وجود

... loading ...

وجود

پیاسے کوہستان کی بیٹیاں نازک نہیں !

جمعه 13 اکتوبر 2017 پیاسے کوہستان کی بیٹیاں نازک نہیں !

21ویں صدی کا 17واں سال گزر رہا ہے، دنیا نے ستاروں اور سیاروں پر کمند ڈال دی ہے، جدید ٹیکنالوجی نے تصوراتی طلسم تک کو سچ کر دکھایا ہے، اِس جدید دور میں ہماری جہتیں کیا ہیں اِس کا اندازہ اخباروں کی سرخیاں اور ٹی وی چینلوں کی لال پٹیاں خوب بتاتی ہیں۔
آبادی کے ساتھ پسماندگی بھی بڑھتی جا رہی ہے، کراچی سے صرف چند کلومیٹر دور (کینجھر اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان) اِسی طرح کے کچھ ایسے پسماندہ علاقے موجود ہیں جہاں زندگی نے شاید 21ویں صدی میں قدم ہی نہیں رکھا بلکہ وہاں لوگ اب بھی 19ویں صدی میں ہی سانس لے رہے ہیں۔ وہاں آج بھی لوگ کچی جھگیوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور وہاں کی عورت کو آج بھی پانی کے دو مٹکوں کے لیے چلچلاتی دھوپ میں تین سے پانچ کلومیٹر کا پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے، اور دن میں ایک بار نہیں بلکہ کم از کم تین بار اْسے پانی بھرنے کے لیے جانا پڑتا ہے تاکہ وہ اور اْس کے اہلِ خانہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔
یہاں اب بھی پانی بھرنے کی یہ ذمے داری روایتی اور ثقافتی طور پر عورت پر عائد ہے اور 8 سال کی بچی سے لے کر 50 سالہ عورت تک یہ ذمے داری صرف ’صنفِ نازک’ ادا کرتی ہے۔ ستم دیکھیے کہ معاشرے نے عورتوں کو صنف نازک کا نام دیا اور ایسے کٹھن کام بھی ‘نازک’ انسانی وجود سے لیتا ہے۔ اب چاہے کسی خاتون یا بچی کی ریڑھ کی ہڈی میں خم آجائے، مہرے جگہ سے بے جگہ ہوجائیں یا کسی حاملہ عورت کا بچہ ضائع ہوجائے یہ کام تو بس اْسے ہی کرنا ہوتا ہے۔ مرد روایتی اور ثقافتی طور پر اِس ذمے داری سے آزاد ہیں۔ عورت کی زندگی کے اِس منظر کو دیکھ کر حبیب جالب یاد آجاتے ہیں جنہوں نے شاید ایسے ہی حالات دیکھ کر کہا ہوگا کہ
وہ جس کی روشنی کچے گھروں تک بھی پہنچتی ہے
نہ وہ سورج نکلتا ہے نہ اپنے دن بدلتے ہیں
وہ نیا سورج تو جانے کب نکلے لیکن عورت کی زندگی کا یہ منظرنامہ پاکستان کے تقریباً ہر گاؤں اور خصوصاً صوبہ سندھ کے ہر گاؤں میں یکساں نظر آئے گا، سوائے چند ایسے علاقوں کے جہاں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے اپنی سعی سے حالات کو بدلنے کی تھوڑی بہت کوشش کی ہے۔ ہم بھی کوہستان ضلع ٹھٹھہ کے اِن 34 گاؤں کی بات کررہے ہیں جہاں کام کرنے والی ایک تنظیم انڈس ارتھ ٹرسٹ اور کوکا کولا فاؤنڈیشن نے کچھ تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے۔
اِن تنظیموں نے کوہستان ضلع ٹھٹھہ کے 34 گاؤں میں پانی کا پائیدار اور فطری طریقوں پر انتظام بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اِس آبی انتظام نے گھریلو اور زرعی سطح پر لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ آپ تحفظ ماحول یا تحفظ فطرت کے لیے جو بھی قدم اْٹھاتے ہیں اْس کا بہتر اثر انسانی زندگیوں پر ہی پڑتا ہے۔
وہ 16ستمبر 2017 کا ایک گرم دن تھا اور سفر تھا کوہستان کا جہاں گرمی مزاج پوچھ رہی تھی۔ ہم ملنے جا رہے تھے کوہستان ضلع ٹھٹھہ کے ایک گاؤں حاجی شفیع محمد کی خواتین سے۔ہمیں بتایا گیا کہ روایتی طور پر کوہستان کی لڑکیاں پڑھی لکھی نہیں ہیں اور اگر دیکھا جائے تو اِس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ لڑکیوں کو پڑھانا نہیں چاہتے بلکہ اْن سے پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے کہ “پھر پانی کون لائے گا۔” اِس گاؤں میں 8 یا 9 سال کی عمر سے لڑکیاں پانی لانا شروع کر دیتی ہیں۔ بچی کی کم عمری کا جب احساس دلایا تو ساتھ جانے والی اْس کی ماں نے کہا کہ یہ کم از کم اپنی ضرورت کا پانی تو بھر لائے گی۔پانی بھرنے کی ذمے داری عورتوں کی ہے اور اِس علاقے کی 92 فیصد عورتیں اِس کام کو انجام دیتی ہیں جبکہ عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 8 فیصد ہے اور وہ بھی پیدل یا مٹکے اْٹھا کر نہیں لاتے بلکہ گدھا گاڑی پر لاد کر پانی لے آتے ہیں لیکن یہ مثالیں خال خال ہی ہیں۔ عورت ہی ہے جو ازل سے یہ بوجھ اٹھارہی ہے۔
یہاں کام کرنے والی ایک سماجی تنظیم کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگا جو دھیرے دھیرے اِس علاقے کی خواتین کی زندگی بہتر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جب سماجی تنظیم نے پانی عورت کے لیے ‘واٹر فار وومین’ نامی اپنے پروجیکٹ کے تحت اِن 34 گاؤں میں پانی کا انتظام کیا ہے تو اْنہیں لوگوں کا یہ اعتراض بھی سننا پڑا کہ کیا پانی صرف عورتوں کی ضرورت ہے؟ مردوں کو پانی نہیں چاہیے؟ لیکن اْن کا کہنا تھا کہ جب پانی مہیا کرنا عورتوں ہی کی ذمے داری ہے تو پھر یہ پروجیکٹ بھی عورتوں ہی کے لیے ہے۔کہتے ہیں کہ پانی زندگی کی علامت بھی ہے اور ضمانت بھی، آب ہے تو حیات ہے، جہاں آب نہیں ہوتا وہاں سے حیات بھی رخصت ہوجاتی ہے۔ حیات کے سارے تانے بانے پانی کے کنارے ہی بنے جاتے ہیں۔ پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہاں ایسے لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے نقل نکانی کرچکے تھے لیکن یہاں پانی آنے کے بعد وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ واپس لوٹ رہے ہیں۔
آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ اْسے پانی میسر ہو۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال خاصی خراب ہے۔ گاؤں دیہات کی تو بات ہی کیا، کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی پینے کے لیے سنکھیا آلود پانی میسر ہے۔
سماجی تنظیم نے اِن 34 گاؤں میں کام کرنے سے قبل جنوری 2017 میں ٹھٹھہ یونین کونسل کوہستان میں ایک سروے کیا تھا۔ سروے میں لوگوں نے سب سے بڑا مسئلہ پانی کی عدم موجودگی کو بتایا۔ تحقیق کے مطابق دیہات میں 92 فیصد خواتین اپنے گھروں کے لیے پانی لاتی ہیں، وہ دن میں تین مرتبہ لگ بھگ تین سے چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے دو مٹکے یا کین لے کر آتی ہیں جن میں بمشکل 15 سے 20 لیٹر پانی بھرا جاسکتا ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا درجہ ِ حرارت 45 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔
پانی لانے کی اِس ذمے داری سے حاملہ خواتین کو بھی کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے، اْنہیں بھی یہ کام کرنا ہوتا ہے۔ وزن اْٹھا کر لانے سے انہیں کئی امراض لاحق ہوجاتے ہیں مثلاً، پٹھوں میں درد، سر کے بال گرنے لگتے ہیں، وزن میں کمی، مدافعتی نظام میں کمزوری، ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف اور مہروں کے سرک جانے کی تکالیف عام ہیں۔ خواتین پانی لانے جاتی ہیں تو بچے گھر پر چھوڑ جاتی ہیں، ایسے میں اکثر حادثات بھی پیش آتے ہیں، جیسے بچوں کو کوئی کیڑا وغیرہ کاٹ جاتا ہے یا پھر بچوں کو چوٹیں لگ جاتی ہیں۔
سروے کے مطابق تقریباً 15 برس سے کم عمر 71 فیصد بچیاں پانی لانے میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مرد پانی لانے میں خواتین کا ہاتھ نہیں بٹاتے۔ مردوں کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم پانی لانے لے جانے میں مصروف ہوگئے تو پھر کام دھندے پر کون جائے گا؟ اِس لیے دیہات میں مرد پانی لانے کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔ اگرچہ یہ بات سچ نظر نہیں آتی کیونکہ بیشتر مرد بے روزگار ہوتے ہیں اور وہ کوئی کام کاج نہیں کرتے۔ ہماری بات کی تصدیق اِردگرد کے ہوٹلوں میں موجود مردوں کی تعداد کو دیکھ کر ہورہی تھی۔
اِن دیہات میں پانی کی آمد کا واحد ذریعہ بارش ہے۔ اِسی پانی سے ہی یہاں کے لیے کچھ بہتری ہوسکتی تھی۔ اِسی خیال کے تحت مارچ 2017 میں کوکا کولا فاؤنڈیشن آگے آئی اور اْس نے ٹھٹھہ کی یونین کونسل کوہستان میں پانی کی منظم انداز سے فراہمی کے لیے تقریباً 19 ملین روپے (ایک کروڑ 90 لاکھ روپے) کا فنڈ مختص کیا۔ اِس منصوبے سے تقریباً 34 دیہات کے 15 ہزار افراد پر مشتمل 2200 گھرانے مستفید ہوں گے۔
اِس منصوبے کے تحت سب سے پہلے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے پہلے مرحلے کے طور پر ریزروائر (ذخیرہ گاہ یا بڑے تالاب) کی تیاری کا آغاز ہوا۔ اِس حوالے سے قدرتی گزرگاہوں کو مدِنظر رکھا گیا یعنی جن راستوں سے پانی کا بہاؤ ہوتا ہے۔ اِس حوالے سے بارش کا پانی محفوظ کرنے کے لیے پہلے سے موجود 18 ریزروائر (بڑے تالاب) جو خشک ہوچکے تھے، اْنہیں گہرا کیا گیا، جبکہ 10 نئے ریزروائرز بھی تیار کیے گئے۔ جب مون سون کا موسم آیا اور بھرپور بارشیں ہوئیں تو کیرتھر کے پہاڑوں سے بہہ کر آنے والا پانی اْن 28 ریزروائرز میں جمع ہوگیا۔ اْن ذخیرہ گاہوں کو تقریباً 30 فٹ تک گہرا کیا گیا ہے اور اْن کے قریب کئی مقامات پر واٹر پمپ لگائے گئے ہیں تاکہ صاف پانی حاصل کیا جاسکے۔ اِس منصوبے کی تکمیل سے کوہستان یونین کونسل میں پورا سال پانی دستیاب رہے گا۔
اِس کے علاوہ کیرتھر کی پہاڑیوں سے بہہ کر آنے والے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے مزید اقدام کے طور پر چھوٹے عارضی ڈیم (چیک ڈیم) کی تعمیر پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ لوگ پْراْمید ہیں کہ اِس سے کھیتی باڑی میں بہتری آئے گی اور تقریباً ایک ہزار ایکڑ اراضی زیرِ کاشت آجائے گی۔ اِس ضمن میں چار مقامات کا تعین کرلیا گیا ہے جہاں چیک ڈیم بنائے جائیں گے۔
