وجود

... loading ...

وجود

انٹیلی جنس ادارے سینٹرل جیل کراچی کے مفرور دہشت گردوں کاپتہ چلانے میں ناکام

جمعرات 24 اگست 2017 انٹیلی جنس ادارے سینٹرل جیل کراچی کے مفرور دہشت گردوں کاپتہ چلانے میں ناکام

کراچی سینٹرل جیل سے 13 ؍جون کو فرار ہونے والے مبینہ طورپر لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دو خطرناک دہشت گرد شیخ محمد ممتاز عرف فرعون اور محمد احمد خان عرف منا کہاں گئے پاکستان کے تمام انٹیلی جنس ادارے یہ پتہ چلانے میں ناکام ہوگئے ہیں ،جیل توڑ کر فرار ہونے والے ان دونوں خطرناک دہشت گردوں کو2013 میں سیکورٹی فورسز، شیعہ برادری کے ارکان، متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیاگیاتھا،ان کے فرار کاانکشاف ہونے کے بعد سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ غلام مرتضیٰ شیخ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ فہیم میمن ، اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عبدالرحمٰن شیخ سمیت ایک درجن سے زیادہ جیل اہلکاروں کوفرائض سے غفلت برتنے کے الزام میں معطل کرنے کے بعد گرفتار کرلیا گیاتھا۔ اطلاعات کے مطابق سی ٹی ڈی کے افسران اب تک اس بات کاتعین کرنے ہی میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں کہ مفرور دہشت گرد اب تک ملک کے اندر موجود ہیں یا بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں ،سی ٹی ڈی کے بعض افسران کاخیال ہے کہ جیل توڑ کر فرار ہونے والے دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں ، ان افسران نے یہ رائے مفرور دہشت گردوں میں سے ایک کی جانب سے اپنے گھر کئے گئے فون کی بنیاد پر قائم کی ہے کیونکہ فون ٹریکنگ کے بعد پتہ چلاہے کہ یہ فون کال افغانستان کی سم سے کی گئی تھی۔
انسداد دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی سے تعلق رکھنے والے ایک افسرنے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ٹھکانے تبدیل کرتے ہوئے دہشت گرد افغانستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جہاں وہ اپنی تنظیم کے دیگر ارکان کے ساتھ مقیم ہیں ،ان کاکہنا ہے کہ اب ہم وفاقی سطح کی ایک ٹیم تشکیل دینے پر غور کررہے ہیں جو ان دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے افغانستان جاسکے اور افغان حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے انھیں گرفتار کرکے پاکستان لایاجاسکے۔انھوں نے بتایا کہ ہم ان دہشت گردوں کو گرفتار کرکے پاکستان لانے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے پر بھی غور کررہے ہیں ۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے ان کے فرار کے بعد کی جانے والی تفتیش کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق آخری مرتبہ ان کے کراچی کے قریب بلوچستان کے شہر خضدار میں موجود ہونے کاپتہ چلایا گیا تھا،سی ٹی ڈی کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں دہشت گرد جیل توڑ کر فرار ہونے کے بعد پہلے کراچی سے ایبٹ آباد چلے گئے تھے جہاں کچھ دنوں قیام کے بعد یہ سندھ واپس آئے اور پھر خضدار منتقل ہوگئے،سی ٹی ڈی کے بعض افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں اب بھی یہ یقین ہے کہ دونوں دہشت گرد افغانستان نہیں گئے ہیں بلکہ بلوچستان ہی میں روپوش ہیں ، اور عین ممکن ہے کہ وہ بلوچستان کے علاقے وڈھ میں روپوش ہوں کیونکہ وڈھ کاعلاقہ ان کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔
سی ٹی ڈی کے افسران کاکہناہے کہ کراچی سے سی ٹی ڈی افسران اور اہلکاروں کاتنہا وڈھ جانا ممکن نہیں ہے کیونکہ وڈھ کا علاقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نو گو ایریا تصور کیاجاتاہے اور وڈھ کی مقامی ایجنسیاں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی ہیں ۔مفرور دہشت گردوں کی پاکستان ہی میں موجودگی پر یقین رکھنے والے سی ٹی ڈی کے افسران کاکہناہے کہ معلوم ہوتاہے کہ مفرور دہشت گرد افغانستان کی سم استعمال کرکے سی ٹی ڈی اور دیگر انٹیلی جنس حکام کو دھوکا دے کر ان کی تفتیش کارخ غلط سمت میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ان کاکہناہے کہ کراچی سمیت پاکستان کے کسی بھی علاقے میں افغانستان کی سم حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔افغانستان کی سم استعمال کرنا ان دہشت گردوں کو اپنی پناہ گاہ کو خفیہ رکھنے اور اپنے خاندان کے لوگوں سے رابطے میں رہنے کاآسان اور بظاہر بے ضرر طریقہ ہے کیونکہ ان دہشت گردوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے فرار کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے انٹیلی جنس ادارے ان کی جائے پناہ کا پتہ چلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور ان کی جائے پناہ کاپتہ لگانے کا آسان ذریعہ ان کے اہل خانہ سے ان کے رابطے کے ذرائع کاپتہ چلانا ہے ،جس کے لئے انٹیلی جنس اداروں نے ان کے اہل خانہ اور قریبی عزیزوں اوردوستوں کے تمام فون آبزرویشن پر رکھے ہوں گے جن پر کوئی بھی فون آنے کی صورت میں انٹیلی جنس اداروں کو ان کی ریکارڈنگ موصول ہوجاتی ہے جس سے فون پر کی گئی باتوں اور فون کرنے والے کے جائے وقوع کاپتہ چلایا جاسکتاہے لیکن افغانستان کی سم استعمال کیے جانے کی صورت میں انٹیلی جنس اداروں کے لیے ان کے جائے وقوعہ اور پناہ گاہ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکتا۔یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے اطلاعات کے مطابق سی ٹی ڈی کے حکام ان مفرور دہشت گردوں کی گرفتاری کے حوالے سے مایوسی کاشکار ہیں اور وہ اس ایک نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ مفرور دہشت گرد خواہ پاکستان میں ہوں یا افغٖانستان میں ان کو دوبارہ گرفتار کرنا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔
جیل توڑ کرفرار ہونے والے دہشت گردوں کے معاملے کی تفتیش کرنے والے تفتیش کاروں کاخیال ہے کہ لشکر جھنگوی کے نعیم بخاری گروپ نے ان دونوں دہشت گردوں کی جیل سے فرار ہونے میں مدد کی تھی،تفتیش کاروں کایہ بھی خیال ہے کہ ان دونوں دہشت گردوں کو جیل سے فرار میں مدد دینے والوں میں اکرم لاہوری، حافظ قاسم رشید ،ڈرکی شاہ اور ایئر پورٹ پر حملہ کرنے کے ملزم سرمد صدیقی اور ندیم برگر نے بھی اہم کردار ادا کیاہے ۔
سی ٹی ڈی کے حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تفتیش کار ابھی تک اس بات کاتعین کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے ہیں کہ یہ دونوں دہشت گرد اس طرح جیل توڑ کر فرارکیوں ہوئے، اس طرح فرار ہونے کامقصد کیاتھا؟ اور اب ان کااگلا ہدف کیاہوگا اور وہ کراچی یا ملک کے کسی اور علاقے کاامن تہہ وبالا کرنے کے لیے کیا حربہ اختیار کرسکتے ہیں ۔تاہم حکام اس بات پر متفق نظر آتے ہیں ان کو کسی منظم منصوبے کے تحت جیل سے فرار کرایاگیا ہے اور ان کی تنظیم ان کو کسی بڑی واردات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔
اب دیکھنایہ ہے کہ سی ٹی ڈی حکام ان مفرور دہشت گردوں کاپتہ لگا کر انھیں گرفتار کرنے کے لیے کیا ترکیب استعمال کرتے ہیں اور وہ اس میں کس حد تک کامیاب رہتے ہیں تاہم یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب تک ان دہشت گردوں کو دوبارہ گرفتار نہیں کرلیا جاتا کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں کسی بھی وقت کسی بڑی کارروائی کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر