... loading ...
امریکی بزنس کونسل(اے بی سی) کے سروے کے مطابق پاکستان کی طویل المدتی معیشت اور آپریشنل کے ماحول کو دیکھتے ہوئے امریکی بز نس کونسل کے 95 فیصد سے زائد شراکت داروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کردی۔اے بی سی نے جمعرات کو اپنے سروے کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سروے کے 40 فیصد سے زائد فریقین نے پاکستان میں کاروبار کے حوالے سے مثبت سوچ کا اظہار کیا جو پچھلے سال صرف 6 فیصد تھا۔ 2016-17 کی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کاروبار کی فضا اور تجارت کی صورتحال دیکھتے ہوئے 45 فیصد لوگوں نے اسے بہتر بتایا جو پچھلے سال صرف 17 فیصد تھا۔
پاکستانی معیشت کو سراہتے ہوئے امریکی بزنس کونسل کا کہنا تھا کہ امریکی سرمایہ کاروں کے پاکستان میں کاروبار کے حوالے سے مثبت تصور، ملک میں مستحکم اور بہتر ہونے والی معیشت کو دیکھ کر کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکی بزنس کونسل کے اس سروے میں تمام ممبران کو ملک کے مختلف واقعات، جن میں معیشت، محصولات اور سیاسی حقائق شامل ہے، کو دیکھتے ہوئے پیمائش کرنی ہوتی ہے۔سروے رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 87 فیصد پیماکاروں کے مطابق سرمایہ کاری کے منصوبے اور کاروباری عملیات میں آپریشن کی لاگت کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا جبکہ ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال کو 57 فیصد اور دستاویزی ثبوت سے مبرا معیشت کے اثر کو 77 فیصد افراد نے غیر تسلی بخش قرار دیا۔
خود مختار اداروں کی کارکردگی کے تجارتی فضا پر پڑنے والے اثرات کو بھی سروے میں دیکھا گیا۔سروے میں پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی کارکردگی کو مطمئن قرار دیا گیا۔سروے رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر)، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔امریکی بزنس کونسل کے سربراہ کامران نشاط کا کہنا تھا کہ ہمارے ممبران پاکستان کو خوشحال اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، پاکستان کے بارے میں بین الاقوامی رائے ملک کو خطے کے دیگرممالک کے درمیان پرکشش سرمایہ کاری کی جگہ بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔مالیاتی طور پر امریکی بزنس کونسل کے ممبران کی کمپنیز نے 17-2016 میں محصول کی مد میں قومی خزانے میں 135.50 بلین روپے کا اضافہ کیا جو پچھلے سال 119 ارب روپے تھا جبکہ ملک سے بر آمدات 10 فیصد کمی کے ساتھ 13 ارب سے 11.6 ارب رہی۔
گزشتہ روز عالمی بینک کی جانب سے پی پی آئی انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے جاری کردہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق پاکستان 5 بہترین ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے، اس فہرست میں انڈونیشیا سمیت چین، برازیل اور اردن بھی شامل ہیں۔ مالی سال 2017 کی ابتدائی سہ ماہ کے دوران 3 ارب 60 کروڑ ڈالر کے 2 ہائیڈرو پاور پلانٹ منصوبوں کے آغاز کے بعد پاکستان دنیا کے 5 سب سے زیادہ پرائیویٹ پارٹیسیپیشن انفرا اسٹرکچر (پی پی اAئی) سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ پہلے چھ ماہ میں عالمی سطح پر پی پی آئی سرمایہ کاری میں جنوبی ایشیا کے 17 فیصد شیئرز سے علاقائی رجحان کم ہوسکتا ہے جس سے عالمی سرمایہ کاری کے شیئرز میں بھی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے جو کہ 2015 میں 4 فیصد کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی ایشیا میں 2016 میں جتنی سرمایہ کی گئی تھی، اتنی سرمایہ کاری 2017 کے پہلے چھ ماہ میں ہو چکی ہے جس کی وجہ پاکستان میں شروع ہونے والے 2 میگا منصوبے ہیں جن میں 1 ارب 90 کروڑ ڈالر کا سوکی کناری ہائیڈرو پاور پلانٹ جبکہ دوسرا 1 ارب 70 کروڑ ڈالر کا کروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں سب سے زیادہ عالمی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو کہ پاکستان میں پہلے چھ ماہ کے دوران عالمی سرمایہ کاری کے تقریباً تین حصوں کے برابر ہے جبکہ ٹرانسپورٹ میں 24 فیصد اور پانی اور سیوریج کے نظام میں 3 فیصد سرمایہ کاری ہوئی ہے۔عالمی بینک کی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کل 132 منصوبوں میں 36 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو کہ گزشتہ برس کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 24 فیصدزیادہ ہے تاہم یہ سرمایہ کاری گزشتہ 5 برس کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ہونے والی سرمایہ کاری کے مجموعے سے 15 فیصد کم ہے۔پاکستان میں گرین فیلڈ منصوبوں پر 24 ارب 90 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ براؤن فیلڈ منصوبوں پر 11 ارب 80 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔
پاکستان میں مالی سال 16-2015 کے11مہینوں (جولائی تا مئی) کے دوران براہ راست بیرونی یا غیر ملکی سرمایہ کاری کے حجم میں 10 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اس براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں چین کا حصہ 53 فیصد رہا تاہم پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ اب تک بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں ناکام رہا ہے۔حکومت سی پیک منصوبے کو اپنے اقتصادی ایجنڈے میں اولین حیثیت دیتی ہے تاہم اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا چین پر انحصار بڑھتا جارہا ہے جبکہ دیگر ممالک اپنی سرمایہ کاری کو محدود یا منتقل کررہے ہیں۔ گزشتہ برس برطانیا نے پاکستان میں 15 کروڑ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی تھی تاہم اس سال صرف 6 کروڑ 57 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔اسی طرح جاپانی سرمایہ کاری بھی 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 2 کروڑ ڈالر ہوگئی، متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری 20 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 15 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہوگئی۔سعودی عرب نے گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی پاکستان میں اپنے اثاثوں کو فروخت کیا، گزشتہ برس سعودی عرب کی جانب سے فروخت کیے جانے والے اثاثوں کی مالیت 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھی جو اس سال 9 کروڑ 16 لاکھ ڈالر ہوگئی۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان کو براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، اگر چین کا حصہ نکال دیا جائے تو اس کا حجم گزشتہ برس سے بھی کم بنے گا۔چینی سرمایہ کاری کو نکال کر دیکھیں تو پاکستان میں دنیا کے دیگر ممالک نے صرف 51 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی جبکہ گزشتہ برس اس کا حجم 74 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پرائیوٹ انویسمنٹ بشمول پورٹ فولیو انویسمنٹ میں 62 فیصد تک کمی آئی ہے۔ مالی سال 16-2015 کے دوران پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کی مد میں 38 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا انخلائے زر ہوا جبکہ مجموعی طور پر پاکستان سے انخلائے زر کا حجم 87 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہا۔ماہرین اقتصادیات اس صورتحال کو کافی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں کیوں کہ چین کی جانب سے سرمایہ کاری دگنی ہونے کے باوجود پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم کم ہورہا ہے۔برآمدات میں کمی کی وجہ سے پاکستان کا ترسیل زر پر انحصار بہت بڑھ گیا ہے تاہم اس شعبے کی کارکردگی بھی زیادہ بہتر نہیں۔ گزشتہ 11 ماہ کے دوران ترسیل زر میں اضافے کی شرح صرف 6 فیصد رہی۔ پاکستان رواںمالی سال کے دوران چین کی جانب سے مزید براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی توقع کررہا ہے کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان 46 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے ہیں۔ ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری کے حجم میں اضافہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئیں۔ایک معروف تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تاجکستان نے سی پیک میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے تاہم اس سے پیسہ پاکستان نہیں آئے گا۔
ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...
دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...
پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...
عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...