وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں اندھیر نگری چوپٹ راج, نیب زدہ افسر کو گریڈ 21 مل گیا۔ احمد جنید میمن کی چاندی ہوگئی

اتوار 27 اگست 2017 سندھ میں اندھیر نگری چوپٹ راج, نیب زدہ افسر کو گریڈ 21 مل گیا۔ احمد جنید میمن کی چاندی ہوگئی

اگر ملک کی تاریخ میں کرپشن بے قاعدگیوں اور قانون کی دھجیاں اڑانے کی بات کی جائے تو یقیناحکومت سندھ اس معاملے میں صدی کا سب سے بڑا انعام حاصل کرے گی ۔ یہاں ایسی اندھیر نگری مچی ہے کہ جس کی مثالیں تاریخ میں نہیں ملتیں ۔ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں سینکڑوں ایسے مقدمات چل رہے ہیں جس میں مالی بے قاعدگیوں ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قواعد و ضوابط کے برعکس کام کرنے جیسی نایاب مثالیں قائم کی گئی ہیں ۔حکومت سندھ نے پچھلے 9 برسوں کے دوران ایسی حکومت چلائی ہے جیسے بادشاہت یا ڈکٹیٹر شپ میں حکومت چلائی جاتی ہے۔
حکومت سندھ نے جیسے چاہا اپنی مرضی سے فیصلے کیے، اپنی مرضی کی بھرتیاں کیں ، اپنی مرضی سے ترقیاں دیں اورکوئی اس سے پوچھنے والابھی نہیں ہے۔ ایک نائب قاصد کو اسسٹنٹ کمشنر بنا کر چند ماہ میں ڈپٹی کمشنر بنا دیا جاتا تھا اور تو اور اویس مظفر ٹپی سنیماکا ٹکٹ چیکر تھا اس کو پہلے اسسٹنٹ کمشنر بنایا گیا پھر 1996 کے بعد وہ مفرور رہا ۔ 2008 میں اس کو بحال کرکے ترقی دے کر ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر ریٹائرڈ کرایا گیا اور ان کو پنشن اور دیگر مالی فائدے دے دیے گئے بس صرف اوپر سے حکم آتا تھا کہ ات کو دن کردو اور دن کو رات کردو۔ اور پھر اس حکم پر عمل بھی کر دیا جاتا تھا۔ 2008ء میں شمع مٹھانی مخصوص نشستوں پر رکن سندھ اسمبلی بن گئیں ان کے شوہر نے 88ء میں ڈرگ انسپکٹر کی نوکری حاصل کی تھی پھر نوکری چھوڑ دی 2008ء کی حکومت آنے کے بعد عارف مٹھانی کو نہ صرف ملازمت پر بحال کیا گیا بلکہ ان کو 20 سال کے تمام مالی فوائد بھی دیے گئے۔ یوں اندھیر نگری چوپٹ راج کی تاریخی مثالیں رقم کی گئیں ۔
موجودہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے بہنوئی اعجاز شاہ کو بھی 1993 میں براہ راست اسسٹنٹ کمشنر بنایا گیا تھا پھر 1996 میں جیسے حکومت ختم ہوئی تو وہ بھی فرار ہوگئے 2008 میں پی پی کی حکومت آئی تو اعجاز شاہ کو بحال کر دیا گیا، ان کا غیر حاضری کا 12 سال کا وقت بھی سروس میں شمار کیاگیا اور پھر ان کو ترقی دے کر ڈپٹی کمشنر کا عہدہ دے دیا گیا۔آج کل وہ گھوٹکی میں ڈی سی کے عہدے پر تعینات ہیں ۔
