... loading ...
وزیراعظم عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر‘ روہنگیا کے مسلمانوںپر ڈھائے جانے والے مظالم اور افغانستان کی صورتحال کے ساتھ ہی فلسطین اور آلودگی جیسے مسائل پر بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی اور اس طرح یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انھوں نے اس عالمی فورم پر پوری دنیا کی توجہ مبذول کراکے یہ بات ثابت کردی کہ پاکستان عالمی حالات وواقعات سے بے خبر نہیں ہے ،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیویارک میں افغان صدر اشرف غنی‘ ترک صدر رجب طیب اردوان‘ برطانوی وزیراعظم تھریسامے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نتونیوگوتریز اور امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ملاقاتیںکیں اور اس طرح سلگتے ہوئے عالمی مسائل پر انھیں پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کی بے مثال کوششوں‘ قربانیوں‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم‘ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے تعاون‘ ایٹمی عدم پھیلائو کے لیے پاکستان کے عزم سمیت عالمی و علاقائی اہمیت کے امور کا احاطہ کیا اور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارت کی سرپرستی اور اس ضمن میں کلبھوشن یادیو سمیت بھارتی تخریب کاروں کے نیٹ ورک کی گرفتاری کی تفصیلات سے عالمی سربراہوں کو آگاہ کیا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیویارک روانگی سے قبل گزشتہ روز لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھاکہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کا پہلے اپنے گھر کی صفائی سے متعلق بیان درست ہے اور وہ خود بھی اس موقف کے حامی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ لاہور کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ نوازشریف ہی عوام کے رہنماہیں اور وہی ملک کی ترقی کے ضامن ہیں۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے لیے اس وقت نیویارک گئے ہیں جب پاکستان سے دہشت گردی کے تدارک بالخصوص انتہاپسند کالعدم تنظیموں کیخلاف سخت کارروائی کے لیے عالمی تقاضے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں سے نشری خطاب کے دوران پاکستان اور افغانستان سے متعلق نئی امریکی حکمت عملی کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان سے دھمکی آمیز لہجے میں حقانی نیٹ ورک اور دوسری کالعدم تنظیموں کے قلع قمع کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا تقاضا کیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی باور کرایا کہ پاکستان کی جانب سے کارروائی نہ کئے جانے کی صورت میں سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان کو امریکاکی جانب سے دی جانے والی امداد روک لی جائیگی‘ دہشت گردوں کا پاکستان کے اندر تعاقب کیا جائیگا اور ا ن کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے بڑھائیں جائینگے۔ اسی طرح دو ہفتے قبل چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہونیوالی5 ملکی برکس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں بھی کالعدم انتہا پسند تنظیموں کیخلاف سخت کارروائی کا تقاضا کیا گیا اور بالخصوص چینی قیادت کی جانب سے دہشت گردی کی جنگ میں کالعدم تنظیموں کیخلاف اٹھائے جانیوالے اقدامات کو ناکافی قرار دے کر ان پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ بھارت اور افغانستان کی جانب سے تو پہلے ہی پاکستان سے امریکی لب و لہجے میں ڈومور کے تقاضے جاری ہیں۔
یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے ٹھوس اور موثر کردار اور اسکی بے مثال قربانیوں کے باوجود اس کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور ڈومور کے تقاضے کرتے ہوئے امریکاہی نہیں‘ ہمارے قابل بھروسہ دوست ملک چین کی جانب سے بھی دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے ہماری اب تک کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم اب نیویارک میں عالمی قیادتوں کے روبرو ہیں تو یقیناً وہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے کردار کے حوالے سے استفسارات کئے جائیں گے اور انہیں اس معاملہ میں بہرصورت عالمی قیادتوں کو مطمئن کرنا ہوگا۔
ہمارے لیے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک طرف ہم جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوجوں کے مظالم کی جانب عالمی قیادتوں کی توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کررہے ہیں اور پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارتی جارحانہ عزائم پر اسے شٹ اپ کال دینے کا عالمی قیادتوں سے تقاضا کررہے ہیں دوسری جانب بعض ممالک دہشت گردی کے خلاف ہماری قربانیوں سے روگردانی کرتے ہوئے خود ہم پربعض دہشت گرد تنظیموں کو تحفظ دینے کے الزامات لگارہے ہیں اور یہ الزامات امریکااور ہمارے روایتی دشمن بھارت کی جانب سے ہی نہیں‘ ہمارے مخلص دوست چین کی جانب سے بھی عائد کئے جارہے ہیں۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف برکس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ پر پاکستان کے موقف کی وضاحت کے لیے بیجنگ گئے تو انہیں میڈیا کے روبرو اس امر کا اعتراف کرنا پڑا کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کی صفائی کی ضرورت ہے۔ بعدازاں انکے اس موقف کی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی تائید کی جنہوں نے گزشتہ روز بھی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ جب تک ہمارا گھر ٹھیک نہیں ہوگا‘ ہمارے مسائل حل نہیں ہو پائیں گے۔
اب نیویارک میں عالمی قیادتوں کے روبرو موجود ہمارے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی اس امر کا اعتراف کرنا پڑا ہے کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کی صفائی کرنا ہوگی تو اس پر مخالفانہ سیاسی پوائنٹ ا سکور کرنے کے بجائے سنجیدگی سے غوروفکر کرنا ہوگا کہ ہمارے بارے میں عالمی فورموں اور عالمی قیادتوں کے دلوں میں ایسے شکوک و شبہات کیوں پیدا ہوئے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے حالیہ بیرونی دورے کے دوران مختلف ممالک کی سول اور عسکری قیادتوں کو دہشت گردوں کیخلاف اپریشن راہ راست‘ راہ نجات‘ ضرب عضب‘ ردالفساد اور اپریشن خیبر4 میں حاصل ہونیوالی کامیابیوں اور قوم کی جانب سے دی گئی قربانیوں سے بجا طور پر آگاہ کیا ہے اور انہیں پاکستان کے کردار پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے اور بالخصوص امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان سے تقاضے اور انکی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے امریکاسے یہ بجا تقاضا بھی کیا ہے کہ اب خطے میں قیام امن کے لیے ’’ڈومور‘‘ کی اسکی باری ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز سینٹ اور قومی اسمبلی کی مجالس قائمہ برائے دفاع کے مشترکہ وفد سے گفتگو کے دوران بھی امریکاسے ڈرون حملے بند کرنے کا تقاضا کیا اور کہا کہ سول اور فوجی قیادت انتہاء پسندی کیخلاف متحد ہے تاہم انہوں نے یہ کہہ کر سویلینز کو ہی موردالزام ٹھہرانے کی کوشش کی کہ مہنگائی کی وجہ سے دفاعی بجٹ کم ہورہا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں دفاع وطن کے لیے ہر ممکنہ اقدام اٹھانے کی افواج پاکستان کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے جس کے لیے انہیں ہر قسم کے جدید اور روایتی اسلحے سے لیس کرنے کی خاطر ہر سال دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے جس کے لیے عوام کی ترقی و فلاح کے لیے مختص بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔ اسی طرح ملک کے اندر دہشت گردی کے درپیش چیلنج سے عہدہ برا ہونے کی بھی عسکری اداروں کی ہی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے قوم کا سر فخر سے بلند ہے کہ ملک کی سالمیت کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں اور خطرات سے عہدہ برا ہونے کے لیے عساکر پاکستان نے بے مثال کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی کی جنگ میں اپنے دس ہزار سے زیادہ جوانوں اور افسران کی شہادتوں اور فوجی تنصیبات کے بھی دہشت گردی کا نشانہ بننے سے بے پناہ نقصانات بھی اٹھائے ہیں تاہم عساکر پاکستان کے اس جرات مندانہ کردار کے باوصف عالمی قیادتوں کو انکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے سرکردہ لیڈران کی ہمارے قومی سلامتی کے اداروں کی میٹنگوں میں شمولیت کی اطلاعات ملتی ہیں تو انہیں دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے کردار پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملتا ہے جس پر ہماری سول قیادتوں کو دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے دقت محسوس ہوتی ہے اور انہیں اپنے گھر میں موجود خرابی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔
بلاشبہ ہماری سول قیادتوں کو گھر میں موجود خرابیوں کا پبلک فورموں پر اعتراف کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ہمارا مکار دشمن بھارت تو ہماری کمزوریاں تلاش کرنے کے موقع کی تاک میں بیٹھا ہے جو ہمارے قائدین کے ایسے بیانات کو اچھال کر دنیا میں ہمیں تنہا کرنے کی سازشوں کو مزید پروان چڑھاتا ہے۔ اسی طرح ہماری عسکری قیادتوں کو بھی ملک کے دفاعی معاملات بالخصوص دفاعی بجٹ پر پبلک فورموں پر ایسی باتیں سامنے لانے سے گریز کرنا چاہیے جس سے دفاع وطن کی تیاریوں کے حوالے سے ہمارے کسی کمزور پہلو کی نشاندہی ہوتی اور سول انتظامیہ کی اتھارٹی پر کسی قسم کی زد پڑتی ہو۔ اس تناظر میں آرمی چیف کا ایک پبلک فورم پر یہ کہنا انکی پیشہ ورانہ آئینی ذمہ داریوں کے ہی متضاد نہیں بلکہ بے محل بھی نظر آتا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے دفاعی بجٹ کم ہورہا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے پیدا کردہ حالات ہی مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں‘ جب دہشت گردوں کی پیدا کردہ خوف و ہراس کی فضا میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہ جائے‘ صنعتوں کا پہیہ جامد ہو جائے اور کاروباری اور تجارتی مراکز میں کام ٹھپ ہوجائے تو اس سے پیدا ہونیوالی اشیاء کی کمیابی مہنگائی میں اضافے پر ہی منتج ہوگی۔ اس مہنگائی کا اثر صرف دفاعی بجٹ پر نہیں‘ ملک و قوم کی فلاح و ترقی کے لیے وضع کئے گئے میزانیوں پر بھی منفی انداز میں ہی مرتب ہوتا ہے۔ دفاعی بجٹ میں ہر سال اضافہ کرنا یقیناً ہماری مجبوری ہے جبکہ اسکے مقابلے میں تعلیم‘ صحت اور عوام کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے ذمہ دار دوسرے شعبوں کے بجٹ میں ہونیوالا اضافہ دفاعی بجٹ کے اضافے کا عشرِعشیر بھی نہیں ہوتا۔ اس وقت بھی ہمارا دفاعی بجٹ تعلیم اور صحت کے مجموعی بجٹ سے تقریباً چھ گنا زیادہ ہے اور اگر مہنگائی سے دفاعی بجٹ متاثر ہورہا ہے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحت اور تعلیم کے بجٹ میں جو پہلے ہی دفاعی بجٹ کے حجم سے چھ گنا کم ہے‘ مہنگائی کے کتنے برے اثرات مرتب ہوتے ہونگے۔ اگر مہنگائی کے محرکات میں ملک کی امن و امان کی مخدوش صورتحال کا زیادہ عمل دخل ہے‘ جسے بہتر بنانے کی ہمارے عسکری اداروں کی ذمہ داری ہے تو دفاعی بجٹ میں اضافے کے ثمرات قوم تک کیسے پہنچ پائیں گے اور اگر دہشت گردوں کی سرکوبی کے معاملات میں عالمی ادارے اور قیادتیں بھی ہمارے کردار پر مطمئن نہ ہوں تو جہاں پر خرابی موجود ہے‘ کیا اسے دور کرنے کا تردد نہیں کرنا چاہیے؟
ہمارے قومی ریاستی آئینی ادارے اگر اپنے اپنے متعینہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوں تو نہ اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے کسی قسم کی خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ بیرون ملک سے ہم پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع ملے۔ بہتر یہی ہے کہ ہماری سول اور عسکری قیادتیں ملکی سلامتی اور قومی مفاد کے معاملات پر یکجہت و یکسو ہو جائیں ورنہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے جان توڑ کردار کے باوجود بدقسمتی ہمارے تعاقب میں رہے گی۔
قومی سلامتی اور وقار کاتقاضہ ہے کہ ہمارے سیاستداں آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس حوالے سے اتحاد کامظاہرہ کریں اور ملک کی سلامتی اور وقار کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور کسی بھی ایسے بیان اور تبصرے سے گریز کریں جس سے پاک فوج اور سیاستدانوں کے موقف میں اختلافات کا تاثر ملتاہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...