ایک الگ مستقل، خود مختار حکومت قائم کر لی تھی لیکن جو زبان شمال سے دکن تک پہنچ گئی تھی وہ مسلسل ترقی کرتی رہی تاہم اس نئی زبان میں یکسانی و ہمواری پیدا نہ ہو سکی۔ ہر علاقے کے مقامی اثرات میں زبان پر ہر جگہ الگ الگ تھے لیکن اس نے باوجود یہ زبان ہر جگہ سمجھی اور بولی جاتی تھی اسے مجموعی طور پر ’’ہندی‘‘ یا ’’ ہندوی‘‘ کہاجانے لگا۔ یعنی وہ زبان جو ہندوستان میں مشترک طور پر بولی جاتی ہو۔ البتہ اسی ’’ ہندوی‘‘ زبان کی جو شکلیں رائج ہوئیں انہیں اسی علاقے کی نسبت سے دہلوی، دکنی، گجری وغیرہ کہا جاتا تھا۔

مغلوں کی آمد یہ زبان برصغیر کے مختلف علاقوں میں سست رفتاری سے ارتقا کی منازل طے کر رہی تھی کہ برصغیر پر ایک تازہ دم اجنبی قوم (مغل) بابر کی قیادت میں حملہ آور ہوا تو اس کا سکہ تقریباً پورے برصغیر پر چلنے لگا۔ مغلیہ سلطنت پہلی مسلم حکومتوں سے زیادہ پائیدار ثابت ہوئی تو ’’ زبان ہندوی‘‘ کی مختلف صورتیں آپس میں اور زیادہ قریب آنے لگیں۔ مغلوں کے انتہائی عروج کے زمانے میں یہ زبان تقریباً پورے برصغیر میں اپنے قدم جما چکی تھی مغلوں کا پائے تخت مغل ثقافت و تمدن کا مثالی نمونہ بن گیا اور تمام علاقوں کے لوگ دہلی ہی سے رجوع کرنے لگے اور یوں زبان کے معاملے میں دہلی کو سند کی حیثیت حاصل ہو گئی اور مقامی لوگ دہلوی زبان کی پیروی پر فخر کرنے لگے۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر