وجود

... loading ...

وجود

وزیراعظم کادورہ نیویارک‘ فوج اور سول قیادت میں اتفاق رائے کی ضرورت

پیر 25 ستمبر 2017 وزیراعظم کادورہ نیویارک‘ فوج اور سول قیادت میں اتفاق رائے کی ضرورت

وزیراعظم عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر‘ روہنگیا کے مسلمانوںپر ڈھائے جانے والے مظالم اور افغانستان کی صورتحال کے ساتھ ہی فلسطین اور آلودگی جیسے مسائل پر بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی اور اس طرح یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انھوں نے اس عالمی فورم پر پوری دنیا کی توجہ مبذول کراکے یہ بات ثابت کردی کہ پاکستان عالمی حالات وواقعات سے بے خبر نہیں ہے ،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیویارک میں افغان صدر اشرف غنی‘ ترک صدر رجب طیب اردوان‘ برطانوی وزیراعظم تھریسامے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نتونیوگوتریز اور امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ملاقاتیںکیں اور اس طرح سلگتے ہوئے عالمی مسائل پر انھیں پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کی بے مثال کوششوں‘ قربانیوں‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم‘ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے تعاون‘ ایٹمی عدم پھیلائو کے لیے پاکستان کے عزم سمیت عالمی و علاقائی اہمیت کے امور کا احاطہ کیا اور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارت کی سرپرستی اور اس ضمن میں کلبھوشن یادیو سمیت بھارتی تخریب کاروں کے نیٹ ورک کی گرفتاری کی تفصیلات سے عالمی سربراہوں کو آگاہ کیا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیویارک روانگی سے قبل گزشتہ روز لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھاکہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کا پہلے اپنے گھر کی صفائی سے متعلق بیان درست ہے اور وہ خود بھی اس موقف کے حامی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ لاہور کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ نوازشریف ہی عوام کے رہنماہیں اور وہی ملک کی ترقی کے ضامن ہیں۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے لیے اس وقت نیویارک گئے ہیں جب پاکستان سے دہشت گردی کے تدارک بالخصوص انتہاپسند کالعدم تنظیموں کیخلاف سخت کارروائی کے لیے عالمی تقاضے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں سے نشری خطاب کے دوران پاکستان اور افغانستان سے متعلق نئی امریکی حکمت عملی کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان سے دھمکی آمیز لہجے میں حقانی نیٹ ورک اور دوسری کالعدم تنظیموں کے قلع قمع کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا تقاضا کیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی باور کرایا کہ پاکستان کی جانب سے کارروائی نہ کئے جانے کی صورت میں سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان کو امریکاکی جانب سے دی جانے والی امداد روک لی جائیگی‘ دہشت گردوں کا پاکستان کے اندر تعاقب کیا جائیگا اور ا ن کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے بڑھائیں جائینگے۔ اسی طرح دو ہفتے قبل چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہونیوالی5 ملکی برکس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں بھی کالعدم انتہا پسند تنظیموں کیخلاف سخت کارروائی کا تقاضا کیا گیا اور بالخصوص چینی قیادت کی جانب سے دہشت گردی کی جنگ میں کالعدم تنظیموں کیخلاف اٹھائے جانیوالے اقدامات کو ناکافی قرار دے کر ان پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ بھارت اور افغانستان کی جانب سے تو پہلے ہی پاکستان سے امریکی لب و لہجے میں ڈومور کے تقاضے جاری ہیں۔
یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے ٹھوس اور موثر کردار اور اسکی بے مثال قربانیوں کے باوجود اس کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور ڈومور کے تقاضے کرتے ہوئے امریکاہی نہیں‘ ہمارے قابل بھروسہ دوست ملک چین کی جانب سے بھی دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے ہماری اب تک کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم اب نیویارک میں عالمی قیادتوں کے روبرو ہیں تو یقیناً وہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے کردار کے حوالے سے استفسارات کئے جائیں گے اور انہیں اس معاملہ میں بہرصورت عالمی قیادتوں کو مطمئن کرنا ہوگا۔
ہمارے لیے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک طرف ہم جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوجوں کے مظالم کی جانب عالمی قیادتوں کی توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کررہے ہیں اور پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارتی جارحانہ عزائم پر اسے شٹ اپ کال دینے کا عالمی قیادتوں سے تقاضا کررہے ہیں دوسری جانب بعض ممالک دہشت گردی کے خلاف ہماری قربانیوں سے روگردانی کرتے ہوئے خود ہم پربعض دہشت گرد تنظیموں کو تحفظ دینے کے الزامات لگارہے ہیں اور یہ الزامات امریکااور ہمارے روایتی دشمن بھارت کی جانب سے ہی نہیں‘ ہمارے مخلص دوست چین کی جانب سے بھی عائد کئے جارہے ہیں۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف برکس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ پر پاکستان کے موقف کی وضاحت کے لیے بیجنگ گئے تو انہیں میڈیا کے روبرو اس امر کا اعتراف کرنا پڑا کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کی صفائی کی ضرورت ہے۔ بعدازاں انکے اس موقف کی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی تائید کی جنہوں نے گزشتہ روز بھی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ جب تک ہمارا گھر ٹھیک نہیں ہوگا‘ ہمارے مسائل حل نہیں ہو پائیں گے۔
اب نیویارک میں عالمی قیادتوں کے روبرو موجود ہمارے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی اس امر کا اعتراف کرنا پڑا ہے کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کی صفائی کرنا ہوگی تو اس پر مخالفانہ سیاسی پوائنٹ ا سکور کرنے کے بجائے سنجیدگی سے غوروفکر کرنا ہوگا کہ ہمارے بارے میں عالمی فورموں اور عالمی قیادتوں کے دلوں میں ایسے شکوک و شبہات کیوں پیدا ہوئے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے حالیہ بیرونی دورے کے دوران مختلف ممالک کی سول اور عسکری قیادتوں کو دہشت گردوں کیخلاف اپریشن راہ راست‘ راہ نجات‘ ضرب عضب‘ ردالفساد اور اپریشن خیبر4 میں حاصل ہونیوالی کامیابیوں اور قوم کی جانب سے دی گئی قربانیوں سے بجا طور پر آگاہ کیا ہے اور انہیں پاکستان کے کردار پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے اور بالخصوص امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان سے تقاضے اور انکی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے امریکاسے یہ بجا تقاضا بھی کیا ہے کہ اب خطے میں قیام امن کے لیے ’’ڈومور‘‘ کی اسکی باری ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز سینٹ اور قومی اسمبلی کی مجالس قائمہ برائے دفاع کے مشترکہ وفد سے گفتگو کے دوران بھی امریکاسے ڈرون حملے بند کرنے کا تقاضا کیا اور کہا کہ سول اور فوجی قیادت انتہاء پسندی کیخلاف متحد ہے تاہم انہوں نے یہ کہہ کر سویلینز کو ہی موردالزام ٹھہرانے کی کوشش کی کہ مہنگائی کی وجہ سے دفاعی بجٹ کم ہورہا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں دفاع وطن کے لیے ہر ممکنہ اقدام اٹھانے کی افواج پاکستان کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے جس کے لیے انہیں ہر قسم کے جدید اور روایتی اسلحے سے لیس کرنے کی خاطر ہر سال دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے جس کے لیے عوام کی ترقی و فلاح کے لیے مختص بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔ اسی طرح ملک کے اندر دہشت گردی کے درپیش چیلنج سے عہدہ برا ہونے کی بھی عسکری اداروں کی ہی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے قوم کا سر فخر سے بلند ہے کہ ملک کی سالمیت کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں اور خطرات سے عہدہ برا ہونے کے لیے عساکر پاکستان نے بے مثال کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی کی جنگ میں اپنے دس ہزار سے زیادہ جوانوں اور افسران کی شہادتوں اور فوجی تنصیبات کے بھی دہشت گردی کا نشانہ بننے سے بے پناہ نقصانات بھی اٹھائے ہیں تاہم عساکر پاکستان کے اس جرات مندانہ کردار کے باوصف عالمی قیادتوں کو انکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے سرکردہ لیڈران کی ہمارے قومی سلامتی کے اداروں کی میٹنگوں میں شمولیت کی اطلاعات ملتی ہیں تو انہیں دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے کردار پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملتا ہے جس پر ہماری سول قیادتوں کو دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے دقت محسوس ہوتی ہے اور انہیں اپنے گھر میں موجود خرابی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔
بلاشبہ ہماری سول قیادتوں کو گھر میں موجود خرابیوں کا پبلک فورموں پر اعتراف کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ہمارا مکار دشمن بھارت تو ہماری کمزوریاں تلاش کرنے کے موقع کی تاک میں بیٹھا ہے جو ہمارے قائدین کے ایسے بیانات کو اچھال کر دنیا میں ہمیں تنہا کرنے کی سازشوں کو مزید پروان چڑھاتا ہے۔ اسی طرح ہماری عسکری قیادتوں کو بھی ملک کے دفاعی معاملات بالخصوص دفاعی بجٹ پر پبلک فورموں پر ایسی باتیں سامنے لانے سے گریز کرنا چاہیے جس سے دفاع وطن کی تیاریوں کے حوالے سے ہمارے کسی کمزور پہلو کی نشاندہی ہوتی اور سول انتظامیہ کی اتھارٹی پر کسی قسم کی زد پڑتی ہو۔ اس تناظر میں آرمی چیف کا ایک پبلک فورم پر یہ کہنا انکی پیشہ ورانہ آئینی ذمہ داریوں کے ہی متضاد نہیں بلکہ بے محل بھی نظر آتا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے دفاعی بجٹ کم ہورہا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے پیدا کردہ حالات ہی مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں‘ جب دہشت گردوں کی پیدا کردہ خوف و ہراس کی فضا میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہ جائے‘ صنعتوں کا پہیہ جامد ہو جائے اور کاروباری اور تجارتی مراکز میں کام ٹھپ ہوجائے تو اس سے پیدا ہونیوالی اشیاء کی کمیابی مہنگائی میں اضافے پر ہی منتج ہوگی۔ اس مہنگائی کا اثر صرف دفاعی بجٹ پر نہیں‘ ملک و قوم کی فلاح و ترقی کے لیے وضع کئے گئے میزانیوں پر بھی منفی انداز میں ہی مرتب ہوتا ہے۔ دفاعی بجٹ میں ہر سال اضافہ کرنا یقیناً ہماری مجبوری ہے جبکہ اسکے مقابلے میں تعلیم‘ صحت اور عوام کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے ذمہ دار دوسرے شعبوں کے بجٹ میں ہونیوالا اضافہ دفاعی بجٹ کے اضافے کا عشرِعشیر بھی نہیں ہوتا۔ اس وقت بھی ہمارا دفاعی بجٹ تعلیم اور صحت کے مجموعی بجٹ سے تقریباً چھ گنا زیادہ ہے اور اگر مہنگائی سے دفاعی بجٹ متاثر ہورہا ہے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحت اور تعلیم کے بجٹ میں جو پہلے ہی دفاعی بجٹ کے حجم سے چھ گنا کم ہے‘ مہنگائی کے کتنے برے اثرات مرتب ہوتے ہونگے۔ اگر مہنگائی کے محرکات میں ملک کی امن و امان کی مخدوش صورتحال کا زیادہ عمل دخل ہے‘ جسے بہتر بنانے کی ہمارے عسکری اداروں کی ذمہ داری ہے تو دفاعی بجٹ میں اضافے کے ثمرات قوم تک کیسے پہنچ پائیں گے اور اگر دہشت گردوں کی سرکوبی کے معاملات میں عالمی ادارے اور قیادتیں بھی ہمارے کردار پر مطمئن نہ ہوں تو جہاں پر خرابی موجود ہے‘ کیا اسے دور کرنے کا تردد نہیں کرنا چاہیے؟
ہمارے قومی ریاستی آئینی ادارے اگر اپنے اپنے متعینہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوں تو نہ اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے کسی قسم کی خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ بیرون ملک سے ہم پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع ملے۔ بہتر یہی ہے کہ ہماری سول اور عسکری قیادتیں ملکی سلامتی اور قومی مفاد کے معاملات پر یکجہت و یکسو ہو جائیں ورنہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے جان توڑ کردار کے باوجود بدقسمتی ہمارے تعاقب میں رہے گی۔
قومی سلامتی اور وقار کاتقاضہ ہے کہ ہمارے سیاستداں آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس حوالے سے اتحاد کامظاہرہ کریں اور ملک کی سلامتی اور وقار کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور کسی بھی ایسے بیان اور تبصرے سے گریز کریں جس سے پاک فوج اور سیاستدانوں کے موقف میں اختلافات کا تاثر ملتاہو۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر