... loading ...
ٹیکس کمشنرز کے حالیہ اجلاس کے دوران یہ انکشاف ہواہے کہ نواز شریف کے 4سالہ دور حکومت میں ٹیکس چوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کے حوالے سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بلند بانگ دعووں اور ایف بی آرکی جانب سے بڑے ٹیکس چوروںجن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے نام پانامہ پیپرز میں آف شور کمپنیاں قائم کرنے کے حوالے سے شامل ہیںپتہ چلائے جانے کے باوجود ان ٹیکس چوروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کے بجائے ان کی اکثریت کو کھلی چھوٹ دی گئی ،کمشنرز کانفرنس میں یہ بات سامنے آئی کہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث ان ٹیکس چوروں میں سے نواز شریف کے گزشتہ4سالہ دور میں صرف 29 فیصد ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی ممکن ہوسکی جبکہ بقیہ 71 فیصد ٹیکس چور جو کہ ہر اعتبار سے قومی مجرم ہیں نواز شریف کے رفقا اور حکمراں پارٹی کے بعض اہم رہنمائوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات اور کاروباری مراسم کی وجہ سے کسی بھی طرح کی کارروائی سے بچے رہے اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر نے جن ٹیکس چوروں کا پتہ چلایا ہے وہ نہ صرف اپنے سیاسی تعلقات اور اثر ورسوخ کی وجہ سے ٹیکس چوری کے ذریعے بچائی گئی رقم واپس کرنے اور کسی طرح کی احتسابی کارروائی اور جرمانوں سے بچ گئے بلکہ ان میں سے بیشتر نے مبینہ طورپر ٹیکس چوری کے ذریعہ بچائے گئے اربوں روپے غیر قانونی طورپر بیرون ملک منتقل کردئے ہیں۔
ایف بی آر نے ٹیکس چوروں کاپتہ چلانے اور ان سے ٹیکس چوری کی رقم واپس وصول کرنے کیلئے 25 مارچ 2011 کو ڈائریکٹر انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس کے نام سے ایک علیحدہ ڈائریکٹوریٹ قائم کیاتھا،جس کے بعد اسلام آباد ، لاہور ، کراچی ، فیصل آباد ، پشاور ،ملتان اور حیدرآباد میں اس کے 7 ڈائریکٹوریٹ قائم کردئے گئے تھے ۔سرکاری ریکارڈ کے ظاہر ہوتاہے کہ اس محکمے نے 2013 سے2017 کے دوران نواز شریف کے دور حکومت کے دوران اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث مجموعی طورپر 2 ہزار300 ٹیکس چو روںکاپتہ چلایا ،ان پر ٹیکس چوری اور ٹیکس فراڈ کے ذریعے مجموعی طورپر سرکاری خزانے کو 930 ارب روپے کانقصان پہنچانے کاالزام تھا ۔ٹیکس چوروں کاپتہ چلانے کے بعد ٹیکس چوری اور ٹیکس چوری میں ملوث ان لوگوں کے خلاف مزید کارروائی اور ان سے چوری شدہ رقم وصول کرنے کیلئے یہ تمام معاملات ایف بی آر کے ریجنل ہیڈکوارٹرز کو بھیج دئے گئے ،لیکن چیف کمشنرز کانفرنس میں پیش کئے گئے اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث مجموعی طورپر 2 ہزار 300 ٹیکس چو روں میں سے صرف 900 یعنی صرف 39 فیصد ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ بقیہ ٹیکس چور اطمینان سے آزاد گھوم رہے ہیں اور معمول کے مطا بق کاروبار میں مصروف ہیں۔
ایف بی آر کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹیکس چوروں کی نشاندہی کردئے جانے کے بعد اب یہ کام ایف بی آر کے آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کاہے کہ وہ اس معاملے پر مزید کارروائی کرکے چوری شدہ رقم واپس لینے کی کوشش کریں ۔لیکن محکمے کی جانب سے ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی سے گریز سے ظاہرہوتاہے کہ یا تو ان ٹیکس چوروںکو حکومت میں موجود بااثر لوگوں اور مسلم لیگی رہنمائوں کی آشیر باد حاصل ہے یا پھر ایف بی آر میں موجود کالی بھیڑیں ان کو تحفظ فراہم کررہی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
یہی نہیں بلکہ ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ نے ٹیکس چوری کیلئے گفٹ اسکیم کا سہارا لینے والے 2 ہزار785 ایسے افراد کا بھی پتہ چلایاتھا جنھوںنے قومی خزانے کو یا تو بہت ہی معمولی ٹیکس ادا کیاہے یا کوئی ٹیکس سرے سے ادا ہی نہیں کیا اور نامعلوم لوگوں کو کروڑوںا ور اربوں روپے کے تحائف دئے اور وصول کئے ، اور چونکہ تحائف ٹیکس کی زد میں نہیں آتے اس لئے ٹیکس بچانے میں کامیاب ہوگئے ، ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کی اطلاعات کے مطا بق تحائف کی آڑ میں ٹیکس چرانے والے جن لوگوں کا پتہ چلایاگیاہے انھوںنے مجموعی طورپر 102 روپے مالیت کے تحائف کاتبادلہ کرکے قومی خزانے کو اس رقم سے محروم کردیا۔لیکن ایف بی آر کے حکام ان میں سے کسی کے بھی خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکے۔ ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کاکہناہے کہ اس نے تحائف کی آڑ میں ٹیکس چوری کے ان مبینہ واقعات سے بھی ایف بی آر کے حکام کو مطلع کردیاہے انھیں تمام ضروری معلومات فراہم کردی گئی ہیں اور اب یہ کام ایف بی آر کے آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کاہے کہ وہ اس معاملے پر مزید کارروائی کرکے چوری شدہ رقم واپس لینے کی کوشش کریں حکام کاکہنا ہے کہ تحائف اسکیم کی آڑ میں ٹیکس چوری کرنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہوسکتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ تحائف کی آڑ میں ٹیکس چوری کے واقعات کی روک تھام کیلئے اس قانون اس طرح سے تبدیلی کی جائے کہ اس اسکیم کا ناجائز فائدہ اٹھانا ممکن نہ رہے۔
ایف بی آر کے اندرونی ذرائع کا کہناہے کہ ٹیکس چوروں کے حوالے سے محکمے کے حوالے کئے جانے والے ڈیٹا کے بارے میں اعلیٰ حکام نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور اب یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ ڈیٹا ایف بی آر کے ریکارڈ میں محفوظ ہے یا ضائع ہوگیا یا جان بوجھ کر ضائع کردیا گیاہے۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ اور ٹیکس وصولی کے لیے کارروائی کرنے والے ایف بی آر کے آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کے درمیان رابطے کامکمل فقدان ہے جس کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ ٹیکس چوروں کے خلاف کیاکارروائی کی گئی اور اس میں کس حد تک کامیابی حاصل کی جاسکی۔
ایف بی آر کے ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ حکومت نے پانامہ پیپرز میں سامنے آنے والے ناموں کے بارے میں بھی تحقیقات کا حکم دیاتھا جس پرابتدائی کارروائی کے بعد مجموعی طورپر 344 افراد کو نوٹس جاری کئے گئے تھے ان لوگوں کے خلا ف رپورٹیں دستیاب اور مختلف ذرائع سے موصولہ اطلاعات کی بنیادپر مرتب کی گئی تھیں جس کے بعد یہ تمام معاملات ایف بی آر کے متعلقہ آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کو مزید کارروائی کے لیے منتقل کردئے گئے تھے،اطلاعات کے مطا بق ان میں سے 100 سے زیادہ معاملات کراچی اور 85 معاملات لاہور کے حوالے کئے گئے تھے لیکن ان پر پیش رفت کے بارے میں محکمہ مکمل طورپر خاموش ہے۔اس حوالے سے مزید معلومات اورپیش رفت کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے جب ایف بی آر اور ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ سے رابطہ کیاگیا تو ان دونوں محکموں کے افسران نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...