... loading ...
کراچی سینٹرل جیل سے 13 ؍جون کو فرار ہونے والے مبینہ طورپر لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دو خطرناک دہشت گرد شیخ محمد ممتاز عرف فرعون اور محمد احمد خان عرف منا کہاں گئے پاکستان کے تمام انٹیلی جنس ادارے یہ پتہ چلانے میں ناکام ہوگئے ہیں ،جیل توڑ کر فرار ہونے والے ان دونوں خطرناک دہشت گردوں کو2013 میں سیکورٹی فورسز، شیعہ برادری کے ارکان، متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیاگیاتھا،ان کے فرار کاانکشاف ہونے کے بعد سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ غلام مرتضیٰ شیخ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ فہیم میمن ، اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عبدالرحمٰن شیخ سمیت ایک درجن سے زیادہ جیل اہلکاروں کوفرائض سے غفلت برتنے کے الزام میں معطل کرنے کے بعد گرفتار کرلیا گیاتھا۔ اطلاعات کے مطابق سی ٹی ڈی کے افسران اب تک اس بات کاتعین کرنے ہی میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں کہ مفرور دہشت گرد اب تک ملک کے اندر موجود ہیں یا بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں ،سی ٹی ڈی کے بعض افسران کاخیال ہے کہ جیل توڑ کر فرار ہونے والے دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں ، ان افسران نے یہ رائے مفرور دہشت گردوں میں سے ایک کی جانب سے اپنے گھر کئے گئے فون کی بنیاد پر قائم کی ہے کیونکہ فون ٹریکنگ کے بعد پتہ چلاہے کہ یہ فون کال افغانستان کی سم سے کی گئی تھی۔
انسداد دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی سے تعلق رکھنے والے ایک افسرنے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ٹھکانے تبدیل کرتے ہوئے دہشت گرد افغانستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جہاں وہ اپنی تنظیم کے دیگر ارکان کے ساتھ مقیم ہیں ،ان کاکہنا ہے کہ اب ہم وفاقی سطح کی ایک ٹیم تشکیل دینے پر غور کررہے ہیں جو ان دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے افغانستان جاسکے اور افغان حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے انھیں گرفتار کرکے پاکستان لایاجاسکے۔انھوں نے بتایا کہ ہم ان دہشت گردوں کو گرفتار کرکے پاکستان لانے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے پر بھی غور کررہے ہیں ۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے ان کے فرار کے بعد کی جانے والی تفتیش کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق آخری مرتبہ ان کے کراچی کے قریب بلوچستان کے شہر خضدار میں موجود ہونے کاپتہ چلایا گیا تھا،سی ٹی ڈی کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں دہشت گرد جیل توڑ کر فرار ہونے کے بعد پہلے کراچی سے ایبٹ آباد چلے گئے تھے جہاں کچھ دنوں قیام کے بعد یہ سندھ واپس آئے اور پھر خضدار منتقل ہوگئے،سی ٹی ڈی کے بعض افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں اب بھی یہ یقین ہے کہ دونوں دہشت گرد افغانستان نہیں گئے ہیں بلکہ بلوچستان ہی میں روپوش ہیں ، اور عین ممکن ہے کہ وہ بلوچستان کے علاقے وڈھ میں روپوش ہوں کیونکہ وڈھ کاعلاقہ ان کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔
سی ٹی ڈی کے افسران کاکہناہے کہ کراچی سے سی ٹی ڈی افسران اور اہلکاروں کاتنہا وڈھ جانا ممکن نہیں ہے کیونکہ وڈھ کا علاقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نو گو ایریا تصور کیاجاتاہے اور وڈھ کی مقامی ایجنسیاں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی ہیں ۔مفرور دہشت گردوں کی پاکستان ہی میں موجودگی پر یقین رکھنے والے سی ٹی ڈی کے افسران کاکہناہے کہ معلوم ہوتاہے کہ مفرور دہشت گرد افغانستان کی سم استعمال کرکے سی ٹی ڈی اور دیگر انٹیلی جنس حکام کو دھوکا دے کر ان کی تفتیش کارخ غلط سمت میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ان کاکہناہے کہ کراچی سمیت پاکستان کے کسی بھی علاقے میں افغانستان کی سم حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔افغانستان کی سم استعمال کرنا ان دہشت گردوں کو اپنی پناہ گاہ کو خفیہ رکھنے اور اپنے خاندان کے لوگوں سے رابطے میں رہنے کاآسان اور بظاہر بے ضرر طریقہ ہے کیونکہ ان دہشت گردوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے فرار کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے انٹیلی جنس ادارے ان کی جائے پناہ کا پتہ چلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور ان کی جائے پناہ کاپتہ لگانے کا آسان ذریعہ ان کے اہل خانہ سے ان کے رابطے کے ذرائع کاپتہ چلانا ہے ،جس کے لئے انٹیلی جنس اداروں نے ان کے اہل خانہ اور قریبی عزیزوں اوردوستوں کے تمام فون آبزرویشن پر رکھے ہوں گے جن پر کوئی بھی فون آنے کی صورت میں انٹیلی جنس اداروں کو ان کی ریکارڈنگ موصول ہوجاتی ہے جس سے فون پر کی گئی باتوں اور فون کرنے والے کے جائے وقوع کاپتہ چلایا جاسکتاہے لیکن افغانستان کی سم استعمال کیے جانے کی صورت میں انٹیلی جنس اداروں کے لیے ان کے جائے وقوعہ اور پناہ گاہ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکتا۔یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے اطلاعات کے مطابق سی ٹی ڈی کے حکام ان مفرور دہشت گردوں کی گرفتاری کے حوالے سے مایوسی کاشکار ہیں اور وہ اس ایک نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ مفرور دہشت گرد خواہ پاکستان میں ہوں یا افغٖانستان میں ان کو دوبارہ گرفتار کرنا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔
جیل توڑ کرفرار ہونے والے دہشت گردوں کے معاملے کی تفتیش کرنے والے تفتیش کاروں کاخیال ہے کہ لشکر جھنگوی کے نعیم بخاری گروپ نے ان دونوں دہشت گردوں کی جیل سے فرار ہونے میں مدد کی تھی،تفتیش کاروں کایہ بھی خیال ہے کہ ان دونوں دہشت گردوں کو جیل سے فرار میں مدد دینے والوں میں اکرم لاہوری، حافظ قاسم رشید ،ڈرکی شاہ اور ایئر پورٹ پر حملہ کرنے کے ملزم سرمد صدیقی اور ندیم برگر نے بھی اہم کردار ادا کیاہے ۔
سی ٹی ڈی کے حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تفتیش کار ابھی تک اس بات کاتعین کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے ہیں کہ یہ دونوں دہشت گرد اس طرح جیل توڑ کر فرارکیوں ہوئے، اس طرح فرار ہونے کامقصد کیاتھا؟ اور اب ان کااگلا ہدف کیاہوگا اور وہ کراچی یا ملک کے کسی اور علاقے کاامن تہہ وبالا کرنے کے لیے کیا حربہ اختیار کرسکتے ہیں ۔تاہم حکام اس بات پر متفق نظر آتے ہیں ان کو کسی منظم منصوبے کے تحت جیل سے فرار کرایاگیا ہے اور ان کی تنظیم ان کو کسی بڑی واردات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔
اب دیکھنایہ ہے کہ سی ٹی ڈی حکام ان مفرور دہشت گردوں کاپتہ لگا کر انھیں گرفتار کرنے کے لیے کیا ترکیب استعمال کرتے ہیں اور وہ اس میں کس حد تک کامیاب رہتے ہیں تاہم یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب تک ان دہشت گردوں کو دوبارہ گرفتار نہیں کرلیا جاتا کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں کسی بھی وقت کسی بڑی کارروائی کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...