وجود

... loading ...

وجود

پانی کابحران خریف کی فصل کوکم وبیش 25 فیصد پانی کی کمی کاسامنا

هفته 28 اکتوبر 2017 پانی کابحران خریف کی فصل کوکم وبیش 25 فیصد پانی کی کمی کاسامنا

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان میں خریف کی فصل کوکم وبیش 25 فیصد پانی کی کمی کاسامنا کرنا پڑے گا یعنی کاشتکاروں کو ان کی ضرورت سے 25فیصد کم پانی دستیاب ہوگا اور اگر دستیاب پانی مناسب منصوبہ بندی اورکفایت شعاری کے ساتھ خرچ کرنے کاکوئی نظام وضح نہ کیاگیاتوپاکستان مطلوبہ مقدار میں زرعی فصلیں حاصل نہیں کرسکے گا ایسی صورت میں گندم کی خودکفالت اور چاول برآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست بنیادی طور پر یہ زرعی ملک دالوں ا ورتلہن کی طرح دوسرے اجناس بھی درآمد کرنے پر مجبور ہوجائے گا جس سے زبردست تجارتی خسارے سے دوچار اس ملک کو مزید تجارتی خسارے اورزرمبادلے کی کمی کاسامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ پانی کی اس کمی کے سبب پنجاب میں زرعی مقاصدکے لیے ایک ماہ کے لیے پانی کی فراہمی پر پابندی عاید کردی گئی ہے اورپن بجلی کی پیداوار بھی رک گئی ہے جس کی وجہ سے بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق بڑھتاجارہاہے۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پانی زندگی کی علامت ہے پانی کی دستیابی کے حوالے سے عالمی ادارے گزشتہ کئی سال سے یہ پیش گوئی کررہے ہیں کہ مستقبل میں مختلف ممالک کے درمیان جنگیں سرحدی تنازعات پر نہیں بلکہ پانی کے حصول کے لیے لڑی جائیں گی ، کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں پانی کی دستیابی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ملکی معیشت کا انحصار توانائی کے وسائل پر ہوتا ہے اور پانی توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عالمی سطح پر پانی کی کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔60کی دہائی میں پاکستان کا شمار اْن ممالک میں ہوتا تھا۔ جہاں پانی وافر مقدار میں دستیاب تھا،لیکن ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اس دور میں پاکستان میں پانی کے ذخائر تعمیر کرنے اور پانی کاذخیرہ کرنے کے انتظامات پر کوئی توجہ نہیں دی اور ہمارا فاضل پانی سمندر برد ہوتاچلاگیا ، لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں اور ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق اب پاکستان کاشمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو کہ پانی کی کمی کا شکار ہیں اور پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر پاکستان میں فاضل پانی کاذخیرہ کرنے کے لیے اب بھی آبی ذخائر اوربند تعمیر کرنے پر توجہ نہ دی گئی تو2025 تک یہ ملک پانی کی شدید قلت اور قحط سالی کا شکار ہو جائے گا۔ اس وقت بھی پانی کی کمی محسوس کی جا رہی ہے،پانی کی اس کمی کی وجوہات میں پانی کابے تحاشہ استعمال اس کازیاں ، بارش کاپانی ذخیرہ کرنے کاکوئی انتظام نہ ہونے کے سبب مان سون کے زمانے میں بارش کے فاضل پانی کاسمندر برد ہوجانا اور آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہے جو اس وقت ایک غیر سرکاری اندازے کے مطابق 20 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم پانی کی اس قلت میں پانی کا زیاں اور پانی کی آلودگی سر فہرست ہیں ،جبکہ ہمارے مقابلے میں بھارت دھڑا دھڑ ڈیم پر ڈیم بناکر پاکستان کوریگزار میں تبدیل کرنے کی کوششیں بہت پہلے شروع کرچکاہے ،عالمی سطح پر کی جانے والی یہ پیش گوئی غلط نہیں ہے کہ آئندہ جنگیں پانی کے مسئلے پرہوں گی اْس کی زندہ اور منہ بولتی مثال فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پانی کے مسئلے پر جاری کشمکش ہے۔ پانی ہی کی قلت کی وجہ سے ہمارے علاقے تھر میں اس سال 400 بچے پانی کی کمی اور غذائیت کی کمی کی وجہ سے رحلت کر چکے ہیں ، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سمندر کے پانی کو نمک سے پاک کر کے صنعتی استعمال کے لیے بروئے کار لارہے ہیں ، جبکہ ہماری کسی حکومت نے اس اشد ضرورت پر کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ہمارے سیاسی رہنما ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں مگر کوئی بھی پانی کی کمی کے خطرے کے بارے میں چنداں فکر مند نہیں حکومت کو چاہیے کہ جو سکول ، مساجد میڈیا اور دیگر سطحوں پر اس سلسلے میں بھر پور مہم چلائی جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں جو پانی موجود ہے۔ اْسے بے حد احتیاط سے استعمال کیا جائے۔ پاکستان تیسری دنیاکے ممالک میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والا ملک ہے ،نیز خالص قومی آمدنی کے فی یونٹ کے حساب سے بھی پاکستان میں پانی کا استعمال سب سے زیادہ ہے ہمارے سیاسی رہنماؤں اور سیاسی پارٹیوں کو ایک دوسرے پر آوازیں کسنے اور لڑنے کی بجائے مل کر ملک کو درپیش پانی کی قلت کے اس بہت ہی بڑے مسئلے کے حل کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ2025 صرف 8 سال دورہے۔
پانی کی قلت سے پاکستان کے زیادہ متاثر ہونے کاایک سبب ہمارا ازلی دشمن بھارت ہے جو جیساکہ میں نے اوپر ذکر کیا پاکستان کو پانی کے اس کے جائز حصے سے محروم کرنے کی طویل المیعاد منصوبہ بندی پر کاربند ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے سارے دریا مقبوضہ کشمیر سے گزرتے ہیں ۔ جن پر بھارت ڈیم بنا کر ہمارا پانی بند کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل پیرا ہے اس لیے ہمارے عظیم رہنما قائداعظم کی چشم بینا نے کشمیر کی اہمیت کو مد نظر رکھ کر اسے پاکستان کی ’’شہ رگ ‘‘سے تشبیہ دیا تھا۔
سندھ طاس معاہدے کاسہارا لے کر بھارت نے دریائے سندھ کی دو شاخوں کا پانی پہلے ہی اسے اپنے استعمال کے لیے بند کر لیا ہے اور اب ہمارا دشمن باقی ماندہ پانی کو بھی روکنے کے لیے بند تعمیر کر رہا ہے۔ پاکستان نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ سمیت مختلف فورمز پر باٹھایا ہے مگر ابھی تک ہماری کہیں بھی شنوائی نہیں ہوئی۔صرف یہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہم نے نا عاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے۔ دریا ئے سندھ کے پانی میں صنعتی فضلہ ڈال کر اسے بْری طرح سے آلودہ یعنی مضر صحت بنا دیا ہے۔ اسی بنا پر ملک میں 60فی صد اموات مضر صحت پانی استعمال کرنے سے ہو رہی ہیں کیونکہ ملک کے 80فی صد افراد سنکھیا کی آمیزش والا زہر آلود پانی استعمال کر رہے ہیں ہمارے دیہات میں لوگ ابھی تک اْسی جو ہڑ سے پانی پیتے اور استعمال کرتے ہیں جو اْن کے جانوروں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پانی کی کمی کا مسئلہ جس کا ہمارے رہنماؤں کوقطعی کوئی احساس نہیں ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے لیکن ہمارے رہنما اس مسئلے کے حل کے لیے قطعی کچھ نہیں کر رہے۔ برسات کے موسم میں دستیاب پانی سارے کا سارا سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے لیکن ہم کالا باغ ڈیم کو ایک سیاسی معاملہ بنا کر اپنی تباہی کو دعوت دے رہے ہیں ، ہمار ے رہنماؤں کو اسے بھی اپنی سیاست چمکانے کاذریعہ بنا کر اس حد تک متنازعہ بنادیاہے کہ اب سندھ اور صوبہ سرحد کے عوام اس بند کی تعمیر کو اپنی موت تصور کرنے لگے ہیں جبکہ دیامیر بھاشاڈیم کی تعمیر میں بھی غیر معمولی تساہل سے کام لیاجارہاہے اور اب تک اس منصوبے پر کام آغاز نہیں کیاجاسکاہے ،جس کی وجہ سے اس بند کی بروقت تکمیل بھی ناممکن نظر آتی ہے، ایک اور اطلاع کے مطابق پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے کاعمل سست روی کاشکار ہوچکاہے ،جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی قلت کی سطح توقع سے زیادہ ہوگئی ہے ،جبکہ ہمارے حکمرانوں کے پا س یہ مسئلہ حل کرنے کا نہ تو وقت ہے اور نہ ہی فکر کیونکہ ان کی جائیدادیں دولت اور کاروبر بیرون ممالک میں محفوظ ہیں ۔ ضرورت پڑنے پر وہ ملک کے عوام کو مصیبت میں ڈال کر خود باہر چلے جائیں گے اس لئے ان کواوران کی اولادوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے ارباب حکومت پاکستان کو درپیش اس اہم خطرے سے نمٹنے کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دیں اور یہ حقیقت نظر انداز نہ کریں کہ یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے اور اگر خدانخواستہ اس ملک پر کوئی افتاد پڑتی ہے تو بیرون ملک ان کی جائز اور ناجائز دولت کے انبار ان کے کسی کام نہیں آسکیں گے۔

 


متعلقہ خبریں


بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج وجود - پیر 18 مئی 2026

معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...

بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں وجود - پیر 18 مئی 2026

آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک وجود - پیر 18 مئی 2026

منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر وجود - اتوار 17 مئی 2026

حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم وجود - اتوار 17 مئی 2026

اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف وجود - اتوار 17 مئی 2026

عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم وجود - اتوار 17 مئی 2026

نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم

حکومت آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر،بجلی ، گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی وجود - هفته 16 مئی 2026

توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...

حکومت آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر،بجلی ، گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،شہری شدید مشکلات کا شکار وجود - هفته 16 مئی 2026

کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،شہری شدید مشکلات کا شکار

کھانا پینا بالکل ختم ، جہاز کا گندا پانی پی رہے ہیں،صومالی قزاقوں کا پاکستانیوں پر ظلم وجود - هفته 16 مئی 2026

صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...

کھانا پینا بالکل ختم ، جہاز کا گندا پانی پی رہے ہیں،صومالی قزاقوں کا پاکستانیوں پر ظلم

اسرائیل نے لبنان میں معصوم پھولوں کو نشانے پر رکھ لیا( 200سے زائد بچے شہید) وجود - هفته 16 مئی 2026

لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...

اسرائیل نے لبنان میں معصوم پھولوں کو نشانے پر رکھ لیا( 200سے زائد بچے شہید)

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو وجود - جمعه 15 مئی 2026

عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو

مضامین
مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !! وجود پیر 18 مئی 2026
مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !!

مسلسل محرومی انسان کے اندر بے بسی پیدا کر دیتی ہے! وجود پیر 18 مئی 2026
مسلسل محرومی انسان کے اندر بے بسی پیدا کر دیتی ہے!

بھارتی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر وجود پیر 18 مئی 2026
بھارتی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر

یہ کارکردگی ہے ؟ وجود اتوار 17 مئی 2026
یہ کارکردگی ہے ؟

سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج وجود اتوار 17 مئی 2026
سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر