وجود

... loading ...

وجود

کراچی جیل کے بااثر قیدی عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں

جمعه 04 اگست 2017 کراچی جیل کے بااثر قیدی عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں

کراچی جیل میں قتل ، عصمت دری اوردہشت گردی کے الزامات میں قید بااثر قیدی اپنے گھروں سے زیادہ آرام اور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں ،ان میں سے بہت سے قیدی جیل خانے کے ماحول سے بچنے کیلئے مبینہ طورپر جیل افسران اور جیل کے ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے شہر کے مختلف علاقوں کے نجی اور سرکاری ہسپتالوں کے پرائیوٹ وارڈز میں منتقل ہوچکے ہیں ،جوکہ محکمہ جیل خانہ جات کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، ہسپتال میں منتقل ہونے والے ان بااثر قیدیوں کوہسپتالوں کے ان وارڈز میں نہ صرف یہ کہ اپنے اہل خانہ اور اپنے گروہ کے لوگوں سے ملنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے یا ان کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرنے کی پوری پوری آزادی حاصل ہے بلکہ انھیں ہر طرح کی آسائشیں بھی میسر ہیں ،جن میں اٹینڈنٹ کے نام پر خدمت گار بھی شامل ہیں ۔ اس صورت حال کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ حسن ساہیتونے اپنے خط میں اعتراف کیا ہے کہ بہت سے قیدی معمولی بیماریوں کا علاج کرانے کے بہانے ہسپتال منتقل کئے گئے تھے اور اب وہ مہینوں سے نجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور جیل واپس نہیں آئے ہیں ۔اس طرح جیل خانے سے نکل کر ہسپتالوں کے پرائیوٹ وارڈز کو گھر سے دور گھر بنالینے والے ملزمان میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم شاہ زیب اور اے لیول کے ایک طالب علم سلیمان لاشاری کے قاتل بھی شامل ہیں جو ایک ہسپتال کے پرائیوٹ وارڈ میں اطمینان اور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں ،جیل سے باہر عیاشی کی زندگی گزارنے والے بدنام زمانہ ملزمان میں پولیس کے ایک ایس ایس پی کا بیٹا سلمان ابڑو بھی شامل ہے جس نے اپنے گارڈز کے ساتھ ڈیفنس کراچی کے علاقے خیابان شمشیر میں ایک نوجوان سلیمان لاشاری کو قتل کردیاتھا۔سلمان ابڑو کو جس کی عمر 19 سال ہے سینے میں درد کی مبینہ شکایت پر کارڈیو ویسکولر ڈیزیز یعنی امراض قلب کے سرکاری ہسپتال میں منتقل کیاگیا تھا لیکن وہ گزشتہ سال سے اس ہسپتال کے وارڈ میں ہی موجود ہے اور مبینہ طورپر اپنے ایس ایس پی والد کے اثر ورسوخ کی وجہ سے گھر سے زیادہ بہتر آسائشیں حاصل کررہاہے۔یہی نہیں بلکہ 5 کروڑ روپے کی کرپشن کے الزام میں نیب کے ہاتھوں گرفتار کئے گے اے آئی جی فدا حسین شیخ اور ایک ایس ایس پی تنویر احمد طاہر جے پی ایم سی اور امراض قلب کے ہسپتال میں دمہ ، ہائپر ٹنشن اور سانس لینے میں تکلیف میں عارضے کے بہانے زیر علاج ہیں ،ہسپتال کے اسپیشل وارڈ میں عیاشی کرنے والوں میں نواب سجاد تالپور بھی شامل ہے جو طالب علم کے قتل میں شریک مجرم بتایاجاتاہے اور ہسپتال میں اس کے ساتھ بھی ایک قاتل کے بجائے خصوصی مہمان جیسا سلوک کیاجارہاہے اور اسے اس کی فرمائش کے مطابق دنیا کی تمام آسائشیں مہیا کی جاتی ہیں ۔ہسپتال میں زیر علاج شاہ زیب کے قتل کے ملزم شاہ رخ جتوئی کی ایک ویڈیو حال ہی میں وائرل ہوئی ہے جس میں اسے ایئرکنڈیشنڈ وارڈ میں بیٹھ کر ویڈیو گیم کھیلتے دیکھا جاسکتاہے۔کہاجاتاہے کہ جتوئی فیملی جو ایک بڑا کاروباری ادارہ چلاتی ہے جیل حکام کو باقاعدگی سے ان کی توقع سے بہت زیادہ رقم ادا کرتی ہے اور اس کے عوض ہر ایک نے اس کی جانب سے آنکھیں بند کررکھی ہیں ۔جیل کے عملے نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ جتوئی کے اہل خانہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جیل حکام کو کس طرح خوش رکھ کر اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کیاجاسکتاہے۔ جتوئی فیملی کی نوازشات کی وجہ سے جیل میں بھی شاہ رخ کو ایک علیحدہ کمرہ دیاگیاتھا لیکن اب تو وہ گھر سے زیادہ آرام سے زندگی گزاررہاہے۔جتوئی فیملی کے ارکان کادعویٰ ہے کہ شاہ رخ جتوئی کو رشوت کے زور پر ہسپتال منتقل نہیں کیاگیا بلکہ اسے عدالتی حکم پر جیل سے ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔کراچی جیل میں قتل ، عصمت دری اوردہشت گردی کے الزامات میں قید بااثر قیدی اپنے گھروں سے زیادہ آرام اور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں ،ان میں سے بہت سے قیدی جیل خانے کے ماحول سے بچنے کیلئے مبینہ طورپر جیل افسران اور جیل کے ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے شہر کے مختلف علاقوں کے نجی اور سرکاری ہسپتالوں کے پرائیوٹ وارڈز میں منتقل ہوچکے ہیں ،جوکہ محکمہ جیل خانہ جات کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، ہسپتال میں منتقل ہونے والے ان بااثر قیدیوں کوہسپتالوں کے ان وارڈز میں نہ صرف یہ کہ اپنے اہل خانہ اور اپنے گروہ کے لوگوں سے ملنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے یا ان کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرنے کی پوری پوری آزادی حاصل ہے بلکہ انھیں ہر طرح کی آسائشیں بھی میسر ہیں ،جن میں اٹینڈنٹ کے نام پر خدمت گار بھی شامل ہیں ۔ اس صورت حال کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ حسن ساہیتونے اپنے خط میں اعتراف کیا ہے کہ بہت سے قیدی معمولی بیماریوں کا علاج کرانے کے بہانے ہسپتال منتقل کئے گئے تھے اور اب وہ مہینوں سے نجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور جیل واپس نہیں آئے ہیں ۔اس طرح جیل خانے سے نکل کر ہسپتالوں کے پرائیوٹ وارڈز کو گھر سے دور گھر بنالینے والے ملزمان میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم شاہ زیب اور اے لیول کے ایک طالب علم سلیمان لاشاری کے قاتل بھی شامل ہیں جو ایک ہسپتال کے پرائیوٹ وارڈ میں اطمینان اور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں ،جیل سے باہر عیاشی کی زندگی گزارنے والے بدنام زمانہ ملزمان میں پولیس کے ایک ایس ایس پی کا بیٹا سلمان ابڑو بھی شامل ہے جس نے اپنے گارڈز کے ساتھ ڈیفنس کراچی کے علاقے خیابان شمشیر میں ایک نوجوان سلیمان لاشاری کو قتل کردیاتھا۔سلمان ابڑو کو جس کی عمر 19 سال ہے سینے میں درد کی مبینہ شکایت پر کارڈیو ویسکولر ڈیزیز یعنی امراض قلب کے سرکاری ہسپتال میں منتقل کیاگیا تھا لیکن وہ گزشتہ سال سے اس ہسپتال کے وارڈ میں ہی موجود ہے اور مبینہ طورپر اپنے ایس ایس پی والد کے اثر ورسوخ کی وجہ سے گھر سے زیادہ بہتر آسائشیں حاصل کررہاہے۔یہی نہیں بلکہ 5 کروڑ روپے کی کرپشن کے الزام میں نیب کے ہاتھوں گرفتار کئے گے اے آئی جی فدا حسین شیخ اور ایک ایس ایس پی تنویر احمد طاہر جے پی ایم سی اور امراض قلب کے ہسپتال میں دمہ ، ہائپر ٹنشن اور سانس لینے میں تکلیف میں عارضے کے بہانے زیر علاج ہیں ،ہسپتال کے اسپیشل وارڈ میں عیاشی کرنے والوں میں نواب سجاد تالپور بھی شامل ہے جو طالب علم کے قتل میں شریک مجرم بتایاجاتاہے اور ہسپتال میں اس کے ساتھ بھی ایک قاتل کے بجائے خصوصی مہمان جیسا سلوک کیاجارہاہے اور اسے اس کی فرمائش کے مطابق دنیا کی تمام آسائشیں مہیا کی جاتی ہیں ۔ہسپتال میں زیر علاج شاہ زیب کے قتل کے ملزم شاہ رخ جتوئی کی ایک ویڈیو حال ہی میں وائرل ہوئی ہے جس میں اسے ایئرکنڈیشنڈ وارڈ میں بیٹھ کر ویڈیو گیم کھیلتے دیکھا جاسکتاہے۔کہاجاتاہے کہ جتوئی فیملی جو ایک بڑا کاروباری ادارہ چلاتی ہے جیل حکام کو باقاعدگی سے ان کی توقع سے بہت زیادہ رقم ادا کرتی ہے اور اس کے عوض ہر ایک نے اس کی جانب سے آنکھیں بند کررکھی ہیں ۔جیل کے عملے نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ جتوئی کے اہل خانہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جیل حکام کو کس طرح خوش رکھ کر اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کیاجاسکتاہے۔ جتوئی فیملی کی نوازشات کی وجہ سے جیل میں بھی شاہ رخ کو ایک علیحدہ کمرہ دیاگیاتھا لیکن اب تو وہ گھر سے زیادہ آرام سے زندگی گزاررہاہے۔جتوئی فیملی کے ارکان کادعویٰ ہے کہ شاہ رخ جتوئی کو رشوت کے زور پر ہسپتال منتقل نہیں کیاگیا بلکہ اسے عدالتی حکم پر جیل سے ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔ قیدیوں کو جیل سے باہر ہسپتالوں میں منتقل کئے جانے کے حوالے سے جیل کا اپنا قانون موجود ہے اور اس قانون کے تحت کسی بھی ملزم کو کسی نجی ہسپتال منتقل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔صرف عدالتی احکامات پر ہی کسی ملزم کو نجی ہسپتال میں علاج کرانے کی سہولت دی جاسکتی ہے۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بعض خطرناک ملزمان نے عدالت سے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی رائے حاصل کرنے اور میڈیکل چیک اپ کرانے کی اجازت حاصل کی تھی لیکن اسی کی بنیادپر انھوں نے شہر کے معروف ہل پارک ہسپتال ، لیاقت نیشنل ہسپتال ،قمر الاسلام ہسپتال اور ہیلتھ ویژن ہسپتالوں کو اپنا مستقل مسکن بنالیاہے۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیاہے کہ ان میں سے بعض ملزم اپنے نگراں پولیس اہلکاروں اور ہسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت سے اپنے گھروں پر بھی چلے جاتے ہیں اور بعض ملزمان نے تو رات اپنے گھر پر گزارنے کومعمول بنالیا ہے ۔کیونکہ رات کو کسی طرح کی چیکنگ کازیادہ خوف نہیں ہوتا۔ جیل خانہ جات اور قانون کے صوبائی وزیر نے گزشتہ روزاس حوالے ا یک رپورٹر کے سوال کے جواب میں بتایاتھا کہ انھوں نے قیدیوں کو نجی ہسپتال میں داخل کئے جانے اور وہاں طویل عرصے تک ان کے قیام کے حوالے سے تحقیقات کاحکم دے دیاہے،انھوں نے کہا کہ عام طورپر عدالتیں ہمیں بعض ملزمان کو پرائیوٹ ہسپتالوں میں منتقل کرنے کاحکم دیتی ہیں اور عدالتی احکامات کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے لیکن قیدیوں کاطویل عرصے تک ہسپتالوں میں رہنا اور رکھاجانا خلاف قانون ہے انھوں نے کہا کہ کسی بیماری کے شکار قیدی کو عمومی طوپر سرکاری ہسپتالوں ہی میں داخل کیاجاسکتاہے۔تاہم اگر نیب یا عدالتیں کسی ملزم کو نجی ہسپتال میں رکھنے کا حکم دیتی ہیں تو پھر ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں اور ان احکامات سے روگردانی کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتاہے۔ اس لئے اس معاملے میں ہم کچھ نہیں کرسکتے اور بے بس ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قتل اور دیگر سنگین ملزمان کی جیل سے ہسپتالوں میں منتقلی اور وہاں عیاشیوں سے متعلق ان خبروں پر عدالت کیا کارروائی کرتی ہے اور مبینہ طورپر بھاری رشوت کے عوض قاتلوں کو غیر ضروری سہولتیں فراہم کرنے والے جیل خانے کے اعلیٰ افسران بھی گرفت میں لائے جائیں گے یاانھیں اس طرح کی کرپشن اور رشوت بٹورنے کی کھلی چھوٹ ملی رہے گی۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر