وجود

... loading ...

وجود

عیدالاضحی کے موقع پر آلائشیں ۔ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بھی بدبودار!!

بدھ 06 ستمبر 2017 عیدالاضحی کے موقع پر آلائشیں ۔ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بھی بدبودار!!

عید الاضحی قربانی کا درس دیتی ہے اور فرزندانِ اسلام جانوروں کی قربانی دے کر سنّت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہیں ۔ اس سنّت کی ادائیگی کے بعد جانوروں کی آلائشیں عموماََ کچرا خانوں میں پھینکی جاتی ہیں ۔ ان آلائشوں کو اگر بر وقت شہری علاقوں سے نہ اٹھایا جائے تو علاقوں میں تعفّن اٹھنا لازمی امر ہے ۔ یہ تعفن اس قدر خطرناک ہوتا ہے کہ جو فوری طور پر طبی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ بعض حساس طبیعت کے حامل افراد کو فوری اُلٹیاں لگ جاتی ہیں جبکہ اس کے دور رس نتایج یہ برآمد ہوتے ہیں کہ اس علاقے میں انفیکشن پھیلنے لگتا ہے ۔ اور طرح طرح کی بیماریاں وبائی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں ۔ ان بیماریوں میں پیٹ کے امراض ، آنکھوں کا انفیکشن، جلدی بیماریاں وغیرہ شامل ہیں ۔ اور اگر کوئی مریض اس علاقے میں آپریشن کے بعد گھر پر آرام کر رہا ہوتا ہے تو اس کے زخم میں انفیکشن اور پَس پڑنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ خصوصاََ معصوم نوزائیدہ بچے ایسے علاقوں میں مختلف مہلک بیماروں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔الغرض آلائشیں اُٹھانا محض صفائی سے جڑا ایک مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق طب وصحت کے مسئلے سے بھی ہے۔ اس لیے عیدالاضحی کے ایّام میں آلائشوں کے حوالے سے بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری پر ہر سال ایک سوال اُٹھایا جاتا ہے۔
آلائشیں اٹھانے کی ذمہ داری سابقہ ادوار میں شہر ی بلدیہ کی ہوا کرتی تھی۔ اب جبکہ سندھ حکومت نے بلدیاتی قوانین ایس ایل جی او 2013 ایکٹ نافذ کیا ہے اور کچرا اٹھانے کے لیے صوبہ بھر میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم کردیا ہے تو اس وقت سے یہ بلدیاتی اداروں سے زیادہ اب سندھ حکومت کی ذمہ داری ہو گئی ہے۔ تاہم سندھ حکومت نے اب تک دیگر معاملات کی طرح کچرا اٹھانے کے اختیار کو بھی کھٹائی میں ڈال رکھا ہے۔ جب سے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم ہوا ہے ضلعی بلدیات کے فنڈز یہ کہہ کر روکے جاتے ہیں کہ اب کچرا آپ کو نہیں اٹھانا۔ دوسری طرف سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے اپنے قیام سے اب تک یعنی پونے دو سال میں میٹرو پولیٹن شہر کراچی ( جس کی 6ضلعی بلدیات اور ایک ضلع کونسل کراچی بھی ہے )میں سے صرف 2 ضلعی بلدیات بلدیہ شرقی اور بلدیہ جنوبی کے ساتھ معاہدے کر کے کام شروع کیا ہے اوروہ بھی ادھورا بلکہ بڑی حد تک ناقص بھی ہے۔ بلدیہ شرقی اور جنوبی میں بھی صفائی کی مجموعی صورت حال غیر میعاری ہے۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ہوتے ہوئے بھی ان دونوں اضلاع میں کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں ۔ ہر طرف تعفن سے شہری پریشان ہیں ۔ سندھ حکومت نے بظاہر یہ محکمہ پورے صوبے کے لیے بنایا ہے مگر اس کی کارکردگی مجموعی طور پر صفر ہے۔ چینی کمپنی سے معاہدہ کرنے کے باوجود بھی اب تک کارکردگی ظاہر نہیں ہوسکی ہے۔ ایسی صورت حال میں آلائشیں اٹھانے کا کام متاثر ہونا ایک لازمی جز ہے۔
عید الاضحی کے موقع پر شہریوں نے سنّت ابراہیمی تو ادا کردی مگر متعلقہ ادارے اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں ۔ ضلعی بلدیات کے افسران بھی منتخب نمائندوں کو آلائشیں اٹھانے میں چونا لگا کر بھاری کمیشن وصول کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور خمیازہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عید کے تین روز ہونے والی جانوروں کی قربانی میں شہریوں نے تقریباََ 21 لاکھ جانوروں کی قربانیاں کیں جبکہ آلائشیں 16 لاکھ کے لگ بھگ ہی اٹھائی گئیں تقریباََ 5 لاکھ آلائشیں شہر کے مختلف مقامات پر عید کے چوتھے روز بھی پڑی تھیں ۔ ان آلائشوں کے باعث پورے شہر کی مرکزی سڑکوں پر گزرنے والے شہریوں کو شدید تعفن کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اور وبائی امراض پھیلنے کاخدشہ موجود ہے۔
سب سے زیادہ گھٹیا کارکردگی بلدیہ کورنگی کی رہی ہے ۔ لانڈھی ،کورنگی ، ملیر اور شاہ فیصل کالونی کے مختلف علاقوں سے بد انتظامی کے باعث تعفن اٹھ رہا ہے۔ انتظامیہ ضلعی بلدیات کورنگی آلائشیں اٹھانے کی گھٹیا کارکردگی میں پہلے نمبر پر رہی ہے ۔ عید سے قبل ایم کیو ایم نے عشرہ صفائی مہم شروع کروائی تھی ۔ مگر بلدیہ کورنگی نے صرف فوٹو سیشن کروائے اور کچرا پورے ضلع کے ہر علاقے میں ڈھیر کا ڈھیر موجود رہا۔ جبکہ عید کے موقع پر بھی صرف ثابت آلائشیں ہی اٹھائی گئیں اورایسی آلائشیں جو پھٹ گئیں تھیں انکی باقیات وہیں چھوڑدی گئیں جس سے مسلسل تعفن پھیل رہا ہے۔اور کئی مقامات پر آلائشیں اٹھانے کی بھی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔ سالڈ ویسٹ کی ذمہ داری سمیت ہر کام کا ٹھیکہ ایک ہی افسر نثار سومرو نے لے رکھا ہے اور چیئرمین نیئر رضا نے اس افسر پر اندھا اعتماد کر رکھا ہے۔ اس ضلع کے عوام بدترین دور سے گزر رہے ہیں ۔ سڑکوں پر کچرا ، کچرا کنڈیاں تعفن دیتی ہیں ، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ اسٹریٹ لائٹیں گزشتہ ایک سال سے بند ہیں ، پارک اجڑے ہوئے ہیں ۔ بلدیہ کورنگی میں منتخب چیئر مین کی موجودگی کا عوام کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ سابقہ ایڈ منسٹریٹر کے دور اور آج کے دور میں معمولی فرق بھی نہیں آیا۔ پھر عید الاضحی کے موقع پر عوام کو سکون کیسے مل سکتا تھا۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ چیئرمین کورنگی سے عوام رابطہ بھی نہیں کر سکتے ۔ وہ اپنے دفتر سے اکثر غائب رہتے ہیں ۔ ایم کیوایم کے ایک رکن سندھ اسمبلی سے جب اس کی شکایت کی گئی تو اُن کا جواب یہ تھاکہ وہ تو ہمارا فون بھی نہیں اٹھاتے۔
بدترین کارکردگی میں دوسرے نمبر پر بلدیہ غربی رہی کہ جہاں منتخب نمائندوں کی موجودگی میں ایڈمنسٹریٹر محکمہ بلدیات حکومت سندھ کو بھاری نذرانے ادا کر کے اپنی تعیناتی کرواتے ہیں ۔پھر یہ ایڈ منسٹریٹرز کرپشن کر کے اپنی سرمایہ کاری بمعہ منافع حاصل کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ بلدیہ غربی میں اورنگی ، سائٹ، کیماڑی،اور بلدیہ ٹاون، کے علاقے شامل ہیں ۔ یہاں بھی آلائشیں اٹھانے میں بھرپور بدعنوانیاں سامنے آئیں اور اس میں میونسپل کمشنر، سالڈ ویسٹ بلدیہ غربی کے افسران ملوث تھے۔
تیسرے نمبر پر بلدیہ جنوبی ہے کہ جہاں صدر اور لیاری کے علاقے شامل ہیں ۔ گنجان آباد اس ضلع میں بھی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈکا عمل دخل ہے۔ یہاں پر بلدیہ جنوبی کے محکمہ سالڈ ویسٹ کے افسران اور میونسپل کمشنر نے طبیعت سے چونا لگایا ہے۔ آلائشیں اٹھانے کے لیے کرائے پر لی گئی گاڑیوں کی کم تعداد اور 3 روز کے لیے خاکروب بھی کم تعداد میں لیے گئے مگر بلدیہ جنوبی کے خزانے سے بھاری تعداد گاڑیوں کی اور خاکروبوں کی ظاہر کر کے وصولی کر لی جائے گی۔
چوتھے نمبر پر بلدیہ وسطی کی کارکردگی منفی رہی ہے۔ بڑا اور گنجان آباد ضلع 4 زونوں نیو کراچی، ناظم آباد، لیاقت آباد اور گلبرگ پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کے افسران سالڈ ویسٹ بھی منتخب قیادت کو بے وقوف بنانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ کروڑوں کی کرپشن کار کردگی سے نمایا ں ہے ۔ شہر بھر میں کچرا تو آلائشوں پر ڈالا جاتا رہا اور سامنے نظر آنے والی آلائشیں اٹھالی گئیں ۔ جو دب گئیں ان میں سے شدید تعفن اٹھ رہا ہے۔ اسی بد انتظامی کے باعث شہر کا حال بہت بُرا ہے۔
بد انتظامی میں پانچویں نمبر پر بلدیہ شرقی رہا ۔ یہاں ایک افسر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا ڈائریکٹر شفیق الرحمان ملوث ہے کہ جس نے بلدیہ شرقی کا ڈائریکٹر سالڈ ویسٹ اپنے ہم نوا افسر نفیس احمد کو اپنے اثر و رسوخ سے تعینات کروایا ہے ۔ نفیس احمد کو سالڈ ویسٹ کا فوکل پرسن برائے آلائش بھی بنایا گیا تھا۔ شفیق الرحمان بلدیہ شرقی میں اپنے من پسند افسران کو اہم عہدوں پراپنے اثر و رسوخ سے تعینات کرواتا ہے ۔ ذرایع کے مطابق ان افسران نے ڈھائی کروڑ کا ٹھیکہ گرداری لال نامی شخص کو 500 سوزوکی پک اپ کی 3 روز فراہمی کا دیا تھا ۔ فی گاڑی 2 ملازم 3 روز کے لیے رکھے تھے۔ اس سے قبل ہر سال فی گاڑی 3 خاکروب رکھے جاتے تھے ۔ بلدیہ شرقی جو آلائشیں اٹھانے میں اعلیٰ کارکردگی میں 14 سال تک پہلے نمبر پر رہا ہے ۔ تاہم اس سال ناقص کارکردگی کے باعث اپنا مقام کھو چکا ہے ۔
آلائشیں ٹھکانے لگانے میں بلدیہ ملیر اور ضلع کونسل کراچی کی کار کردگی قدرے مناسب نظر آئی ۔ مکمل تو نہیں تاہم ان اداروں نے کافی حد تک بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم اسے اطمنان بخش کسی طور پر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ البتہ مجموعی کارکردگی بہتر کہی جاسکتی ہے۔
ناقص کارکردگی کی اصل وجہ افرادی قوت کی کمی اور کم گاڑیوں کا استعمال ہے جن ضلعی بلدیات نے گزشتہ برسوں میں آلائشیں اٹھانے کے لیے مجموعی طور پر 1500 گاڑیوں کا استعمال کیا تھا اس سال ذ رائع کے مطابق بلدیہ وسطی نے 1200 گاڑیاں حاصل کیں ۔ بلدیہ غربی نے تو حد ہی کردی۔ ذرائع کے مطابق5 زونوں میں صرف 500 گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئیں ۔ جبکہ ادائیگی کے لیے 1200 گاڑیاں ظاہر کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔آلائشیں اٹھانے کے لیے بلدیہ غربی نے فی گاڑی 2 ملازم 3 روز کے لیے رکھے تھے اس سے قبل ہر سال فی گاڑی 3 خاکروب رکھے جاتے تھے ۔ افرادی قوت اور گاڑیوں کی کمی نے کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ۔بلدیہ کورنگی میں بھی 3 کی جگہ 2 خاکروب ایک گاڑی میں کام کر رہے تھے۔ اور ذرایع کے مطابق صرف 450 گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئیں تاہم ادائیگی کے لیے 800 تا 1200 گاڑیاں ظاہر کی جانے کی اطلاعات ہیں ۔ اس کی سب سے زیادہ ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔ اس گھٹیا کار کردگی کی کہ جس نے صوبائی سطح کا ادارہ سندھ سالڈ ویسٹ تو بنا دیا مگر اس کے مثبت اثرات سے عوام کو اب تک کوئی فائدہ تو نہیں ہوا البتہ تکلیف کا سامنا ضرور ہے۔ پھر ذمہ داری ضلعی بلدیات کے منتخب چیئرمینوں کی ہے کہ انہوں نے اپنے افسران کو کیوں کھلی چھوٹ
دے رکھی ہے اور کرپشن کی خبروں پر کیوں آنکھیں بند کر کے چشم پوشی کرتے ہیں ۔ کیوں اخبارات کی خبروں کا نوٹس نہیں لیتے اور اپنے افسران کی ہر بات پر یقین کر لیتے ہیں ۔ اُن کے بعد یہ ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں کی ہے کہ وہ اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے چیئرمینوں کی کار کردگی کا جائزہ لیں اور اخبارات کی خبروں پر اپنے چیئرمینوں سے باز پرس بھی کریں ۔ ورنہ عوم اس بات کو سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ کرپشن میں منتخب نمائندے بھی ملوث ہیں اور جن سیاسی جماعتوں سے ان کا تعلق ہے وہ یا ان کے اعلیٰ عہدیداران بھی کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں ۔
عمران علی شاہ


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر