وجود

... loading ...

وجود

ٹیکسوں کی چوری کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں بے قاعدگیاں  قومی خزانے کو78 ارب روپے کانقصان

بدھ 20 ستمبر 2017 ٹیکسوں کی چوری کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں بے قاعدگیاں  قومی خزانے کو78 ارب روپے کانقصان

آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کاخسارہ کم کرنے لیے کی جانے والی کوششوں کے برعکس گزشتہ مالی سال کے دوران ٹیکسوں کی چوری اور کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو78 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 2016-17 کے دوران مجموعی طورپر 39.41 بلین روپے یعنی 39 ارب41 کروڑ روپے ٹیکسوں کے واجبات کی مد میں جمع کئے گئے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی تیار کردہ یہ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی جاچکی ہے اور اب جلد ہی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے بھی پیش کردی جائے گی۔ٹیکسوں سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس جمع کرنے والے ذمہ دار اداروں کے اعلیٰ حکام کی ملی بھگت اور مدد کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی چوری ممکن ہی نہیں ہے۔اس کام میں متعلقہ ٹیکس حکام ہی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے سینکڑوں افراد کو نان اسیسمنٹ، یعنی ناقابل ادائیگی ہونے، ٹیکس کم ظاہر کرنے اورڈیوٹیز کی شرح کم لگانے یا نہ لگانے کے بارے میں مشورے دے سکتے ہیں اور اس حوالے سے متعلقہ فرد کی مدد کرسکتے ہیں ۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں تخمینہ لگایاگیاہے کہ فنانشیل انسٹرومنٹ کے کیش نہ ہونے کی وجہ سے کم وبیش 27.992 بلین روپے کی وصولی رک کر رہ گئی رپورٹ میں عدالتوں میں مقدمات کی موثر پیروی کرنے اور عدالتی عمل کو مکمل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ٹیکس حکام کی جانب سے ٹیکس چوروں پر جرمانے عاید نہ کئے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کو کم وبیش 11.87 بلین یعنی 11 ارب 87 کروڑ روپے کانقصان ہوا۔رپورٹ کے مطابق 51 ہزار319 معاملات میں ایف بی آر کے13 فیلڈ افسران نے برآمد اور درآمد کنندگان کی جانب سے درآمد یابرآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت ، وزن ،مقدار اور اس کی ہیئت کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنا ثابت ہونے کے باوجود یا تو جرمانہ عاید ہی نہیں کیا یا پھر جرمانہ وصول کرنے میں ناکام رہے۔اس کے علاوہ درآمد کی گئی اشیا کی مس کلاسیفیکشن یعنی اس کو غلط زمرے میں رکھے جانے کی وجہ سے خزانے کو 4.39 بلین روپے یعنی 4 ارب 39 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا۔
آڈٹ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 5 ہزار511 معاملات میں ایف بی آر کے14 افسران درآمدی اشیا پاکستان کسٹمز ٹیرف میں درج کلاسیفیکشن کے برعکس غلط کلاسیفیکشن کے تحت کلیئر کردیں جس کی وجہ سے درآمدکنندگا ن اصل ڈیوٹی ادا کرنے سے بچ گئے اور بہت کم ڈیوٹی ادا کرکے مال کلیئر کرانے میں کامیاب ہوگئے ۔اسی طرح ایک ہزار 190 معاملات میں غیر قانوی طریقے سے چھوٹ دئے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کومجموعی طورپر 3.64 بلین روپے یعنی 3 ارب 64 کروڑ روپے کانقصان پہنچا۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اسلام آ باد اور اپریزمنٹ ایسٹ کراچی نے کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر متعلقہ ٹیکسوں میں ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنیوں اور سروسز فراہم کرنے والے اداروں کو درآمد کردہ پلانٹس، مشینری اورسازوسامان پر غیر قانونی طریقے سے چھوٹ فراہم کی اور اس طرح قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ ودہولڈنگ ٹیکس کی عدم وصولی یا کم وصولی کے ذریعے بھی قومی خزانے کو 3.41 بلین روپے یعنی3 ارب 41 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 86 ہزار725 معاملات میں اشیا کے بارے میں ڈکلریشن اور شپنگ بلز کی جانچ پڑتال سے ظاہرہوتاہے کہ ایف بی آر کے14 فیلڈ افسران نے درآمد شدہ اشیا پر یاتو ود ہولڈنگ ٹیکس وصول ہی نہیں کیا یا انتہائی کم شرح سے وصول کیا اور اس طرح قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایف بی آر کے 14افسران نے کسٹمز اور ڈیوٹیز کی عدم ادائیگیوں یا دیگر بے قاعدگیوں کے الزام میں ضبط کی جانے والی اشیا جن میں گاڑیاں اور دیگر جلد خراب ہوجانے والی اشیا شامل تھیں بروقت ٹھکانے نہیں لگائیں جس کی وجہ سے حکومت کی متوقع آمدنی کی 4.47 بلین یعنی 4ارب 47 کروڑ روپے پر مبنی رقم رک کر رہ گئی اور اس حوالے سے سرکاری خزانے کو نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے افسران نے 5ویں شیڈول کے تحت غیرقانونی طورپر ٹیکسوں میں چھوٹ دے کرقومی خزانے کو 3.35 بلین روپے یعنی 3 ارب 35 کروڑ روپے کانقصان پہنچایا 5 ویں شیڈول کے تحت آنے والی درآمد شدہ مخصوص اشیا پر شیڈول کے تحت متعلقہ فہرست میں درج شرح کے مطابق ٹیکس نافذ کرنا ضروری ہوتاہے۔2016-17 کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں برآمدی نوعیت کاسامان تیار کرنے والی صنعتوں اورکارخانوں سے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول نہ کئے جانے کے سبب قومی خزانے کو 2.74 بلین یعنی 2 ارب 74 کروڑ روپے کے نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم شرح سے وصول کئے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کو 1.32 بلین یعنی ایک ارب32 کروڑ روپے کانقصان پہنچانے کا انکشاف کیا گیاہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ٹیکسوں اورڈیوٹیز میں غیر قانونی طورپر چھوٹ دئے جانے کے سبب قومی خزانے کو 1.14 بلین یعنی ایک ارب 14 کروڑ کا نقصان پہنچایاگیااور ان کلیمڈ اشیا کی کلیئرنس نہ کرکے قومی خزانے کے 763.98 ملین روپے یعنی 76 کروڑ39 لاکھ 80 ہزار روپے غیر ضروری طورپر منجمد کردئے گئے۔اس کے علاوہ اشیا کی اصل قیمت سے کم قیمت لگائے جانے کے سبب بھی قومی خزانے کو 620 ملین روپے یعنی 62 کروڑ روپے کانقصان پہنچایاگیا۔ایس آر او کاغیر قانونی فائدہ دے کر قومی خزانے کوڈیوٹی اورٹیکسوں کی مد میں 576.44 ملین روپے یعنی 57 کروڑ64 لاکھ 40 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ایس آر اوکا غیر ضروری فائدہ دے کر اور بندرگاہ کے گوداموں میں مال زیادہ دنوں تک رکھنے پر سرچارج اور ٹیکسوں کی عدم وصولی سے بھی قومی خزانے کو 533.582 ملین روپے یعنی 53 کروڑ35لاکھ 82 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔اسی طرح ویسٹیج اور فیکٹری سے ناکارہ قرار دی گئی اشیاکو بروقت فروخت نہ کئے جانے سے قومی خزانے کی 467.37 ملین روپے کی رقم یعنی46 کروڑ 73 لاکھ70 ہزار روپے منجمد ہوگئے۔ حکومت کے فیصل شدہ واجبات وصول نہ کئے جانے کے سبب بھی قومی خزانے کو1.2 بلین روپے یعنی ایک ارب20 کروڑ روپے کانقصان اٹھانا پڑا،ویلیو ایڈیشن ٹیکس کی عدم وصولی پر خزانے کو 382.7 ملین روپے یعنی38 کروڑ 27 لاکھ روپے کا اورایک ایس آر او کے تحت غیر قانونی طورپر چھوٹ دے کر سیلز ٹیکس کی مد میں عدم وصولی کے ذریعے343.13 ملین یعنی 34 کروڑ31 لاکھ30 ہزار روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔مشینری اور دیگر پرزہ جات کی فروخت پر ڈیوٹی اورٹیکس وصول نہ کئے جانے کے سبب قومی خزانے کو88.65 ملین روپے یعنی8کروڑ 86 لاکھ50 ہزار روپے کانقصان پہنچایاگیا۔جبکہ درآمد شدہ اشیا پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی عدم وصولی کے سبب قومی خزانے کو196.46 ملین روپے یعنی19کروڑ 64 لاکھ 60 لاکھ روپے کانقصان ہوا۔
اب دیکھنا یہ ہے قومی اسمبلی او رپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ارباب اختیار قومی خزانے کو پہنچنے والے اس نقصان کاکس طرح نوٹس لیتے ہیں اور اس کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کیاکارروائی کی جاتی ہے؟

 


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر