... loading ...

7جنوری 2014 کو خرم دستگیر خان صاحب نے وزارت تجارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد دعویٰ کیاتھا کہ اگلے دو سال میں برآمدات کو دگنا کردیا جائیگا مگر ہوا اس کے برعکس اور برآمدات کے بجائے درآمدات دگنی ہوگئیں ۔ تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2013-14 کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدات میں کم وبیش 19فیصد کی کمی ہوئی جس کی وجہ سے برآمدی آمدنی میں 4.7ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوئی اور درآمدات میں 15فیصد اضافہ کے بعد 7.9ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا جس کی وجہ سے تجارتی خسارے میں 39فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اب نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جو خود ایک کاروباری شخصیت ہیں ملک کی برآمدات اوردرآمدات میں موجود شدید عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان کیاہے ، اور پرویز ملک کو وزیر تجارت بنایا گیا ہے جو خود کاروباری گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ،وزیر تجارت کاقلمدان سنبھالنے کے بعد اب ان کو باریک بینی سے پوری صورت حال کاجائزہ لینا ہوگا اور اس بات کاتجزیہ کرناہوگا کہ وہ کون سے عوامل ہیں جس کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور وہ کون سے اقدامات ہیں جن کے ذریعے برآمدات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
ان کو ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بالخصوص برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی پر اپنا پورا فوکس کرنا ہوگااورمعیشت کی صحیح صورت حال کوسمجھنے کے لیے مرکزی بینک کے اعدادوشمار سے استفادہ کرناہوگا اگر ہمارے نئے وزیر تجارت اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کا بغور جائزہ لیں توان سے بآسانی اندازاہوسکتا ہے کہ کن ممالک میں ہماری برآمدات میں کمی آئی ہے اورکن ممالک میں تجارت بڑھانے کی گنجائش ہے اس لیے اگر نئے وزیر اعظم پاکستان کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی تمنا رکھتے ہیں تو ان کو پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات کو کم کرنے کی طرف پوری توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ اربابِ اختیار کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ ہمارے ملک میں پیداواری عمل کا نہ ہونا ہے،جبکہ ہماری وزارت صنعت و پیداواراس سلسلے میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وزارت صنعت اور پیداوار ہی پاکستان کی برآمدات کو بڑھاسکتی ہے اس لیے اگرہمارا محورومقصود اپنے ملک کی معیشت کو بہتر بنانا ہے تو ہمیں ملک میں صنعتوں کا جال بچھانا ہوگا اورصنعتوں کو سہولتیں دینی ہوں گی،جو صنعتیں بندہوچکی ہیں ان کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے تمام تر وسائل فراہم کرنے اور صنعتوں کے لیے بجلی، پانی اور گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی قیمتیں بھی کم کرنا ہوں گی کیونکہ ہمارے قریبی ممالک اور تجارتی مقابل ممالک میں بجلی، پانی ،گیس اور دیگر ضروری اشیاکی قیمتیں پاکستان کی نسبت بہت کم ہیں اور اسی وجہ سے ہم تجارتی میدان میں مسابقت اور مقابلے کی فضا سے تقریباً باہر
ہوچکے ہیں ۔
ہمارے ملک میں پیداوری عمل نہ ہونے کے برابر ہونے کی جہاں ایک وجہ ہمارے ملک میں صنعتوں کا بند ہونا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں چند مافیاز کی اجاری داری بھی ہے جس کی وجہ سے ہم ا نجینئرنگ ، آٹوا نجینئرنگ اور کیمیکل کے شعبوں میں صرف اسمبلنگ پلانٹس لگائے بیٹھے ہیں یا درآمدات کے مرہون منت ہیں اور یہی اسمبلنگ پلانٹ ہمارے ملک میں پیداواری عمل کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے درآمدی بل میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہا ہے جبکہ اگر ہم اپنے ارد گرد کے ممالک پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پیداواری عمل بڑھانے سے ہی ملکی معیشت پنپتی ہے اورتعمیر وترقی کی منازل طے کرتی ہے جیسا کہ تھائی لینڈ جو ایک صنعتی ملک کہلاتا ہے اس کی برآمدات 220ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہیں جس میں زیادہ حصہ اس کی صنعتی برآمدات کا ہے اور وہ اپنی ا نجینئرنگ اور آٹو انجینئرنگ کی برآمدات سے اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ حاصل کررہا ہے۔ اسی طرح انڈونیشیااپنے پیدواری عمل اور صنعتی ترقی کی وجہ سے دنیا کو 144ارب ڈالرز کی برآمدات کررہا ہے اور ملائشیاکی برآمدات 180ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہیں ۔ ان تمام ممالک کی برآمدات کا زیادہ تر انحصاران کے پیداوری عمل اور صنعتی ترقی پر ہے جبکہ ہم برآمدات میں بنگلہ دیش سے بھی مقابلے کی سطح سے باہر ہیں ۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے فوری بعد یہ واضح کردیاتھا کہ پاکستان کوقوموں کی برادری میں باعزت ملک کی حیثیت سے اپنا مقام بنانے کے لیے معاشی طورپر مضبوط ومستحکم ہونا ہوگا کیونکہ معاشی واقتصادی ترقی کے بغیر کوئی بھی ملک ، معاشرہ یا قوم مستحکم و مضبوط نہیں ہوسکتے اور اگر ہم قائد اعظم کے ارشادات اور نظریہ معیشت کی راہ پر چلتے ہوئے اپنی سمت متعین کرلیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ترقی وکامیابی سے نہیں روک سکے گی جبکہ موجودہ صدی میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ دنیا میں وہی قومیں حکمرانی کررہی ہیں جو معاشی و اقتصادی طور پر مضبوط ہیں کیونکہ اب عالمی طاقتوں نے بھی یہ بات سمجھ لی ہے کہ اب دنیا کو لوہے کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معاشی ہتھیاروں سے زیر کیا جاسکتا ہے۔امریکہ کی سرفہرست انٹیلی جنس تھنک ٹینک نیشنل انٹیلی جنس کونسلNIC) ( نے گلوبل ٹرینڈ کے حوالے کہا ہے کہ ’’اگلے پانچ سالوں میں بھارت دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بن جائیگا جس طرح چین کی معیشت نے تیزی سے ترقی کی مگر عدم مساوات ، مذہب اور اندرونی کشیدگی اس کے لیے باعث پریشانی ہوگی جبکہ پاکستان میں بھارت کی اقتصادی ومعاشی صلاحیت کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے اور اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو دیگر ذرائع تلاش کرنے ہوں گے‘‘۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنیوالے سالوں میں دنیا میں معاشی ترقی کوہی ترقی کا معیارسمجھا جائیگا۔مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار نہ تاریخ سے کچھ سیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ، نہ ماضی کے تجربات ان کا کچھ بگاڑ سکے ہیں ، نہ آنے والے وقت کا ادراک رکھتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ وہ اصل زمینی حقائق کو سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ۔ اب جبکہ نئی کابینہ معرض وجودمیں آچکی ہے اور نئے وزیر اعظم اپنی کرسی پر براجمان ہوچکے ہیں توان کو ملک کی مضبوطی اور استحکام کے لیے جامع معاشی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اگر چہ ان کو ایک سال سے بھی کم عرصہ کے لیے دور حکمرانی ملا ہے مگر نئے وزیر اعظم خود بہت تیز کام کرنے کے خواہاں ہیں ۔ معیشت کی بہتری کے لیے صنعت وتجارت کا بہت بڑاہاتھ ہوتا ہے اور سابق وزیر اعظم بھی تجارت بڑھانے کے خواہشمند تھے مگر دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کی وزارت تجارت ان کی خواہشات کی تکمیل نہیں کرپائی۔جس کی وجہ یہ ہے کہ وزارت تجارت نے اپنا کام احسن انداز میں انجام نہیں دیا۔
موجودہ صورتحال کاتقاضا ہے کہ ہم ملک کو اقتصادی بد حالی اور قرض پر قرض کی بھیانک صورت حال سے نجات دلانے کے لیے صنعتی ترقی پر توجہ دیں ، اور بڑی صنعتوں کے ساتھ ہی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ دنیا میں تیزی سے صنعتی ترقی کرنے والے تمام ممالک چھوٹی گھریلو صنعتوں کو فروغ دے کر اور ان کی سرپرستی کرکے ہی دنیا کے بڑے صنعتی ممالک کی صف مین اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔جب تک چھوٹی اوردرمیانے درجے کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی نہ تو ملک صنعتی اعتبار سے ترقی کرسکتاہے اور نہ ہی بیروزگاری پر قابو پانے میں کوئی قابل ذکر پیش رفت ممکن ہے، امید کی جاتی ہے کہ شاہد خاقان عباسی اس جانب توجہ دے کر پاکستان کی معاشی بنیاد مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...