وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف مقدمات کا سامنا‘ گرفتاری کے لیے تیار

بدھ 01 نومبر 2017 نواز شریف مقدمات کا سامنا‘ گرفتاری کے لیے تیار

 مسلم لیگ (ن) کے انتہائی باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے حتمی طور پر پاکستان وپس آنے اور احتساب عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ مقدمات کا سامنا کرنے کے حوالے سے ان کی تیاریاں مکمل اور بے جھول ہیں جن میں سزا ہونے کا کوئی امکان نہیں، تاہم اگر عدالتوں نے انہیں دوران مقدمہ بھی گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا تو نہ تو وہ عدالتوں سے فرار ہوں گے اور نہ ہی مزاحمت کریں گے، بلکہ گرفتاری کا سامنا کریں گے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق نواز شریف کی اس نئی حکمت عملی نے حکومت سمیت ہر ایک کو حیران کردیا ہے، کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت کئی ایک سینئر پارٹی رہنمائوں کی رائے تھی کہ نواز شریف پاکستان فی الوقت واپس نہ آئیں اور اپنے آپ کو عدالتوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں ۔ ذرائع کے مطابق ان دونوں کی مشترکہ رائے یہ تھی کہ نواز شریف کے گرفتار ہونے کی صورت میں دونوں اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں گے کہ پارٹی لیڈر جیل میں ہو تو وہ کس طرح وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ کے منصب پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ان دونوں قریبی رفقاء کو کسی صورت مستعفی نہ ہونے اور آخری وقت تک اپنی ذمہ داریاں سر انجام دینے کی ہدایت کی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے نہ صرف اسمبلی کا اپنی مدت پوری کرنے کا عندیہ دیا، بلکہ پارٹی رہنمائوں کو سینیٹ اور اس کے بعد عام انتخابات کے حوالہ سے اپنی تیاریاں جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے ۔ نواز شریف نے اپنے قریبی رفقاء کی حیرانی اور پریشانی کا جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ جس طرح وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نہایت کمزور اور سقم سے بھرپور ریفرنس تیار کرکے عدالت میں پیش کئے گئے ہیں اسی طرح ان کے مقدمات کے حوالہ سے بھی تیاریاں مکمل کی جاچکی ہیں اور وہ اعتماد کے ساتھ واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں گے۔ مصدقہ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو مریم نواز کے حوالہ سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تو نواز شریف کی رائے تھی مریم کے آگے آنے سے پارٹی تقسیم نہیں ہوگی، بلکہ مضبوط ہوجائے گی اور جو حضرات جانا چاہتے ہیں وہ بے شک چلے جائیں۔ نواز شریف نے لندن میٹنگ میں شریک رفقاء کے ذریعہ پاکستانی لیگی قائدین اور اراکین اسمبلی کو یہ پیغام بھی بھجوایا ہے کہ وہ ڈٹے رہیں، پریشانی کی کوئی بات نہیں اور میں خود آکر تمام معاملات سنبھال لوں گا بس جس جس کے ذمہ جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے، وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ مسلم لیگ (ن) میں اسحاق ڈار کے قریبی ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو بہت ڈرے ہوئے تھے اور ایک غیر متعلقہ کانفرنس کا بہانہ بنا کر وزیر اعظم کے خصوصی طیارے سے بحرین گئے اور وہاں سے آگے لندن پہنچے تھے، انہیں نواز شریف نے بھرپور حوصلہ دیتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ اب مزید پریشانی کی کوئی بات نہیں ہم پہلے سے زیادہ ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور اگر گرفتاری ہو بھی جائے تو اس کو حوصلہ سے سہنا ہے جس کے بعد اسحاق ڈار کا حوصلہ بحال ہوا ہے، تاہم انہیں بتا دیا گیا ہے کہ گرفتاری کی صورت میں ان کا پہلے سے لیا ہوا استعفیٰ استعمال کرکے متبادل وزیر خزانہ لگادیا جائے گا۔ نواز شریف کی اس تمام صورتحال میں حکمت عملی اپنے بھائی شہباز شریف اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی سوچ اور توقعات سے خاصی مختلف بلکہ متضاد نظر آتی ہے کیونکہ دونوں حکومتی اہم عہدیدارن گزشتہ چند دنوں میں تواتر سے آپس میں ملتے رہے ہیں اور پارٹی کی حکمت عملی کے حوالہ سے ان کی سوچ یکساں رہی ہے جس کا مرکزی نقطہ فوج اور اداروں سے محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے اچھے ورکنگ ریلیشن بنانے اور عدالتوں کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جو شاید نواز شریف کو ایک طرف رکھتے ہوئے خود معاملات کو چلانے کی خواہش رکھتے تھے اب اس نئی صورتحال نے اعلیٰ حکومتی عہدیداران کو مزید پریشان کردیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم اس حوالے سے یکسو ہیں کہ بیرون ملک رہنے سے نہ صرف ان کی پارٹی پر گرفت کمزور ہوجائے گی ،بلکہ عدالتوں کا سامنا نہ کرنے سے سزائیں بھی ہوسکتی ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ عوامی حمایت اور بکھرتی ہوئی طاقت کو بحال رکھنے کا کام صرف پاکستان واپسی سے ہی ہوسکتا اور اگر وہ پاکستان واپس نہ گئے تو ان کی سیاست اور پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس نئی صورتحال سے واضح ہورہا ہے کہ پارٹی میں دراڑیں واضح ہیں، مگر ایسی نہیں ہیں کہ وہ نواز شریف پر حاوی ہوسکیں بلکہ ان کا ادراک کرتے ہوئے نواز شریف نے اپنی نئی حکمت عملی مکمل سوچ سمجھ کر تیار کی ہے۔
نواز شریف / تیار


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

قیامت کا پتھر وجود منگل 30 جون 2026
قیامت کا پتھر

ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ وجود منگل 30 جون 2026
ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر