... loading ...
1988ء سے لے کر 2017 تک ملک میں سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان میوزیکل چیئر کا کھیل جاری ہے ۔ دونوں جماعتیں باریا ں بدل بدل کراقتدارمیں آتی رہی ہیں ۔ صرف 1999 سے لے کر 2007 تک جو پرویز مشرف کا دو ر کہلاتاہے ایسادور تھاجب مسلم لیگ ن کو جبراً اقتدارسے دوررہناپڑااورپیپلزپارٹی کو دور کر دیا گیا۔ لیکن مشرف دورمیں جولوگ حکومت میں شامل رہے وہ بھی آج انہی دونو ں جماعتوں میں سے کسی ایک میں شامل ہوچکے ہیں ۔
عوام یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ جب پیپلز پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو مسلم لیگ (ن) پر الزام عائد کرتی ہے اور مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آتی ہے تو پی پی پی الزامات کی بوچھاڑ کرتی ہے۔ ایک دوسرے پر الزام عائد کرکے اصل میں وہ اندر سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے تاکہ کوئی تیسری پارٹی ان کے درمیان نہ آجائے اور جب وہ اقتدار میں آتی ہیں تو اپنے وہ تمام الزامات بھول جاتی ہیں جو انہوں نے حزب اختلاف کے دور میں لگائے تھے کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ انہوں ن جو الزام لگائے تھے وہ غلط تھے کبھی احتساب بیورو بنایا گیا کبھی احتساب کمیشن بنانے کا اعلان کیا گیا۔ پرویز مشرف نے احتساب بیورو کا نام قومی احتساب بیورو رکھ دیا۔ فوجی حکومت ہونے کے باوجودمشرف دورمیں ایسا احتساب نہیں کیا گیاجس کی مثال دی جائے۔ بلکہ پرویزمشرف پاکستا ن کی تاریخ میں پہلے مرتبہ این آراوجاری کیا، جس کے تحت پاکستا ن پیپلزپارٹی کے سات ہزاراورایم کیوایم بارہ ہزارسنگین جرائم ومالی بدعنوانیوں کے مقدمات واپس لیے گئے ۔اس این آراوجاخمیازہ قوم آج بھی بھگت رہی ہے ۔
پرویز مشرف کے بعد پی پی پی نے وفاق اور سندھ میں حکومتیں بنائیں ، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے حکومت بنائی۔ 2013 کے عام الیکشن کے بعد مسلم لیگ (ن) نے وفاق اور پنجاب میں جبکہ پی پی پی نے سندھ میں حکومتیں بنائیں جو اب اپنی مدت مکمل کرنے والی ہیں ۔ لیکن اب پچھلے چھ ماہ سے جو احتساب شروع ہوا ہے اس سے ملک کی دو بڑی پارٹیاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) چیخ اٹھی ہیں ایسا کیوں ہورہا ہے؟ آخر ایسا کیا ہوگیا کہ دونوں پارٹیوں کو احتساب پر احتجاج کرنا پڑرہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاست نے زمینی حقیقت دیکھ کر ملک میں احتساب کے عمل کی حمایت کی ہے اور غیر جانبدارانہ احتساب شروع کرایا ہے ۔جب ریاست نے احتساب پر کوئی دباؤ قبول نہیں کیا اور تمام اداروں پر واضح کیا کہ اب کسی سے رعایت نہیں ہوگی اور احتساب سب کا ہوگا تو اب سب کو کپکپی لگ گئی ہے۔
ریاست نے جب اسٹینڈ لیا تو پھر تمام ریاستی ادارے بھی سیدھے ہوگئے پھر پانامہ کیس میں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا اور ان کا پورا خاندان احتساب عدالت کی پیشیاں بھگت رہا ہے جب اتنا سخت احتساب ہوگا تو واقعی حکمرانوں کی نیندیں حرام ہوں گی۔ جب نوازشریف وزیراعظم کے عہدے سے نا اہل ہوجائیں گے تو پھر آصف زرداری پر ہاتھ ڈالنے میں کیا پریشانی ہوگی۔ آصف زرداری اور ان کی پارٹی تو اس وقت مسلم لیگ (ن) سے زیادہ پریشان ہیں اس کی پہلی جھلک سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کی گرفتاری کے وقت نظر آئی۔ شرجیل میمن کی گرفتاری کے بعد آصف زرداری، فریال تالپر نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ صرف بلاول بھٹو زرداری سے بیان دلوایا گیا جس دن شرجیل میمن گرفتار ہوئے اس شب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سینٹرل جیل جا پہنچے اور شرجیل میمن سے ملاقات کی اور ان کو پیغام بھی پہنچایا جو پارٹی قیادت نے ان کو دیا تھا۔ شرجیل میمن کو دلاسہ بھی دیا گیا تو ان کو ڈرایا دھمکایا بھی گیا۔ یوں شرجیل میمن نے زبان بندی کرلی۔
اس وقت نیب کے پاس پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے 700 سے زائد رہنماؤں کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں جس سے نوازشریف اور آصف علی زرداری کی پریشانی فطری ہے اب ریاست کے واضح موقف کے بعد کوئی بھی سیاسی جماعت عدالت یا نیب کو دباؤ میں نہیں ڈال سکتی، پہلے تو سپریم کورٹ پر بھی حملے ہوئے تھے، عدالتوں کو دباؤ میں ڈالا گیا لیکن اس وقت ریاستی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے تھے مگر اب حالات تبدیل ہوگئے اب ریاستی ادارے جاگ چکے ہیں ۔ سب کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہیں ۔ قانونی جنگ لڑیں اور اگر انہوں نے آنکھ دکھانے کی کوش کی تو پھر ان کو ایک نہیں چار آنکھیں دکھائی جائیں گی۔ تب سیاسی جماعتوں نے صورتحال کو بھانپ لیا ہے۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دو چار دن دھمکیاں دیں لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس دھمکی کا نقصان خود ان کو ہی ہوگا تب ان کی آنکھیں کھلیں اور جاکر الیکشن کمیشن آف پاکستان سے معافی مانگ لی۔
ملک بھر کے عوام احتساب پر خوش ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جس نے بھی لوٹ مار کی ہے۔ اس کا کڑا احتساب ہونا چاہئے اور کسی سے بھی رعایت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اب ملک کی ترقی اسی میں ہے کہ کرپشن سے پاک ملک ہونا چاہئے۔ سی پیک پر کام کرنے والے پاکستان کے بردار ملک چین نے بھی پاکستان پر واضح کیا ہے کہ اب کرپشن کودفن کرکے نئے پاکستان کی تعمیر کی جائے کیونکہ کرپشن سے ملک کو صرف نقصان ہوگا۔ اس لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے اس ملک کی بنیادیں کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوں اسی مشورے پر ریاستی اداروں نے عمل کر دکھایا ہے مگر سیاسی جماعتیں احتجاج کررہی ہیں ۔
٭ ٭
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...
حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...