... loading ...
سیاسی پارٹیاں تبدیل کرکے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے والے بہت سے ارکان سندھ اسمبلی کو تنخواہیں باقاعدگی سے جاری کی جارہی ہیں اور تنخواہوں اور مراعات کی یہ بھاری رقم باقاعدہ ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہورہی ہے ،سندھ اسمبلی کے اخراجات کے حوالے سے ایک رپورٹ کی تیاری میں ریکارڈ کی چھان بین کے دوران میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا۔
سندھ اسمبلی کے اخراجات سے متعلق دستیاب ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ پاک سرزمین پارٹی کے قیام کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے کئی ارکان سندھ اسمبلی نے متحدہ سے اپنا ناطہ توڑکر پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کااعلان کیاتھا اور متحدہ سے علیحدگی کے اعلان کے ساتھ ہی انھوں نے اپنی اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دینے کااعلان کردیاتھا ، اسی طرح22 اگست کو متحدہ کے بانی الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد سامنے آنے والے شدید ردعمل سے گھبرا کر بھی بعض ارکان سندھ اسمبلی نے متحدہ سے ناطہ توڑنے اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کااعلان کردیاتھا، لیکن ان کے استعفیٰ دیے جانے اور اسپیکر سندھ اسمبلی کو اس کی تحریری اطلاع دیے جانے کے باوجود ابھی تک بوجوہ ان کے استعفے منظور نہیں کیے گئے ہیں اوران کی تنخواہیں اور دیگر مراعات بدستور ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جارہی ہیں ۔
سندھ اسمبلی کے متعلقہ حکام کاکہناہے کہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کا اعلان کرنے اور اسپیکر کو اپنا استعفیٰ بھیجنے والے ارکان اسمبلی جن کی اکثریت کاتعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے ،کے استعفے تکنیکی وجوہ کی بنا پر ابھی تک منظور نہیں کیے گئے ہیں اور جب تک اسپیکر ان کے استعفے منظور کرنے کااعلان نہ کردیں ، ان کو تنخواہوں اوردیگر مراعات کی فراہمی جاری رہے گی اور وہ بدستور اسمبلی کے رکن تصور کیے جائیں گے ۔
اس حوالے سے صحافیوں نے جب اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے والے متعلقہ ارکان سندھ اسمبلی سے رابطہ کیاتو ان میں سے بیشتر نے کہا کہ استعفیٰ دینے کے بعد انھیں تنخواہیں ادا نہیں کی جانی چاہئیں اور اگر انھیں تنخواہیں جاری کی جارہی ہیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری تنخواہیں جاری کرنے والے حکام پر عائدہوتی ہے ،جبکہ ان میں سے بعض نے کہا کہ اگرچہ تنخواہیں باقاعدگی سے ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہورہی ہیں لیکن انھوں نے یہ رقم استعمال نہیں کی ہے ۔
سندھ اسمبلی کے ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ 22 اگست کو متحدہ کے بانی الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد سامنے آنے والے شدید ردعمل سے گھبرا کرسندھ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے والی متحدہ قومی موومنٹ کی رکن اسمبلی ارم عظیم فاروقی کوجو اب تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرچکی ہیں باقاعدگی سے 93 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ادا کی جارہی ہے اور یہ رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہورہی ہے۔ارم عظیم فاروقی کاکہناہے کہ ان کے اکاؤنٹ میں تنخواہ کی منتقلی میں ان کاکوئی قصور نہیں ہے کیونکہ تنخواہ مجھ سے پوچھ کرمنتقل نہیں کی جارہی ۔انھوں نے کہا کہ میں دودفعہ اپنا استعفیٰ بھجوا چکی ہوں اور میں اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے والی رقم استعمال نہیں کررہی ہوں ۔یہ رقم میرے اکاؤنٹ میں جوں کی توں پڑی ہوئی ہے۔اسپیکر کو میرا استعفیٰ منظور کرنا چاہئے ۔اسی طرح اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے باوجود تنخواہ وصول کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والی دوسری رکن سندھ اسمبلی بلقیس مختار ہیں ،بلقیس مختار نے اپریل 2016 میں اپنی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیاتھااورپاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، لیکن انھیں بھی استعفیٰ دینے کے باوجود باقاعدگی سے تنخواہ ادا کی جارہی ہے ۔انھوں نے بھی اس حوالے سے یہی موقف اختیار کیا کہ ان کوتنخواہیں جاری کیے جانے میں ان کاکوئی قصور نہیں ہے۔ اسمبلی کے حکام کو ان کی تنخواہ بند کردینی چاہئے۔ان کاکہنا بھی یہی تھا کہ اگرچہ ان کی تنخواہ باقاعدگی سے ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہورہی ہے لیکن انھوں نے اسے استعمال نہیں کیاہے۔جبکہ ایک اور سابق رکن سندھ اسمبلی نے جنھوں نے اپنا ظاہر نہ کرنے کی ہدایت کی تھی بتایا کہ انھوں نے استعفیٰ دیاتھا جو ابھی تک اسپیکر کی منظوری کے لیے ان کے پاس موجود ہے لیکن انھیں تنخواہ ادا کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولتامیں سندھ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے ملنے والی تنخواہ کی رقم استعمال کررہاہوں کیونکہ جب تک میرا استعفیٰ منظور نہیں کرلیا جاتا رکن اسمبلی کی حیثیت سے تنخواہ کی وصولی میرا حق ہے۔انھوں نے کہا کہ استعفیٰ وصول کرنے کے بعد اسپیکر کو میرا استعفیٰ منظور کرنا چاہئے تھا یا استعفیٰ منظور نہ کرنے کی وجوہات سے آگاہ کرنا چاہئے تھا۔ اگر اسپیکر میری خواہش کے برعکس میری اسمبلی کی رکنیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟
ایم کیو ایم کے ایک اور رکن سندھ اسمبلی عبداللہ شیخ ہیں جوپی ایس۔97 گلشن معمارسے ایم کیوایم کے امیدوار کی حیثیت سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد کبھی اسمبلی نہیں گئے مگر وہ اب بھی باقاعدگی سے تنخواہیں وصول کررہے ہیں ۔اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی ارتضیٰ خلیل فاروقی اور خالد بن ولایت نے بھی اپریل 2016 میں پاک سرزمین پارٹی مین شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیاتھا،وہ اب بھی اپنی تنخواہیں وصول کررہے ہیں ۔اسی طرح سندھ اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی نمائندگی کرنے والے رکن سندھ اسمبلی سید حفیظ الدین نے بھی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کااعلان کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن ان کو بھی ابھی تک تنخواہیں اور دیگر مراعات مل رہی ہیں ۔
اس حوالے سے جب صحافیوں نے سندھ اسمبلی کے سیکریٹری عمر فاروق سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ ان تمام ارکان سندھ اسمبلی
نے اپنا استعفیٰ دینے کا مقررہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کے استعفے منظور نہیں کیے گئے اور جب تک ان کے استعفے منظور نہ کرلیے جائیں یہ بدستور اسمبلی کے رکن تصور کیے جائیں گے اور انھیں تنخواہوں کی ادائی کاسلسلہ جاری رہے گا۔یہی نہیں بلکہ اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کی منظوری کے بعد اب ان کو 93ہزار روپے ماہانہ کے بجائے اضافہ شدہ تنخواہ یعنی ایک لاکھ45ہزار روپے ماہانہ کی شرح سے ادائی کی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ ہر رکن کی تنخواہ اس کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنا ہماری ذمہ داری ہے جب تک کسی رکن کے استعفیٰ کانوٹیفکشن موصول نہیں ہوتا کسی قانون کے تحت اس کی تنخواہ کی ادائی بند نہیں کی جاسکتی ، اب کوئی رکن اسمبلی اپنی یہ تنخواہ بینک سے وصول کرتاہے یا اپنے اکاؤنٹ میں جمع رہنے دیتاہے، یہ اس کا اپنا فعل ہے ،اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیکریٹری سندھ اسمبلی نے بتایا کہ ان ارکان اسمبلی نے یا تو زبانی اپنے استعفوں کااعلان کیاہے یا پھر کوریئر سروس کے ذریعے اپنا استعفیٰ بھجوایا ہے جبکہ استعفیٰ دینے کادرست طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ رکن اسمبلی خود اسپیکر کے پا س جاکر اپنے ہاتھ سے لکھاہوا استعفیٰ انھیں پیش کرے،لیکن مستعفی ہونے والے ان ارکان اسمبلی میں سے کسی نے بھی یہ طریقہ کار اختیار نہیں کیاہے جس کی وجہ سے ان کے استعفے منظور نہیں کیے جاسکے اور ان کو تنخواہوں کی ادائی کاسلسلہ جاری ہے اور جب تک ان کے استعفے منظور نہیں ہوجاتے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔اس حوالے سے جب مستعفی ہونے والے بعض ارکان سے بات کی گئی تو انھوں نے اسمبلی کے سیکریٹری کی اس منطق سے اتفاق نہیں کیا۔ اُن کا موقف تھا کہ اگر ہم نے استعفیٰ کا مروجہ طریقہ کار اختیار نہیں کیاتھا تو بھی اسپیکر کو ہمیں اس سے مطلع کرنا چاہئے تھا اور بتانا چاہئے تھا کہ اگر آپ واقعی استعفیٰ دینا چاہتے ہیں تو یہ طریقہ کار اختیار کریں ۔یہ استعفیٰ کو دبا کر اپنے پاس رکھ لینے کاکوئی جواز نہیں ہے۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومت کسی آڑے وقت پر ان کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ان کے استعفیٰ جان بوجھ کر منظور نہیں ہونے دے رہی ہے اور اس حوالے سے قانون اور طریقہ کار کے ابہام کاسہارا لیاجارہاہے۔
زین العابدین
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...