اب حال ہی میں محکمہ آبپاشی کے چیف انجینئر احمد جنید میمن کو گریڈ 21 میں ترقی دے دی گئی ہے۔ احمد جنید میمن کو دو سال قبل نیب نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ چیف انجینئر کوٹری بیراج تھے۔ وہ چارماہ تک نیب کی حراست میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے اور چھ ماہ کے بعد ان کو محکمہ آبپاشی کا سیکریٹری مقرر کر دیا گیا۔ پھر وہ آٹھ ماہ بھی سیکریٹری نہیں رہے کہ سپریم کورٹ نے ان کو نان کیڈر قرار دے کر عہدے سے ہٹا دیا تھا ۔ ’’اوپر والوں ‘‘ کو احمد جنید میمن بہت زیادہ پیارے ہیں اس لیے صرف چار ماہ انتظار کے بعد ان کے لیے محکمہ آبپاشی میں اسپیشل سیکریٹری کا عہدہ تخلیق کیا گیا۔ یوں تاریخ میں پہلی مرتبہ احمد جنید میمن محکمہ آبپاشی کے اسپیشل سیکریٹری بن گئے اصولی طور پر انہیں اوپر گریڈ سے نیچے گریڈ کی پوسٹ پر نہیں آنا چاہیے تھا لیکن پھر بھی وہ بڑوں کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے سیکریٹری سے نیچے اسپیشل سیکریٹری بن گئے لیکن چونکہ ان کو بڑوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اسپیشل سیکریٹری بنایا گیا تھا اس لیے وہ اپنے ذمہ تمام کام احسن طریقے سے نبھاتے رہے۔ اس لیے ایک بار پھر اوپر والے ان سے راضی ہوگئے۔ انہیں محکمہ کے اندر تمام ٹھیکوں اور ادائیوں کا نگراں مقرر کر دیا گیا اور سیکریٹری جمال مصطفی شاہ کو صرف تبادلوں اور تقرریوں کی حد تک برقرار رکھا گیا ہے۔
احمد جنید میمن سے اوپر والے اتنے خوش ہوئے ہیں کہ پچھلے دنوں جب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں بورڈ نمبر ایک کا اجلاس ہوا تو ان کو گریڈ 21 میں ترقی دے دی گئی۔ یوں یہ بھی انوکھا تجربہ کیا گیا ہے کہ گریڈ 20 کا سیکریٹری اور گریڈ 21 کا اسپیشل سیکریٹری رکھا گیا ہے۔ پھر بھی احمد جنید میمن کو وفا داری، جی حضوری اور تمام جائز نا جائز کام کرنے کے عوض انعام کے طور پر گریڈ 21 میں ترقی ملی ہے۔ حکومت سندھ نے یہ اقدام اٹھا کر نیب کا منہ چڑایا ہے اور نیب کے ساتھ ساتھ سندھ کے عوام کے لیے پیغام دیا گیا ہے کہ نیب چاہے جس کو بھی کرپٹ قرار دے کسی کے بھی خلاف کارروائی کرے لیکن حکومت سندھ کی ترجیح دوسری ہے۔ حکومت سندھ کو صرف کماؤ پوت پیارے ہیں ۔ چاہے ان کے خلاف نیب میں مقدمات ہی کیوں نہ درج ہوں ۔
نیب زدہ افسر احمد جنید میمن کو کس خوشی میں ، کس کا رکردگی پر گریڈ 21 میں ترقی دے دی گئی ہے؟ اس کے بارے میں حکومت سندھ بتانے سے قاصر ہے کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ اوپر والے راضی ہیں تو وزیر اعلیٰ سندھ ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے وزیراعلیٰ بھی اوپر کے حکم پر من و عن عمل کرتے ہیں ان کے لیے قانون، رولز ، اخلاقیات کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ احمد جنید میمن کی گریڈ 21 میں ترقی سے کرپٹ افسران میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اب وہ بھی کرپشن کے راستے تلاش کر رہے ہیں تاکہ وہ مال کما کر خود بھی کھائیں اوپر بھی کھلائیں اور ترقی بھی پائیں ۔


متعلقہ خبریں


وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر