... loading ...
پاکستان میں ان دنوں کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے اور کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے حوالے سے مختلف ٹی وی چینلز پر مختلف ماہرین مختلف طریقہ کار تجویز کرتے نظر آرہے ہیں، اتفاق کہیں یا منافقت کرپشن کے خلاف سخت ترین کارروائی کامطالبہ کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو گردن تک کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں اور ان کی تمام آن بان اور کروفر کرپشن سے کمائی گئی دولت کانتیجہ ہے۔
پاکستان میں جب سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ اور ان کے اہل خانہ کے خلاف احتساب کا آغاز ہواہے ،اس وقت سے عوام میں امید کی یہ کرن پیدا ہوئی ہے کہ اب شاید کرپشن کرنے والے بااثر افراد بھی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ لیکن اس کے باوجود عام لوگوں کے ذہن میں یہ سوال کلبلاتا رہتاہے کہ کہیں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف شروع ہونے والا احتساب بھی کسی مصلحت کاشکار نہ ہوجائے اور نواز شریف کسی اندرون خانہ ڈیل کے ذریعے ایک نئے طرز کے این آر او کے سہارے اس ملک سے لوٹی ہوئی تمام دولت سمیت سوئٹزرلینڈ یا برطانیہ وامریکہ کے کسی پر فضا مقام پر اپنی بقیہ زندگی چین کی بنسری بجاتے ہوئے گزارنے کاکوئی راستہ تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہوجائیں کیونکہ اگر ایسا ہوتاہے تو اس ملک سے پھر شاید کبھی کرپشن کاخاتمہ نہ ہوسکے، اس صورت حال کے پیش نظر بعض لوگوںکا خیال ہے کہ حکمران مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف ان کے اہل خانہ، وزیر خزانہ اسحاق ڈاراور دیگر ارکان کے احتساب کے لیے چین کی طرز پر کارروائی کی جانی چاہئے جہاں ملزم خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اسے بھاگ نکلنے کاراستہ نہیں دیاجاتا۔یہ مطالبہ کرنے والوں کااستدلال ہے کہ جب ہم دیگر کاموںکیلیے چین کی پیروی کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے تو پھر احتساب کے معاملے میں ملزمان کو سزا دینے کیلیے چین کی تقلید کیوں نہیں کرسکتے ؟۔
جہاں تک چین کاتعلق ہے توچین میں کرپشن کے خلاف مہم کا آغاز 2012 میں صدر شی جن پنگ کی قیادت میں ہوا۔ اِس مہم نے چین کی عوام کو اْمید کی نئی کرن دکھائی اور 2013 سے 2017 تک 13 لاکھ 40 ہزار لوگوں کو کرپشن کے الزام میں سزا مل چکی ہے۔ 2017 کے صرف پہلے 6 ماہ میں 13 لاکھ 10 ہزار سے زائد متاثرین نے کرپشن کے خلاف شکایات سینٹرل کمیشن آف ڈسپلن انسپکشن میں درج کرائیں۔ اِن میں سے 2 لاکھ 60 ہزار لوگوں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی اور 2 لاکھ 10 ہزار مجرموں کو سزا سنائی گئی۔ اِن سزا پانے والوں میں صرف کمزور اور چھوٹے سرکاری افسر شامل نہیں تھے بلکہ اِن میں وزارتوں اور صوبائی انتظامیہ کے 38 سینئر افسران اور پریفیکچر لیول کے ایک ہزار لوگ بھی شامل تھے۔
آپ کو یہ جان حیرت ہوگی کہ 2016 میں سابق جنرل Guo Boxiong کو رشوت لینے کے الزام میں عمر قید کی سزا دی گئی۔ اْنہیں اپنے عہدے سے فارغ کیا گیا اور مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے تمام اثاثے بھی چینی حکومت کے نام کریں۔ جنرل صاحب ماضی میں نہ صرف فوج میں جنرل کے عہدے پر فائز رہے تھے بلکہ وہ صدر کی سربراہی میں بنائے گئے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیرمین بھی تھے۔ مزید یہ کہ وہ حکومتی پارٹی کے 25 کور ممبران میں بھی شامل تھے۔جولائی 2017 میں Sun Zhengcai کو اپنے عہدے کے غلط استعمال اور کرپشن کے الزام میں اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا اور اْن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ یہاں میں آپ کو یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ Sun Zhengcai پانچ برس تک حکومتی پارٹی کے جنرل سیکریٹری رہ چکے ہیں جبکہ وزیرِ زراعت کے طور پر بھی حکومت کا حصہ رہے ہیں اور حکمران جماعت کے کور ممبران میں بھی شامل تھے۔Sun Zhengcai چین میں اِس قدر مقبول تھے کہ اْن کا نام اگلے صدر کے لیے بھی لیا جا رہا تھا، لیکن اِن تمام حقائق کے باوجود الزام لگتے ہی اْنہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا اور وہ اپنے خلاف ٹرائل کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔
چین کے وزیرِ ریلوے Liu Zhijun کو کامیاب ترین وزیر سمجھا جاتا تھا۔ اْنہوں نے چینی ریلوے کو دنیا کے لیے ایک آئیڈیل ریلوے نظام کے طور پر پیش کیا۔ اْن کی خدمات کو چینی سمیت پوری دنیا میں سراہا جاتا تھا۔ لیکن پھر 2013 آگیا اور اْن پر کمیشن لینے، عہدے کے غلط استعمال اور سامان کی خریداری میں کرپشن کا الزام لگا جس کے ساتھ ہی اْن کا نام چینی معاشرے کے لیے ناسور بن گیا۔ اْن کی ماضی کی خدمات اور ریلوے کی ترقی کے لیے کی گئی محنت اور حکومتی پارٹی کے ساتھ تعلقات کچھ بھی کام نہ آیا۔ اْن کے خلاف مقدمہ چلا اور موت کی سزا سنا دی گئی۔اِس مقدمے نے چین کا نیا رخ دنیا کو دکھایا اور پیغام دیا کہ چینی عوام کے ٹیکس کے پیسے کا غلط استعمال قتل سے بھی بڑا گناہ ہے جسے کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جاسکتا۔ اِس کے برعکس پاکستان میں حکومتی سطح پر کرپشن کے معاملے کو سمجھنے کے لیے سابق وفاقی وزیر کا یہی بیان کافی ہے کہ کرپشن کرنا سیاستدانوں کا حق ہے” اور حکومتی حلقوں میں یہ رائے عام ہوچکی ہے کہ کرپشن پاکستان کا کلچر ہے اور اگر ہزار لوگوں میں سے کوئی ایک کرپشن نہیں کر رہا تو وہ دراصل اپنا نقصان کر رہا ہے۔سچ تو یہی ہے کہ پاکستان میں رشوت اور سیاست سے بہتر کوئی کاروبار نہیں ہے۔ 20 ہزار کی سرکاری نوکری کے لیے 20 لاکھ رشوت لی جاتی ہے اور یہ 20 لاکھ مکمل حساب کتاب کے بعد ہی بطور رشوت دیے جاتے ہیں کہ یہ رقم کتنی دیر میں ریکور کی جاسکتی ہے۔ اگر صرف تنخواہ ہی واحد ذریعہ رہے تو رقم تقریباً چار سال میں ریکور ہوگی جو کہ گھاٹے کا سودا ثابت ہوگا لہٰذا اِس رقم کو 6 ماہ میں ہی ریکور کرنے اور اِس انویسٹمنٹ سے منافع کمانے کے لیے دن رات رشوت لی جاتی ہے۔
رشوت کے بعد دوسرا منافع بخش کاروبار سیاست ہے اور اِس کاروبار میں انتخابی مہم پر 5 کروڑ لگا کر 50 کروڑ کمانے کا ٹارگٹ مقرر کیا جاتا ہے اور جن انویسٹرز نے انتخابی مہم میں پیسہ لگایا ہوتا ہے اْنہیں بھی منافع ایمانداری کے ساتھ اْسی شرح سے دیا جاتا ہے، کیونکہ پاکستان میں بے ایمانی واحد کام ہے جو انتہائی ایمانداری سے کیا جاتا ہے۔ ملکی اور عوامی سطح پر کرپشن سے متعلق اِسی رائے نے پاکستان کو دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں کھڑا کر دیا ہے۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن کے میدان میں پاکستان دنیا کے 176 ممالک میں 116 نمبر پر کھڑا ہے، جبکہ اِس کے برعکس ہمارے ساتھ آزاد ہونے والا ملک بھارت اور ہمارے بعد آزاد ہونے والا چین 79 نمبر پر کھڑے ہیں ۔ ادارتی کرپشن میں دنیا کے 144 ممالک میں پاکستان 129 نمبر پر ہے۔ رشوت میں ہمارا نمبر 123واں ہے۔ اقرباء پروری میں پاکستان کا 101واں اور حکومتی پالیسیوں میں ٹرانسپیرنسی کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 108واں ہے۔ ملکِ پاکستان کی بد قسمتی دیکھیے کہ اربوں روپوں کی کرپشن کرنے کے بعد بھی ہماری عدالتیں کسی ایک بھی حکمران کو سزا نہیں دے سکی ہیں، ہماری اسمبلیوں نے قانونی طور پر یہ طے کرلیا ہے کہ کوئی بھی نااہل شخص چاہے وہ نااہلی جھوٹ کی وجہ سے ہو یا کرپشن کے مینار کھڑے کرنے کی وجہ سے ہو، وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا صدر بن سکتا ہے۔
کرپشن کی اِس پذیرائی کے بعد اب مسلم لیگ ن ممکنہ طور پر ایک ایسا بل لانے کا سوچ رہی ہے جس کے مطابق کوئی بھی سرکاری عہدیدار اپنی جائیداد کے ثبوت دینے کا پابند نہیں ہوگا بلکہ الزام لگانے والے کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ثابت کرے کہ ملزم نے یہ جائیداد رشوت کے پیسے سے بنائی ہے۔ یعنی جس بھاری ثبوت کی شق نے میاں نواز شریف کو پھنسایا ہوا ہے وہ شق ختم کرنے کی ایک کوشش کی جائے۔ اگر یہ کوشش کرلی گئی تو قطعی طور پر یہ امکان نہیں ہوگا کہ ایسا کوئی بل اسمبلی سے نامنظور ہوجائے کیونکہ اکثریت جو ن لیگ کے پاس ہے۔چینی جانتے ہیں کہ صدیوں کی انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جرم کے خاتمے کے لیے جو کام سخت سزاؤں نے کیا ہے وہ کسی بھی تربیت یا تعلیم نے نہیں کیا ہے۔ چینی فلسفہ یہ ہے کہ “مزدور کی نسبت حکمران کو دی گئی سزا زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ حکمران کو دی گئی سزا صدیوں تک تاریخ کے پنوں میں یاد رہتی ہے اور اِس کی گونج بھی آنے والی ہزاروں نسلوں کو سنائی دیتی ہے۔”
ہم خوش قسمت ہیں کہ وطنِ عزیز میں جمہوری نظام رائج ہے، جو کہ سب سے زیادہ ایک عام آدمی کو بااختیار بناتا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ مفاد پرس ٹولے نے اِس نظام کو اِس قدر مفلوج بنا دیا ہے کہ جمہوری روایات کو غیر جمہوری عزائم کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ جمہوری نظام کا تقاضا ہے کہ ملک کے تمام ادارے اپنے مدار میں آزادی کے ساتھ کام کریں اور سب سے اہم یہ کہ دیانتداری کے ساتھ ایماندار لوگوں کی زیرِ نگرانی کام کریں۔
کرپشن کے خلاف جس طرح چین نے مہم کا آغاز کیا ہے، ہمارے ملک میں بھی جمہوری فریم ورک میں رہتے ہوئے ایک ایسی ہی مہم درکار ہے اور مذکورہ فلسفے کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ چین کی مثال ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ طاقتور کا احتساب ناممکن نہیں۔ پاکستان کے عوام کو قطعی یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ وہ ووٹ کی طاقت رکھتے ہیں، احتساب کا موقعہ ہر بار انتخابات کے دوران انہیں حاصل ہوتا ہے، ضرورت ہے تو اِس عہد کی کہ اپنے قلیل مفادات کو ترک کریں اور ایماندار اور دیانتدار نمائندگان کو ایوانوں تک پہنچائیں، چاہے پھر کوئی کرپٹ سیاستدان کتنے ہی کروڑ کیوں نہ لگا دے۔جس دن ہم نے کرپشن کے خلاف اس چینی فلسفے پر عمل کرلیا اس دن پاکستان میں نہ ہی سوئس حکومت کو خط لکھنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی پاناما کی نوبت آئے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...