اِسی طرح 20 مقامات پر کنویں بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ اِس پروجیکٹ کے تحت مختلف مقامات پر ریزروائر کے قریبی مقامات پر ہینڈ پمپ بھی لگائے جائیں گے جن سے نہ صرف خواتین کے وقت کی بچت ہوگی بلکہ وہ دیگر کاموں پر زیادہ توجہ بھی دے سکیں گی۔اِس علاقے میں کوئی اسکول نہیں، پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں۔ کوہستان میں حکومت نے آر او پلانٹ لگانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے لیکن 8 سال گزر جانے کے باوجود پینے کے صاف پانی کا پلانٹ تاحال فعال نہیں ہوسکا ہے۔یہاں کی عورت روایتی اور ثقافتی طور پر سلائی کڑھائی نہیں کرتی نہ ہی اْنہیں بیچتی ہیں بلکہ وہ صرف رلیاں اور بہت خوبصورت گوٹا اور شیشے لگے چمکیلے تکیے تیار کرتی ہے۔ اِن تکیوں پر تقریباً 5 ہزار روپے کی لاگت آتی ہے، یہ تکیے وہ بیٹی کو جہیز میں دیتی ہے۔روایتی طور پر ایسے 40 سے 45 تکیے جہیز میں دیے جاتے ہیں جبکہ 10 سے 15 رلیاں بھی دی جاتی ہیں۔ جب اْن سے کہا گیا کہ وہ یہ اشیاء شہر میں بیچ کر پیسے بھی کماسکتی ہیں تو اْن کے چہروں پر حیرانی تھی۔ لیکن حیرانی کو فوراً افسوس کے اظہار میں تبدیل کرتے ہوئے وہ کہنے لگی کہ یہ کام تو صرف مرد کرسکتے ہیں اور اْن کے مردوں کو اِس قسم کے کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور یہ یہاں کا رواج بھی نہیں ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ یہاں حکومت کہیں نظر نہیں آتی، اِسی لیے شاید اِس خلا کو سماجی تنظیمیں ہی پْر کررہی ہیں۔ ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ کراچی کی ایک مخیر شخصیت نے منفرد قسم کے واٹر وہیلز تیار کرکے بھیجے ہیں جن سے علاقے کی خواتین کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اب اْنہیں پانی کا برتن سر پر رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ اِسے ہینڈل سے پکڑ کر پانی کھینچ کر لاسکیں گی۔ ایسے ہر واٹر وہیل میں 40 لیٹر تک پانی بھرا جاسکتا ہے۔
یہ علاقے زیادہ تر بنجر ہیں اور دور دور تک کوئی سایہ دار درخت بھی نظر نہیں آتا، لیکن اب اْمید ہے کہ یہ لوگ پانی آنے کے بعد پھل دار درخت بھی لگا سکیں گے۔ اِن علاقوں میں مویشیوں کی تعداد بھی کم ہے کیونکہ نہ پانی میسر تھا اور نہ جانوروں کے لیے چارا، کیونکہ صرف ایک گدھا ہی 200 کا چارا کھا جاتا ہے اور وہ بھی قریبی شہر جنگ شاہی سے لانا پڑتا ہے۔
اب چیک ڈیم بننے کے بعد پانی بھی میسر ہوگا اور اِس کے ساتھ سماجی تنظیم کی یہ بھی کوشش ہے کہ اعلیٰ قسم کا چارا اگایا جائے جو سال بھر کام آئے۔ لوگ تو یہاں تک پْرامید ہیں کہ چیک ڈیم بننے کے بعد وہ گندم بھی اْگا سکیں گے یوں وہ اپنی غذائی ضروریات میں بھی خود کفیل ہوجائیں گے۔
شبینہ فراز


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر