وجود

... loading ...

وجود

چین تخلیق کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن ہے!

جمعرات 14 ستمبر 2017 چین تخلیق کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن ہے!


ڈاکٹر مو ینگ پنگ
چین میں عوام تخلیق کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ پرجوش ہوتے جارہے ہیں۔میرے غیر ملکی دوست اکثر مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ چین کی شرح نمو میں مسلسل اور اس کے استحکام کاراز کیاہے ؟اس کاجواب چین کے عوام کی سخت محنت اور دوراندیشی ہے۔چین کو پوری دنیا کے لیے کھول دینا اور اصلاحات میں ملک کے ایک ارب 30 کروڑ عوام کو شریک کرنا پوری دنیا میں شروع کیا جانے والا سب سے بڑا تخلیقی عمل ہے۔ہمارے بہت سے سسٹم اور عمل جو کامیاب ثابت ہوئے اسی عمل کانتیجہ ہیں۔ لاکھوں عوام کی تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت معاشرے کو دولت پیدا کرنے کی مضبوط صلاحیت حاصل ہوئی اور لوگ خوشحال ہوگئے۔ملک کو پوری دنیالیے کھول دینا بھی ایک طرح کی اصلاح ہے اور اس سے ہماری تخلیقی صلاحیتوں اور دوسرے ملکوں سے مقابلے کی استعداد میں وسیع تر اور اونچی سطح پر اضافہ ہوا ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی نے چین کی ترقی میں بنیادی پیداواری قوت کا کردار ادا کیاہے۔اور اصلاحات کے بغیر سائنس اور ٹیکنالوجی کا ایک وسیع شعبہ وجود میں نہیں لایاجاسکتاتھا۔بنیادی ریسرچ کو مستحکم کرتے ہوئے ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے اور خود اپنی قدروقیمت پیدا کرنے حوصلہ افزائی کی۔اس طرح ہم نے مارکیٹ کمپٹیشن کے ذریعے سائنسی وار ٹیکنالوجیکل کمپنیاں پیدا کیں ان میں اضافہ کیا اور اس طرح مارکیٹ کی قوت اور تخلیق کے عمل کومستحکم بنایا اورتیزتر کیا۔
چین نے ترقی کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ چین اب بھی سب سے بڑا ترقی پزیر ملک ہے اور فی کس جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا میں یہ اب بھی 80 ویں نمبر پر ہے۔اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ہماری معیشت کے معیار اور کارکردگی میں بہتری کاعمل جاری ہے اور اب بھی ہماری ترقی کی راہ میں بعض سسٹیمیٹک اور ادارہ جاتی رکاوٹیں موجود ہیں۔چین کواس صدی کے وسط تک ایک مناسب ترقی یافتہ ملک بننے کے لیے تیزی کے ساتھ اور بہتر ترقی کی ضرورت ہے۔اس کے لیے سب سے اہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ذہن کو مزید آزاد کریں اور اصلاحات اور تخلیق پر توجہ مرکوز رکھیں،لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لائیں تاکہ پورا معاشرہ پوری طاقت اور صلاحیتوں کے ساتھ کام کرسکے اور توانائی کا ایسا ذخیرہ فراہم کرسکیں جو ترقی کامنبع ثابت ہو۔اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے تخلیق کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹیںہٹائی جائیں۔دوسرے یہ کہ ایسی میکانزم تیار کی جائے جس سے تخلیق کی حوصلہ افزائی ہو۔تیسرے ایسا ماحول پیدا کیاجائے جس سے تخلیق کو تحفظ حاصل ہوسکے۔چوتھا یہ کہ معیشت کو تخلیق کی بنیاد پراستوار کیاجائے۔چین جو تخلیق چاہتاہے وہ کھلی ہوئی تخلیق ہے ہم دروازے بند کرکے ممکنہ تخلیق پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے۔اور ہم تمام حکومتوں اداروں اور تاجروں کو سب کے لیے مفید تعاون میں شریک کرنے کوتیار ہیں۔چین خواہ کتنا ہی ترقی کرلے چین کو ہمیشہ دوسرے ممالک سے طاقت حاصل کرنے کی ضرورت رہے گی اور اسے جدید ترین ٹیکنالوجیز ، انتظامی مہارت کے حصول اور دوسروں کے ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھانے کاعمل جاری رکھنا ہوگا۔چین ہمیشہ دوسروں سے سیکھنے ،اپنے آپ کو کھلا رکھنے والا اور تخلیق کی حوصلہ افزائی کرنے کے عزم پر قائم رہے گا۔
چین کی مستحکم ترقی کا پوری دنیا کی مدد اور تعاون سے گہرا تعلق ہے۔ جبکہ دنیا کی ترقی اور خوشحالی میں چین کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1949 میں چین کے قیام اور خاص طورپر 30 سال سے زیادہ عرصہ قبل چین میں اصلاحات کاعمل اور چین کو پوری دنیاکے لیے کھولنے کی پالیسی پر عملدرآمد کے بعد سے چین میں وسیع تر تبدیلیاں آئی ہیں، چین کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں بڑے پیمانے پر بہتری کے ساتھ ہی چین اور دوسرے ممالک اور خطوں کے درمیان شرح مبادلہ کی شرح ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ چین نے خود کو پوری طرح بین الاقوامی برادری کے ساتھ ضم کرلیاہے۔
دریں اثنا چین کی ترقی سے نہ صرف یہ کہ پوری دنیا کوفائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ اس سے عالمی امن اور ترقی میں بھی نمایاں مدد ملی ہے۔ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ،دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور دوسرا سب سے بڑا درآمدکنندہ ہونے کے ناتے چین نہ صرف یہ کہ بھاری تعداد میں اچھے معیار کی اشیامناسب قیمت پر پوری دنیا کے صارفین کو فراہم کی ہیں بلکہ دوسرے ممالک کے لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع تر مواقع بھی پیدا کئے ہیں۔بڑی تعداد میں چینی طلبہ مختلف ممالک تعلیم کی ترقی کے محرک ثابت ہورہے ہیں۔چین کے بہت سے خریداروں نے مغربی ممالک کی صنعتوں کی کمزور صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔ بڑی تعداد میں چینی سیاح دوسرے ممالک میں بڑی تعداد میں اشیا کی خریداری کرتے ہیں۔ ان تمام حقائق سے ثابت ہوتاہے کہ چین کی ترقی ملکی معیشت کی قوت کا سبب بنی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی بحران شروع ہونے کے بعد سے چین کی اقتصادی ترقی پوری دنیا کی مجموعی اقتصادی ترقی کے 25 فیصد کے مساوی رہی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ 2020 تک یعنی صرف 5سال کے اندر چین کی مارکیٹ میں قوت خرید 64 کھرب یوآن تک پہنچ جائے گی۔ اور چین کی جانب سے دنیاکے مختلف ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت اگلے 5سال میں 10کھرب امریکی ڈالر کے مساوی ہوجائے گی اورچین کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی مالیت 500 ارب امریکی ڈالر کے مساوی ہوجائے گی۔اس عرصے میں دیگر ممالک کو جانے والے چینی باشندوں کی تعداد 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی اس طرح جب چین تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کررہاہے تو وہ پوری دنیا کو بھی ترقی کے وسیع مواقع فراہم کررہاہے۔
صنعتی انقلاب کے بعد سے جنگل کاقانون جو مضبوط ترین ہی کی بقاکے لیے استعمال کیاجاتاہے بین الاقوامی اصول بلکہ قانون بن گیا ہے۔پوری دنیا عالمی معیشت سے مستفیض نہیں ہورہی ہے شدید مقابلے کی صورتحال میں مفادات چند بڑی معیشتوں کے کنٹرول کا اصول اب بھی قائم ہے۔ اس بات کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ حالیہ بین الاقوامی مالیاتی بحران کے مغرب ومشرق ترقی یافتہ اور ترقی پزیر تمام ممالک نے بہت تیزی کے ساتھ ردعمل کااظہار کیا، مشترکہ کوششیں کی گئیں اور جی 20،آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک وغیر ہ جیسے اداروں سے عالمی معیشت کی مستحکم ترقی اور میکرو کنٹرولنگ کے لیے بھرپور استفادہ کیا گیا ۔
عالمی برادری کا ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے چین باہمی اعتماد ،ایک دوسرے کو شامل کرنے اور سب کے فائدے کے لیے تعاون کے جذبے اور اصولوں کوسربلند رکھتے ہوئے پوری دنیا کا ساتھ دینے کوتیار ہے ۔مشترکہ مفادات پر پوری طرح عمل ہی میں بنی نوع انسان کی پرامن بقا مضمر ہے۔برابری اورباہمی فائدے کی بنیاد پر ترقی کی از سرنو کچھ مختلف انداز میں تعلقات کا قیام اور عالمی معیشت کی ترقی کے طویل المیعاد استحکام کی ٹھوس بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی امن، استحکام اور ترقی وخوشحالی اور پیش رفت کو برقرار رکھا جاسکے اور اس دنیا کے لوگوں کو ترقی کی کامیابیوں سے استفادے کا بہتر موقع دیا جانا چاہئے۔
غیر معمولی بڑی تبدیلیوں سے گزرنے کے بعد اب موجودہ دنیا ایک نظر نہ آنے والے بہت بڑے جال میں چھپی ہوئی ہے جس میں چین اور دنیا کے دیگر ممالک،بقائے باہم کی اعلیٰ ترین سطح پر ،ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ اور تسلسل کے ساتھ تبادلوں اور مستقبل کی ترقی کے حوالے سے ناقابل تقسیم طریقے سے ایک دوسرے سے بہت قریبی جڑے ہوئے ہیں۔
دنیا کی پیچیدہ صورتحال اور عالمگیریت کو ممکنہ طورپر پیش آنے والے چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ متعلقہ ممالک ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سوچ تبدیل کریں ،صرف اپنے مفادات کا کھیل ترک کریں اور دوسرے ممالک کااحترام کریں اور اپنے قومی مفادات کے لیے کوششیں کرنے کے ساتھ ہی دوسروں کا بھی خیال کریں اور دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ ترقی کی کوشش کریں۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر