وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک، عوام کاگھروں سے نکلنا دشوار

بدھ 30 اگست 2017 کراچی کی سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک، عوام کاگھروں سے نکلنا دشوار

کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کامسئلہ روز بروز سنگین سے سنگین تر ہوتاجارہا ہے ،سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک ، ٹریفک قواعد کی کھلے عام خلاف ورزیوں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام نے لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل بنادیاہے۔ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ، جگہ جگہ کھڑا گٹر کاگندہ پانی اور ٹریفک کنٹرول کرنے کے نا منا سب نظام نے اس مسئلے کو زیادہ گمبھیر بنادیاہے۔سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کیے جانے والے پولیس اہلکاروں اور سارجنٹس کی اکثریت ٹریفک کنٹرول کرنے اورٹریفک قواعد کی خلاف ورزیاں روکنے کا اپنا بنیادی فریضہ انجام دینے کے بجائے عام طورپر موٹر سائیکل سواروں اور دیگر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو روک کر ان سے بھتہ یا رشوت کی وصولی کے لیے بھاؤ تاؤ کرتے نظر آتے ہیں اور ان کی اس روش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر ڈرائیوراپنی من مانیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے اب ایم اے جناح روڈ ،آئی آئی چندریگر روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں کی چوڑی فٹ پاتھوں پر گاڑیاں پارک کراکر گاڑی مالکان سے رشوت وصولی کاایک نیا ذریعہ پیدا کرلیاہے ، اور ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو خوش کیے بغیر کسی فٹ پاتھ تو کجا فٹ پاتھ کے ساتھ سڑک پر گاڑی پارک کرکے بینک یا کسی دفتر میں جانے والوں کی گاڑیوں کو بیدردی کے ساتھ لفٹر کے ذریعہ گھسیٹتے ہوئے قریبی تھانے لے جایاجاتاہے جس کی وجہ گاڑیوں کو بری طرح نقصان پہنچتاہے اور بعض اوقات اس میں ڈینٹ بھی پڑجاتے ہیں ،جبکہ اس طرح اٹھا کر لے جائی جانے والی گاڑیوں کے مالکان سے بھاری رقم وصول کی جاتی ہے جس کا سرکاری خزانے میں جمع کرائے جانے کاکوئی حساب کتاب ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے پاس موجود نہیں ہے۔یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے اب ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ پرجہاں شہر کے بیشتر اہم دفاتر اور کاروباری ادارے واقع ہیں پیدل چلنا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگیاہے۔اگر اس صورت حال کی سڑک پر موجود ٹریفک افسران سے بات کی جائے تو وہ اپنی بے بسی کااظہار کرتے ہوئے عذر پیش کرتے ہیں کہ فٹ پاتھوں پر کھڑی یہ گاڑیاں معروف ٹی وی چینل یا بااثر بینک اوردیگر کاروباری اداروں کے مالکان یا ان کے افسران کی ہیں ان کو ہٹانے کی کوشش کرنا اپنی ملازمت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
شہر میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایک سروے کے دوران اندازہ ہواکہ شہر کی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑانے والے ڈرائیوروں کی اکثریت کے پاس ویلڈ ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتے ،اور ٹریفک پولیس کے اہلکار ان کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانی رشوت وصول کرتے ہیں ۔
ایوان صنعت وتجارت کے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں ’’کراچی میں ٹریفک کامسئلہ معیشت کاپہیہ جام کررہاہے ‘‘ کے زیرعنوان جو سروے کیاہے اس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ کراچی میں چلنے والے رجسٹرڈ رکشہ کے مقابلے میں صرف 2 فیصد ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں یعنی کراچی میں رکشہ چلانے والے 98 فیصد رکشہ ڈرائیوروں کے پاس رکشہ چلانے کالائسنس ہی نہیں ہے۔اسی طرح کراچی کی سڑکوں پر اسکوٹر اور موٹر سائیکلیں دوڑانے الے صرف 19 فیصد افراد لائسنس یافتہ ہیں ، جبکہ صرف 35 فیصد کار ڈرائیورز کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے۔اس سے واضح ہوتاہے کہ کراچی کی سڑکوں پر گاڑیاں چلانے والوں کی اکثریت ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ہی گاڑی چلارہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سڑکوں پر گاڑی لے کر نکلنے والوں کی اکثریت کو ٹریفک قواعد وضوابط کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔لیکن اس سنگین صورت حال کے باوجود ٹریفک پولیس کے ارباب اختیار صورت حال میں بہتری لانے کے لیے موثر اقدامات سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔
کراچی کی سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے سڑکوں پر ہونے والے حادثات اور آمدورفت کے دوران ٹریفک جام کی وجہ سے ضائع ہونے والے وقت کی وجہ سے ملکی معیشت اور کاروبار کو ہونے والے نقصان کی وجہ سے ایوان صنعت وتجارت کے سابق صدر سراج قاسم تیلی نے متعدد مرتبہ اپنے بیانات کے ذریعے اور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ افسران کے نام اپنے خطوط کے ذریعے ان کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنے اور بلا لائسنس ڈرائیونگ کاسلسلہ روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی اپیل کی لیکن ان کی یہ آواز ٹریفک پولیس کے ارباب اختیار کو ان کے فرائض کا احساس دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور ان کی یہ کوششیں بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں ۔
ایوان صنعت وتجارت کے سابق صدر سراج قاسم تیلی کاکہناہے کہ ہم نے بار بار ٹریفک حکام سے یہ مطالبہ کیاہے کہ وہ بلا لائسنس ڈرائیونگ کاسلسلہ مکمل طورپر ختم کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات کریں اس حوالے سے سخت چیکنگ شروع کی جائے اور کسی کوبھی کسی قیمت پر بغیر لائسنس ڈرائیونگ کی اجازت نہ دی جائے ،ان کاکہناہے کہ ٹریفک کے زیادہ تر حادثات اور ٹریفک جام کی بنیادی وجہ سے بلا لائسنس ڈرائیونگ ہے کیونکہ لائسنس کے حصول کے بغیر گاڑیاں دوڑانے والوں کو کسی طرح کانہ تو کوئی خوف ہوتاہے اور نہ ہی وہ ٹریفک اصولوں سے واقف ہوتے ہیں اس لئے وہ بلا سوچے سمجھے جہاں چاہتے ہیں گاڑی لے کر گھس جاتے ہیں جس کی وجہ سے سیکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ جاتی ہیں اور لوگوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتاہے۔
ایوان صنعت وتجارت کے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کیے گئے سروے کے دوران ریسرچ کرنے والوں نے گزشتہ 5 سال کے دوران رجسٹرڈ کرائی گئی گاڑیوں ، رکشہ اور موٹر سائیکلوں اور اس دوران جاری کیے گئے لرننگ اور مکمل ڈرائیونگ لائسنسوں کے اعدادوشمار کاجائزہ لینے کے بعد جہاں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شہر میں رجسٹرڈ رکشہ کے مقابلے میں صرف 2 فیصد ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں ،اسکوٹر اور موٹر سائیکلیں دوڑانے و الے صرف 19 فیصد افراد لائسنس یافتہ ہیں ، اور صرف 35 فیصد کار ڈرائیورز کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے۔وہیں یہ بھی انکشاف ہوا کہ شہر میں ٹرک، بسیں ،ٹینکر اور دوسری بھاری گاڑیاں چلانے والے ڈرائیوروں کی بڑی تعداد کے پاس بھی ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے اور وہ محض تجربے کی بنیاد پر شہر کی سڑکوں کو تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں ، ٹریفک پولیس کے پاس موجود اعدادوشمار کے مطا بق شہر میں چلنے والی بھاری گاڑیوں کے صرف 69 فیصد ڈرائیوروں کے پاس بھاری گاڑیاں چلانے کالائسنس ہے ، یعنی 31 فیصد ڈرائیورابھی کراچی کی سڑکوں کو تجربہ گاہ کے طورپر استعمال کررہے ہیں اور یہ سب کچھ ٹریفک پولیس کے قریبی تعاون سے ہورہاہے جو کہ اس شہر کے انتظام کے ذمہ دار حکا م کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس ہوشربا انکشاف کے بعد بھی کیاارباب اختیار اس صورت حال کی اصلاح کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر تیار ہوں گے۔بظاہر تو اس کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو وجود - جمعه 15 مئی 2026

عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم وجود - جمعه 15 مئی 2026

وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی وجود - جمعه 15 مئی 2026

علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی وجود - جمعه 15 مئی 2026

ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں وجود - جمعرات 14 مئی 2026

اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ وجود - جمعرات 14 مئی 2026

یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

مضامین
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا وجود جمعه 15 مئی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا

25کروڑمال مویشی وجود جمعه 15 مئی 2026
25کروڑمال مویشی

ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی وجود جمعه 15 مئی 2026
ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی

اب یہ لوگ جنگ کا حصہ بنیں گے! وجود جمعه 15 مئی 2026
اب یہ لوگ جنگ کا حصہ بنیں گے!

کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب وجود جمعرات 14 مئی 2026
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر