وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے امریکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی

جمعرات 02 نومبر 2017 پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے امریکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی

امریکی بزنس کونسل(اے بی سی) کے سروے کے مطابق پاکستان کی طویل المدتی معیشت اور آپریشنل کے ماحول کو دیکھتے ہوئے امریکی بز نس کونسل کے 95 فیصد سے زائد شراکت داروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کردی۔اے بی سی نے جمعرات کو اپنے سروے کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سروے کے 40 فیصد سے زائد فریقین نے پاکستان میں کاروبار کے حوالے سے مثبت سوچ کا اظہار کیا جو پچھلے سال صرف 6 فیصد تھا۔ 2016-17 کی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کاروبار کی فضا اور تجارت کی صورتحال دیکھتے ہوئے 45 فیصد لوگوں نے اسے بہتر بتایا جو پچھلے سال صرف 17 فیصد تھا۔
پاکستانی معیشت کو سراہتے ہوئے امریکی بزنس کونسل کا کہنا تھا کہ امریکی سرمایہ کاروں کے پاکستان میں کاروبار کے حوالے سے مثبت تصور، ملک میں مستحکم اور بہتر ہونے والی معیشت کو دیکھ کر کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکی بزنس کونسل کے اس سروے میں تمام ممبران کو ملک کے مختلف واقعات، جن میں معیشت، محصولات اور سیاسی حقائق شامل ہے، کو دیکھتے ہوئے پیمائش کرنی ہوتی ہے۔سروے رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 87 فیصد پیماکاروں کے مطابق سرمایہ کاری کے منصوبے اور کاروباری عملیات میں آپریشن کی لاگت کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا جبکہ ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال کو 57 فیصد اور دستاویزی ثبوت سے مبرا معیشت کے اثر کو 77 فیصد افراد نے غیر تسلی بخش قرار دیا۔
خود مختار اداروں کی کارکردگی کے تجارتی فضا پر پڑنے والے اثرات کو بھی سروے میں دیکھا گیا۔سروے میں پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی کارکردگی کو مطمئن قرار دیا گیا۔سروے رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر)، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔امریکی بزنس کونسل کے سربراہ کامران نشاط کا کہنا تھا کہ ہمارے ممبران پاکستان کو خوشحال اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، پاکستان کے بارے میں بین الاقوامی رائے ملک کو خطے کے دیگرممالک کے درمیان پرکشش سرمایہ کاری کی جگہ بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔مالیاتی طور پر امریکی بزنس کونسل کے ممبران کی کمپنیز نے 17-2016 میں محصول کی مد میں قومی خزانے میں 135.50 بلین روپے کا اضافہ کیا جو پچھلے سال 119 ارب روپے تھا جبکہ ملک سے بر آمدات 10 فیصد کمی کے ساتھ 13 ارب سے 11.6 ارب رہی۔
گزشتہ روز عالمی بینک کی جانب سے پی پی آئی انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے جاری کردہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق پاکستان 5 بہترین ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے، اس فہرست میں انڈونیشیا سمیت چین، برازیل اور اردن بھی شامل ہیں۔ مالی سال 2017 کی ابتدائی سہ ماہ کے دوران 3 ارب 60 کروڑ ڈالر کے 2 ہائیڈرو پاور پلانٹ منصوبوں کے آغاز کے بعد پاکستان دنیا کے 5 سب سے زیادہ پرائیویٹ پارٹیسیپیشن انفرا اسٹرکچر (پی پی اAئی) سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ پہلے چھ ماہ میں عالمی سطح پر پی پی آئی سرمایہ کاری میں جنوبی ایشیا کے 17 فیصد شیئرز سے علاقائی رجحان کم ہوسکتا ہے جس سے عالمی سرمایہ کاری کے شیئرز میں بھی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے جو کہ 2015 میں 4 فیصد کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی ایشیا میں 2016 میں جتنی سرمایہ کی گئی تھی، اتنی سرمایہ کاری 2017 کے پہلے چھ ماہ میں ہو چکی ہے جس کی وجہ پاکستان میں شروع ہونے والے 2 میگا منصوبے ہیں جن میں 1 ارب 90 کروڑ ڈالر کا سوکی کناری ہائیڈرو پاور پلانٹ جبکہ دوسرا 1 ارب 70 کروڑ ڈالر کا کروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں سب سے زیادہ عالمی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو کہ پاکستان میں پہلے چھ ماہ کے دوران عالمی سرمایہ کاری کے تقریباً تین حصوں کے برابر ہے جبکہ ٹرانسپورٹ میں 24 فیصد اور پانی اور سیوریج کے نظام میں 3 فیصد سرمایہ کاری ہوئی ہے۔عالمی بینک کی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کل 132 منصوبوں میں 36 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو کہ گزشتہ برس کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 24 فیصدزیادہ ہے تاہم یہ سرمایہ کاری گزشتہ 5 برس کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ہونے والی سرمایہ کاری کے مجموعے سے 15 فیصد کم ہے۔پاکستان میں گرین فیلڈ منصوبوں پر 24 ارب 90 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ براؤن فیلڈ منصوبوں پر 11 ارب 80 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔
پاکستان میں مالی سال 16-2015 کے11مہینوں (جولائی تا مئی) کے دوران براہ راست بیرونی یا غیر ملکی سرمایہ کاری کے حجم میں 10 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اس براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں چین کا حصہ 53 فیصد رہا تاہم پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ اب تک بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں ناکام رہا ہے۔حکومت سی پیک منصوبے کو اپنے اقتصادی ایجنڈے میں اولین حیثیت دیتی ہے تاہم اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا چین پر انحصار بڑھتا جارہا ہے جبکہ دیگر ممالک اپنی سرمایہ کاری کو محدود یا منتقل کررہے ہیں۔ گزشتہ برس برطانیا نے پاکستان میں 15 کروڑ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی تھی تاہم اس سال صرف 6 کروڑ 57 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔اسی طرح جاپانی سرمایہ کاری بھی 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 2 کروڑ ڈالر ہوگئی، متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری 20 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 15 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہوگئی۔سعودی عرب نے گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی پاکستان میں اپنے اثاثوں کو فروخت کیا، گزشتہ برس سعودی عرب کی جانب سے فروخت کیے جانے والے اثاثوں کی مالیت 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھی جو اس سال 9 کروڑ 16 لاکھ ڈالر ہوگئی۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان کو براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، اگر چین کا حصہ نکال دیا جائے تو اس کا حجم گزشتہ برس سے بھی کم بنے گا۔چینی سرمایہ کاری کو نکال کر دیکھیں تو پاکستان میں دنیا کے دیگر ممالک نے صرف 51 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی جبکہ گزشتہ برس اس کا حجم 74 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پرائیوٹ انویسمنٹ بشمول پورٹ فولیو انویسمنٹ میں 62 فیصد تک کمی آئی ہے۔ مالی سال 16-2015 کے دوران پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کی مد میں 38 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا انخلائے زر ہوا جبکہ مجموعی طور پر پاکستان سے انخلائے زر کا حجم 87 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہا۔ماہرین اقتصادیات اس صورتحال کو کافی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں کیوں کہ چین کی جانب سے سرمایہ کاری دگنی ہونے کے باوجود پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم کم ہورہا ہے۔برآمدات میں کمی کی وجہ سے پاکستان کا ترسیل زر پر انحصار بہت بڑھ گیا ہے تاہم اس شعبے کی کارکردگی بھی زیادہ بہتر نہیں۔ گزشتہ 11 ماہ کے دوران ترسیل زر میں اضافے کی شرح صرف 6 فیصد رہی۔ پاکستان رواںمالی سال کے دوران چین کی جانب سے مزید براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی توقع کررہا ہے کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان 46 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے ہیں۔ ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری کے حجم میں اضافہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئیں۔ایک معروف تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تاجکستان نے سی پیک میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے تاہم اس سے پیسہ پاکستان نہیں آئے گا۔


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

قیامت کا پتھر وجود منگل 30 جون 2026
قیامت کا پتھر

ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ وجود منگل 30 جون 2026
ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر