وجود

... loading ...

وجود

این اے 120 کے نتائج نے نواز شریف کی گرتی ساکھ کی تصدیق کردی

منگل 26 ستمبر 2017 این اے 120 کے نتائج نے نواز شریف کی گرتی ساکھ کی تصدیق کردی

این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پوری مشینری نے زور لگا کر بیگم کلثوم کو کامیاب کرادیاہے لیکن ان نتائج کا بغور جائزہ لیاجائے تو یہ ظاہرہوتاہے کہ اس حلقے کے نتائج سے بھی اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ نواز شریف کی ساکھ گر چکی ہے اور عوام کی اکثریت انھیں صادق وامین تو کجا ایک باصلاحیت رہنما بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں،این اے 120 کے نتائج کا جائزہ لیاجائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس حلقے کے صرف 39 فیصد ووٹرز نے ضمنی انتخابات میں نواز شریف کے نام پر ان کی بیگم کوووٹ دئے جبکہ 2013 میں اس حلقے کے 51 فیصد عوام نے نواز شریف پر اعتماد کااظہار کیاتھا جبکہ نواز شریف کو 2013 میں وہ سرکاری وسائل بھی حاصل نہیں تھے جو ضمنی انتخابات میں انھیں حاصل تھے اور جس کا انھوں نے دل کھول کر استعمال کیا۔انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتاہے کہ ان کی پارٹی بڑی مشکل سے اس حلقے کے 75 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اگرچہ ان میں سے بہت سے پولنگ اسٹیشنز پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے حق میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد میں کوئی بہت بڑا اور نمایاں فرق نہیں تھا اور یہ بات بلا شک وشبہ کہی جاسکتی ہے کہ اگر پاکستان مسلم لیگ ن کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مکمل تائید وحمایت اور تمام تر وسائل استعمال کرنے کی آزادی نہ ہوتی تو ان میں سے بہت سے پولنگ اسٹیشنز کے نتائج بالکل ہی برعکس ہوسکتے تھے۔
الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نتائج سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے220 پولنگ اسٹیشنز میں سے صرف 106 پولنگ اسٹیشنز پر 50 فیصد یا اس سے زیادہ ووٹ حاصل کئے،اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ اگلے سال کے انتخابات میں مسلم لیگ ن ان پولنگ اسٹیشنز پر اپنی کامیابی کی امید لگا سکتی ہے۔لیکن اس کا انحصار اگلے سال تک رونماہونے والے حالات وواقعات پر ہوگا اور پاکستان مسلم لیگ ن کے کسی بھی رہنما کی معمولی سی غلطی بھی ان حلقوں سے بھی مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں کمی کاسبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی یا مقبولیت بھی اچھی نہیں رہی جس کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے جن پولنگ اسٹیشنز پر مسلم لیگ ن پر اپنی برتری ثابت کی ان میں سے بھی صرف 20 فیصد ایسے تھے جہاں سے پاکستان تحریک انصاف کو 50 فیصد یا اس سے زیادہ ووٹ ملے جبکہ ان میں سے51 فیصد پر اسے سادہ یا معمولی اکثریت ہی حاصل ہوسکی ۔
این اے120 کے ضمنی انتخابات میں جن حلقوں سے پاکستان مسلم لیگ ن کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے یعنی جن علاقوں کو مسلم لیگ ن کاووٹ بینک کہاجاسکتاہے ان میں بند روڈ،راوی روڈ ، کچا راوی روڈ،ریٹی گن روڈ،موہنی روڈ، لوور مال، کریم پارک،مومن پورہ اور بلال گنج شامل ہیںان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو صوبائی اسمبلی کے حلقہ 139 میں آتے ہیں اور جہاں سے کلثوم نواز کے بھانجے بلال یٰسین نے کامیابی حاصل کی تھی۔ان علاقوں میں25 ایسے پولنگ اسٹیشنز بھی شامل ہیں جہاں سے کلثوم نواز کو60-70 فیصد تک ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ان میں سے ایک پولنگ اسٹیشن ایسا بھی تھا جہاں سے کلثوم نواز کو 70 فیصد سے بھی زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ بیگم کلثوم نواز کو جن 25 پولنگ اسٹیشنز پر سب سے زیادہ ووٹ ملے ان میں ایک کے سواتمام پولنگ اسٹیشنز صرف خواتین کے لیے مخصوص تھے۔ان پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کی شرح 33.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ،اس طرح یہ ثابت ہوا کہ مردوں کی نسبت خواتین نے کلثوم نواز کو زیادہ کھل کر سپورٹ کیا اور ان کے حق میں ووٹ کاسٹ کئے اس سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ اگر خواتین بڑی تعداد میں نکل کر ووٹ کاسٹ نہ کرتیں توشاید کلثوم نواز کو اس حلقے سے کامیابی نہ مل پاتی اس طرح اس حلقے میں خواتین کو مسلم لیگ ن کی حمایت پر آمادہ کرنے کاسہرا بلا شبہ مریم نواز کے سر ہے جنھوں نے اپنی خواتین ورکرز کو فعال اور متحرک کیا اورگھر گھر جاکر اپنی والدہ کی بیماری اور والد کی نااہلی پر خواتین کی ہمدردیاں سمیٹنے کی ہرممکن کوشش کی اور وہ بڑی حد تک اپنی اس کوشش میں کامیاب رہیں جبکہ مردوں نے عمومی طورپر مریم نواز کی باتوں پر کم دھیان دیا ۔
اس حلقے میں جن پولنگ اسٹیشنز پر کانٹے کامقابلہ دیکھنے میں آیا ان کی تعداد 94 تھی جن میں سے 62 میں پاکستان مسلم لیگ ن نے اور 31 میں پاکستان تحریک انصاف نے سبقت حاصل کی لیکن ان میں سے کسی بھی پولنگ اسٹیشنز پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف میں سے کوئی بھی پارٹی 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ان پولنگ اسٹیشنز پر انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی پارٹی جماعت الدعوۃ کے شیخ یعقوب اور لبیک یارسول اللہ کے سربراہ اظہر رضوی نے بھی اپنی موجودگی کااحساس دلایا اور اس طرح ان حلقوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔اس حلقے میں اگرچہ پولنگ اسٹیشنز کافی دور دور تک پھیلے ہوئے تھے لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے نتائج کے مطابق جن پولنگ اسٹیشنز پر سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ان میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، ہل روڈ، نیپیئر روڈ، مزنگ روڈ، لیک روڈ ،دیو سماج روڈ، چوہان روڈاور کرشن نگر اورساندہ خورد کے پولنگ اسٹیشنز کانام لیاجاسکتاہے۔جن پولنگ اسٹیشنز پر سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ان میں ووٹرز کی شرح عام پولنگ اسٹیشنز کے مقابلے میں زیادہ تھی،جبکہ جن پولنگ اسٹیشنز پر مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ان پر ووٹرز کی شرح دیگر پولنگ اسٹیشنز سے کچھ کم ریکارڈ کی گئی۔
صنفی اعتبار سے ووٹنگ کاجائزہ لیاجائے تویہ ظاہرہوتاہے کہ این اے 120 میں مجموعی طورپر خواتین کے 45 ہزار 903 ووٹس میں سے 40 ہزار920 یعنی خواتین کے89.1 فیصد ووٹ صرف خواتین کے لیے مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر تھے۔ان میں سے مسلم لیگ ن کو مجموعی طورپر 21ہزر650 ووٹ ملے جبکہ پاکستان تحریک انصاف صرف 15 ہزار30 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکی ۔اس سے ظاہرہوا کہ صرف خواتین کے لیے مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر ڈالے جانے والے 52.9 فیصد ووٹ پاکستان مسلم لیگ ن حاصل کئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کو ان پولنگ اسٹیشنز سے صرف 36 فیصد ووٹ مل سکے ،اس سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی خواتین ورکرز اس حلقے کی خواتین کو عمران خان اوریاسمین راشد کی قائدانہ صلاحیتوں کے حوالے سے قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔دوسری جانب مردوں کے پولنگ اسٹیشنز پر ڈالے جانے والے صرف 46.6 فیصد ووٹ پاکستان مسلم لیگ ن کو مل سکے جو کہ عام انتخابا ت میں نواز شریف کے حاصل کردہ ووٹ سے بہت کم تھے، اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نواز شریف کا مضبوط گڑھ تصور کئے جانے والے اس حلقے کے مرد اب نواز شریف پر اعتبار کرنے کوتیار نہیں ہیں۔انتخابی نتائج سے ظاہرہوتاہے کہ حلقہ این اے 120 کے پولنگ اسٹیشن 35 سے 123 تک کا علاقہ اب بھی مسلم لیگ ن کا مضبوط گڑھ ہے کیونکہ ان تمام پولنگ اسٹیشنز سے مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر