... loading ...
سپریم کورٹ سے نواز شریف کی نااہلی اورمریم نواز ،کیپٹن صفدر ،حسن اور حسین نواز کے خلاف ریفرنس عدالت میں جمع کرانے کے حوالے سے نیب کو واضح ہدایات کے باوجود ان محکموں میں موجود نواز شریف کے بعض نمک خوار افسران مبینہ طورپر عدالت کے حکم کی سرتابی کرتے ہوئے اب بھی ان کو سزا سے بچانے کے لیے حقائق چھپانے اور انھیں عدالت کے سامنے پیش کرنے سے گریز کررہے ہیں ، جس کا اندازا اس طرح لگایاجاسکتا ہے کہ نیب کی جانب سے شریف فیملی کے خلاف ریفرنس کی تیاری میں لیت ولعل اورریفرنس عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر شیخ رشید کو سپریم کورٹ کے در پر دستک دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔اب معلوم ہوا ہے کہ وفاقی ریونیو بورڈ نے شریف فیملی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کاجو ٹیکس ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا ہے وہ مکمل نہیں ہے۔ایف بی آر کے حکام کا موقف ہے کہ شریف فیملی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے انکم ٹیکس گوشوارے اور دولت کے بارے میں ان کی جانب سے جمع کرائی گئی دستیاب تمام تفصیلات عدالت میں جمع کرائی گئی ہیں ۔جبکہ ملک میں کرپشن کاقلع قمع کرنے کے لیے قائم ملک کے سب سے بڑا ادارہ نیب کے حکام کا کہنا ہے کہ شریف فیملی اور اسحاق ڈار کے خلاف 4 ریفرنسز تیار کیے جارہے ہیں جو جلد ہی عدالت میں پیش کردیے جائیں گے۔نیب کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ایف بی آر نے شریف فیملی اور اسحاق ڈار کے حوالے سے جو اعدادوشمار جمع کرائے ہیں وہ نواز شریف فیملی کی آف شور کمپنیوں کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کے پاس پہلے سے موجود اعددادوشمار سے مطابقت رکھتے ہیں ۔
دوسری جانب جے آئی ٹی حکام کے مطابق ایف بی آر نے نواز شریف کے 1997-98 ، 2001-2002 ،2004-05،2005-06 ،2006-07 اور2007-08 کے انکم ٹیکس گوشوارے اور دولت کی تفصیلات ابھی تک جمع نہیں کرائی ہیں ۔جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد ix کے مطابق نواز شریف نے 2004 اور2008 کے دوران اپنی دولت کے گوشوارے جمع ہی نہیں کرائے ہیں ۔اسی طرح مریم نواز کے ٹیکس گوشوارے بھی نامکمل بتائے جاتے ہیں ،جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ سے ظاہرہوتاہے کہ مریم نوازکے 1991 سے2009 تک کے انکم ٹیکس اور دولت کے گوشوارے بھی غائب ہیں ۔جبکہ مریم صفدر کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اپنے ٹیکس گوشوارے20013-14 سے جمع کرانا شروع کیے ہیں اس سے قبل انھوں نے کوئی ٹیکس گوشوارہ یا اپنی دولت کی تفصیلات جمع ہی نہیں کرائی ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ٹیکس ریکارڈ بھی نامکمل ہے،جبکہ ایف بی آر کے مطابق 1981 سے2002 تک کاان کاانکم ٹیکس ریکارڈ بھی غائب ہے ۔حال ہی میں سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن کے ذریعے اسحاق ڈار نے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ 2002-03 سے 2007-08 تک وہ ملک سے باہر مقیم رہے ،اس طرح چونکہ وہ ملک میں موجود ہی نہیں تھے اس لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 11(6) کے تحت بیرون ملک کمائی گئی دولت ڈکلیئر کرنے کے وہ قانونی طورپر پابند نہیں تھے۔ انھوں نے اپنی پٹیشن میں لکھاتھا کہ وطن واپس آتے ہی وہ 2008-09 میں انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کے پابند ہوگئے تھے۔
نیب کے چیئر مین قمر زماں چوہدری کا کہنا ہے کہ شریف فیملی اوراسحاق ڈار کے خلاف 4 ریفرینسز تیار کیے جارہے ہیں جو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق عدالت میں پیش کردیے جائیں گے ۔ نیب کے نئے ہیڈ کوارٹر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے بتایاتھا کہ نیب سپریم کورٹ کے حکم پر حرف بحرف عمل کرے گا۔اس موقع پر انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیاتھا کہ کرپشن کے اعتبار سے پاکستان کی رینکنگ سال بہ سال بہتر ہورہی ہے اور 2013 میں کرپشن کے اعتبار سے 175ممالک میں 127 نمبر پر شمار کیاجانے والے پاکستان20016 میں 116 ویں نمبر پر آچکاتھا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہاکہ کرپشن کی روک تھام کسی ایک ادارے یا شخص کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ملک کے تمام اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔جبکہ نیب کسی امتیاز کے بغیر کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
اطلاعات کے مطابق نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء اور ایک اور رکن کا بیان سرکاری گواہ کے طورپر قلمبند کرلیاہے۔ اطلاعات کے مطابق نیب نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان سے بھی نواز فیملی اور اسحاق ڈار کے حوالے سے تمام ریکارڈ حاصل کرلیا ہے اوراس کی بنیاد پر اپنی رپورٹ تیار کررہاہے ۔لیکن نیب اپنی یہ رپوٹ کب عدالت کے سامنے پیش کرے گا اس حوالے سے ابھی کوئی کچھ بتانے کو تیار نہیں ہے اوریہی وہ بے یقینی کی کیفیت ہے جس کی وجہ سے نیب کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں اور عام طورپر یہ خیال تقویت پارہا ہے کہ نیب اورایف بی آر کے افسران ابھی تک شریف فیملی اور حکومت کے دباؤ میں ہیں اور اس دباؤ اور شریف فیملی کی نمک خواری کی وجہ سے شریف فیملی کو بچانے کی حتی الامکان تمامتر کوششیں کررہے ہیں یہی وہ تاثر ہے جس کی بنیاد پر شیخ رشید کو حدیبیہ پیپر ملز کامعاملہ کھلوانے کے لیے سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...