وجود

... loading ...

وجود

پانی کابحران خریف کی فصل کوکم وبیش 25 فیصد پانی کی کمی کاسامنا

هفته 28 اکتوبر 2017 پانی کابحران خریف کی فصل کوکم وبیش 25 فیصد پانی کی کمی کاسامنا

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان میں خریف کی فصل کوکم وبیش 25 فیصد پانی کی کمی کاسامنا کرنا پڑے گا یعنی کاشتکاروں کو ان کی ضرورت سے 25فیصد کم پانی دستیاب ہوگا اور اگر دستیاب پانی مناسب منصوبہ بندی اورکفایت شعاری کے ساتھ خرچ کرنے کاکوئی نظام وضح نہ کیاگیاتوپاکستان مطلوبہ مقدار میں زرعی فصلیں حاصل نہیں کرسکے گا ایسی صورت میں گندم کی خودکفالت اور چاول برآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست بنیادی طور پر یہ زرعی ملک دالوں ا ورتلہن کی طرح دوسرے اجناس بھی درآمد کرنے پر مجبور ہوجائے گا جس سے زبردست تجارتی خسارے سے دوچار اس ملک کو مزید تجارتی خسارے اورزرمبادلے کی کمی کاسامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ پانی کی اس کمی کے سبب پنجاب میں زرعی مقاصدکے لیے ایک ماہ کے لیے پانی کی فراہمی پر پابندی عاید کردی گئی ہے اورپن بجلی کی پیداوار بھی رک گئی ہے جس کی وجہ سے بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق بڑھتاجارہاہے۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پانی زندگی کی علامت ہے پانی کی دستیابی کے حوالے سے عالمی ادارے گزشتہ کئی سال سے یہ پیش گوئی کررہے ہیں کہ مستقبل میں مختلف ممالک کے درمیان جنگیں سرحدی تنازعات پر نہیں بلکہ پانی کے حصول کے لیے لڑی جائیں گی ، کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں پانی کی دستیابی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ملکی معیشت کا انحصار توانائی کے وسائل پر ہوتا ہے اور پانی توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عالمی سطح پر پانی کی کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔60کی دہائی میں پاکستان کا شمار اْن ممالک میں ہوتا تھا۔ جہاں پانی وافر مقدار میں دستیاب تھا،لیکن ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اس دور میں پاکستان میں پانی کے ذخائر تعمیر کرنے اور پانی کاذخیرہ کرنے کے انتظامات پر کوئی توجہ نہیں دی اور ہمارا فاضل پانی سمندر برد ہوتاچلاگیا ، لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں اور ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق اب پاکستان کاشمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو کہ پانی کی کمی کا شکار ہیں اور پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر پاکستان میں فاضل پانی کاذخیرہ کرنے کے لیے اب بھی آبی ذخائر اوربند تعمیر کرنے پر توجہ نہ دی گئی تو2025 تک یہ ملک پانی کی شدید قلت اور قحط سالی کا شکار ہو جائے گا۔ اس وقت بھی پانی کی کمی محسوس کی جا رہی ہے،پانی کی اس کمی کی وجوہات میں پانی کابے تحاشہ استعمال اس کازیاں ، بارش کاپانی ذخیرہ کرنے کاکوئی انتظام نہ ہونے کے سبب مان سون کے زمانے میں بارش کے فاضل پانی کاسمندر برد ہوجانا اور آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہے جو اس وقت ایک غیر سرکاری اندازے کے مطابق 20 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم پانی کی اس قلت میں پانی کا زیاں اور پانی کی آلودگی سر فہرست ہیں ،جبکہ ہمارے مقابلے میں بھارت دھڑا دھڑ ڈیم پر ڈیم بناکر پاکستان کوریگزار میں تبدیل کرنے کی کوششیں بہت پہلے شروع کرچکاہے ،عالمی سطح پر کی جانے والی یہ پیش گوئی غلط نہیں ہے کہ آئندہ جنگیں پانی کے مسئلے پرہوں گی اْس کی زندہ اور منہ بولتی مثال فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پانی کے مسئلے پر جاری کشمکش ہے۔ پانی ہی کی قلت کی وجہ سے ہمارے علاقے تھر میں اس سال 400 بچے پانی کی کمی اور غذائیت کی کمی کی وجہ سے رحلت کر چکے ہیں ، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سمندر کے پانی کو نمک سے پاک کر کے صنعتی استعمال کے لیے بروئے کار لارہے ہیں ، جبکہ ہماری کسی حکومت نے اس اشد ضرورت پر کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ہمارے سیاسی رہنما ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں مگر کوئی بھی پانی کی کمی کے خطرے کے بارے میں چنداں فکر مند نہیں حکومت کو چاہیے کہ جو سکول ، مساجد میڈیا اور دیگر سطحوں پر اس سلسلے میں بھر پور مہم چلائی جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں جو پانی موجود ہے۔ اْسے بے حد احتیاط سے استعمال کیا جائے۔ پاکستان تیسری دنیاکے ممالک میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والا ملک ہے ،نیز خالص قومی آمدنی کے فی یونٹ کے حساب سے بھی پاکستان میں پانی کا استعمال سب سے زیادہ ہے ہمارے سیاسی رہنماؤں اور سیاسی پارٹیوں کو ایک دوسرے پر آوازیں کسنے اور لڑنے کی بجائے مل کر ملک کو درپیش پانی کی قلت کے اس بہت ہی بڑے مسئلے کے حل کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ2025 صرف 8 سال دورہے۔
پانی کی قلت سے پاکستان کے زیادہ متاثر ہونے کاایک سبب ہمارا ازلی دشمن بھارت ہے جو جیساکہ میں نے اوپر ذکر کیا پاکستان کو پانی کے اس کے جائز حصے سے محروم کرنے کی طویل المیعاد منصوبہ بندی پر کاربند ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے سارے دریا مقبوضہ کشمیر سے گزرتے ہیں ۔ جن پر بھارت ڈیم بنا کر ہمارا پانی بند کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل پیرا ہے اس لیے ہمارے عظیم رہنما قائداعظم کی چشم بینا نے کشمیر کی اہمیت کو مد نظر رکھ کر اسے پاکستان کی ’’شہ رگ ‘‘سے تشبیہ دیا تھا۔
سندھ طاس معاہدے کاسہارا لے کر بھارت نے دریائے سندھ کی دو شاخوں کا پانی پہلے ہی اسے اپنے استعمال کے لیے بند کر لیا ہے اور اب ہمارا دشمن باقی ماندہ پانی کو بھی روکنے کے لیے بند تعمیر کر رہا ہے۔ پاکستان نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ سمیت مختلف فورمز پر باٹھایا ہے مگر ابھی تک ہماری کہیں بھی شنوائی نہیں ہوئی۔صرف یہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہم نے نا عاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے۔ دریا ئے سندھ کے پانی میں صنعتی فضلہ ڈال کر اسے بْری طرح سے آلودہ یعنی مضر صحت بنا دیا ہے۔ اسی بنا پر ملک میں 60فی صد اموات مضر صحت پانی استعمال کرنے سے ہو رہی ہیں کیونکہ ملک کے 80فی صد افراد سنکھیا کی آمیزش والا زہر آلود پانی استعمال کر رہے ہیں ہمارے دیہات میں لوگ ابھی تک اْسی جو ہڑ سے پانی پیتے اور استعمال کرتے ہیں جو اْن کے جانوروں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پانی کی کمی کا مسئلہ جس کا ہمارے رہنماؤں کوقطعی کوئی احساس نہیں ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے لیکن ہمارے رہنما اس مسئلے کے حل کے لیے قطعی کچھ نہیں کر رہے۔ برسات کے موسم میں دستیاب پانی سارے کا سارا سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے لیکن ہم کالا باغ ڈیم کو ایک سیاسی معاملہ بنا کر اپنی تباہی کو دعوت دے رہے ہیں ، ہمار ے رہنماؤں کو اسے بھی اپنی سیاست چمکانے کاذریعہ بنا کر اس حد تک متنازعہ بنادیاہے کہ اب سندھ اور صوبہ سرحد کے عوام اس بند کی تعمیر کو اپنی موت تصور کرنے لگے ہیں جبکہ دیامیر بھاشاڈیم کی تعمیر میں بھی غیر معمولی تساہل سے کام لیاجارہاہے اور اب تک اس منصوبے پر کام آغاز نہیں کیاجاسکاہے ،جس کی وجہ سے اس بند کی بروقت تکمیل بھی ناممکن نظر آتی ہے، ایک اور اطلاع کے مطابق پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے کاعمل سست روی کاشکار ہوچکاہے ،جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی قلت کی سطح توقع سے زیادہ ہوگئی ہے ،جبکہ ہمارے حکمرانوں کے پا س یہ مسئلہ حل کرنے کا نہ تو وقت ہے اور نہ ہی فکر کیونکہ ان کی جائیدادیں دولت اور کاروبر بیرون ممالک میں محفوظ ہیں ۔ ضرورت پڑنے پر وہ ملک کے عوام کو مصیبت میں ڈال کر خود باہر چلے جائیں گے اس لئے ان کواوران کی اولادوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے ارباب حکومت پاکستان کو درپیش اس اہم خطرے سے نمٹنے کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دیں اور یہ حقیقت نظر انداز نہ کریں کہ یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے اور اگر خدانخواستہ اس ملک پر کوئی افتاد پڑتی ہے تو بیرون ملک ان کی جائز اور ناجائز دولت کے انبار ان کے کسی کام نہیں آسکیں گے۔

 


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر